مختصر تاریخِ کائنات

بل بریزن(ترجمہ: حذیفہ مسعود)

1,061

’’ مختصرتاریخِ کائنات‘‘ کائنات کی تخلیق سے لے کر خوردبینی بیکٹیریاسے ہمارے تعلق تک تقریباً ہر موضوع سے متعلق معاصر سائنسی فکر پیش کرتی ہے۔ بل بریزن ایک معروف امریکی مصنف ہیں جنہوں نے انگریزی زبان ، سائنس اور سیر و سیاحت سمیت مختلف موضوعات میں خامہ فرسائی کی ہے۔وہ عظیم برطانیہ کی فکاہیہ منظر نگاری پر مبنی اپنی کتاب’’ایک چھوٹے جزیرے کی یادداشت‘‘ کی وجہ سے بھی جانے جاتے ہیں، جسے BBC4ریڈیو کے سامعین نے اپنے ملک کی صحیح ترین عکاسی کرنے والی کتاب کے طور پر منتخب کیا۔
۱۔ اس میں ہمارے لیے کیا ہے؟ کائنات کے بارے میں اپنے مطالعے کو وسعت دیجیے اور مختصر وقت میں دنیا کے مخفی رازوں سے شناسائی حاصل کیجیے۔
ہم یہاں کیسے آئے؟ یہ کائنات کس طرح وجود میں آئی؟ حتیٰ کہ یہ کائنات دراصل ہے کیا؟ سائنس دان اور عظیم مفکرین صدیوں سے اس نوع کے بیشتر سوالات کے جوابات دینے کی کوششیں کرتے رہے ہیں مگر اب ہم اس سحر انگیز پیچیدہ کائنات کی تخلیق کی بہتر تصویر کشی کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔یہ نکات وجودیت سے متعلق اہم سوالات کے جوابات کی تلاش میں آپ کے لیے ممدو معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔آپ سیکھ سکتے ہیں کہ یہ کائنات کس طرح وجود میں آئی،زندگی کی شروعات کیسے ہوئیں اور دنیا کے عظیم ترین دماغوں میں اچھوتے خیالات و نظریات کی وسعتوں نے کیسے نمو پائی؟ سائنس نے زندگی کو سمجھنے کے لیے ہمیں جس قدر بھی سہولت بہم پہنچائی ہو، اب بھی کچھ سوالات تشنۂ جواب ہیں۔ سینۂ ارض میں پنہاں عناصر اور سمندر کی گہرائیوں میں پوشیدہ ایسی مخلوقات ابھی تک ایک سربستہ راز ہیں جن کا کائنات کی تخلیق و افزائش میں نمایاں حصہ رہا ہے ،۔یہ ابواب ان کی دریافت میں مددگار ہو سکتے ہیں۔
۔ اس دنیا کے علاوہ بھی کہیں زندگی کا وجودکیوں کر ممکن ہو سکتا ہے،جبکہ آپ مستقبل قریب میں بھی کوئی غیر مرئی اڑن طشتری نہیں دیکھ سکتے۔
۔ ہمارا اولین وجود بیکٹیریا کے رہینِ منت کیوں ہے؟
۔ کیلے ، میوہ مگس اور آپ میں کس قدر اشیاء باہم مماثل و مشترک ہیں؟
نظریہ انفجارِ عظیم (بگ بینگ تھیوری) کے مطابق یہ کائنات ایک آتشیں نقطے سے یک لخت معرضِ وجود میں آئی۔ ۱۹۶۵ء میں ایک عجیب سی دھماکا دار آواز کے احساس نے دو ماہرینِ فلکیات کو اس وقت حیرانی میں مبتلا کردیاجب وہ کسی مواصلاتی محسّے( انٹینا) کے ساتھ کوئی تجربہ کررہے تھے۔بعد میں معلوم ہوا کہ یہ دھماکا محض وہم نہیں تھا۔یہ دھماکا کائنات کی تخلیق کے سبب وقوع پذیر ہوا اور اس کا مرکز۹۰ بلین ٹریلین میل کی مسافت پر واقع تھا، اس وقوعے کو اب بگ بینگ کے نام سے جانا جاتا ہے۔یہ دریافت حادثاتی طور پر ہوئی تھی، تاہم اس دریافت کے اعزاز میں دونوں ماہرین کو طبیعا ت میں نوبل انعام سے نوازا گیا اوراس کے سبب بگ بینگ تھیوری بھی اہمیت اختیار کر گئی۔اس نظریے کے مطابق ہماری کائنات کی شروعات ایک ایسے ٹھوس جامد نقطے سے ہوئی، جس کا دراصل کوئی طول و عرض نہیں تھا۔اس ایک کثیف نقطے نے کائنات کے تمام عناصرِ ترکیبی کو اپنے اندر سمویا ہوا تھا۔ اچانک ایک زوردار دھماکا ہوا اورتمام اجزائے کائنات دور دور تک پھیل گئے۔ تاہم سائنسدان ابھی تک اس دھماکے کی وجوہات کی تہہ تک نہیں پہنچ پائے مگر وہ اس کے بعد کے واقعات کی تصریح و توضیح کر تے رہے ہیں۔اس نظریے کے مطابق مادہ اور اس نقطے کے تمام اجزاء اس تیزی سے پھیلے کہ انتہائی مختصرلمحے میں کائنات معرضِ وجود میں آگئی۔عملی طور پر اس کا حجم ایک سیکنڈ کے’دس کی طاقت منفی چونتیس‘حصے میں دوگنا ہو جانے کی حیران کن رفتار سے پھیلا، جو کہ نہایت ہی مختصر وقت ہے۔ہم جانتے ہیں کہ کائنات کو چلانے والی تمام بنیادی قوتوں کے ساتھ ساتھ مادے کا ۹۸ فیصد حصہ بمشکل تین منٹ میں تخلیق ہوا۔اس وقت زمین کا قطر ایک کھرب نوری سال ہے اور یہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
