عمرانی معاہدے کی تشکیلِ نو: انسانی معاشرے کی تنظیم کے اصول

ڈاکٹر خلیل احمد

3,889

پاکستان میں عمرانی معاہدے اور اس پر نظرثانی کے حوالے سے سیاسی اور فکری حلقوں میں آوازیں وقتاً فوقتاً اٹھی رہتی ہیں۔یہ آوازیں سیاسی،سماجی اور فکری بے چینی کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ستر سال گزرنے کے باوجود پاکستان کی ریاست اور عوام وہ باہمی ربط اور ہم آہنگی اختیار نہیں کرسکے جو ایک زندہ اور زرخیر سماج کے لیے ضروری ہے۔سماجی،معاشی تفاوت اپنی جگہ وفاقی اکائیوں کے باہمی معاملات گھمبیر رہتے ہیں۔یہ مسائل وقتی طور پر دب جاتے ہیں لیکن موافق حالات پا کر سر اٹھانے لگتے ہیں جیسے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے پر سیاسی اور صوبائی تقسیم واضح ہوگئی تھی۔ جسے دباؤ اور اتفاق رائے کے ذریعے وقتی طور پر ٹال دیا گیا ہے لیکن یہ مسئلے سر اٹھاتے رہیں گے۔مذہبی قوتوں اور عسکری اداروں نے اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اثرورسوخ میں نہ صرف اضافہ کیا ہے بلکہ قوت کا ارتکاز ان کے ہاں ہوگیا ہے۔ستر سال کے اس عمل میں ریاست کئی دہائیاں سرزمینِ بے آئین رہی اور جب آئین رہا بھی تو اسے ریاستی اور سماجی قوت کا منبع نہیں بنایا گیا۔آئین کے ساتھ ساتھ ریاست اور سماج ایک عمرانی رشتہ بنانے میں بھی ناکام رہے ہیں جو اس کمی کو پورا کرتا۔ڈاکٹر خلیل احمد نے نہ صرف ان ناکامیوں کو سمجھنے کی کوشش کی ہے بلکہ اس موضوع پر تمام مباحث کو اکٹھا بھی کردیا ہے۔ان کی کتاب’’عمرانی معاہدے کی تشکیلِ نو‘‘ دو حصوں پر مشتمل ہے جو نہ صرف پاکستان کے تناظر میں عمرانی معاہدے کو زیر بحث لاتی ہے بلکہ اس کی فلسفیانہ ارتقا کو بھی زیر بحث لاتی ہے۔ڈاکٹر خلیل احمد’’پاکستان میں سیاسی اشرافیہ کا عروج‘‘کے نام سے بھی کتاب لکھ چکے ہیں اور اب یہ نئی کتاب انھیں پاکستان کے نمایاں سیاسی مفکرین کی صف میں شامل کرتی ہے۔ان کی کتاب سے دو اقتباسات نذرِ قارئین ہیں۔

پاکستان میں ایک نئے عمرانی معاہدے کی گفتگو ملک کے قیام کے45برس بعد شروع ہوگئی تھی۔ یہاں یہ واضح رہے کہ۱۹۷۳ء سے پہلے کوئی’’متفقہ‘‘ آئین تشکیل نہیں پاسکا۔متفقہ آئین سے مراد ایک ایسا آئین ہے،جو نافذ رہنے کے ساتھ ساتھ،باقی و بحال بھی رہا۔ باوجود یکہ یہ ایک ایجابی نقطۂ نظر ہے،مگر اس کے سوا اور کوئی چارہ بھی نہیں۔قبل ازیں،متعدد آئین تیار ہوئے،مگر سب کے سب اختلاف اور پامالی کی نذر ہوگئے۔حقیقتاً ایسا ہے یا نہیں،پھر بھی یہ کہنا اتنا غلط نہیں ہوگا کہ۱۹۷۳ء کا آئین،اتفاق و اتحاد کی علامت بن کر سامنے آیا اور غالباً یہی سبب ہے کہ یہ ابھی تک باقی و بحال ہے اور نافذ بھی۔گو کہ ان حقائق سے چشم پوشی نہیں کی جانی چاہیے،جن کے تحت یہ آئین لکھا گیا اور تیار ہوا،اور پھر اس وقت کی آئین ساز مجلس(اسمبلی)کے لیے قابل قبول بنا،اور پھر نافذالعمل قرار پایا۔یہ تمام حقائق اہم ہیں اور آگے چل کر ۱۹۷۳ء کے آئین کا مقدر طے کریں گے۔
