لوگ سوانح عمری کیوں پڑھتے ہیں ؟

841

بر صغیر میں جدید سیرت نگاری میں دو مکاتب نمایاں رہے۔ مکتب سرسید اور مکتب ندوہ۔ دونوں مکاتب میں جدید سوانح نگاری کے جن اصولوں پر اتفاق ہے ان میں طرزِ تحریر کا آسان، رواں، ترتیب وار اور عام فہم ہونا اور مناظرے کی بجائے سچائی اور تحقیق کا مقصود ہونا شامل ہے۔ ابتدا سر سید کے مکتب سے ہوئی۔ سر سید کی کتاب خطباتِ احمدیہ ولیم میور کی کتابوں کے جواب میں لکھی گئی۔

اسلامی فقہ ،فکر و فلسفہ کے حوالے سے ڈاکٹر خالد مسعود کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔آپ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین،اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈائریکٹر،انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار دی سٹڈی آف اسلام ہالینڈ کے بھی ڈائریکٹر رہ چکے ہیں۔آج کل سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بنچ کے ایڈہاک ممبر ہیں۔ڈاکٹر خالد مسعود کئی کتب کے مصنف ہیں جن کے تراجم کئی زبانوں میں ہو چکے ہیں۔تجزیات کے قارئین کے لیے باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ (مدیر)

ویسے توسوانح عمری ہمیشہ ہی مقبول رہی ہے لیکن جدید دور میں مقبول ترین کتابوں کے جائزوں میں اعداد وشمار کے لحاظ سے بایوگرافی یا سوانح حیات اوّل درجے میں شمار ہوتی ہے۔ آج کا انسان کامیاب زندگی کے لیے مثالی شخصیت ڈھونڈتا ہے اور دیکھنا چاہتا ہے کہ ایک عام سا انسان کیسے ان بلندیوں تک پہنچ سکتا ہے۔ امریکہ میں صدر مملکت، کامیاب بزنس مین، ہر دلعزیز فلمی شخصیات کی زندگی پر لکھی کتا بیں سب سے زیادہ خریدی جاتی ہیں۔ ان کتابوں سے جہاں یہ پتا لگتا ہے کہ کسی معاشرے میں کامیاب زندگی کسے کہتے ہیں وہاں یہ یقین بھی پختہ ہوتا ہے کہ ایک عام آدمی بھی محنت کرے تو زندگی میں کامیاب ہو سکتا ہے۔
جدید سوانح نگاری کے مقابلے میں قدیم سوانح نویسی ہیرو پرستی کے اصول پر لکھی جاتی تھی۔ ہر سوانح نگار یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ نرگس ہزاروں سال اپنی بے نوری پہ روتی ہے تب جا کر ایک دیدہ ور پیدا ہوتا ہے۔ اس دیدہ ور کی زندگی انتہائی عقیدت سے لکھی جاتی جس سے پڑھنے والے کے ذہن میں یہ تصور جڑ پکڑتا ہے کہ وہ کوئی معمولی ہستی نہیں تھی جو عام آدمی کی دسترس میں ہو۔
جدید سوانح نگاری کا آغاز اٹھارھویں صدی میں ہوا تو شروع میں اس کے پیچھے یہ فلسفہ تھا کہ انسان کی فکر اور رویے پر اس کے خاندان، معاشرے اور علاقائی ثقافت کے ساتھ ساتھ اس دور کے نظریہ کائنات کے گہرے اثرات ہوتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں ایک فرد اپنے زمانے کی پیداوار ہوتا ہے۔ چنانچہ سوانح نگار اس شخص کی زندگی کے واقعات کو اس عہد کے پس منظر میں بیان کرتا ہے بلکہ واضح کرتا ہے کہ وہ انسان اس زمانے سے کیسے متاثر ہوا۔ قدیم سوانح نگار یا تو صاحب سوانح کی زندگی کے واقعات سَنہ کے حساب سے ولادت، بچپن، جوانی، حالات اور واقعات، شادی، اولاد اور دوسروں کے ساتھ تعلقات کی ترتیب سے بیان کرتا تھا اور اس کے کار ناموں کو ارتقا اور عصری رجحانات کی بجائے اس کے خاندانی یا گروہی پس منظر سے جوڑتا تھا۔ سوانح نگاری کی اس طرز سے بھی یہی تاثر بنتا تھا کہ زندگی کی کامیابیاں پہلے سے طے شدہ ہوتی ہیں فرد کے ہاتھ میں نہیں ہوتیں۔
بر صغیر میں جدید سیرت نگاری میں دو مکاتب نمایاں رہے۔ مکتب سرسید اور مکتب ندوہ۔ دونوں مکاتب میں جدید سوانح نگاری کے جن اصولوں پر اتفاق ہے ان میں طرزِ تحریر کا آسان، رواں، ترتیب وار اور عام فہم ہونا اور مناظرے کی بجائے سچائی اور تحقیق کا مقصود ہونا شامل ہے۔ ابتدا سر سید کے مکتب سے ہوئی۔ سر سید کی کتاب خطباتِ احمدیہ ولیم میور کی کتابوں کے جواب میں لکھی گئی۔ اس کے لیے سرسید نے لندن کا سفر بھی کیا اور بہت سی کتابوں کا مطالعہ بھی کیا۔ سر سید کی اس تصنیف کا پس منظر بہت اہم ہے۔ ولیم میور کی کتابیں برطانوی استعمار میں سیرت نگاری کو نوآبادیاتی مقاصد کے لیے استعمال کی کوششوں کا ایک حصہ تھی۔ اس کا مقصد پیغمبر اسلام سے مسلمانوں کی عقیدت کو کمزور کرنا تھا۔ اس کے لیے سیرتِ رسولؐ کو اس نقطہ نظر سے پیش کیا گیا کہ جدید ذہن میں ان کی اخلاقی عظمت مشکوک ہو جائے۔ سر سید نے خطباتِ احمدیہ میں ولیم میور کی سیرت نگاری کے اس مقصد کو فاش کیا اور ان الزامات کی تردید کی جو مسیحی مشنری جہاد، تعداد ازدواج، غلامی اور غیر مسلموں سے سلوک وغیرہ کے حوالے سے اسلام اور نبی کریم ؐ پر لگاتے تھے۔ ان مسائل پر سرسید کا مؤقف علما کے مؤقف سے مختلف تھا اس لیے سرسید کی کتاب کو پذیرائی نہ مل سکی۔ البتہ ان کے رفقا اور علی گڑھ کے دبستان تاریخ کی نشو و نما سیرت نگاری کے انہی اصولوں پر ہوئی۔
مکتب سرسید میں الطاف حسین حالی کا نام سب سے نمایاں ہے۔ حالی کی حیات سعدی، یادگارِ غالب اور حیاتِ جاوید ،جدید سوانح نگاری کا آغاز تھا۔ یادگار غالب میں حالی نے نہ جانبداری سے کام لیا نہ غالب سے بے انصافی کی۔ غالب کو صحیح معنوں میں روشناس کرایا۔ شبلی اور سلیمان ندوی کی نظر میں بھی حیات سعدی محققانہ سوانح عمری تھی۔ شبلی کا کہنا تھا کہ ان کے زمانے میں جو اور سوانح عمریاں لکھی گئیں ان میں تنقید اور جرح سے بالکل کام نہیں لیا گیا۔ اس کے لیے یہ عذر کیا گیا کہ ابھی قوم کی یہ حالت نہیں کہ تصویر کے دونوں رخ اس کو دکھائے جا سکیں۔
