کیا ایک نئی پشتون تحریک اٹھنے کو ہے؟

1,066

اسفندیارولی تیزی سے متحرک ترین سیکولرکارکنوں، روشن خیال اساتذہ، ترقی پسندادیبوں اورصحافیوں میں اپنا مقام کھورہے ہیں۔ اسفندیارولی نےجس طرح مشال خان کی موت پررائٹ ونگ گروپ کے ساتھ خود کوقریب کرلیااس نے پارٹی کے لیفٹ ونگ سے اس کافاصلہ بڑھادیا

مردان میں واقع عبدالولی خان یونیورسٹی میں توہین رسالت کے الزام  میں اپنے ہم مکتب طالبعلموں کےہاتھوں  13اپریل کو قتل کئے گئے طالب علم مشال خان کی قتل کی تحقیقات کرنے کے لئے قائم کی گئی جوائینٹ انسٹی گیشن ٹیم (جے آئِ ٹی ) کی رپورٹ میڈیا کولیک کردی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں پختون اسٹوڈینٹس فیڈریشن (پی ایس ایف) اورعوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی بھرتی کئے گئے  پارٹی ملازمین اور کارکنوں کے منصوبہ بندی  کرنے اور قتل میں ملوث ہونے کوآشکارکیاگیاہے۔

ڈان نیوزکے مطابق  پی ایس ایف کے صدرصابرمایار اوریونیورسٹی ملازم نے مشال خان کوراستے سے ہٹانے کا فیصلہ قتل سے ایک ماہ قبل کیاتھا۔ خبرمیں جس سیاسی گروہ کا ذکرکیاگیاہے اس سے غالباً مراد اے این پی ہی ہے۔ قتل کاسب سے اہم محرک مشال خان کی یونیورسٹی کی کرپٹ انتظامیہ کے خلاف آوازاٹھاناقراردیاگیاہے۔  ڈان کے مطابق ’’جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق مخصوص گروپ نے توہین رسالت کے نام پر لوگوں کو مشعال کے خلاف اکسایا تھا‘‘۔

مشال خان کاکیس کئی حوالوں سے اہم ترین بن گیاہے۔ ایک تواس سے اے این پی کا رویہ اورطرز سیاست اجاگرہوتاہے۔ اس سے پتہ چلتاہے کہ کرپشن محض اعظم ہوتی اورسیدمحصوم شاہ جیسے بڑے افراد تک محدود نہ تھی۔ بلکہ بہت نیچے تک سرایت کرگئی ہے ۔ دوسرا یہ کہ کرپشن میں ملوث قوم پرست عناصرکس حدتک جاسکتے ہیں۔ اے این پی سیکولرازم کی دعویدارہے لیکن اس کے رائٹ ونگ اورکرپٹ عناصر اپنے مزموم مقاصد کے حصول لئےہرقسم کے حربے حتی کہ توہین رسالت کا الزام لگانے سے بھی گریزنہیں کرتے۔ تیسرا یہ کہ اے این پی نے بھی دیگرپارٹیوں کی طرح میرٹ کونظراندازکرکے کس قبیل کے افراد اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بھرتی کئے ہیں ۔جے آئی ٹی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یونیورسٹی میں رجسٹرار سے لے کر سیکیورٹی افسر تک تمام عہدوں پرنااہل سفارشی افراد تعینات ہیں اور سیاسی بنیادوں پر نا اہل افراد کی بھرتی سے یونیورسٹی کا نظام درہم برہم ہے۔ ان بھرتیوں میں سابق وزیراعلیٰ، ان کے والد اعظم ہوتی اورحمایت اللہ مایارنے اہم کردار اداکیاتھا۔

رپورٹ میں کہاگیاہے کہ بیشترملازمین مجرمانہ ریکارڈ رکھتے ہیں۔ اس طرح کے الزامات ماضی میں اسلامی جمعیت طلبہ اورجماعت اسلامی اورپیپلزپارٹی  پرلگائے جاتے تھے جوتعلیمی اداروں میں اپنی مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث افراد تک کونوکریاں جعلی طریقوں سے دلوایاکرتے تھے۔ یہی کارکن بعدمیں انتخابات اوردیگرمواقعوں پراہم کرداراداکرتے تھے۔ اب یہ طریقہ کارپشتون قوم پرستوں نے بھی اپنالیاہے۔

