سیکیورٹی ڈاکٹرائن پر نظرِ ثانی

478

ملکی و غیر ملکی تجزیہ کار پاکستان کے بارے میں کئی حوالوں سے بات  کرتے ہیں ، جن میں غالباً ” سکیورٹی اسٹیٹ   ” کا حوالہ  زیادہ معروف ہے۔ اگرچہ پاکستان نے  کسی نیشنل سکیورٹی  پلان کا اعلان نہیں کیا، تاہم یہ تصور   حقیقت سے قریب تر ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کسی ملک کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ اپنی سکیورٹی ڈاکٹرائن کا  اعلان کرے۔ یہ  متحرک ہونی چاہئے کیوں کہ سکیورٹی چیلنجز   کبھی مستقل نہیں ہوتے اور نت  نئے تغیرات  سے ہم آہنگ رہتے ہیں۔

چند سال قبل  اس سیاسی اور سفارتی بحران کی  پیش گوئی کرنا ایک مشکل امر تھاجس کا سامنا خلیج تعاون تنظیم کے ممالک  کررہے ہیں، جو اپنے دوست اور دشمن کے بارے میں نئے سرے سے سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔یہی بات روس اور ترکی کے بڑھتے ہوئے سفارتی تعلقات پربھی لاگو ہوتی ہے۔پاکستان کا معاملہ بہت زیادہ پیچیدہ نہیں ہے۔ کچھ رجحانات کے شواہد موجود ہیں جن سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہےکہ یہی حالات قوم کی رہنمائی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔پاکستان  کولا حق ا سٹریٹجک اور سفارتی چیلنجز  محض افغانستان کی وجہ  سے نہیں ہیں،  بلکہ  ان میں اندرونی سکیورٹی معاملات   کا بھی حصہ ہے۔اسلام آباد اور واشنگٹن   کے مابین حالیہ تناؤ بھی اسی امر کا اظہار ہے۔

پاکستان کا  دفاعی داکٹرائن یقیناً بھارتی فوجی طاقت کے گرد گھومتا ہے، لیکن پاکستان آہستہ آہستہ افغانستان کی دلدل میں دھنستا چلا گیا اور اب ان حالات سے چھٹکارا مشکل ہورہا ہے۔ متفرق جغرافیائی و سیاسی  آپشنز میں تنوع لانا پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ  اس کے اسٹریٹجک شراکت دار،  بالخصوص چین اور ممکنہ شراکت دار روس  افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں۔نئے و پرانے اندرونی اور علاقائی سکیورٹی چیلنجز نے پاکستان کو مجبور کردیا ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی، دفاعی اور جغرافیائی ترجیحات کا از سرِ نو جائزہ لے۔حکومت اور سکیورٹی اداروں نے اسٹریٹجک معاملات کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔ ملٹری انسٹیٹیوشنز میں ہونے والی کچھ مشقوں کے علاوہ وفاقی حکومت نے بھی بعض اقدامات کا  آغاز کیا ہے۔ دسمبر 2017 میں وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننت جنرل          (ر) ناصر جنجوعہ کو قومی سلامتی پالیسی کا کام سونپا جو اب دستاویز ات کی صورت میں  متعلقہ کمیٹیوں کو فراہم کر دیا گیا ہے۔امید ہے کہ نیشنل سکیورٹی پالیسی رواں سال جاری کر دی جائے گی۔

کثیرالجہتی   قومی پالیسی عالمی، علاقائی اور ملکی تناظرات کا احاطہ    کرتی ہے جس  میں پاکستانی شہریوں کی فلاح اور تحفظ و سلامتی    پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ حکومت نے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کو  بھی یہ ٹاسک دیا ہے کہ وہ نیشنل انٹرنل سکیورٹی پالیسی کی تشکیلِ نو کرے۔  پہلی نیشنل انٹرنل سکیورٹی پالیسی 2014 میں مرتب کی گئی تاہم اس کا صحیح طور پر نفاذ نہ ہوسکا۔  کاونٹر ٹیررازم  کے لیے بنائی گئی  یہ پالیسی محدود تناظر میں مرتب کی گئی تھی یا پھر اس دوران  کچھ اہم چیلنجز کو مدِ نظر نہیں رکھا گیا تھا۔امکان ہے کہ جون 2018 سے پہلے اس پر مشاورتی عمل مکمل کر لیا جائے گا۔بلا شبہ یہ تمام پیش رفت ان امورکی غمازی کرتی ہے کہ بالآخر پاکستان  نیشنل سکیورٹی پالیسی کا اعلان کرنے جارہا ہے جو نیشنل انٹرنل سکیورٹی پالیسی کے تحت پایہِ تکمیل کو پہنچے گی۔یہ تما م عمل اچانک رونما نہیں ہو ا اورنہ اس کاتعلق موجودہ امریکی سفارتی بحران سے ہے۔ گزشتہ پندرہ سالوں میں پاکستان نے  اندرونی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ، ریپڈ ریسپانس فورس، نیشنل کاؤنٹرٹیررازم اتھارٹی اور سب سے اہم سکیورٹی معاملات کے حوالے سے کیبنٹ کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔قومی سلامتی کے لیے کیبنٹ کمیٹی    کا قیام 11/9 کے بعد عمل میں لایا گیا جو قومی سکیورٹی معاملات کے حوالے سے  فیصلہ سازی کا ہم ادارہ بن چکا ہے۔