حالی کے بعد بڑا نام شبلی نعمانی کا ہے۔ حالی اور شبلی دونوں سر سید کے مکتب سے وابستہ تھے لیکن شبلی بتدریج سر سید کی جدیدیت سے بیزار ہوتے گئے۔ انہوں نے سوانح نگاری کے ندوی مکتب کی بنیاد ڈالی جو بعد میں دار المصنفین کا ادارہ بنا۔ یہ مکتب سوانح نگاری کے جدید اصولوں کا تو قائل تھا لیکن دینی شخصیات کی سوانح میں سر سید کی عقلیت پسندی کی بجائے عقیدت کی نفس گم کردگی کا متقاضی تھا۔ یہ مکتب سوانح نگاری کو سیرت کا تسلسل قرار دیتا تھا۔ سرسید کا مکتب سادہ اور سلیس زبان پر زور دیتا تھا تو ندوی مکتب سیرت نگاری میں انشا پردازی کی چاشنی کو لازمی قرار دیتا تھا۔ علامہ سلیمان ندوی نے اس رجحان کو مزید پروان چڑھایا۔ اس رجحان نے ایک جانب صاحب سوانح کو ہیرو اور مثالی شخصیت کے طورپر پیش کرتے ہوے سوانح نگاری اور سیرت نگاری کو ایک ہی صف میں کھڑا کردیا اور دوسری جانب عام اشخاص کے حالات زندگی کو بھی قابل تقلید بتانے کے لیے سیرت کے نام سے پیش کیا۔ حتیٰ کہ غیر مسلم رہنماؤں کے حالات زندگی کو بھی سیرت کا عنوان دیا گیا۔ اس دور میں لکھی گئی سیرت مدن موہن مالویہ اور سیرت گاندھی اس کی اہم مثالیں ہیں۔ اس دور میں سوانح کی کتابوں کے عنوانات ( مثلاً حیات، سیرت، سوانح، سوانح عمری، تذکرہ، یادگار) کا تنوع سوانح نگاری کے اسالیب اور مقاصد کی تحدید، تجدید اور توسیع کے عکاس ہیں۔
ندوی مکتب فکر کے بانی شبلی نعمانی مقدمہ سیرت النبیؐ جلد اوّل میں سیرت اور بایوگرافی کو مترادف قرار دیتے ہوے لکھتے ہیں کہ اس کا علوم و فنون میں ایک خاص درجہ ہے۔ ہر انسان کے حالات زندگی عبرت اور حقیقت شناسی کے لیے دلیل راہ ہیں۔ سیرت النبی ؐکی اہمیت اس لیے اور بھی زیادہ ہے کہ جو شخص حامل وحی اور سفیر الٰہی تھا اس کے حالات، اخلاق اور عادات کیا تھے؟ سیرت النبیؐ کی اصل کتابیں عربی زبان میں ہونے کی وجہ سے بر صغیر میں عام مسلمانوں اور جدید تعلیم یافتہ کی دسترس میں نہیں۔ انگریزی اور یورپی زبانوں میں موجود غیر مسلموں کی لکھی کتابیں قابل اعتبار نہیں کیونکہ وہ یا تو اسلام دشمن لوگوں نے لکھی ہیں یا تاریخ نگاری کے کڑے معیار پر پوری نہیں اترتیں۔ غیر مسلموں کی سیرت نگاری پر شبلی کی بنیادی تنقید یہی تھی کہ انہوں نے اپنے مقاصد کے لیے ضعیف اور موضوع روایات کا انتخاب کیا۔
شبلی نے اسلامی فن تاریخ کے اصول تفصیل سے بیان کیے۔ ان اصولوں کے دو پہلو ہیں ایک روایت اور دوسرا درایت۔ ان تمام اشخاص کو جن سے یہ واقعہ تاریخ نویس تک پہنچا راوی اور اس بیان کو روایت کہتے ہیں۔ اس بیان کی چھان پھٹک درایت کہلاتی ہے۔
روایت کے قابل اعتبار ہونے کی یہ شرائط ہیں
۱۔ جو واقعہ بیان کیا جائے وہ اس شخص کی زبان سے بیان ہوا ہو جو اس واقعہ میں شریک یا اس کا چشم دید ہو۔ اگر ایسا نہیں تو وہ ان لوگوں کی تفصیل بتائے جن سے اس نے واقعہ میں شریک شخص کا بیان سنا۔
۲۔ راوی کے قابل اعتبار ہونے کے لیے یہ معلوم ہونا ضروری ہے کہ وہ کون اور کیسا ہے۔ اس سلسلے میں اس کا چال چلن صحیح، حافظہ قوی، تعلیم مکمل، ذہنی کیفیت صحیح، اور سچا ہونا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ یہ دیکھنا بھی لازم ہے کہ اس کی اس شخص سے ملاقات بھی ثابت ہو جس سے وہ واقعہ بیان کر رہا ہے۔