مشال خان کے لئے کل ہی پشاورمیں مظاہرہ ہواجس میں سول سوسائٹی اورپشتون اولسی تحریک کےکارکن شریک ہوئے۔ اے این پی کے ہمدرد پختون اولسی تحریک کے تنقیدنگارہیں جو اس مسئلہ کوبھی اٹھارہے ہیں ، جبکہ اے این پی اس کوہرقیمت پردبانے کی کوشش کررہی ہے۔ مشال خان کے قتل نے اے این پی کے طرز سیاست اورطریقہ کارکوبری طرح ایکسپوز کردیاہے۔ یہی نہیں بلکہ اے این پی کے دورمیں قائم کی گئِ دیگر 6 یونیورسٹیوں اور70سے زائد کالج بنے ان میں سیاسی بنیادوں پربھرتی کئے گئے افراد کے بارے میں اہم سوال اٹھ رہے ہیں۔ اے این پی نے ان تعلیمی اداروں میں میرٹ کونظراندازکرکے پارٹی کارکنوں اوررقم کے عوض افراد بھرے۔ وزیراعلٰی حیدرخان ہوتی کے والد اس دورمیں اپنی کرپشن کے لئے شہرت رکھتے تھے۔ جبکہ معصوم شاہ (جواپنی کریشن کے باعث ایس ایم ایس کہلاتے تھے)کے بارے میں کہاجاتاہے کہ وہ پارٹی کے سرابرہ کے براہ راست بندے تھے۔

مشال خان کے چہلم کے بعد خواتین نے مشال خان کے لِئے مردان میں انتظامیہ کی تمام قدغنوں کے باوجود جلوس نکالااورمظاہرہ کیا۔ اس سے پہلے ایک تعزیتی پروگرام بھی ہوا۔ اس سے پشتون قوم پرستوں کوبہت دھچکہ پہنچا۔ پختون اولیس تحریک کے سیدعالم نے مشال خان کے قاتلوں پرکیس فوجی عدالت میں چلانے کامطالبہ کیا جو  اے این پی کی مشکلات کودوچند کرنے کے لئے کافی ہے ۔

اگرچہ فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کامطالبہ کوئی زیادہ احسن نہیں ہے اوراس پرتنقید بجاہے۔ مگراس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اے این پی ازخود فوجی عدالتوں کے خلاف ہے، بلکہ اس لئے اس کیس میں ملوث افراد کاتعلق اے این پی سے ہے۔

دوئم یہ کہ قوم پرستوں کے نوجوان دانشورپختون اولسی تحریک اورسیدعالم پرتنقید کرتے ہیں کہ اس کی تنظیم عوام کوغیرسیاسی بنارہی ہے۔ پختون اولسی تحریک اس نعرہ کے ساتھ میدان میں ہے کہ پشتون قوم کے حقوق کا حصول اس کا مقصد ہے لیکن یہ ایک غیرانتخابی تنظیم ہے۔ ہر پارٹی سے تعلق رکھنےوالے ا س میں شامل ہوسکتے ہیں۔ لیکن قوم پرست جانتے ہیں کہ پختون اولسی تحریک  انہی کی جگہ گھیررہی ہے۔ اس کے مخاطب کوئی اورنہیں بلکہ پشتون قوم پرست ہی ہیں۔ یوں یہ سب قوم پرست انتخابی سیاسی پارٹیوں کی قیمت پرہورہاہے۔ لیکن نوجوان دانشورپشتون انتخابی سیاسی پارٹیوں کی موقع پرستی اورپسماندگی کاجوازپیش کرنے اوراس کادفاع کرنے سے قاصرہیں۔

مشال خان کی موت نے قوم پرستوں کی مشکلات یوں بڑھادی ہیں کہ اس کوتحریک کے باہرقوتوں سے زیادہ اس وقت اندرون خانہ مسائل سے نمنٹنے میں مشکل پیش آرہی ہیں۔ اسفندیارولی تیزی سے متحرک ترین سیکولرکارکنوں، روشن خیال اساتذہ، ترقی پسندادیبوں اورصحافیوں میں اپنا مقام کھورہے ہیں۔ اسفندیارولی نےجس طرح مشال خان کی موت پررائٹ ونگ گروپ کے ساتھ خود کوقریب کرلیااس نے پارٹی کے لیفٹ ونگ سے اس کافاصلہ بڑھادیا۔ پارٹی کی نظراگلے انتخابات میں پرہے۔ اوریہ جائیداد یافتہ طبقہ، ٹھیکیدار، بااثرزمین مالکان، کاروباری اورتاجر جیت کردے سکتے ہیں ناکہ دانشورطبقہ۔

لیکن پشتون دانشوروں اوراولسی تحریک کواتنا ہلکا شمارکرناایک بہت بڑی غلطی ہوگی۔ یہ وہ طبقہ ہے جورہی سہی قوم پرست تحریک کی پہچان ہے۔ اوریہی مشال خان کے لئے انصاف کے لئے کھڑے ہیں۔ لیکن ان کے مطالبے اے این پی کی سیاسی وانتخابی سیاست کے لئے نقصان دہ ہیں۔  مشال خان کے موت کے گرد اوراس کے لئے انصاف، تحریک کا  اٹھنا اس فیصلہ کن موڑپربڑے دانشوروں کے رویہ کاتعین کرے گا۔ اوریہ خود ان دانشوروں کی اپنی بقاء کے لئے بھی اہم ہے ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...