فتوے سے آگے

733

ایک فتوی ٰ اسی صورت کارگر ہو سکتا ہے جب اس کے ساتھ فکری مشق بھی ہو ۔جس میں ان سوالوں کے جواب دیئے جائیں جو انتہا پسند اور عسکریت پسند اپنے فکری مباحث میں اٹھاتے ہیں ۔

کیا ایک فتویٰ رویوں میں بڑی تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے؟ خاص کر پاکستانی معاشرے میں جہاں  مذہبی اور سماجی رویئے  تقریباً یکساں نوعیت کے ہیں۔یہاں کے  افراد اور گروہ فیصلوں کے صرف اسی حصے کو قبول کرتے ہیں جس میں ان  کی فکر یا مفادات کی ترجمانی ہو ۔یہ حقیقت مزید اس وقت ابھر کر سامنے آئی جب  ملک کے نامور مذہبی مفکرین کی جانب سے  دہشت گردی کے خلاف جاری ہونے والے  حالیہ فتوی ٰ پر کئی طرح کے رد عمل سامنے آئے ۔

حکومت اور اعتدال پسند قوتوں نے فتوے پر طمانیت کا اظہار کیا کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ مذہبی انتہا پسندی کے خلاف یہ ایک  مؤثر ہتھیار ہے ۔اس فتوے  پر عسکریت پسندوں یا انتہا پسند گروہوں کےرد عمل کا اندازہ کرنا کوئی مشکل امر نہیں ہے تاہم جیسے کہ مذہبی طبقہ تقسیم کا شکار  ہے ۔وہ جو دارالعلوم اکوڑہ خٹک کے کار پرداز ہیں یہ مدرسہ نہ صرف جہادی شناخت کے   بلکہ ریاستی  مراعات  کے حوالے سے بھی مشہور ہے ۔جس میں خیبر پختونخواہ حکومت کا رد انتہا پسندی کے لئے دیئے  جانے والا 30کروڑ کا حالیہ عطیہ بھی شامل ہے جس پر شدید تحفظات کا اظہار بھی سامنے آیا  ۔

مدرسے کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے مسلم حکمرانوں کو مغرب کی کٹھ پتلیاں کہا تھا جو اپنے آقاؤں کے خلاف جہاد نہیں کر سکتے ۔شدت پسند مذہبی گروہوں نے بھی اس طرح کے تاثرات کا اظہار کیا تھا یہ ا س قوم کے اسلامی عسکریت پسند ہیں جو درحقیقت  مغرب کے خلاف جہاد  پر آمادہ ہیں ۔دونوں کا یکساں نطقہ نظر قابل توجہ ہے ۔

یہ دہشت گردی کے خلاف پہلا فتوی ٰ نہیں ہے لیکن یہ  اپنے اسلوب ِ بیان میں مقابلتاً بہت واضح ہے ۔اور اس نے کلی اتفاقِ رائے سے قرار دیا کہ خود کش حملے اور حکومت کے خلاف بغاوت ممنوع اور حرام ہے ۔ماضی میں آنے والے فتوے ابہام کا شکار تھے اور یہ صرف پاکستان کے تناظر میں ہی جاری ہوئے تھے ۔جس بات نے مولانا سمیع الحق کو غصہ دلایا وہ یہ تھی کہ اس فتوے میں افغانستان کو ماورا قرار نہیں دیا گیا جہاں افغان طالبان  اپنے مسلمان بھائیوں کو مار رہے ہیں ۔

اس فتوے سے عسکریت پسندوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ کچھ مذہبی حلقے ان کے پُر تشدد ایجنڈے کو تسلیم نہیں کرتے ۔یہ ان لوگوں کے لئے بھی باعثِ تقویت ہو گا جو شدت پسندی کے درمیان میں کھڑے ہیں ۔تاہم اسلامی اور پُر تشدد انتہا پسندوں کی جانب سے جو فکری چیلنج درپیش ہے وہ کافی پیچیدہ ہے اور اس کا مقابلہ صرف فتووں سے نہیں کیا جا سکتا ۔

اسلام پسندوں کے ایجنڈے کا مقصود یہ ہے کہ وہ شدت پسند ذہنوں کی آبیاری کرے ۔مقامی سیاسی و سماجی مسائل بھی اس  عمل کی نگہداشت میں معاونت کرتے ہیں ۔یہ شدت پسند ہمارے ا س معاشرے کی پیداوار ہیں جہاں اسلامی قوتوں نے دنیا کے بارے میں ہمارے نقطہ نظر کو مخصوص  شکل دی ہے ۔

ایک جدید اسلامی ریاست اور نظام کے تصور کی پرورش  اسلامی مفکرین نے  کی جن میں حسن البنا، سید قطب ، تقی الدین النبھانی اور مولانا ابو الاعلی ٰ مودودی شامل ہیں۔ وہ ابھی بھی شہری مڈل کلاس مسلمانوں کے شعور کی تشکیل میں اہم کردار رکھتے ہیں ۔اسلامی جماعتیں اس جدوجہد میں ہیں کہ وہ اسلامی ریاست  کے ماڈل کو تمام مسائل کے حل کے طور پر پیش کریں ۔تیونس کی جماعت ’’انھادا ‘‘Ennahda  واحد اسلامی جماعت ہے جس نے مکمل طور پر مذہبی ایجنڈے کو سیاست سے الگ کر دیا ہے اور اس نے خود کو جمہوری مسلم جماعت کی شکل دے دی ہے ۔یہ تمام دنیا کی مسلمان جماعتوں کے لئے ایک کامیاب نمونہ ہے ۔