۲۔ کائنات کی وسعتیں غیر ارضی مخلوقات کے وجود کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
کائنات اس قدر قوی ہیکل ہے کہ اس کا تصور بھی محال ہے۔ماہرینِ فلکیات کے تخمینے کے مطابق اس کائنات میں ایک کھرب چالیس ارب کہکشائیں ہیں، جنھیں ہم درحقیقت دیکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ ان کہکشاؤں کو مٹر کے دانے تصور کریں تو ان سے ایک پوراگودام بھرا جاسکتا ہے۔ایڈون ہبل سے پہلے سائنس دان کائنات کی وسعتوں کے بارے میں بے یقینی کا شکار تھے۔ ۱۹۲۴ء میں ایڈون ہبل نے یہ وضاحت کی کہ مجمع النجوم جو کہ گیسوں کا گولہ سمجھا جاتا تھا، دراصل ایک مکمل کہکشاں ہے جو نو ارب نوری سال کی مسافت پر واقع ہے۔یہی حقیقت اس نظریے کا موجب بنی کہ کائنات میں ملکی وے کہکشاں ، ہماری زمین جس کا حصہ ہے، کے علاوہ بھی اور کہکشائیں موجود ہیں۔یعنی کہ دامنِ کائنات اتنا تنگ نہیں ہے جتنا کہ ہم سوچتے تھے۔اسی راز افشائی سے یہ غلط فہمی بھی دور ہوئی کہ انسان ہی کائنات کی واحد ذی شعور مخلوق ہے۔۱۹۶۱ء میں ڈاکٹر فرینک ڈریک کی طرف سے اخذ کی گئی مساوات کے مطابق اس بات کا امکان موجود ہے کہ ہم کائنات میں موجود لاکھوں ترقی یافتہ مخلوقات میں سے ایک ہوں۔ انھوں نے کلیاتِ ریاضی کی مدد سے صرف ملکی وے کہکشاں میں موجود مہذب مخلوقات کا انتہائی محتاط تخمینہ لگایا، جس کے مطابق دیگر ترقی یافتہ تہذیبوں کی تعدادلاکھوں میں بنتی ہے۔تاہم کائنات بہت وسیع ہے اور دو مفروضی تہذیبوں کا درمیانی فاصلہ اندازاً ۲۰۰ نوری سال بنتا ہے جب کہ ایک نوری سال کا فاصلہ تقریباً ۵۰۸ بلین ٹریلین میل ہے۔اسی لیے اگر کسی غیر ارضی مخلوق کا کوئی وجود ہے بھی تو ان کے اور ہمارے درمیان کاا مکانی فاصلہ ہی اتنا طویل ہے کہ وہاں تک پہنچنا ایک خواب کے سوا کچھ نہیں۔یہ عین ممکن ہے کہ کائنات کے وسیع و عریض حجم کے بارے میں سوچنا آپ کو کسی حد تک بدحواس کردے۔
ذیل کے ابواب میں ہم زمین کی پیمائش کے بارے میں جان سکیں گے۔
۳۔ آئزک نیوٹن نے زمین کی گردش، اس کی ہیئت اور کمیت کو سمجھنا ممکن بنایا۔وہ ایک سنکی سائنس دان تھا۔ جس نے آنکھوں میں سوئیاں چبھونے اور زیادہ سے زیادہ دیر تک پلک جھپکے بغیرسورج کی طرف دیکھتے رہنے کے تجربات کیے۔ مگر وہ ایک با اثر اور ذہین ریاضی دان بھی تھا۔ اصولِ ریاضیات (Principia Mathematica) کے نام سے اس کے تجدیدی کام نے حرکت سے متعلق انسانی خیالات ہی بدل دیے۔اس کے تین قوانینِ حرکت کے علاوہ یہ کتاب نیوٹن کے قانونِ ثقل کی وضاحت بھی کرتی ہے جس کے مطابق کائنات میں موجود ہر چھوٹی یا بڑی شے دوسری شے کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ان قوانین نے ایسی پیمائشات کو یقینی بنایا جو پہلے ممکن نہیں تھیں۔جیسے کہ ان قوانینِ حرکت نے کمیتِ ارضی کی پیمائش کی طرف رہنمائی کی۔انھیں کی مدد سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ زمین کی ہئیت بیضوی ہے۔ نیوٹن کے قوانین کے مطابق زمین کے گھومنے سے اس میں مرکز گریز اثرات شامل ہوجاتے ہیں۔ جس کے باعث یہ خط استواکے قریب تھوڑی ابھری ہوئی ہے جبکہ قطبین قدرے چپٹے ہیں۔