درایت کے اصول مندرجہ ذیل ہیں۔
۱۔ واقعہ عقل کے خلاف نہ ہو۔
۲۔ قابل قبول ہو۔
۳۔ مسلمہ اصولوں کے خلاف نہ ہو۔
۴۔ محسوسات اور مشاہدے کے خلاف نہ ہو۔
۵۔ قرآن، حدیث اور اجماع قطعی کے خلاف نہ ہو۔
۶۔ معمولی بات پر سخت عذاب اور معمولی کام پر غیر معمولی انعام بیان نہ کرے۔
۸۔ زبان و بیان کے لحاظ سے شایان شان ہو، معنی میں بھی رکیک نہ ہو۔
۹۔ ایسی بات یا واقعہ جس سے اکثر لوگوں کا واقف ہونا ضروری ہو ایک راوی اکیلا بیان نہ کرے۔
۱۰۔ اگر ایک راوی اکیلا ایسا واقعہ بیان کرے جو اگر ہوتا تو سینکڑوں نے اس دیکھا ہوتا تو یہ روایت قابل قبول نہیں۔
علامہ شبلی نے لکھا ہے کہ عربی زبان میں بھی سیرت النبیؐ پر ایسی کوئی کتاب موجود نہیں جو صرف صحیح روایات پر مبنی ہو۔ اس لیے ان کتابوں کو بھی چھان پھٹک کے بغیر نہیں لیا جا سکتا۔ شبلی اپنی رائے کی تائید میں کئی قدیم علما کے نام لیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ ایک تو تاریخ کی کتابیں لکھنے کا رواج دوسری صدی ہجری میں ہوا۔ دوسرے لوگ عموماً جنگوں کے حالات میں دلچسپی رکھتے تھے اس لیے زیادہ تر کتابیں مغازی اور سیر کے عنوان سے لکھی گئیں۔ سیر یا سیرت کا معنی وہ اصول یا قواعد اور قانون تھے جن کی ان جنگوں میں پابندی کی جاتی تھی۔ سیرت کا مطالعہ انہی قوانین کو جاننے کے لییتھا۔
علامہ سلیمان ندوی نے مزید وضاحت کرتے ہوے لکھا کہ ابتدا میں سیرت اور فن حدیث میں فرق تھا۔ صحیح بخاری جو اصل میں نبی کریم ؐکے عہد کے حالات اور واقعات پر لکھی گئی سیرت کی کتاب ہے فن حدیث کے اصولوں پر پورا اترتی ہے۔ اس میں کوئی ضعیف حدیث نہیں۔ محدثین مغازی اور سیرت کو فن حدیث کا درجہ نہیں دیتے تھے۔ علامہ کے بقول سیرت بعینہ حدیث ہے بھی نہیں۔ جیسے فقہ قرآن اور حدیث سے ماخوذ ہے لیکن بعینہ قرآن یا حدیث نہیں۔ حدیث کی کتابوں میں واقعات کا بیان ہے لیکن تاریخی ترتیب نہیں۔ سیرت کی تصانیف میں روایت اور درایت کے اصولوں کا التزام نہیں۔
یہ مختصر تحریر مزید تفصیل کی اجازت نہیں دیتی۔ اس لئے ہم اسے صرف ایک بحث تک محدود رکھنا چاہیں گے جو حالی کی حیات جاوید اور سید سلیمان ندوی کی حیات شبلی کے حوالے سے ملتی ہے۔
حیات جاوید سر سید کی سوانح عمری ہے۔ اس کے دیباچے میں الطاف حسین حالی سوانح نگاری کی مختلف قسموں کی بات کرتے ہیں۔ ایک وہ جو ممدوح کے پھوڑوں کو ٹھیس نہیں لگنے دیتی۔ ایسی بایو گرافی چاندی سونے کے ملمعے سے کچھ زیادہ وقعت نہیں رکھتی۔ اپنے اسلوب کی وضاحت میں وہ کہتے ہیں کہ پھوڑے کھولے بغیر چارہ نہیں۔ ایسے شخص کا حال جس نے چالیس سال تعصب اور جہالت کا مقابلہ کیا۔ کسی نے صدیق کہا، کسی نے زندیق کہا۔ ایسے شخص کی لائف چپ چاپ کیوں کر لکھی جاسکتی ہے۔ ضرور ہے اس کا سونا کسوٹی پر کسا جائے اور اس کا کھرا پن ٹھونک بجا کر دیکھا جائے۔ سر سید ہم میں پہلا شخص ہے جس نے مذہبی لٹریچر پر نکتہ چینی کی بنیاد ڈالی ۔