تاہم ان اداروں کو دو اہم چیلنجز کا سامنا ہے۔  پہلا مبہم پالیسی اور لائحہِ عمل، جبکہ دوسرا چیلنج پارلیمانی اور سول نگرانی کی کمی ہے۔داخلی سلامتی کے معاملات میں عسکری  اداروں کی حد سے زیادہ دلچسپی بجائے خود حکومت اور  داخلی سلامتی کے اداروں کے لیے  ایک مسئلہ بن گئی ہے اور انہیں اپنی طاقت، اپنے وسائل اور حتیٰ کہ اپنے اختیارات  بھی فوج کے ذیلی  اداروں سے شیئر کرنا پڑ رہے ہیں ۔یہاں تک کہ  قومی سلامتی کی کابینہ کمیٹی میں بھی پالیسی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے دی جاتی ہے۔ پارلیمنٹ اور حکومت کوئی پالیسی انفراسٹرکچر نہیں بنا سکی  جوپالیسی کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرتا اور پارلیمانی  و عوامی رائے کو لائحہِ عمل کا حصہ بنانے  کا موجب ہوتا۔

حتیٰ کہ جاری نیشنل سکیورٹی پالیسی کےتکمیلی مراحل میں پارلیمنٹ کو آن بورڈ لیا گیا اور نہ ہی پارلیمنٹ نے یہ ضرورت محسوس کی کہ وہ قومی سلامتی پالیسی پر کسی بحث کا آغاز کرتی یا پھر اس کے حوالے سے اپنا نقطہِ نظر پیش کرتی۔حکومت  آج  ایوان صدر میں قومی پالیسی پر پیش کرنے جا رہی ہے مگر اہم بات یہ ہے کہ اس پر بھی پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ، جس کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے۔ایک سپریم، آئین و قانون ساز اور عوام نمائندہ ادارے کو اس طرح کے اہم مباحثے میں شریک نہ کیے جانے کا نتیجہ کیا ہوگا؟ یہ عمل نہ صرف قانون سازی و ذمہ داری کے  حوالے سے  مسائل پیدا کرتا ہے بلکہ کسی ایسے  حسا س اور سنجیدہ معاملے پر پارلیمنٹیرینز اور سول سوسائٹی کی آراء کو نظر انداز کرنے کی وجہ بنتا ہے جو ان مسائل کو زیادہ عمدہ طریقے سے زیرِ بحث لا سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر کالعدم تنظیموں کا معاملہ ، جس کے سبب پاکستان  سالوں سے اندرونی و بیرونی سکیورٹی مسائل کی پیچیدگیوں کا سامنا کررہا ہے،  محدود یا بیورو کریسی کی سطح پر ڈیل نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہونا چاہیے، بالخصوص ان کالعدم تنظیموں کے متعلق، جن کو بیرونی دنیا ریاستی پراکسیز   سمجھتی ہے۔ گروہوں کی بحالی  کسی باقاعدہ ریاستی پالیسی کا حصہ نہیں تھی اور نہ ہی اس سلسلے میں پارلیمنٹ کو اعتماد میں لایا گیا تھا۔ پارلیمنٹ اپنی اجتماعی دانش  سے کالعدم تنظیموں کے مستقبل سے متعلق کسی رہنما پالیسی  کی فراہمی سے فوجی اسٹیبلشمنٹ کا بوجھ کم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ دوسرا اہم معاملہ جو پالیسی کی تشکیل میں انتہائی مبہم دکھائی دیتا ہے  وہ پالیسی کے نفاذ اور مانیٹرنگ کے لیے مطلوبہ میکنزم کا معاملہ ہے۔ یہ سقم نیشنل ایکشن پلان میں بھی دیکھنے کو ملا تھا۔

تاحال کوئی بھی نیشنل ایکشن پلان کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔ متعدد اتھارٹیز  اس کے نفاذ کی ذمہ دار سمجھی جارہی ہیں۔ پارلیمانی نگرانی اس مسئلے کو حل کر سکتی ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کو بھی نیشنل انٹرنل سکیورٹی پالیسی کی مشاورت میں زیرِ بحث آنا چاہیے۔زیادہ تر ماہرین نیشنل ایکشن پلان کومختلف حصوں میں تقسیم کرنے پر متفق ہیں، ایک انسداد دہشت گردی اور دوسرے کو انتہا پسندی کے معاملات سے نمٹنا چاہیے۔ نظرثانی شدہ نیشنل ایکشن پلان کو نیشنل انٹرنل سکیورٹی پالیسی کا حصہ بھی بنایا جاسکتا ہے۔ سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ کسی بھی طرح کی سکیورٹی پالیسی میں بنیادی انسانی حقوق کا خیال رکھا جانا چاہیے۔حقیقی طور پر قانون کی عملداری  اور اتھارٹی کی طرف سے اختیارات کے ناجائز استعمال  کو روکنے کے لیے بھی موثر اقدامات کیے جائیں۔یہ عمل ملک کو سکیورٹی اسٹیٹ  کے ٹیگ سے چھٹکارا دلا سکتا ہے۔

 

(ترجمہ : حذیفہ مسعود،بشکریہ :ڈیلی   ڈان)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...