یہ دریافت ایسے سائنسدانوں کے لیے جھنجھلاہٹ کا باعث بنی جو زمین کو گول سمجھ کر تخمین وپیمائش کرتے رہے۔مثال کے طور پرفرانسیسی ماہرِ فلکیات جین پکارڈ نے تثلیث کے پیچیدہ اصولوں کی مدد سے زمین کا محیط معلوم کیا، جو ایک سائنسی کارنامہ تھا اور فرانسیسیوں کے لیے قابلِ فخر بھی۔ لیکن بدقسمتی سے نیوٹن کے قوانین نے جین پکارڈ کی تمام محنت پر پانی پھیر دیا۔ نیوٹن کے قوانین نے اجرامِ فلکی کی پیمائش کے بارے میں نئے اندازِ فکر کو جنم دیااور نہ صرف زمین کی گردش، ہیئت اور کمیت کے بارے میں سائنس دانوں کے فہم کو نیا رخ دیا بلکہ مدو جزر، دوسرے سیاروں کی گردش، اور زندگی پر اس کے اثرات کی تفہیم بھی ممکن بنائی۔
4۔ رکازات (فوسلز) اور چٹانیں ہمیں یہ تو بتاتی ہیں کہ زمین کی تاریخ بہت قدیم ہے مگر اس کی صحیح عمر کا اندازہ کرنا تابکاری کی مدد سے ممکن ہوا ہے۔ تاہم حیرت کی بات یہ ہے کہ زمین کی عمر کا علم ہمیں ٹیلی ویژن اور تیارشدہ کافی کی ایجاد، حتیٰ کہ جوہری انشقاق( atomic fission) کی دریافت کے بھی بعد ہوا ہے۔ دراصل ماضی قریب تک ماہرین ارضیات صرف یہ بتا سکتے تھے کہ ارضیاتی تاریخ قدیم ہے۔ ماہرین ارضیات نے جانداروں کی باقیات کے تہہ در تہہ بچھ جانے کے ادوار کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ان کی درجہ بندی تو کی تھی تاہم وہ ان ادوار کی طوالت سے متعلق کوئی اندازہ نہیں لگا سکے تھے۔بیسویں صدی کے آغاز میں ہی ماہرینِ رکازیات رکازیاتی دستاویزات کی مدد سے ان ادوار کو مختلف المیعاد زمانوں میں منقسم کر کے زمین کی عمر کا کھوج لگا چکے تھے۔ ۲۰۴ملین سال سے ۳ ملین سال تک کے تخمینے کے باوجود وہ جانوروں کی ان باقیات کے بارے میں یہ بتانے سے قاصر تھے کہ ان میں سے کوئی دراصل کتنے سال پرانی ہے۔ تابکار مادہ جات کے بارے میں جانے بغیرزمین کی عمر کے بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا تھا۔ ۱۹۸۶ء میں میری اور پائر کیوری نے یہ دریافت کیا کہ کچھ مخصوص چٹانیں اپنی ہیئت اور حجم میں تبدیلی لائے بغیر توانائی خارج کرتی ہیں، انھوں نے اس عمل کو تابکاری کا نام دیا۔اس دریافت نے ایک ماہرِ طبیعیات ارنسٹ ردرفورڈ کی توجہ اپنی طرف کھینچی ، جس نے بعد ازاں یہ دریافت کیا کہ تابکار عناصر متوقع طور پر دوسرے عناصر میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ اس نے یہ محسوس کیاکہ یہ عناصر تحلیل ہوکر نصف ہو جانے میں ہمیشہ ایک جتنا وقت لیتے ہیں، یہ عمل ہاف لائف کہلاتا ہے اور اس نے یہ بھی بتایا کہ ان معلومات کی مدد سے مادے کی عمر بھی معلوم کی جاسکتی ہے۔ ردر فورڈ نے اپنے اس نظریے کا اطلاق یورینیم کے ایک ٹکڑے پر اس کی عمرشماری کے لیے کیا اوربتایا کہ اس کی عمر۷۰۰ ملین سال ہے، جو کہ زمین کی عمر سے متعلق تمام گزشتہ تخمینوں سے بہت زیادہ تھی۔ ۱۹۵۶ء میں کلیئر کیمرون پیٹرسن کی طرف سے نسبتاً زیادہ احتیاط سے عمر شماری کے عمل پر کام کے آغاز کے بعد زمین کی حقیقی عمر کے بارے میں جاننے کا امکان پیدا ہوا۔ قدیمی چٹانوں کی عمر شماری کے بعد اس نے معلوم کیا کہ زمین کی عمر۴۰۵۵ بلین سال (۷۰ ملین سال کم یازیادہ) ہے، جو جدید سائنس کی مدد سے دریافت کی گئی عمر، ۴۰۵۴ بلین سال کے قریب ترین ہے۔
ہم دیکھ چکے ہیں کہ کائنات کو سمجھنا ایک مشکل امر ہے۔ اگلے ابواب میں آپ نظریۂ اضافیت اور کوانٹم فزکس کی مدد سے سائنسی معمات کے حل کی جدوجہد کے بارے میں جان سکیں گے۔
5۔ آئن اسٹائن کا نظریہ اضافیت کائنات کی تفہیم میں بڑے پیمانے پر ممدو معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
