کیا اقتصادی ترقی اور سماجی تبدیلی کا خواب دیکھا جاسکتا ہے؟

577

جب پاکستان بنا تھا تو اس کے وجود کے جواز کی بہت سی دلیلیں دی گئی تھیں اور بدقسمتی سے یہ دلیلیں دینے کی ضرورت ابھی تک محسوس کی جاتی ہے، جیسے ابھی اس ملک کے قیام کا فیصلہ ہونا باقی ہو؟ لیکن ہم ان نظری، فکری جوازوں سے آگے بڑھتے ہوئے دیکھیں تو نوآبادیات کے چنگل سے آزاد ہونے والے دیگر ممالک کی طرح اپنے ملک کی ترقی ہی پاکستان کا اصل قومی مقصد تھا۔ پاکستان کے بارے میں زیادہ تر عوامی مباحث چونکہ نظریاتی اور سیاسی پیرائے میں ہوتے ہیں، اس لئے ترقی کا تصور دھندلایا ہوا سا رہتا ہے۔ کسی کی ساری جدو جہد اسے مذہبی ملک بنانے میں ہے، کسی کو ایک لبرل اور سیکولر ملک چاہئے اور کوئی اپنی نسلی اور قومی شناخت کے حصول کے لیے سرگرداں ہے۔ سمجھا یہ جاتا ہے کہ ایک بار ہم اس ملک کی شناخت کے یہ مسئلے حل کرلیں پھر اقتصادی ترقی اور قومی افتخار اس کے ساتھ خود ہی حاصل ہو جائے گا۔ مطلب کہ نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی۔

ترقی یا ڈویلپمنٹ کا تصور یقیناً ہمہ جہت ہے لیکن اس کا مرکزی خیال اقتصادی ترقی سے ہی جنم لیتا ہے۔ ساری چیزیں آپ کے اقتصاد سے ہی جڑی ہیں، تہذیب خوشحالی سے جنم لیتی ہے ورنہ بھوک تہذیب کے آداب مٹا دیتی ہے۔ بقا کی جدوجہد میں کوئی قانون کوئی اصول، کوئی آداب معانی نہیں رکھتے۔ اقتصادیات کے علم کے مطابق ترقی کا پیمانہ یہ ہے کہ کسی ملک کی فی کس آمدنی وقت کے ساتھ مسلسل بڑھتی رہے، اس طرح کہ نہ تو اس کے ساتھ غربت کی لکیر کے نیچے رہنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو اور نہ لوگوں کی آمدنیوں میں بہت زیادہ تفاوت پیدا ہو۔ اب یہ ایک بہت مشکل سا چیلنج ہے۔ دولت کی تو شاید پاکستان میں بھی کمی نہیں۔ ہمارے امیر یورپ کے امیروں سے زیادہ شاندار اور پرآسائش زندگیاں گزارتے ہیں۔ اصل مسئلہ مساوات کا ہے اور یکساں مواقع کی فراہمی کا ہے۔

آمدنیوں کے درمیان فرق کم کرنے سے مساوات پیدا ہوتی ہے اور مساوات سے ظلم اور زیادتی کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔ ظلم اور زیادتی کم ہونے اور یکساں مواقع کی دستیابی سے ہی ترقی کا سفر آگے بڑھتا ہے۔ اس طرح سماجی مساوات، غربت کا خاتمہ، انسانی حقوق کی پاسداری، امن و امان، بہتر حکمرانی، جمہوریت جیسے تمام مقاصد براہ راست اقتصادی ترقی کے تصور کا حصہ بن جاتے ہیں۔ نوبل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات امرتیا سین تو اس سے آگے بڑھ کر ترقی کی تعریف اس طرح کرتے ہیں کہ ” ترقی کا عمل آزادیوں میں مسلسل اضافے کا نام ہے۔ یعنی محرومی سے آزادی اور تعلیم، صحت اور انسانی حقوق کا حصول۔” آج دنیا میں سماجی تبدیلی اور اقتصادی ترقی کا پیمانہ یہی ہے کہ کس ملک میں کس حد تک یہ آزادیاں موجود ہیں۔

نوبل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات امرتیا سین ترقی کی تعریف اس طرح کرتے ہیں کہ ” ترقی کا عمل آزادیوں میں مسلسل اضافے کا نام ہے۔ یعنی محرومی سے آزادی اور تعلیم، صحت اور انسانی حقوق کا حصول۔”

