فتویٰ اور پارلیمینٹ

367

پاکستان کے اٹھارہ سو چنیدہ علمائے کرام نے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف متفقہ فیصلہ دے دیا ہے۔ اس فیصلے کا اجراء گذشتہ ہفتے کے اوائل میں ایوان صدر میں “پیغام پاکستان ” کے نام سے کیا گیا۔پیغام پاکستان کو ایک نیابنانیہ کہا جارہا ہے اور یہ یقیناً بہت مثبت پیش رفت ہے کہ اس نئے بیانیے میں آئین  اور دستور کی بالادستی کو اولیت دی گئی ہے، لیکن نئے بیانیے کے اجراء کے اگلے روز ہی آئین اور دستور کی محافظ مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) کے دواراکین نے لاہور کے مال روڈ پر اپنے ہی ادارے کے خوب لتے لیے۔

“پیغام پاکستان” کی حیثیت ایک متفقہ فتوے کی ہے اور علماء کرام میں یہ قومی اتفاق 1951کے بعد دوسرا واقعہ ہے جب تمام مکاتب فکر کی رائے ایک نقطے پر یکساں ہوئی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ 1951 میں اکتیس جید علماء کرام پاکستان کے نئے دستور کے لیے بائیس نکات پر متفق ہوئے تھے۔ اب یہ تعدادبڑھ کر اٹھارہ سو تک چلی گئی ہے اور اس مرتبہ اتفاق دستور کے تحفظ پر ہوا ہے۔بائیس نکات میں صرف ایک نکتہ ایسا ہے جس پر نظر ثانی ہوئی ہے جوامت مسلمہ کی وحدت کو بچانے اور اس کے تحفظ و استحکام  کی ذمہ داری سے متعلق تھا۔جبکہ پیغام پاکستان کے نونکات میں قومی معاملات کی حرمت کے باب میں کہا گیا ہے کہ ” بعض گروہ (اس سلسلہ میں) جغرافیائی حد بندی کے(بھی) قائل ہیں چنانچہ وہ کسی دوسرے ملک میں لشکر کشی کاحصہ بن جاتے ہیں ۔یہ رویہ اسلامی تعلیمات کی رو سے عہد شکنی میں آتا ہے۔”

پیغام پاکستان کی یہ شق واضح طور پر علماء کرام کی اس رائے سے رجوع ہے جس کی آبیاری انہوں  نے ساٹھ برس سے زائد کی اور دس برس ہچکچاہٹ میں گذار دیے۔امت مسلمہ کے چیمپئن ہونے کا سب سے زیادہ فائدہ ان عسکری جتھوں نے اٹھایا جو ادھر ادھر اپنی عسکری مہمات چلاتے رہےلیکن انہیں امہ کی تائید حاصل نہ ہوسکی۔اس شق کا ایک پس منظر افغانستان کے منظرنامے سے بھی جڑا ہوا ہے۔افغان حکومت کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے اپنے اکتوبر کے دورہ کابل میں وعدہ کیا تھا کہ وہ پاکستان کے علماء سے افغانستان میں جاری طالبان کی مزاحمت کے خلاف فتویٰ کو جلدازجلد یقینی بنائیں گے۔اگرچہ الگ سے ایسے فتویٰ کا اجراء مشکل تھا اور ناقدین کا کہنا ہے کہ “پیغام پاکستان ” کی اس شق کے ذریعے افغانستان کو بھی مطمئن کیا جانا مطلوب تھا لیکن کابل سے آنے والے ردعمل سے لگتا ہے کہ وہ ” پیغام افغانستان” نامی فتوے کے منتظر تھے۔

بہرطور “پیغام پاکستان” بیانیہ سازی کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے اور اسے صرف اٹھارہ سوعلماء تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ان علماء کی ذمہ داری ہے کہ اس سے متفقہ اعلامیے اور فتوے کو نہ صرف اپنے دائرہ اثر میں پھیلائیں بلکہ اسے مدارس کے نصاب کا حصہ بنائیں اور اپنی تقاریر کا محوربنائیں۔ظاہر ہے حکومت اور معاشرے کے دیگر طبقات کی ذمہ داری بھی ہےکہ علماء نے جس میثاق پر اتفاق کیا ہے،اسے قومی اتفاق میں بدلنے کے لیے کاوش کریں۔