آئن اسٹائن بطور طالبعلم ذہین نہیں تھا، پہلی بار کالج کے داخلہ امتحان میں ناکامی کے بعد اس نے پیٹنٹ دفتر میں کام شروع کر دیا، اس دوران طبیعیات کے مطالعے میں اس کی خاص دلچسپی رہی اور ۱۹۰۵ء میں اس نے ایک پرچہ شائع کیا جس نے دنیائے طبیعیات میں تہلکہ مچا دیا۔ نظریہ اضافیت کے تحت آئن اسٹائن نے وضاحت کی کہ وقت کا تصور اضافی خواص کا حامل ہے اور اس میں تغیر ایک ہی تسلسل کے ساتھ وقوع پذیر نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگوں کے لیے اس غیر معمولی تصور پر یقین کرنا مشکل تھا کیونکہ ہمیں روزمرہ زندگی میں وقت کی خاصیتِ اضافی سے پالا نہیں پڑتا۔تاہم آئن اسٹائن کے اس نظریہ کا اطلاق، روشنی، کششِ ثقل اور بذاتِ خود کائنات پر بڑے عمدہ طریقے سے ہوتا ہے۔دراصل یہ نظریہ بیان کرتا ہے کہ روشنی کی رفتار ہمیشہ مستقل رہتی ہے اور کسی کے سفرکرنے کی رفتار سے اس پر کوئی اثر نہیں پڑتا، تاہم وقت کا معاملہ اس سے الٹ ہے، اگر کوئی زیادہ تیز رفتاری سے سفر کرے گا تو اسے محسوس ہو گا کہ وقت کی رفتار تھم گئی ہے۔اگرچہ آئن اسٹائن کا نظریہ عمومی اضافیت ، نظریہ اضافیتِ مخصوصہ سے حد درجے پیچیدہ ہے تاہم اس نے کششِ ثقل سے متعلق زاویۂ نگاہ مکمل طور پر بدل دیا۔آئن اسٹائن نے ایک مزدور کو چھت سے گرتے ہوئے دیکھا تو اس نے کششِ ثقل کے متعلق سوچنا شروع کیا، جس کے متعلق اس کا نظریہ اضافیتِ مخصوصہ خاموش تھا۔۱۹۷۱ء میں شائع ہونے والے نظریہ عمومی اضافیت میں اس نے وضاحت کی کہ وقت اور فضا کے ابعادِ ثلاثہ(three dimensions of space) باہم آمیختہ ہیں، جسے اس نے زماں و مکاں (spacetime)کا نام دیا۔آپ زماں و مکاں کو نرم ربڑ کا ایک تختہ سمجھیں، اور اس کے درمیان کوئی بڑی سی گول شے رکھ دیں تو اس میں ہلکا ساکھچاؤ پیدا ہو جائے گا۔ سورج جیسے بڑے اجرام فلکی زماں و مکاں پر اسی طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔اسی طرح اگر اس پر آپ چھوٹے حجم کی کسی شے کو لڑھکاتے ہیں تو وہ آگے بڑھتے ہوئے ایک سیدھے خط کی طرح حرکت کرے گا اور اگر ایک بڑے اور ایک چھوٹے حجم کو اس پردے پر رکھا جائے تو چھوٹا حجم ڈھلوان بناتے ہوئے بڑے حجم کی جانب حرکت کرنا شروع کردے گا۔ دراصل کششِ ثقل اسی اصول کے تحت کام کرتی ہے۔
6۔ اسی طرح ایک اوردلچسپ نظریے کی مدد سے آئن اسٹائن نے دنیا کو بتایا کہ وقت اور کششِ ثقل کس طرح کام کرتے ہیں۔
کوانٹم فزکس (ذراتی طبیعیات) ایٹم ( جوہر) کے اند ر کی دنیا سے ہمیں روشناس کرواتی ہے لیکن اس کے لیے علم الطبیعیات دو طرح کے اصولوں کے تحت منقسم ہو جاتا ہے۔جتنا زیادہ سائنسدان ایٹم کے بارے میں پڑھتے ہیں، اتنا ہی وہ روایتی طبیعیاتی اصولوں کی بجائے نئے طبیعاتی اصولوں کی ضرورت محسوس کرتے ہیں تاکہ وہ ایٹم کے بارے میں زیادہ تفصیل سے جان سکیں۔روایتی طبیعاتی نظریے کے مطابق ایٹمز کو بقا نہیں ہوتی، کیونکہ اس کے مرکزے میں موجود مثبت طاقت کے حامل ذرات جو کہ پروٹان کہلاتے ہیں ایک دوسرے کے خلاف مزاحمت کرتے رہتے ہیں جس کے نتیجے میں ایٹمز ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں ، اور باہر مدار میں چکر لگاتے الیکٹران (منفی طاقت کے حامل ذرات)بھی مسلسل ایک دوسرے کو تباہ کرتے رہتے ہیں۔ سائنس دانوں نے اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے ایٹم میں موجود ذرات کی حرکیات کے لیے نئے اصول وضع کیے۔۱۹۰۰ء میں جرمن ماہرِ طبیعیات میکس پلینک نے کوانٹم تھیوری پیش کی جس کے مطابق توانائی کوئی دائمی شے نہیں ہے بلکہ یہ ایٹم کے اندر موجود چھوٹے مفر د ذرات سے پیدا ہوتی ہے جو کوانٹا کہلاتے ہیں۔ ۱۹۲۶ء میں ایک اور جرمن ماہرِ طبیعیات وارنر ہائزن برگ کی طرف سے کوانٹم حرکیات کا تصور پیش کرنے سے پہلے تک میکس پلینک کی تھیوری محض ایک مفروضے تک محدود رہی۔ اس موضوع پر سب سے عمدہ پیش رفت ہائزن برگ کی طرف سے اصولِ غیریقینی (uncertainty principle) کے وضع کیے جانے پر ہوئی جس کے مطابق ایٹم میں موجود الیکٹران ذرے اور موج(wave) ، دونوں کی خاصیت رکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آپ کسی منتخب لمحے میں یقینی طور پر یہ نہیں بتا سکتے کہ الیکٹران کہاں موجود ہے، بلکہ آپ محض اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس لمحے فضا میں الیکٹران کے ہونے کا امکان میں کہا ں ہے۔کوانٹم نظریہ کے آغاز نے طبیعیاتی علوم کو جتنی صراحت ودیعت کی اسی قدران میں ابہام بھی بھر دیا۔اور بالآخرطبیعیاتی علوم کو سمجھنے کے لیے دو طرح کے طبیعاتی اصول وضع کرنے کی ضرورت پیش آئی اور ایٹم کے اندر موجود ذرات اور باقی کائنات کے لیے الگ الگ قوانین بنائے گئے۔ نظریہ اضافیت ایٹم کے اندر ونی ذرات کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کرتا تاہم کوانٹم نظریہ کششِ ثقل یا وقت، کسی بھی طرح کے طبعی مظاہر کی عمدہ تشریح و توضیح کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آئن اسٹائین نے شکست کے احساس سے دوچار ہو کر اپنی باقی زندگی گرینڈ یونیفائیڈ تھیوری کوثابت کرنے میں صرف کردی مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکا۔
۷۔ ایٹمز کے بارے میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پہاڑوں اور سمندروں جیسی عظیم الشان اشیاء کی تخلیق کرتے ہیں۔ اب ہم زمین کی جانب بڑھتے ہیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہاں زندگی کا وجود کیسے ممکن ہے؟
زمین پر زندگی کا وجود انتہائی مشکل ہے۔ یہ حیران کن بات ہے کہ یہاں زندگی بہرطور اپنا وجود رکھتی ہے۔مختلف النوع مخلوقات کی موجودگی کے باوجود ہماری زمین زندگی کے لیے کسی طرح مناسب نہیں ہے۔درحقیقت زمین کا ۹۹۰۵ فیصدحصہ خشکی اور آکسیجن کے نہ ہونے کے باعث انسانوں کے رہنے کے لیے غیر موزوں ہے۔ حتیٰ کہ خشکی کا بھی صرف ۱۲ فیصد حصہ رہنے کے لیے موزوں ہے۔ کئی سائنسدانوں نے محض یہ واضح کرنے کے لیے لمبے عرصے تک تحقیق و تجربات کیے ہیں کہ انسان کس قدر کمزور واقع ہوا ہے۔ جان اور جیک ہولڈن ( باپ بیٹا) نے اپنے ہی جسم پر مختلف تجربا ت کرنے کے بعدیہ بتانے کی کوشش کی کہ کسی انسان کاسطحِ زمین کو چھوڑ دینا کس قدر تکلیف دہ ہوتا ہے۔جیک نے ایک ڈی کمپریشن(رفع دباؤ) چیمبر تیار کیا تاکہ گہرے سمندری پانیوں میں موجود زندگی کے بارے میں جانا جا سکے۔ سمندر کی گہرائیوں میں آکسیجن کی زیادتی کے سبب اس کی صحت پریقیناً مضر اثرات مرتب ہو ئے ، حتیٰ کہ ایک تجربے کے دوران اس کے مہرے چٹخ گئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین پر زندگی کس قدر مشکل ہے لیکن حیران کن طور پر ہم زندگی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔دیگر معلوم سیاروں پر زندگی کے وجود کی بات کی جائے تو یہ حقیقت ہے کہ ان پر زندگی کا وجود بہت مشکل دکھائی دیتا ہے۔دراصل زندگی کی بقا و وجود کے لیے چار نکات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ پہلا یہ کہ یہ کسی بھی ستارے سے مناسب فاصلے پر ہو، اتنا قریب کہ تپش کی وجہ سے پگھل جائے نہ ہی اتنا دور کہ منجمد ہو جائے۔دوسرا یہ کہ ایسی فضا فراہم کر سکیں جو زندگی کو کائناتیشعاعوں سے بچا سکے۔تیسرا کوئی ایسا چاند جو سیارے پر ثقالتی اثرات کو منظم کر سکے، بالخصوص صحیح زاوئے اور وقت پر گردش میں مدد گار ہو۔ اور آخری یہ کہ اوقاتِ کار کا انتظام ضرور ہوجو زندگی کا موجب بننے والے تسلسل کے ساتھ وقوع پذیر پیچیدہ واقعات میں نظم قائم رکھ سکے اور یہ زندگی کی پیدائش اور تباہی سے بچاؤ کے لیے ضرروی ہے۔