۱۹۷۳ء کے آئین کی بقا اور استقرار کو ایک ایجابی دلیل اس لیے قرار دیا گیا،کیونکہ کچھ حقائق احتیاط برتنے کا تقاضا کرتے ہیں۔اوپر شمار کیے گئے۴۵برس کی اہمیت اپنی جگہ،لیکن ایک متفقہ اور نافذ العمل آئین کے ہوتے ہوئے،ایک نئے عمرانی معاہدے کی گرما گرم بحث،انتہائی حساس مسائل کی موجودگی پر دلالت کرتی ہے۔یہی نہیں،ایک متفقہ آئین کے نفاذ کے صرف انیس بیس برس بعد ایک نئے عمرانی معاہدے کا تقاضا،اس بے چینی کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے،جو نہ صرف موجود رہی،بلکہ جڑ پکڑتی گئی۔اس سے یہ مطلب بھی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان،اپنی ابتدا سے تاحال،آئین کے مفہوم میں ایک مؤثر عمرانی معاہدے کی تلاش اور انتظار میں ہے۔گو کہ۱۹۴۷ء سے۱۹۷۳ء تک کئی ایک آئین بنے اور نافذ کیے گئے،تاہم،ان میں سے کوئی بھی استمرار نہ پاسکا۔پھر یہ کہ۱۹۷۳ء کا آئین بھی پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور سیاسی خانہ بندیوں کو مطمئن نہ کرسکا۔ وقت کے ساتھ،ان کا اضطراب اور اشتعال کم ہونے کے بجائے بڑھتا گیا۔اور۱۹۹۲ء میں آکر ایک نئے عمرانی معاہدے کی گفتگو پھر سے عام ہونے لگی،جب بے نظیر بھٹو اور پاکستان پیپلز پارٹی نے اس پر گفتگو کا آغاز کیا۔
اسے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں،عمرانی معاہدے کے تصور کو سیاسی مقاصد کی خاطر استعمال کیے جانے کی اولین مثال اور کوشش قرار دیا جاسکتا ہے!
میرے نزدیک’’عمرانی معاہدہ‘‘ایک منہاجیاتی تصور کا مرتبہ رکھتا ہے۔ایک ایسا منہاجیاتی تصور، جو ایک خاص مفہوم اور خاص کردار کا حامل ہے۔بلکہ میں اسے یوں بیان کرنا چاہوں گا کہ عمرانی معاہدے کا تصور اپنی جگہ ایک مکمل تصور ہے،اور جب اس تصور میں اپنی پسند اور ضرورت کے مطابق لچک،توسیع، اور پھیلاؤ پیدا کرنے کی کوشش کی جائے،یا جیسا کہ کوشش کی گئی اور کی جارہی ہے،تو یہ محض ایک خالی برتن بن کر رہ گیا،جس میں کوئی بھی کسی بھی نوع کی دو یا دو سے زیادہ چیزیں ڈال سکتا تھا اور انھیں پکا کر اسے کچھ بھی نام دے سکتا تھا۔سو،نئے نئے ’متنجن‘ تیار ہوئے،اور پیش کیے گئے۔انھیں قبول بھی کیا گیا۔
عمرانی معاہدے کے تصور کی مذکورہ تعریف و تعیین سے یہ قطعاً مراد نہیں کہ اسے مختلف النوع مفاہیم کے اظہار کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ہاں،اس بات کی طرف توجہ دلانا ضرور مقصود ہے کہ عمرانی معاہدے کے اصل مفہوم کو فراموش اور نظرانداز نہ کیا جائے۔ایسا کرنا اس لیے بھی مناسب اور اہم ہوگا کہ عمرانی معاہدے کے تصور کی شناخت، قائم و برقرار رہے، اور اس کی جو غرض و غایت تھی،وہ اس لچک، توسیع اور پھیلاؤ کی بیکرانی میں گم ہو کر نہ رہ جائے،جس کا نشانہ اسے بنایا جارہا ہے۔
یہاں پہنچ کر عمرانی معاہدے کے تصور اور مفاہیم سے متعلق اوپر دی گئی مثالوں کی تحلیل کی طرف متوجہ ہونا ضروری ہے۔ان مثالوں کے تجزیے سے بنیادی طور پر یہ دکھانے کی کوشش کی جائے گی کہ (اول)عمرانی معاہدے کے فریقین کی نوعیت کو کیونکر تبدیل کیا گیا، اور اس کا تعین کیسے کیا گیا، اور(دوم) عمرانی معاہدے کی شرائط میں کمی یا بیشی کا سامان کیونکر پیدا کیا گیا۔صاف بات ہے کہ بالعموم کسی بھی نوع کے معاہدے میں اصلاً یہی دو نکات ہوتے ہیں،جو اس معاہدے کے کردار اور ان کی انفرادیت کا تعین کرتے ہیں۔یعنی معاہدے کے فریقین،اور معاہدے کی شرائط۔
