دہشت گردی کے خلاف متفقہ فتویٰ

پیغام پاکستان

1,441

دہشتگردی اور انتہا پسندی  کی روک تھام کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے متفقہ قومی بیانیہ  “پیغام پاکستان  ” کا اجرا کر دیا  گیاہے۔9نکات پر مشتمل اس فتویٰ میں  خودکش حملوں کو متفقہ طور پر حرام قرار دیا گیا ہے اور اسلام  یا نفاذ  شریعت کے نام پر مسلح جدوجہد  کو غیر شرعی اور غیر اسلامی قرار دیا  گیا ہے۔متفقہ فتویٰ میں  کہا گیا ہے کہ   اقدام جہاد  کا اختیار صرف ریاست  کے پاس ہے اور  کوئی بھی فرد یا گروہ  ایسا اقدام کرنے پر واجب التعزیر ہو گا۔  دستاویز   کا ابتدائی مسودہ  محققین  ادارہ تحقیقات اسلامی ،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ،اسلام آباد نے تیار کیا  اور بعد ازاں   یہ دستاویز  مختلف مکاتب فکر کے جید علماء کرام ،مفتیان عظام ،دینی مدارس کے تمام وفاقوں کے ناظمین اور قومی جامعات کے اساتذہ  کی مشاورت اور نظر ثانی  کے بعد شائع کی گئی۔

اس تاریخی دستاویز کی تقریب رونمائی16 جنوری کو ایوان صدر اسلام آباد  میں  صدر مملکت  ممنون حسین کی صدارت میں منعقد ہوئی   ،دیگر مقررین میں وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال،وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف،جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن،ایوان بالا میں قائد ایوان  راجہ  محمد ظفر الحق، ہائر ایجوکیشن کمیشن  کے  چیئرمین  پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد  اور اتحاد تنظیمات مدارس کے  سربراہان شامل تھے، جبکہ میزبانی کے فرائض   ادارہ تحقیقات اسلامی کے ڈائریکٹر جنرل  ڈاکٹرمحمد  ضیاء الحق نے سرانجام دیے۔

صدر مملکت ممنون حسین نے  اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ اسلام کی رو سے شدت پسندی، خون ریزی اور خودکش حملے فساد فی الارض کے زمرے میں آتے ہیں  اور علماء کا  یہ فتویٰ اسلامی تعلیمات کی روح کے عین مطابق ہے جس پر عملدرآمد سے انتہا پسندی کے فتنے پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔صدر مملکت کا کہنا تھا کہ خوشی ہے کہ فتوے کو متعلقہ ریاستی اداروں کی تائید بھی حاصل ہے اور یہ اتفاق رائے ہی ہماری کامیابی کی کلید ہے۔ انہوں نے  اس متفقہ   فتویٰ کو تاریخی اور غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے  بہ تکرار صحافیوں اور میڈیا کے نمائندوں پر زور دیا کہ اس اہم اور  تاریخی فتویٰ کی تشہیر میں اپنا کردار ادا کریں۔
وزیرداخلہ احسن اقبال نے متفقہ بیانیہ مرتب کرنے پر ادارہ  تحقیقات اسلامی  اور علماء کرام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ  آج کے دن ہم دہشتگردی کے خلاف جان کی قربانی دینے والے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ  ہم  بہت بڑی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہے ہیں اور یہ فتوی ٰہمیں متحد کرنے کے لیے پلیٹ فارم مہیا کرے گا، جب بیانیہ منتشر ہوتا ہے تو تنازعات جنم لیتے ہیں، ترقی یافتہ اور فلاحی ریاست کے لیے ہمیں متحد ہو کر آگے بڑھنا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ چار سو سال قبل جب صنعتی انقلاب دستک دے رہا تھا تو اسلامی ممالک  اس دستک کو نہیں سمجھ پائے جبکہ مغربی ممالک  نے اسے سمجھ کر ترقی کی۔اب  مستقبل کی سمت درست کرنے کے لیے ہمارے  پاس ایک موقع ہے کہ ہم  تعلیمی انقلاب کا خیرمقدم  کریں اور  سائنس و تحقیق میں اپنا مقام پیدا کریں، آج اگر امریکہ ستاون اسلامی ممالک کے مقابلے میں ایک یہودی ریاست  کو فوقیت دیتا ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ ہمارے ستاون ممالک مل کر  وہ نالج نہیں تخلیق کر رہے جو اسرائیل تنہا کر رہا ہے۔

وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا کہ  اس دستاویز کے تمام نکات  بڑے اہم اور جامع ہیں ،اس میں انتہا پسندی اور دہشتگردی کی تمام صورتوں کو مسترد کیا گیا ہے، اس کے مثبت  نتائج  جلد قوم کے سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔ اب ہمیں اس بیانیہ کو ملک کے ہر ہر فرد تک پہنچانا ہو گا۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں کشمیر کمیٹی کے چئر مین مولانا فضل الرحمن نے اپنے خطاب میں ریاست پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ  ملک کو جب بھی علماء کرام کی ضرورت پیش آئی تو علما نے بڑھ چڑھ کر اپنا کردار ادا کیا لیکن  اسلامی نظریاتی کونسل  کی تمام مکاتب فکر کی جانب سے تیار کردہ  سفارشات میں سے آج تک  کسی ایک سفارش پر بھی قانون سازی نہیں کی گئی،اس کا ذمہ دار کون ہے؟انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے پشاور میں پچیس ہزار علماء کرام  کو مدعو کیا تھا جنہوں نے     آئین پاکستان  کے مطابق جد وجہد کرنے  کا عزم کیا تھا،اسی طرح لاہور میں بھی  علما نے متفقہ فتویٰ دیا تھا  جس کا مسودہ  میں نے خود تیار کیا تھا،اس سے قبل2004 میں مفتی منیب الرحمن  بھی فتویٰ دے چکے تھے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ علما نے تو اپنی ذمہ داری پوری کی اور نوجوانوں کو  شریعت کے نفاذ کے لیے مسلح جد و جہد  سے دور رکھنے میں اپنا کردار ادا کیا لیکن اس کے مقابلے میں ریاست نے کیا کیا؟ ہمیں جمہوری اور آئینی راستے سے اب تک اسلام کیوں نہیں دیا گیا؟انہوں نے کہا کہ اعتماد دو طرفہ ہوتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے صدر مملکت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک بھر کے علماء کرام جمع ہوکر ریاست پر اعتماد کا اظہار کررہے ہیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے آپ کی پشت پر کھڑے ہیں مگر آج کے بعد ریاست کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ علماء کرام پر اعتماد کرے۔حکومت کو مدارس پر چھاپے مارنے ،بے گناہوں کو فورتھ شیڈول میں ڈالنے  اور مختلف حربوں سے علماء کرام کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کرنا  ہو گااور ریاست کو اپنی اس پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہو گی۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اسلام ہمیں فرقہ واریت اور شیعہ سنی جھگڑوں میں الجھنے کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ اہل بیت بھی ہمارے ہیں اور صحابہ کرام بھی ہمارے ہیں۔ اہل بیت کا انکار کرنے والا اپنے ایمان کی خیرمنائے اور صحابہ کرام کا انکار کرنے والا بھی اپنے ایمان کی خیر منائے۔

مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین  اور ایوان بالا میں قائد ایوان راجہ محمد  ظفر الحق نے بھی   پیغام پاکستان  دستاویز کو احسن اقدام قرار  دیتے ہوئے کہا کہ  اس کا مختلف زبانوں میں ترجمہ کروا کر زیادہ سے زیادہ عام کیا جائے۔

یاد رہے کہ  یہ فتویٰ 27 مئی2017  کو  مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد  رفیع عثمانی نے ادارہ تحقیقات اسلامی کے زیر انتظام ” میثاق مدینہ کی روشنی میں پاکستانی معاشرے کی تشکیل نو” کے عنوان سے  منعقدہ  ایک روزہ سیمنار  میں صدر مملکت جناب ممنون حسین کی موجودگی میں  پڑھ کر سنایا تھا۔

 

 

ذیل میں  متفقہ فتوی کا مکمل متن دیا جاتا ہے

 

 

 

اسلامی جمہوریہ پاکستان آئینی و دستوری لحاظ  سے ایک اسلامی ریاست ہے جس کے دستور   کا آغاز اس قومی  و ملی میثاق قرارداد مقاصد سے ہوتا ہے:  اللہ  تبارک و تعالی  ہی کل کائنات کا بلا شرکت غیرے حاکم ہے اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیار و اقتدار  اس کی مقرر کردہ حدود  کے اندر استعمال کرنے کا حق ہے  وہ ایک مقدس امانت ہے۔نیز دستور میں اس بات کا اقرار بھی  موجود ہے  کہ اس ملک میں قرآن و سنت کے خلاف  کوئی قانون نہیں  بنایا  جائے گا،اور جو موجودہ  قوانین  کو قرآن و سنت  کے مطابق ڈھالا جائے گا۔