8۔ ہم سمندری حیات کو منظم رکھنے کی حرکیات سے متعلق بھی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ ہم اپنے سیارے کو زمین (خشکی) کہتے ہیں نہ کہ پانی، حالانکہ پانی ہر جگہ موجود ہے۔ذرا سوچئے کہ ہمارے جسموں کا۶۵ فیصد حصہ پانی ہے اوراس سے بڑھ کر یہ کہ ۱۰۳بلین کیوبک کلومیٹر پانی نے زمین کو ڈھکا ہوا ہے۔اس کے باوجود کہ پانی ہماری زندگی کے لیے کتنا ضروری ہے، ہم نے کتنی دیر بعد سمندروں کی سائنسی تحقیق کی طرف دھیان دیا۔ اگرچہ یہ جانتے ہوئے کہ زمین پر موجود پانی کا۹۷ فیصد حصہ سمندروں میں ہے، تاہم سمندر میں تحقیقات کا آغاز۱۸۷۲ء میں اس وقت ہوا جب ایک برطانوی بحری جہاز کوساڑھے تین سال تک پانی کے نمونے اور سمندری حیات سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے روانہ کیا گیا اور یہیں سے ہی ایک نئے سائنسی علم محیطیات (oceanography) کی ابتدا ہوئی۔ تحقیق و جستجو کے اس سفرکو بعد ازاں دو امریکی سیاحوں اوٹس بارٹن اور ولیم بائب نے گہرے سمندری پانیوں تک وسعت دی۔۱۹۳۰ء میں انھوں نے bathysphereنامی لوہے کے ایک چیمبرمیں ۱۸۳ میٹر کی گہرائی میں جانے کا ریکارڈ قائم کیا اور ۱۹۳۴ء میں وہ ۹۰۰ میٹر کی گہرائی تک جا پہنچے۔لیکن بدقسمتی سے وہ ماہر بحرپیما (oceanographer) نہیں تھے اور نہ ہی ان کے پاس مکمل آلات اور سازو سامان تھا جس کے سبب وہ ایسی معلومات نہ دے سکے جو سائنسی غوروخوض کے لیے قابلِ مطالعہ ہوں ،اسی لیے سائنس دانوں نے ان کی معلومات کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا۔اب تک سائنس دان ۱۰۹۱۸ میٹر کی گہرائی ماپ چکے ہیں تاہم اب بھی ہم اس کے بارے میں زیادہ نہیں جان سکے ہیں۔درحقیقت ہم سطحِ سمندر کی نسبت مریخ کے خدو خال کے بارے میں زیادہ جانتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہم ابھی تک سمندری تہہ کے لاکھویں یا اربویں حصے تک رسائی پا سکے ہیں۔ تقریباً ۳۰ ملین مخلوقات سمندری حیات کا حصہ ہیں اور ان میں سے بیشتر کے بارے میں ہمارے پاس کوئی معلومات نہیں ہیں۔حتیٰ کہ نظر آنے والی بلیو وہیل جیسی بڑی سمندری مخلوقات کی زندگی کی کیفیات ہمارے لیے ابھی تک تقریباً ایک راز ہیں۔
۹۔ بیکٹیریادنیا میں کثرت سے پائی جانے والی مخلوق ہے اور ہمارا وجود انھیں کے مرہونِ منت ہے۔ ان( جرثوموں ) سے بچنا بہت مشکل ہے۔ آپ چاہے صفائی کا جتنا خیال کریں آپ پر یا آپ کے ارد گرد بیکٹیریا کی بہتا ت رہتی ہے۔آپ کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ اگر آپ مکمل طور پر صحت مند ہیں ، تب بھی ایک ٹریلین بیکٹیریا آپ کی جلد پر پرورش پا رہے ہوتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ بیکٹیریا دنیا میں کثرت سے پائے جاتے ہیں اور دوسری ارضی مخلوقات سے بہت جلد مطابقت پیدا کر لیتے ہیں۔ دنیا میں ان کی تعداد کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ اگر تمام جاندار اشیاء کو اکٹھا کر کے ان کا وزن کیا جائے تو ۸۰ فیصد وزن بیکٹیریا کا ہوگا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں نسل میں بڑھوتری کے عمل کی رفتار بہت تیز ہے۔