چونکہ ہر مثال کو سامنے رکھ کر اسے بحث و مجادلے کا ہدف بنانے کی ضرورت نہیں،لہٰذا کل جائزے کا ایک ملخص پیش کرنے پر اکتفا کیا جائے گا۔ہاں،جہاں مناسب اور ضروری ہوا،کسی مخصوص مثال کا جائزہ بھی لیا جاسکتا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی،نئے عمرانی معاہدے کے فریقین کے ضمن میں کیا کیا تجاویز سامنے لاتی رہی ہے،اس کی فہرست دیکھیے(اس میں ہر فریق کو علیحدہ علیحدہ بھی بیان کیا گیا ہے):
وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے مابین ایک نئے تعلق کا تعین، سرکاری اور نجی شعبوں کے مابین تعلق کی تعیینِ نو، وفاق اور صوبے بطور فریق، ریاست اور عوام بطور فریق، عوام اور لیڈر بطور فریق، مختلف مذاہب کے پیروکار بطور فریق، سیاسی جماعتیں بطور فریق، صوبے بطور فریق۔
کچھ موقعوں پر پیپلز پارٹی نے نہایت حیران کن تجاویز کے تحت،نئے عمرانی معاہدے کے لیے نت نئے فریقین کے وجود کا احساس دلایا۔ان پر کچھ بات کرنا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر قمر زمان کائرہ کے ایک مضمون سے یہ اقتباس دیکھئے:’پی پی پی قائم کرنے بعد،وہ(شہید ذوالفقار علی بھٹو)پاکستان کے عوام کے ساتھ ایک عمرانی معاہدے میں داخل ہوئے۔انھوں نے یہ عہد کیا کہ وہ،ان کے فرزند اور دختر،لوگوں کے لیے اپنی جان قربان کردیں گے‘۔
یہ جملہ گو کہ سیاسی بے معنویت سے مملو ہے،پھر بھی اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔کیا کسی شخص کے ذاتی عہد کو عمرانی معاہدے کا نام دیا جاسکتا ہے،جیسا کہ قمر زمان کائرہ کے بقول ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی قائم کرنے کے بعد پاکستان کے عوام سے ایک عمرانی معاہدہ کیا۔اگر اسے ذاتی عہد قرار نہ دیا جائے،بلکہ یہ کہا جائے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے یہ عہد پیپلز پارٹی کی طرف سے کیا تھا،تب بھی اسے ذاتی عہد ہی سمجھا جاسکتا ہے۔ہاں،اگر کْل پیپلز پارٹی جمہوری انداز میں یہ عہد کرتی، تب بھی اسے عمرانی معاہدے کا نام نہیں دیا جاسکتا تھا۔ فروری۲۰۰۷ء کے انتخابات سے قبل پاکستان مسلم لیگ(ن)نے اپنے تمام امیدواروں سے باقاعدہ یہ حلف لیا تھا کہ وہ معزول ججوں کی بحالی کے لیے پارٹی کا ساتھ دیں گے۔ کیا اس حلف کو’’عمرانی معاہدے‘‘کی حیثیت دی جانی چاہیے؟قطعاً نہیں۔یہ عمرانی معاہدے کے الفاظ، اصطلاح اور مفہوم کا سراسر غلط استعمال ہوگا۔
عمرانی معاہدے کے ضمن میں سیاسی جذباتیت کی مثال بھی ملاحظہ کیجیے۔متذکرہ مضمون میں آگے چل کر قمر زمان کائرہ لکھتے ہیں:’ایک ممتاز دانشور،صحافی اور کالم نگار،عباس اطہر کہتے ہیں،میں اپنے کالموں میں بھٹو کا تذکرہ اس لیے کرتا ہوں کیونکہ یہ ایک خدائی بھید،ایک عظیم صداقت اور ایک ناقابل تردید حقیقت ہے۔دنیا میں ایسی کوئی مثال نہیں،جہاں کسی لیڈر نے،جبکہ وہ سیاسی پارٹی کا ڈول ڈال رہا ہو،لوگوں کے ساتھ ایسا کوئی عمرانی معاہدہ کیا ہوجیسا ذوالفقار علی بھٹو نے کیا۔‘پی پی پی کے منشور کی جڑیں ایک عظیم فلسفے اور صداقت میں پیوست ہیں،کوئی روشن خیال شخص اس کا انکار نہیں کرسکتا،بشرطیکہ وہ غیرمتعصب ذہن رکھتا ہو۔