اقتصادی ترقی کو سماجی تبدیلی کے ساتھ جوڑنے کا یہ تصور جدیدیت کے تصورات کا حصہ ہے۔ اس تصور سے ملک میں موجود معاشیات کے ڈھانچے کی تشکیل نو کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اس میں ذرائع پیداوار، تقسیم محنت و وسائل، اقتصادی اور سماجی اداروں کی تنظیم نو، مزدوروں کی بہبود، ٹیکنالوجی اور دیگر جدید سہولتوں کے استعمال کے بارے میں اس طرح سے کام کرنا ہوگا کہ استحصال کی تمام صورتیں ختم یا ناقابل عمل ہو جائیں اور اقتصادی ترقی اور دولت میں اضافہ اس طرح ہو کہ امیر ترین اور غریب ترین طبقے کم ہونا شروع ہوں اور وسطی طبقہ کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوتا چلاجائے۔ یعنی دولت کا دائرہ صرف ایک افقی رخ پر بلند ہونے کی بجائے عمودی سطح پر پھیلنا شروع کردے۔

اب ایک اور مسئلہ ہے۔ جدیدیت کے ایسے تصورات پر عمل درآمد یورپ اور شمالی امریکہ میں شروع ہوا اور ان تصورات نے اداراتی شکل بھی وہیں حاصل کی، نتیجتاً ان اداروں پر مغربیت کی گہری چھاپ لگی ہے۔ اگرچہ یہاں بھی سماجی مساوات، عدل وانصاف، اقتصادی مواقع کی یکساں فراہمی کے حوالے سے ابھی کافی فاصلہ طے کرنا باقی ہے لیکن جتنا کچھ کام ہوا ہے اس سے ترقی اور خوشحالی کے بہت سے نئے در کھلے ہیں اور خاص طور پر سکنڈے نیوین ممالک (سویڈن، ناروے، ڈنمارک وغیرہ) انسانی بہبود میں پیش رفت کی بہتر مثالیں بن کر سامنے آئے ہیں۔ ترقی کے تمام اشاریوں میں یہ ممالک سرفہرست ہیں۔ سماجی اور اقتصادی تبدیلی کے ان تصورات اور اداروں پر مغربی چھاپ نے ہمارے اندر ان کے لیے نفور پیدا کردیا ہے۔ اب کیا جدیدیت مغربیت سے ایک علیحدہ اور آزاد تصور ہے، یا نہیں، یا ہوسکتا ہے؟ اس پر بحث کی جاسکتی ہے۔ تاہم بنیادی طور پر اسے تبدیلی کے ایک ایسے عمل کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جن سے اقتصادی اور سماجی ترقی کے اعلی مقاصد کا حصول ممکن ہو سکے۔

جدیدیت کے بارے میں ہمارے مبہم تصورات اور مغربیت سے بدکنے کی عادت نے ہمارے اندر عجیب تضادات پیدا کردیے ہیں، جو ہمارے آگے بڑھنے کے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں۔ بینکاری نظام سے چھٹکارہ بھی نہیں اور یہ ہمیں پسند بھی نہیں۔ ٹیکنالوجی کی فراہم کردہ جدید سہولیات (مثلا گاڑی، فون، ٹی وی، انٹرنیٹ، کمپیوٹر، علاج کی سہولتیں وغیرہ) کے بغیر ہمارا گزارا نہیں ہوسکتا اوریہ سہولیات ایجاد کرنے والوں سے نفرت بھی ضروری ہے۔  جدید ٹیکنالوجی اور جدید اقتصادی، سماجی، تعلیمی اور سیاسی اداروں کو اختیار کرنے کو مغربیت سے تعبیر کیا جاتا ہے، اور ہم اسے ایک ناگزیر برائی کے طور پر قبول بھی کر لیتے ہیں۔ کیا ایسا ممکن نہیں کہ ہمارے ماہرین تعلیم اور سماجیات کھلی آنکھوں اور جاگتے ذہن کے ساتھ مغرب کی ان کامیابیوں سے سیکھتے ہوئے، اپنی نفرتوں اور محبتوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے معروضیت کے رویےّ کے ساتھ اپنے اداروں کی تشکیل اور تطبیق کی کوشش کریں کہ غربت، محرومی اور عدم مساوات کے خاتمے کی طرف سفر کا آغاز ہوسکے۔ تاریخ کے سفر کو روکا نہیں جاسکتا، تاہم ماضی کی غلطیوں سے سیکھا ضرور جا سکتا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...