حالی کی رائے میں بایوگرافی اگر بالفرض اپنے ہیرو کی تمام کلی و جزئی حیثیات پر بحث نہ کرسکے تو کم از کم اس کی نمایاں اور مسلّم لیاقتوں کو دکھائے بغیر اپنے فرض سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتی۔ حالی نے سرسید کے خلاف علما کے فتاویٰ کا تجزیہ بھی کیا ہے، ان باون نکات کا جائزہ بھی لیا ہے جو اختلاف کا سبب بنے اور ان پراپنی تنقید بھی پیش کی ہے وہ لکھتے ہیں کہ آخر عمر میں سر سید کی خود رائی اعتدال سے بڑھ گئی تھی۔ آیات قرآنی کی “بودی تاویلیں” کرتے تھے۔ سرسید کا یہ کہنا بھی مابہ النزاع بنا کہ “جو شخص رسول کے سوا کسی اور شخص کے احکام کو دین کی باتوں میں واجب العمل سمجھتا ہے اور اس کے برخلاف عمل کو گناہ کہتا ہے میں اسے شرک فی النبوۃ سے تعبیر کرتا ہوں”۔
آل احمد سرور کا تبصرہ حالی کی اسی مشکل پر روشنی ڈالتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سوانح عمری میں سب سے زیادہ ضروری چیز وہ ہمدردی ہے جس کے بغیر سوانح نگار ہیرو کی نفسیات کو اچھی طرح سمجھ نہیں سکتا۔ حالی کے ہاں یہ چیز موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی کتاب کو “مدلل مداحی” یا “کتاب المناقب” اور ایک رخی تصویر کہا گیا۔ آل احمد سرور کا اشارہ حیات جاوید پر ندوی مکتب کی تنقید کی جانب ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ندوی مکتب فکر سوانح نگار سے ہیرو کے ساتھ محض ہمدردی نہیں مکمل عقیدت چاہتا ہے۔ تنقید ہوبھی تو دفاعی اور اعتذاری۔
ندوی مکتب میں حالی کی حیات جاوید کو وہ مقام حاصل نہیں رہا جو حیات سعدی یا یادگار غالب کو ملا۔ شبلی نے نام لییبغیر حیات جاوید کے بارے میں کہا کہ یہ طریقہ ہماری زبان کے سوانح نگاروں نے یورپ سے سیکھا ہے۔ اسیلیے شبلی کہتے تھے کہ حیات جاوید کو میں لائف نہیں بلکہ کتاب المناقب سمجھتا ہوں۔ اردو کی اعلیٰ سے اعلیٰ سوانح عمریوں کا یہی انداز ہے۔ علامہ سلیمان ندوی کے بقول یہ مولانا حالی پر چوٹ ہے۔ اعلیٰ سوانح عمری سے مراد حیات جاوید ہے۔ علامہ سلیمان ندوی کہتے ہیں کہ اگر حیات جاوید کا مصنف مولانا کا کوئی عزیز بھی ہوتا تب بھی وہ اس تصنیف کے متعلق اسی قسم کی رائے قائم کرتے۔
حیات شبلی میں سید سلیمان ندوی علامہ شبلی نعمانی کو جو ان کے استاد اور مربیّ تھے اپنے عہد کے ہیرو کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ مثلاً یہ جملہ ملاحظہ ہو:”ہوش مند حریفوں کے مقابلے کیلیے ساری دنیائے اسلام میں سے جو شیر دل اسلام کی صف سے پہلے نکلا وہ مولانا شبلی تھے”۔ یہ ہوش مند حریف اور ولّن مسیحی مشنری، آریہ سماج اور مستشرق تھے جن میں سائنس اور فطرت پرست سرسید کے جدیدیت پسند احباب پیش پیش تھے۔ قدیم ولّن محض بدن اور طاقت کے بل بوتے پر لڑتے تھے جدید ولّن عقل و استدلال کے ہتھیاروں سے حملہ کرتے تھے۔ تاہم ندوی مکتب کے نظریۂ تاریخ اسلام کے مطابق ہر دور میں اسلام کی حفاظت، دشمنوں کی مدافعت اور دین کی ضرورت کے مطابق اشخاص پیدا ہوتے رہے۔ شبلی انہیں میں سے تھے۔