پیپلز پارٹی، عمرانی معاہدے کے اس خونی روپ کو بھی سیاست کا چارہ سمجھتی ہے۔یہ بھی قمر زمان کائرہ کے مضمون کا حصہ ہے،۲۷دسمبر کو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے اس عمرانی معاہدے پر اپنے خون سے دستخط کیے،جو انھیں اپنے شہید والد سے ورثے میں ملا تھا۔محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کے مخلص کارکنوں کی قربانیوں کے نتیجے میں جمہوریت بحال ہوگئی۔خدا کی مہربانی ہے کہ آج پی پی پی،چوتھی مرتبہ اقتدار میں موجود ہے۔
کیا ان تمام باتوں کا عمرانی معاہدے کے الفاظ،اصطلاح اور اس کے مفہوم سے کوئی واسطہ قائم کیا جاسکتا ہے،خواہ یہ دور کا ہی کیوں نہ ہو!یہ پاکستانی سیاست کی انتہائی عجیب و غریب ایجادیات کا شاخسانہ ہے کہ یہاں کچھ بھی وجود میں آسکتا ہے اور کچھ بھی وجود پاسکتا ہے۔اس کا ثبوت اگلی مثال میں موجود ہے۔
پیپلز پارٹی کو ایک نیا جنم دینے والے آصف علی زرداری نے یہ آئین مخالف تجویز پیش کرتے ہوئے، ذرا بھی تامل نہیں کیا:’نظام کو تبدیل کیا جانا چاہیے،اور قائمیہ کے ساتھ ایک نیا عمرانی معاہدہ وجود میں آنا چاہیے۔‘
عمرانی معاہدے میں قائمیہ یا فوج کو فریق بنانے کے ضمن میں اس تجویز کو سیاست میں ’’مفاہمت‘‘ کی کرامت کا درجہ دیا جانا چاہیے۔ جبکہ معاملہ یہ ہے کہ یہ تجویز نہ صرف قانون کے بجائے، طاقت کے سامنے سرتسلیم ختم کرنے کے مترادف ہے،بلکہ انسانی دنیا کے سیاسی ارتقا کو پیچھے کی طرف لے جانے کے ساتھ ساتھ،جدید ریاست کی جڑوں پر بھی کلہاڑا چلاتی ہے۔مختصر یہ کہ یہ تجویز طاقت کو سلام کرتی اور اس کے ساتھ ملوث ہو کر،عمرانی معاہدے،یا آئین کی روح کا گلا گھونٹنا چاہتی ہے۔
کچھ اسی طرح کی ایک اور تجویز یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ عمرانی معاہدہ کن کن چیزوں کا ملغوبہ بن سکتا ہے۔چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کی تحریک کے دوران اعتزاز احسن نے ان کے اعزاز میں ایک تقریب میں وکلا سے خطاب کرتے ہوئے کہا:’چیف جسٹس کی بحالی کے بعد،عوام الناس کے مسائل کو حل کرنے کے لیے،سیاسی جماعتیں اور وکلا برادری ایک نیا عمرانی معاہدہ وضع کرے گی۔‘
جہاں تک سیاسی جماعتوں کا تعلق ہے،وہاں تک تو غنیمت ہے،اور یہ بات کسی حد تک قابلِ فہم ہے،مگر یہ وکلا،عمرانی معاہدے کے فریق کیسے بن گئے۔کیا آہستہ آہستہ اسی طرح کے تمام دوسرے پیشہ ور گروہ،عمرانی معاہدے کے فریق بننے کا دعویٰ نہیں کردیں گے!کیا عمرانی معاہدہ،محض ایک معاہدہ ہے جس میں ہر نوع اور ہر پس منظر سے تعلق رکھنے والے فریقین شامل ہوسکتے ہیں۔ عمرانی معاہدے کا یہ تصور، عمرانی معاہدے کو کھینچ کھانچ کر کہاں تک لے جائے گا؟کیا اس میں عمرانی معاہدے کے جوہر کا کچھ مادہ باقی رہ جائے گا،یا نہیں!یا عمرانی معاہدہ مختلف طاقتور طبقات اور گروہوں کے گھر کی لونڈی بن جائے گا! بلکہ ایک مفہوم میں عمرانی معاہدہ،آئین کے معنی میں،طاقتور طبقات کے ہاتھوں میں کھلونا بنا ہوا ہے!