  ہم  متفقہ طور پر اسلام  اور برداشت کے نام پر انتہاپسندانہ سوچ   اور شدت پسندی کو مسترد کرتے ہیں ۔یہ فکری سوچ  جس جگہ بھی ہو  ،ہماری دشمن ہےاور  اس کے خلاف فکری و انتظامی جد و جہد دینی تقاضا ہے۔

 ہم یہ سمجھتے ہیں کہ  فرقہ وارانہ  منافرت ،مسلح فرقہ وارانہ تصادم اور طاقت کے بل پر  اپنے نظریات  کو دوسروں پر مسلط کرنے کی روش شریعت کے احکام کے منافی  اور فساد فی الارض  ہے،نیز اسلامی جمہوریہ  پاکستان کے دستور و  قانون  کی روح سے ایک قومی و ملی جرم ہے۔ اس لیے ہم مطالبہ کرتے ہیں  کہ حکومت کے ادارے ایسی (منفی) سرگرمیوں کے سد باب کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کریں۔

 پاکستان میں نفاذ شریعت کے نام پر  طاقت کا استعما،ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی،تخریب و فساد  اور دہشتگردی کی تمام صورتیں جن کا ہمارے ملک کو سامنا ہے اسلامی شریعت کی رو سے  ممنوع اور  قطعی حرام ہیں  اور بغاوت کے زمرے میں آتی  ہیں  اور ان کا  تمام تر   فائدہ  اسلام اور ملک دشمن عناصر کو پہنچ رہا  ہے۔

 ہم  پاکستان کے تمام  مسلکوں  اور مکاتب فکر کے نمائندہ  علما  شرعی دلائل  کی روشنی  میں اتفاق رائے سے  خود کش  حملوں کو حرام قرار دیتے ہیں اور ہماری رائے میں   خودکش  حملے کرنے والے،کروانے والے اور ان حملوں کی ترغیب دینے والے  اور  ان کے معاون    پاکستانی  اسلام کی روح  سے  باغی ہیں  اور ریاست  پاکستان   شرعی  طور پر  اس قانونی کارروائی کی مجاز ہے  جو باغیوں کے خلاف کی جاتی ہے۔

  دینی شعائر اور نعروں کو نجی عسکری مقاصد اور مسلح طاقت کے حصول کے لیے استعمال کرنا قرآن و سنت کی رو  سے درست نہیں۔

 جہاد کا وہ پہلو  جس میں جنگ اور قتال  شامل ہیں کو شروع کرنے کا اختیار صرف اسلامی ریاست کا ہے اور کسی شخص یا گروہ کو اس کا اختیار حاصل نہیں۔کسی بھی فرد یا گروہ کے ایسے اقدامات کو ریاست کی حاکمیت  میں دخل اندازی سمجھا جائے گا اور ان کے یہ اقدامات ریاست کے خلاف بغاوت تصور ہوں گے جو اسلامی تعلیمات کی رو سے سنگین اور  واجب تعزیر جرم ہے۔

 اسلامی جمہوریہ  پاکستان کے تمام شہری ،دستوری و آئینی  میثاق کے پابند ہیں  جس کی رو سے  ان پر لازم قرار پاتا ہے  کہ وہ بہر صورت  حب الوطنی اور ملکی  و قومی مفادات  کا تحفظ  پہلی ترجیح کے طور پر کریں   اور اس پر کسی صورت آنچ نہ آنے دیں، ملک  و قوم کے اجتماعی مفادات  کو کسی بھی عنوان سے  نظر انداز کرنے کی حکمت عملی  اسلامی تعلیمات کی رو سے عہد شکنی اور غدر قرار پاتی ہے، جو دینی نقطہ نظر سے سنگین جرم اور لائق تعزیر ہے۔

 ریاست  پاکستان   میں امن و سکون قائم کرنے  اور دشمنان  پاکستان کے خلاف جو جد وجہد شروع کی گئی  ہے ہم اس کی بھرپور تائید کرتے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...