اس کے برعکس سرسید، چراغ علی، اور کرامت علی نے یہ فرض تو ادا کرنا چاہا لیکن چونکہ وہ باقاعدہ عالم نہ تھے اور علمائے حق کی صحبتوں سے مستفید نہیں ہوئے تھے، انہوں نے اپنے کاموں میں جگہ جگہ غلطیاں کیں۔ایسی تاویلوں کے شکار ہوے جو حقیقت سے بہ مراحل دور تھیں۔ مشنری ان پڑھ نہیں تھے ان کے جوابات کے لئے تحقیق اور حوالوں کی ضرورت تھی۔ اس کے برعکس علامہ شبلی عہد جدید کے معلم اوّل تھے۔ یہ اشارہ غالباً ارسطو کی جانب ہے جنہیں مسلم فلاسفہ معلم اوّل کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔ شبلی نے کلام اور فلسفہ کی بجائے سیرت اور تاریخ سے کلام کا کام لیا۔ ان کے علم کلام کی کتابیں تاریخ کے دائرے میں آجاتی ہیں مگر بقول شبلی “اہل نظر کو معلوم ہے کہ ان کی تاریخی کتابیں بھی علم کلام ہی کے دائرے میں ہیں۔”
سلیمان ندوی کی نظر میں حیات شبلی ایک سوانح عمری ہی نہیں بلکہ اس عہد کی علمی، ادبی، سیاسی، تعلیمی اور مذہبی واقعات کی تاریخ تھی۔ بلکہ وہ اسے در حقیقت مولانا شبلی کی خود نوشت سوانح عمری گردانتے تھے کیونکہ اس کا بیشتر مواد مولانا کی تحریروں سے ماخوذ تھا۔
حیات شبلی جدید سوانح نگاری کے دونوں مکاتب کا مرقع ہے۔ اس میں مکتب سرسید کی حقیقت نگاری اور تنقید بھی ہے، اور مکتب ندوہ کی انشاپردازی بھی۔ سید سلیمان ندوی شبلی کی پیدائش کا ذکر کرتے ہوے نظم اور قصیدے کا اسلوب اختیار کر لیتے ہیں۔
کیا عجیب بات ہے کہ ایک ہندی نژاد راجپوت آگے بڑھ کر اس قابل ہوا کہ رسول مطلبی و ہاشمی علیہ الصلوۃ والسلام کے مدارج و معارف سے دنیا کو آشنا کرے، فاروق اعظمؓ کی سطوت و عظمت کا دلوں پر سکہ بٹھائے، نعمان بن ثابت کوفی امام اعظم کے فقہ و قانون کے مصالح و حکم کو نیا جلوہ دے، فصحائے عرب و ایران کی نکتہ سنجیوں کی شناسانہ داد دے، اور غزالی و رازی اور مولانائے روم کے اسرار حقیقت کو برملا فاش کرے، ڈاکٹر اقبال نے جو خود بھی ایک ہندی نژاد برہمن تھے، کیا خوب کہا ہے
مرا بنگر کہ در ہندوستاں دیگر نمی بینی
برہمن زادہ اے دانائے رمز روم و تبریز است
علامہ سلیمان ندوی نے شبلی کی مذہبی زندگی میں تغیرات کا بھی ذکر کیا ہے۔ وہ ابتدا میں متعصب حنفی ،غیر مقلدوں کے خلاف متشدد مولوی اور ارکان اسلام کے پابند تھے۔ علیگڑھ کے قیام میں پہلا سا اہتمام اور تشدد باقی نہیں رہا۔ مذہبی خیالات میں بہت کچھ وسعت اور آزادی آ گئی۔ یہ سب وہاں کے ماحول کا اثر اورمتکلمین کی کتابوں کے مطالعے کا نتیجہ تھا۔ تاہم انہیں علیگڑھ کے طلبا کی مذہبی آزادی پسند نہیں آئی۔ عقائد اور خیالات میں شبلی عقلیت پسند تھے۔ مذہبی احکام کو مصالح و حِکم پر مبنی سمجھتے تھے۔ تاہم1904ء میں سیرت النبیؐ کی تصنیف کے وقت ان کے خیالات بدل چکے تھے۔ علامہ کی نظر میں شبلی کا رنگ علمائے دین کا نہیں تھا۔ ان کی زندگی کے سوانح میں قدیم کے ساتھ ساتھ ایسے جدید رجحانات بھی پہلو بہ پہلو تھے جو عہد قدیم کی مانوس نگاہوں میں کبھی کبھی کھٹک پیدا کردیتے تھے۔ سلیمان ندوی کی رائے میں شبلی کے علم الکلام میں دو خامیاں تھیں۔ ایک تو شبلی کی جدید علوم سے واقفیت ثانوی تھی، اس لئے وہ ان مقامات کی پوری طرح تحدید نہ کرسکے جہاں سے اسلامی مسائل پر زد پڑتی تھی۔ دوسرے انہوں نے اسلام کے صحیح عقائد متکلمین کی کتابوں سے لیے حالانکہ اصلی سر چشمہ کتابِ الٰہی اور سنت نبوی ؐہیں۔
بقول سلیمان ندوی شبلی علما پر اثر انداز نہ ہو سکے۔1913ء میں علما نے سیرت النبیؐ کے منصوبے کی مخالفت کی تحریک شروع کر دی۔ علما کا سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ سیرت کی تصنیف میں روحانیت موجود نہیں۔ انہوں نے ریاست بھوپال سے مطالبہ کیا کہ سیرت کے منصوبے کی امداد بند کی جائے۔
سیرت نگاری کے بارے میں یہ اختلاف کہ اس کا مقصد نبی کریمؐ کی زندگی کو انسانوں کے لیے قابل تقلید اسوہ حسنہ کے طور پرپیش کیا جائے یا ان کی روحانی عظمت کو اس طرح اجاگر کیا جائے کہ وہ سنت اور راہ عمل کی بجائے اوّل و آخرعقیدت کا مرجع رہیں، آج بھی باقی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جوں جوں یہ اختلاف بڑھ رہا ہے لوگ کامیاب زندگی کے لییسیرت النبیؐ کی بجائے ایسی سوانح عمریوں کو شوق سے پڑھنے لگے ہیں جو صرف دنیاوی زندگی کی کامیابیوں میں رہنمائی کر سکیں۔

مصادر اور مآخذ

شیخ محمد اکرام، موج کوثر، لاہور: ادارہ ثقافت اسلامیہ،۱۹۹۲ء
الطاف حسین حالی، حیات جاوید، میرپور: ارسلان بکس، ۲۰۰۰ء
مولانا سید سلیمان ندوی، حیات شبلی، لاہور: مکتبہ عالیہ ،۱۹۴۳ء
علامہ سید سلیمان ندوی، یاد رفتگان، کراچی: مجلس نشریات اسلام،۱۹۸۳ء
شبلی نعمانی، سیرۃ النبی، جلد اوّل، لاہور: ناشران قرآن، ت۔ن۔۔
Ahmad, Irfan. 147Genealogy of the Islamic state: reflections on Maududi’s political thought and Islamism148, Journal of the Royal Anthropological Institute, 15 (2009), 145-62.
Kragh, Helge. An Introduction to the Historiography of Science. Cambridge: Cambridge University Press, 1989.
Masud, Muhammad, 147Sayyid Sulayman Nadwi146s Yad-e Raftagan, Narrating Belief, Memory and Visions of the Future148, Usha Sanyal, David Gilmartin and Sandra Freitag, Muslim Voices, Community and the Self in South Asia (Delhi: Yoda Press, 2013), 117-45.
Rosenthal, Franz. A History of Muslim Historiography. Leiden: E. J. Brill, 1952.

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...