اب ان شرائط کی طرف توجہ دی جاتی ہے،جنھیں پیپلز پارٹی’’اپنے‘‘عمرانی معاہدے کا جزو بناتی ہے۔ ان کی فہرست ملاحظہ کیجیے:
سوشل مارکیٹ اکانومی،ذرائع پیداوار کی نجکاری،حکومت کے حجم میں کمی،اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی، بااختیار مقامی حکومت،عوام کو بااختیار بنانا،آمریت کا مستقل خاتمہ،وفاقی ڈھانچے کی تعیین نو، نیا انتخابی نظام، صدر اور پارلیمان کے درمیان ایک نئے تعلق کا تعین،نئے پارلیمانی ضابطے کی تشکیل،کابینہ کی دفاعی کمیٹی کی تشکیل، اعلیٰ عدلیہ میں تقرریوں کے طریق کار کا تعین، اختیارات کا ایک نیا توازن، اداروں کی تنظیمِ نو اور اصلاح، نئی انتظامی تقسیم، براہِ راست حکومت،فریقین کے مساوی حقوق،صوبائی خود مختاری،معیشت کا احیا،توانائی کے مسئلے کا حل،مہنگائی پر قابو پانا،ملک میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری،عوام کی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل، روزگار سب کے لیے، مساوات پسندانہ اور شمولیتی افزائش، مستقبل کے لیے ترقیاتی ڈھانچے کی تعمیر،عوام کا تحفظ،دنیا کے ساتھ بہتر تعلقات۔
ان شرائط میں سے چند اہم نکات پر کچھ قیام کرنا مناسب ہوگا۔ قطع نظر اس سے کہ پیپلز پارٹی، عمرانی معاہدے کے لیے کیا شرائط بیان کرتی ہے، حیران کن بات یہ ہے کہ جن نکات کو عمرانی معاہدے کی اصل قرار دیا جانا چاہیے،ان کا ذکر بس کہیں کہیں ملتا ہے،اور وہ بھی سرسری انداز میں۔ جیسے کہ ملک میں (ا)امن و امان کی صورتحال میں بہتری،اور(ب) عوام کا تحفظ۔ایک اور نکتہ جو خود بے نظیر بھٹو کی ایک کتاب میں بیان ہوگیا،جو مختلف مذاہب کے پیروکاروں،یعنی مذہب کے ضمن میں عمرانی معاہدے کے فریقین کے(ج)مساوی حقوق سے تعلق رکھتا ہے،اسے پیپلز پارٹی کیا،پاکستان کی کسی بھی سیاسی جماعت یا حکومت نے کبھی درخورِ اعتنا نہیں سمجھا۔ یا،کیا پیپلز پارٹی نے کبھی مذہبی آزادی کے معاملے کو ترجیح دی۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ عملاً یہ وہ تین نکات ہیں،جن پر پاکستانی ریاست نے اوّل روز سے دھیان نہیں دیا۔ غالباً انھیں کبھی پاکستان کے مفروضہ عمرانی معاہدے کی مفروضہ شرائط کا درجہ بھی نہیں دیا گیا!غالباً ان نکات کی اہمیت بھی اسی حقیقت میں پوشیدہ ہے۔
سندھ کے قوم پسندوں کی رائے،عمرانی معاہدے کے فریقین میں وفاقی اکائیاں چھائی ہوئی ہیں۔ جبکہ شرائط میں صوبائی خود مختاری، قدرتی وسائل پر صوبے کا حق، صوبے سے حاصل ہونے والے ٹیکسوں پر صوبے کا حق،نمایاں ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے نزدیک عمرانی معاہدے کے دو فریق،ریاست اور عوام ہیں اور معاہدے کی شرائط میں فلاحی ریاست،یکساں نظامِ تعلیم،مساوی حفظانِ صحت،مساوی مواقع،بے روزگاروں،معذوروں کے لیے سماجی تحفظاتی چھتری کی فراہمی شامل ہیں۔