یہ دس منٹ سے بھی کم وقت میں نئی نسل پیدا کر نے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اگر بیرونی عوامل اثر انداز نہ ہوں تو ایک واحد بیکٹیریم محض دو دنوں میں دنیا میں موجود فوٹانز کی کل تعدا د سے زیادہ بیکٹیریا میں تقسیم ہو سکتا ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ یہ ہر چیز پر رہ اور نمو پا سکتے ہیں۔اگر کہیں بھی ہلکی سی نمی ہوتو یہ کسی بھی طرح کے ماحول حتیٰ کہ نووی فضلے(nuclear waste) میں بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔ان میں سے کچھ اس قدر لچکدار ہوتے ہیں انھیں ختم کرنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔ اگر شعاعوں کے ذریعے کسی بیکٹیریا کے ڈی این اے کو اڑا دیا جائے، یہ آرام سے دوبارہ اسی حالت میں واپس آ جاتا ہے جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہیں۔تاہم یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ یہ ہر جگہ رہتے ہیں کیونکہ یہ ہماری بقا کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔یہ ہمارے فضلے کو تلف کرتے ہیں، پانی کو صاف کرتے ہیں، ہماری زمین کو زرخیز بناتے ہیں، ہماری غذا کو حیاتین اور شکر میں بدلتے ہیں،ہوا میں نائٹروجن کو بہم پہنچاتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ نقصان بھی پہنچاتے ہیں۔دراصل زیادہ تر بیکٹیریا بے اثر ہیں یا پھر انسان کے لیے فائدہ مند۔ہر ہزار میں سے ایک بیکٹیریا نقصان دہ ہوتا ہے تاہم یہ قلیل تعدا د دنیا بھر میں مہلک اموات کی تیسری بڑی وجہ ہے اور اس کے ساتھ ہی طاعون سے لے کر تپ دق جیسی زہریلی بیماریاں بھی بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
۱۰۔ چونکہ زمین پر لا متناہی متنوع جاندار مخلوقات پائی جاتی ہیں ، سو ہم زندگی کو ایک ہی طرح سے دیکھ سکتے ہیں۔محض یہ کہہ دینا دراصل کج بیانی ہے کہ دنیا میں بہت سی انواعِ حیات موجود ہیں۔تخمینے بتاتے ہیں کہ تیس لاکھ سے لے کر بیس کروڑمختلف النوع مخلوقات دنیا میں اپنا وجود رکھتی ہیں جبکہ’’دی اکانومسٹ‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق پودوں اور جانوروں کی ۹۷ فیصد انواع ابھی تک دریافت نہیں کی جا سکی ہیں۔ مزید یہ کہ ایک طرف ہمارے پاس معلوم انواع کے بارے میں مکمل معلومات محفوظ نہیں اور دوسری طرف زمین پر تنوعِ حیات کے ساتھ ہمیں سرپٹخنے کے لیے چھوڑا جا رہا ہے۔ہمہ قسم انواع اپنے تمام تر ساختیاتی تنوع کے باوجود باہم مربوط ہیں۔۱۸۵۹ء میں ’’اصل الانواع‘‘شائع ہوئی جس میں چارلس ڈارون نے وضاحت کی کہ تمام انواع باہم مربوط ہیں اور فطری طور پر ضروریاتِ زمانہ کے پیشِ نظر ان میں رونما تبدیلیوں نے نت نئی انواع کو وجود دیا۔ ماضی بعید میں ان تمام انواعِ حیات کا منبع و مبتدا ایک ہی نوعِ حیات تھی۔ہمارے ڈی این اے اور وراثات (جینز) پر جدید تحقیقات نے یہ ثابت کیا ہے کہ ہم میں موجود مشترکات ہماری سوچ سے کہیں زیادہ ہیں۔مثال کے طور پر اگر آپ اپنے ڈی این اے کا تقابل کسی دوسرے آدمی کے ڈی این اے سے کرتے ہیں تو آپ دیکھیں گے کہ۹۹۰۹ فیصد رمز (Code) ایک دوسرے سے مماثلت رکھتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ مماثلت صرف ایک ہی نوع کے مختلف ڈی این اے میں پائی جاتی ہے، بلکہ یہ عین ممکن ہے کہ آپ کے ڈی این اے اور کسی کیلے کے ڈی این اے کی ساخت ۵۰ فیصد تک باہم مماثل ہو۔یہ بھی کہ ہمارے وراثات کسی نہ کسی حد تک میوہ مگس کے وراثات سے ۶۰ فیصد اور چوہوں کے وراثات سے ۹۰ فیصد تک مماثلت رکھتے ہیں۔یہ کس قدر حیرانی کی بات ہے کہ کسی ایک نوع کے ڈی این اے کا کسی دوسری نوع کے ڈی این اے کے ساتھ تبادلہ کیا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ اگر ہمارے ڈی این اے کو کسی مکھی میں داخل کیا جائے تو وہ اسے اس طرح قبول کر لے گی جیسے یہ اسی کا اپنا ڈی این اے ہو۔ یہ بات اس نظریے کو تقویت دیتی ہے کہ تمام انواع کی ابتدا ایک ہی نوع سے ہوئی تھی۔ اس نظریے سے دیکھا جائے تو انسان ہمیں ارتقائی تاریخ کا وثق نظر آتے ہیں جو زندگی کی اصل و مبادی سے لیکر اب تک کی انواع حیات کا پرتو ہیں۔
