بچے اور انصاف

536

کیا وحشت ہے؟ ہر روز ایک خبر نکل آتی ہے، سات مہینے کے بچے سے بھی زیادتی ہوتی ہے تواسی میں ستر سال کا بوڑھا بھی اپنی شرمناک حرکت کی وجہ سے پکڑا جارہا ہے۔ سوال یہ  ہےکہ ہمارے معاشرے میں یہ وبا پھیلی کیسے؟ گلی گلی مورال پولیسنگ کرتے لوگ ہیں، سال بارہ مہینے اخلاقیات کا دھندہ چل رہا ہے۔ سزا و جزا حکومت کے ہاتھ میں بھلے سے کم نظر آتی ہے لیکن لوگ فوری ردعمل میں اکھٹے ہوکر مارپیٹ میں اپنا حصہ ضرور ڈالتے ہیں۔ بے شک بعد میں واقعہ کا پتہ چلے وقوعہ پر ہونا چاہییے۔جب اتنا خوف ہے کہ خالق و مخلوق کی پکڑ سے مفر نہیں تو پھر بھی ایسا مکروہ عمل کیوں سرزد ہوتا ہے۔

معاشرہ اس حوالے سے ان دنوں کافی حساس واقع ہوا ہے۔ایک بحث یہ  چل رہی ہے کہ قصور کی زینب کے قاتل اور جنسی جنونی کو سرعام پھانسی دی جائے ۔ ابھی ایک فصیح نامی شخص نے جو ایک بین الاقوامی جریدہ کا بھی سربراہ ہے اور لاہور کے ایک ادبی میلے کے بھی کرتا دھرتاؤں میں شمار ہوتے ہیں، اس نے تو یہ تک لکھ دیا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی میں سے آرٹ  تلاش کیوں نہیں کرتے؟ یعنی ہم نہیں سمجھ پا رہے ، جب آس پاس کا دباؤ بڑھا تو اسے پھر بھی یہ کہنا پڑا کہ میری بات کا وہ مفہوم نہیں تھا وغیرہ وغیرہ۔ اس دور میں اور وہ بھی فقط ایک مہینے میں درجنوں ملتے جلتے زیادتی کے کیسزسامنے آئے اور ہزاروں تبصرے، ٹاک شوز، مظاہرے اور نجانے کیا  کچھ ہوا لیکن پھر بھی ایسے انسانیت سوز واقعات کی خبریں آرہی ہیں۔ سوال پھر بھی اپنی جگہ پر ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟
میری دانست میں ریاستی قوانین کا خوف دنیا کا سب سے بڑا خوف ہوتا ہے۔ جب تک کسی ملک میں جہاں جرم پر سزا شفاف اورفوری نہ ہو تب تک یہ خوف بھی ایک اصطلاح ہی رہتا ہے۔ مظلوم کی داد رسی جب تک نہ ہوگی تب تک ظالم کا غرور بھی خاک میں نہیں ملتا اور دیگر لوگ بھی اس سے عبرت نہیں لیتے۔ایک بات ذہن نشین رہے جتنے بھی زیادتی کے شکار بچوں کا تعلق ہے وہ عموما ًچند ایک خاص سماجی پس منظر کے ساتھ ہے، لگ بھگ حالات و واقعات کے پیچھے عوامی بھی ایک جیسے ہوتے ہیں۔ ایسے بچے اپنے سماجی پس منظر کے سبب فوری انصاف  کی غلام گردشوں میں ہی بھٹک جاتے ہیں اور ان کے والدین انصاف کے حصول کی بھول بھلیوں میں کسی اور طرح کے خطرہ سے دوچار ہوتے ہیں۔ وہ یاد ہے نا ایک کیس میں کسی نے کہا تھا کہ میری جوان بیٹیاں ہیں میں ان لوگوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔

میرے خیال میں  بچوں کے ساتھ جنسی، نفسیاتی اور تعلیمی نا اانصافی کو انتہائی حد تک سنجیدہ لینا چاہیے۔ معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی چاہے وہ کسی بھی نوعیت کی ہو ،کو قومی سانحات میں شامل کیا جانا چاہیے۔بچے ہمارا سرمایہ ہیں۔ ان کے تحفظ اور حقوق کے لیے غیر لچکدار اور واضح قوانین تشکیل دینے سے ہمارا مستقبل محفوظ ہوسکتا ہے۔جیسے ایک چائلڈ اسپیشلسٹ بچے کے کچھ کہنے اور سمجھانے کے بغیر بھی یہ جان لیتا ہے کہ بچے کا مسئلہ کیا ہے، بعینہ ہمارے قانون سازوں کو بھی اس کا ادراک ایسا ہی ہونا چاہیے۔ہمارے بچے جن نا مساعد حالات میں تربیت اور تعلیم پا رہے ہیں وہ کسی بھی صورت انسانی معیارات سے مطابقت نہیں رکھتے ہیں۔ان کے بہتر مستقبل کے لیے ہمیں اپنی سوچ اور اپنے نظریات کی جانچ کرنی ہوگی کہ جو وہ سہہ رہے ہیں وہ سبھی ہم اور ہم سے بھی پہلے کے لوگوں کا کیا دھرا ہے۔ہم نے آج تک اپنے یوتھ اور بچوں کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے ہی نہیں ہیں اور اگر کچھ ہے بھی تو اس پر عملدرآمد سے ہی لگتا ہے کہ ہم کتنے سنجیدہ ہیں ۔وزارتوں اور مشاورتوں سے کچھ آگے ہی سوچنا ہوگا۔جنسی آگاہی کے بارے میں میری جتنی معلومات ہے اس کا تعلق ہرگز جنسی اعمال کی ادائیگی سے نہیں۔جنس کی آگاہی ہو تو کافی حدتک  ایسے واقعات محدود ہوسکتے ہیں۔ بچوں کا فوری اور شعوری ردعمل اور ایسے کسی وقت میں ان کی طرف سے مزاحمت از بس ضروری ہوتا ہے ۔ ایسے لوگوں سے دست بستہ گزارش ہی کی جاسکتی ہے جہاں ہمارے بچے ہماری نظریاتی اور نفسی خواہشات کی آلودگی میں بھی پروا ن چڑھ رہے ہیں، وہیں اگر سیکس ایجوکیشن دی جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ قومی قوانین کا حصہ بننے کے بعد بچوں کے بہتر مستقبل کی امید کی جاسکتی ہے۔

قصور میں کچھ عر صہ پہلے بھی ایک بڑاسکینڈل سامنے آیا جو اندھا دھند میڈیا انفارمیشن کی زد میں آکر اپنی موت آپ مرگیا۔ جیسا ایک ناظر ایک ہاتھ میں نوالہ اور دوسرے میں ریموٹ لے کر خبر کی تلخی میں کھانے کی لذت ڈالتا ہے اسی طرح سے میڈیا اپنی ہی خبروں کے بوجھ تلے روز دم گھٹنے سے ہلاک ہوجا تا ہے۔ پاکستان میں خبروں کے بارے میں جاننا اور میڈیا کا ہر سیکنڈ میں خبر دینا ایک ایسا معمول بن گیا ہے کہ آپ سانس روک سکتے ہیں جب کہ خبر کو روکنا ممکن نہیں رہا۔اس پر طرفہ تماشا یہ کہ دنیا بھر کے عقلمند ہمارے ملک میں ہی اکھٹے ہوئے ہیں جو ہمیں فن سیاست سے لے کر فن معاشرت اور ہروہ فن جس کے متعلق بس انہیں ہی آتا ہے، جو چاہے ان کا حسن کرشمہ ساز کرتا رہے۔ ہم نے تو بس ٹی وی لائسنس فیس اور کیبل فیس بھرنا ہوتی ہے۔اشتہار بھی ہم نے ہی دیکھنے ہیں، پیسے بے شک وہ جیب میں بھرتے رہے۔ ہماری سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت میوٹ ہوتی جارہی ہے۔
اس معاشرہ میں گندگی اور نفرت پھیلانے والوں کا محاسبہ نہیں ہوتا ہے۔ کمزور سبزی فروش اور رکشہ چلانے والوں سے پانچ دس روپے کا بھاؤ تاؤ تو کرنے میں اپنا فخر محسوس کرتے ہیں جبکہ فوڈ چینوں ،  ڈاکٹر وں اور دوائیوں کی قیمتوں پر کبھی آواز نہیں اٹھاتے ہیں۔ہم نے ہر شخص کے اخلاق کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے لیکن اپنے بارے میں کبھی مخلصانہ رویہ نہیں رکھا ہو ا،البتہ خودغرضانہ ضرور ہے۔ حدیث قدسی ہے “جو چیز اپنے لیے پسند کرو وہ دوسرے کے لیے بھی پسند کرو” جی ہا ں! ہم اپنے لیے بہتر سوچتے ہیں لیکن دوسرے کا بہتر نہیں سوچ سکتے ۔ بنیادی طور پر اخلاق کا دائرہ اثر نفرت ، تعصب ، محبت ، انسانیت اور کوئی بھی ایسا جذبہ اور عمل جس سے دوسرا انسان متاثر ہوتا ہو، اخلاق کہلاتا ہے ۔ آپ بے شک اپنی چھڑی گھماتے پھریں لیکن خیال رہے کہ  وہ کسی کو لگنی نہیں چاہیے۔ ہمارے روزمرہ کے سماجی رویے ہی سماج کی تشکیل کرتے ہیں۔ مستقبل قریب میں ہمارے بچے ہمارے چھوڑے گئے مسائل کا انبا ر اٹھائیں گے، ہماری نفرتوں اور تعصبات کو بھگتیں گے اور ہماری محبتوں کی چھاؤں میں سانس لیں گے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...