متحدہ قومی موومنٹ،جب عمرانی معاہدے کی بات کرتی ہے تو صرف اقلیتیں، فریق کے طور پر، سامنے آتی ہیں۔ویسے اس کے اندازِ سیاست کو سامنے رکھا جائے ،تو اگر عمرانی معاہدے سے متعلق اس کا کوئی نقطۂ نظر بنا بھی،تو یہ خود اس میں واحد فریق ہوگی!
پاکستان کے بائیں بازو کے نزدیک،نئے عمرانی معاہدے کے فریقین میں قومیں اور قومیتیں شامل ہیں۔جہاں تک اس معاہدے کی شرائط کا تعلق ہے،تو میں اس میں حقوق،وسائل،قانون کے ذریعے امن،قانون کے ذریعے’’ہر ایک،ایک کے خلاف صف آرا‘‘ کا خاتمہ،افراد کا تحفظ،فرد اور انسانی حقوق،فوج کے عمل دخل کا خاتمہ،فوج کے لامحدود اختیارات کا خاتمہ،شامل ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ(ن)،درج ذیل کو عمرانی معاہدے کے فریق قرار دیتی ہے:
’’سٹیک ہولڈرز‘‘،پارلیمان کے اندر اور باہر موجود تمام جماعتیں،پریس یا میڈیا،سیاسی جماعتیں، شہری معاشرہ، وکلا،طلبہ،اہل دانش،سیاستدان،قبائلی عمائدین،شہری معاشرے کی تنظیمیں۔
یہاں بھی عمرانی معاہدے کے فریقین کی ذیل میں، بلا سوچے سمجھے، سٹیک ہولڈرز سے لے کر میڈیا، وکلا، شہری معاشرے،طلبہ،اہلِ دانش اور قبائلی عمائدین تک کو شامل کرلیا گیا ہے۔بلکہ یہ بات اپنی جگہ ایک عجوبے کی حیثیت رکھتی ہے کہ مسلم لیگ(ن)آئینی ترامیم کو بھی عمرانی معاہدے کے ہم پلہ قرار دیتی ہے۔یہ پریشان خیالی اس وقت مزید بے نقاب ہوتی ہے،جب عمرانی معاہدے کی شرائط کا قصہ شروع ہوتا ہے۔
مسلم لیگ(ن)کی نظر میں کیا کیا معاملات ایسے ہیں،جنھیں عمرانی معاہدے کی شرائط بنایا جاسکتا ہے، ملاحظہ کیجیے:
’ملک کو بحران سے نکالنا،سیاسی اتحاد،نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ،وفاقی اکائیوں/صوبوں کے تحفظات کا ازالہ،عوام کی فلاح و بہبود،وفاقی اکائیوں کے درمیان اختلافا ت کا خاتمہ،شہریوں کے حقوق کا تحفظ،تعلیم،صحت کی فراہمی،آزادی اظہار و حرکت،اور آئینی حقوق کا تحفظ۔‘
ان شرائط میں دو معاملات ایسے ہیں،جو کچھ توجہ چاہتے ہیں۔ صاف بات ہے کہ آئینی ترامیم، فریقین کی بابت نہیں ہوتیں، ان کا دور یا قریب کا تعلق،اگر کوئی ہوتا ہے تو معاہدے کی شرائط سے ہوتا ہے۔ یوں،یہ معاہدے کی شرائط میں تبدیلی و ترمیم سے متعلق تو ہوسکتی ہیں،پر خود انھیں،عمرانی معاہدے کا مرتبہ نہیں دیا جاسکتا۔اسی طرح،یہ امر نہایت مشکوک ہے کہ دو یا دو سے زیادہ سیاسی جماعتوں کے درمیان کسی ’’سیاسی اتحاد‘‘کو عمرانی معاہدے کا مرتبہ دے دیا جائے۔نہ صرف مسلم لیگ(ن)،بلکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ق)بھی اسی خیال سے منسلک ہیں۔ایسے کچھ سیاسی اتحادوں کا ذکر اوپر بھی آچکا ہے،جیسا کہ مئی۲۰۱۱ء میں پاکستان مسلم لیگ(ق)اور پیپلز پارٹی کے درمیان ہونے والا سیاسی اتحاد۔