تکفیری جہادیوں نے اسلامی ریاست کا نظریاتی  فریم ورک  مستعار لیا اور اس کو اسلامی خلافت کے احیا سے  ملا دیا ۔انہوں نے مسلمان حکمرانوں کے خلاف اپنے فکری ،سیاسی اور حتیٰ کہ عملی اسباب  کی تعمیر بھی خروج  کی بنیاد پر کی ۔انہوں نے تکفیر کی بنیاد پر توجیحات کیں انہوں نے مسلمان حکمرانوں کو خطا کار ، مشرک اور کافروں کے ساتھی قرار دیا ۔یہ مولانا سمیع الحق کے تیقن کے برعکس ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمان عسکریت پسند  غیر ملکی  جبر کے خلاف لڑ رہے ہیں ۔

اسلامی عسکریت پسندوں کا فکری نمونہ اس بات کے گر دگھومتا ہے کہ ریاست کے خلاف بغاوت کی جائے اور جو ان سے متفق نہیں ہیں ان کو رد کر دیا جائے ۔یہ وہ چند سوالات ہیں جو وہ اکثر بڑھا کر پیش کرتے ہیں :

مسلم ریاست کے شہری اپنے عمرانی معاہدے یا آئین کے پابند ہیں اور وہ اپنی حکومتوں کے  خلاف ہتھیار نہیں اٹھا سکتے ۔کیا کسی کو اس میں استثنی ٰ بھی حاصل ہے ؟

کیا حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد ناگزیر ہے یا آخری آپشن ہے یا یہ تبدیلی کا مطلوبہ راستہ نہیں ہے ؟ پہلے معاملے میں ’’ضرورت ‘‘ کی کتنی گنجائش ہے جہاں مسلح بغاوت ناگزیر ہو جاتی ہے ۔کیا یہ صرف ذاتی تحفظ کی خاطر ہو سکتی ہے یا پھر اس کا مقصد اور بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ شریعت کا نفاذ ؟

پاکستان میں زیادہ تر مذہبی مفکرین یقین رکھتے ہیں کہ یہ تقریباً نا ممکن ہے کہ حکو مت کا کوئی اسلامی نظام وضع کیا جائے۔ اسلام  میں ،اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے ’’حکم ‘‘یا شرعی جواز کیا ہے ؟کہ ا س سلسلے میں جدوجہد کیسے کی جائے ؟

اگر ایک مسلمان ملک کی حکومت غیر مسلموں یا کافروں کو مدد ایک دسرے مسلمان ملک کے خلاف کرتی ہے تو مسلمانوں کے لئے شرعی حکم کیا ہے ؟

اگر ایک مسلمان ریاست کے کچھ  شہری مخصوص حالات میں  تکفیر کے مطابق مسلح بغاوت کرتے ہیں تو کیا ان کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اس گروہ کی مدد کا اعلان کریں یا وہ ریاست کی وفاداری پر حرف آئے بغیر چھپ کر ان کی مدد کر سکتے ہیں ؟امام ابو حنیفہ ؒ ان کے بارے میں کیا کہتے ہیں جنہوں نے زندگی میں کبھی خروج میں حصہ لیا ہو ؟

شدت پسندوں کے نظری مباحث کی تہہ میں ہمارا سامنا انتہائی شدت پسندانہ خیالات سے ہوتا ہے  اور ہمیں کئی ایسے افکار ملتے ہیں جو اپنی حکمت عملی ایسے ہی نظریات پر استوار کرتے ہیں ۔ابو بکر الناجی کی کتاب The Management of Savagery دولت ِ اسلامیہ کے عسکریوں کے لئے  تربیت کا ماخذ ثابت ہوئی ہے ۔۔ابوبکر مہاجر  جو دولت اسلامیہ اور القاعدہ کا ایک اور  ہے وہ   جہاد کے قوانین بیان کرتا ہے اور صدیوں سے رائج فقہ کی مخالفت کرتے ہوئے دعوی ٰ کرتا ہے کہ ’’کافروں کو مارنا اور ان کے خلاف ان کے وطنوں میں جنگ کرنا ناگزیر ہے اگر ان سے مسلمانوں کو کوئی خطرہ نہ بھی ہو‘‘۔مصطفی ٰ الصوری  اپنے طویل مقالے  The Call to a Global Islamic Resistance  میں رہنماؤں کے بغیر جہاد کی  وکالت کرتا ہے جس نے  ’’اکیلے بھیڑیوں ‘‘ کی نسل تیار کر دی ۔القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی جانب سے آئین ِ پاکستان پر تنقید  ان کی کتاب Dawn and a Flickering Lamp  میں  دلیل دی گئی ہے کہ مسلمان ملکوں کے سماجی معاہدے یا قوانین اسلام کی بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں ۔

مسلمان مفکرین کی جانب سے کچھ کوششیں کی گئی ہیں کہ وہ چیلنجز سے عہدہ برا ہوں ۔ایک فتوی ٰ اسی صورت کارگر ہو سکتا ہے جب اس کے ساتھ فکری مشق بھی ہو ۔جس میں ان سوالوں کے جواب دیئے جائیں جو انتہا پسند اور عسکریت پسند اپنے فکری مباحث میں اٹھاتے ہیں ۔

(بشکریہ ڈان : ترجمہ سجاد اظہر )

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...