۱۱۔ انواعِ حیات کا اس قدر تنوع ایک معجزہ سا لگتا ہے۔ آخری باب میں ہم دیکھیں گے کہ کیا یہ معجزہ دفعتاً ختم ہو سکتا ہے؟ زمین ہمیشہ سیارچی ٹکراؤ، آتش فشاؤں سے لاوے کاابلنا اور زلزلوں کی تباہی کی وجہ سے خطرات میں گھری رہی ہے۔اگرچہ زمین نے کافی وقت پر سکون گزارا ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ نظامِ شمسی یا خود زمین پر اس کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کا کوئی وجود نہیں ہے۔دراصل ہمارا نظامِ شمسی رہنے کے لیے نہایت پر خطر جگہ ہے۔ اکثر و بیشتر مختلف مداروں میں گردش کرتے چٹان نما سیارچے زمین سے ٹکرانے کے قریب پہنچ جاتے ہیں۔تقریباً دس لاکھ سیارچے خلا میں ٹامک ٹوئیاں مارتے پھر رہے ہیں اور ان میں سے بیشتر زمین کے پاس سے مستقل طور پرگزرتے ہیں۔دراصل دس کروڑ سے زائد سیارچے مستقل طور پر زمین کے قریب سے گزرتے ہیں۔ ان میں سے اکثر اتنے بڑے ہیں کہ زمین کے ساتھ ٹکرانے سے پوری تہذیب ملیا میٹ ہو سکتی ہے۔ خطرے کی بات یہ ہے کہ ایک ہفتے میں د و سے تین سیارچے زمین کے ساتھ ٹکرانے سے بال بال بچتے ہوئے گزر جاتے ہیں اور ہمیں خبر بھی نہیں ہوتی۔مزید یہ کہ زلزلے وغیرہ جیسے زمین کے داخلی خطرات بھی موجود رہتے ہیں۔ساختمانی تختیاں(tectonic plates) باہم قریب آتے ہوئے ملتی ہیں تو ایک دوسرے پر دباؤ ڈالتی ہیں، جس پر کسی ایک تختی کے لیے دوسری تختی کو راستہ دینا لازمی ہو جاتا ہے، اس عمل کے نتیجے میں زلزلے آتے ہیں۔ٹوکیو جیسے شہر کے لیے یہ بڑا خطرہ ہے کیوں کہ یہ شہر ایسی جگہ واقع ہیں جہاں تین ساختمانی تختیاں باہم مل رہی ہیں۔ایک اور طرح کے زلزلے بھی ممکن ہیں جو ان تختیوں کی نکروں سے کہیں پرے سیان کے اندر وقوع پذیر ہوتے ہیں اور قشر الارض سے بہت زیادہ گہرائی میں ان کے مرکزکی موجودگی کے باعث ان کی پیشین گوئی بھی نہیں کی جا سکتی۔آتش فشاں بھی خطرناک حد تک نقصان کا باعث ہیں۔ ۱۹۸۰ء میں نیویارک میں واقع سینٹ ہیلن پہاڑ سے لاوا ابل جس کے نتیجے میں ۵۷افراد ہلاک ہو گئے۔ حکومتی ماہرین کی جانب سے مسلسل آتش فشاں کے لاوے کی ہیئت کو دیکھا جا رہا تھا مگر وہ اس کاصحیح اندازہ نہیں کر سکے اور اچانک لاوا ابل پڑا۔ پریشانی کی بات ہے کہ ایک بڑا آتش فشاں مغربی امریکا میں بھی واقع ہے، جس کے بارے میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ ہر چھے ہزار سال بعد ابلتا ہے اوراپنے ارد گرد ۱۶۰۰ میٹر تک ہر شے تین میٹر تک کی تہہ سے ڈھانپ دیتا ہے۔ یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ پچھلی بار یہ لاوا آج سے ٹھیک ۶۰۰۰ سال پہلے ابلا تھا۔
۱۲۔ خلاصہ
اس کتاب کا اہم پیغام یہ ہے کہ گزشتہ کچھ ہزار سال کے دوران انسانیت نے رفتہ رفتہ اپنے وجود کی گتھی سلجھانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ہم اس دور میں اپنی کائنات، اپنے سیارے اور خود اپنے بارے میں گزشتہ ادوار کی نسبت زیادہ جانتے ہیں۔مگر ابھی بھی سیکھنے کو بہت کچھ باقی ہے کیونکہ سائنسی جستجو کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...