خیبرپختونخوا سے عمرانی معاہدے کے ضمن میں جو بیانیہ سامنے آتا رہا ہے،اس پر صوبائیت اور نسلیت کا غلبہ ہے۔ یہاں قبائلیوں اور نسلی گروہوں، جیسے کہ پنجابیوں، سندھیوں، بلوچیوں، سرائیکیوں، پختونوں کو عمرانی معاہدے کے فریقین قرار دیا جاتا ہے اور معاہدے کی شرائط میں درج ذیل معاملات شامل ہیں۔
ترقیاتی کام،ترقیاتی ڈھانچا،فاٹا کی تنہائی کا خاتمہ اور اسے بڑے دھارے میں شامل کرنا،نسلی گروہوں کے مابین مساوات،نسلی گروہوں کے مابین قانونی برابری۔
جنرل پرویز مشرف(ریٹائرڈ) کی قائم کی ہوئی جماعت،آل پاکستان مسلم لیگ نے جب بھی عمرانی معاہدے کی بات کی،اس میں فریقین کا ذکر مفقود تھا،اس کا سبب غالباً یہ ہے کہ ان کے نزدیک عملاً بھی،فریق صرف وہ ہوتا ہے جو طاقت ور ہو۔ ہاں،شرائط میں شہریوں کے مساوی حقوق اور عزت و آزادی کا احترام شامل ہیں۔
بلوچستان سے بھی ایک نئے عمرانی معاہدے کے حق میں،اور عمرانی معاہدے کی نوعیت کے ضمن میں بہت کچھ سامنے آتارہا ہے۔اس سلسلے میں پہلی اور اہم بات،جو فریقین کی بابت کہی جاتی ہے،وہ فریقین کی رضا مندی سے تعلق رکھتی ہے۔ سو،فریقین سے مراد ہے رضا مند فریقین۔ علاوہ ازیں، معاہدے کے فریقین میں مظلوم قوموں،وفاق،سیاسی قوتوں،بڑے قومی سٹیک ہولڈرز(یعنی’’ملک کے حکمرانوں،سیاست دانوں،مسلح افواج،مخبر اداروں‘‘ کو شامل کیا جاتا ہے۔جبکہ معاہدے کی شرائط میں درج ذیل معاملات مذکور ہیں۔
صوبائی خود مختاری، قوموں کے حقوق، فطری حقوق کا تحفظ، محکوموں کی رضامندی، مسائل پر دسترس،فریقین میں مساوات،حقوق کا تقدس،معاہدے کی اخلاقی نوعیت،بااختیار انتخابی کمیشن،مظلوم قوموں کا اپنے قدرتی اور معدنیاتی وسائل پر اختیار، آئین میں متوافق ترامیم، بلوچ عوام کو بااختیار بنانا، گوادر تجارت گاہ اور دوسرے وسائل پر صوبے کا کنٹرول، مرکزیت اور اختیارات کی مرکزیت کا خاتمہ، صوبائی خود مختاری، جرنیلوں کے تختہ الٹنے اور سیاسی نظام کے ساتھ کھلواڑ کا تدارک، سچائی اور مصالحت، ریاست کی کیمسٹری پر نظرثانی،آئین اور اس کے رہنما اصولوں کا جائزہ،عوام کے حقوق کی ضمانت،جمہوری عمل کی تقویت،آئین میں سے ترقی دشمن پابندیوں کا خاتمہ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...