یہ بھی کہا جارہا ہے کہ یہ اقدام پارلیمینٹ یا اس کے ذیلی ادارے کی طرف سے اٹھایاجانا چاہیے تھا اور اسکی تشکیل میں عسکری اداروں کے کردار پر سوال اٹھایا جارہا ہے لیکن پورے مسودے میں کوئی ایسا نکتہ نہیں ہے جس پر اتفاق رائے نہ پایا جاتا ہو۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عسکری اداروں کے کردار اور کامیابی سے انکا ر نہیں کیا جاسکتا لیکن پارلیمینٹ اور حکومتی اداروں نے نئی فکر اور نئے بیانیے کی تشکیل میں موثر اور کلیدی کردار ادا نہیں کیا تھا جس کے باعث خلا موجود تھا اور خلازیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ پارلیمینٹ کا استحقاق اس سے لے لیا جائے یا اس کے متوازی عمل کی حوصلہ افزائی کی جائے۔پاکستان کو جس بیانیے کی ضرورت ہے وہ عمرانی معاہدے پر نظرثانی سے متعلق ہے۔ دہشت گرد اور انتہاپسند کس چیز کو چیلنج کرتے ہیں؟۔پاکستانی ریاست کی ساخت،اس کا آئین ، دستور اور اس دستور کا محافظ ادارہ کون ہے؟ پارلیمینٹ ۔

پاکستانی عسکری گروہوں کی ذہنی اور نظری تشکیل میں القاعدہ کے بانی اراکین بالخصوص ایمن الظواہری کا بنیادی کردار ہے اور اس کی کتاب “سپیدہ سحر”پاکستان کے آئین کا تنقیدی جائزہ ہے اور وہ ثابت کرتا ہے کہ یہ آئین اسلامی نہیں ہے۔ یہ اتفاق ہے کہ جب حکومت نے “پیغام پاکستان” پیش کیا ،انہی دنوں محسود طالبان نے “انقلاب محسود” کے نام سے چھ سو اسی صفحات پر مشتمل اپنا مقدمہ پیش کیاہے اور اس میں ایک باب”کون سا نظام ناکام اور فرسودہ ہے”کے عنوان سے باندھا ہے اور اس میں قبائلی اور جمہوری معاشرے کا تقابل پیش کیا ہے۔عنوان سے ظاہر ہے کہ جمہوری اداروں پر تنقید کی نوعیت کیا ہوگی۔

بظاہر جب عسکریت پسند اور بعض سیاسی رہنما پارلیمینٹ کو ہدف تنقید بناتے ہیں تو وہ مختلف مقاصد کے تحت قانون سازی اور رائے سازی کے نمائندہ ادارے کو کمزور کرتے ہیں۔عسکریت پسند اس ادارے کے متبادل اداروں کی بات کرتے ہیں جبکہ یہ سیاسی رہنما پارلیمینٹ پر اعتماد کے لیے تیار نہیں۔  پاکستان کی سیاسی اور عسکری تاریخ پارلیمینٹ کی بالادستی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس کشمکش میں پارلیمینٹ بہت کم بالادست ہوئی ،فوجی حکمران ہوں یا سویلین پارلیمینٹ صحیح کردار اور مقام کوترستی رہی ہے۔فوجی حکمران اسے ربڑ سٹیمپ سمجھتے رہے اور سیاست دان پارلیمینٹ سے بالا معاملات چلانے اور سلجھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

عسکریت پسندوں کاظہور پارلیمینٹ کی منظوری سے نہیں ہواتھا،جہاں ان کا ظہور ہوا، جس اندرونی اور بیرونی مذہبی نظریہ سازوں نے انکی تشکیل میں کردار ادا کیا۔ اس نے انہیں دستور اور پارلیمینٹ کے سامنے لاکھڑا کیا۔یہ کیا تضاد ہے کہ  اب وہی ریاستی ادارے دستوراور آئین کی بالادستی کے بیانیے کے لیے کاوش کررہے ہیں لیکن ” پیغام پاکستان” کے پورے مسودے میں ” پارلیمینٹ” کا لفظ موجود نہیں۔ عمران خان پارلیمینٹ کی عزت کے لیے تیار نہیں۔عسکریت پسند پارلیمینٹ کے وجود کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔نئی ابھرتی کالعدم تنظیموں سے وابستہ سیاسی جماعتیں پارلیمینٹ کو “لانڈری” سے زیادہ درجہ دینے کو تیار نہیں۔ حکومت پالیسی سازی کے لیے پارلیمینٹ پر اعتماد کے لیے تیار نہیں۔

اب چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی اس عملی اور فکری تضاد کو “دستور گلی” میں کیسے لیکر جائیں گے۔ ایک اتفاق ہوا ہے،ایک بیانیہ بنا ہے، ایک فتویٰ جاری ہوا ہے۔ اس کی نگہداشت کون کرے گا؟

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...