سیاسی اسلام اور جدید ریاست

شفیق منصور

862

شفیق منصور کی کتاب’’سیاسی اسلام اور جدید ریاست‘‘مسلم سماج کو درپیش فکری چیلنج کی اندرونی جہالت پر دلچسپ تبصرہ ہے اور مسلم سماج کی تشکیل میں اسلام کے بنیادی تاریخی اور تہذیبی عناصر کے کردار کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔کتاب پانچ حصوں پر مشتمل ہے۔پہلا حصہ عہدِنبوی اور خلافت راشدہ کے سیاسی خدوخال کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے،دوسرا حصہ مسلم سیاسی فکر کے ارتقاء اور اشکالات سے متعلق ہے۔ تیسرا حصہ امت،اقتدار اور طاقت کے تصور کو اجاگر کرتا ہے۔چوتھا اور اہم حصہ اسلامی قانون کی تشکیلِ جدید پر بحث کرتا ہے۔ذیل کا اقتباس اسی حصے سے لیا گیا ہے جبکہ پانچواں حصہ مسلمانوں کے باہمی نزاعات سے متعلق ہے اور شیعہ سنی مسلکی مسائل اور ہم آہنگی کی بحث کا احاطہ کرتا ہے۔کتاب میں شفیق منصور کا تعارف شامل نہیں ہے۔شنید ہے کہ شفیق منصور ایک خوش فکر نوجوان منصف ہے جنھیں اسلام کے فکری مباحث سے شغف ہے۔

اسلامی قانون کی تشکیلِ جدید:قدیم فقہ اور جدید علمی مناہج
اسلامی علمی ذخیرہ میں فقہ کو جو اہمیت و مقام حاصل ہوئے کسی اور فن اور شعبے کو وہ توجہ حاصل نہ ہوسکی یہی وجہ ہے کہ عابد الجابری اسلامی تہذیب کو فقہی تہذیب کا نام دیتے ہیں۔فقہاء نے فرد کے تمام افعال، حرکات و سکنات کو فقہی احکامات کے دائروں میں بند کردیا اور ان احکامات کو جو کہ انشائی یا اجتہادی تھے نصوص کا مرتبہ عطا کردیا اور خلفاء و حکام نے مسلم عوام کو چاروں مسالک میں سے ایک کے انتخاب پر مجبور کیا اور اجتہاد مطلق کی راہ مسدور کردی۔ ایسے مفکرین و فقہاء جنہوں نے اجتہاد مطلق اور تفضیل رائے کا نظریہ پیش کیا،انھیں زیادہ پذیرائی نہ مل سکی۔پانچویں صدی میں ماوردی نے احکام سلطانیہ میں اور چھٹی صدی میں ابن راشد نے بدایۃ المجتہد میں یہ تصور پیش کیا کہ فرد کو کسی ایک مسلک کا پابند نہ بنایا جائے بلکہ مسالک اربعہ سے تفضیل رائے کی آزادی فراہم کی جائے لیکن یہ تصور اسلامی فکر میں اپنی جگہ نہ بنا سکا۔ عصر حاضر میں ایک بار پھر بھرپور قوت کے ساتھ اجتہاد مطلق کے ساتھ مقاصدی فکر کی گونج سنائی دے رہی ہے اور معاصر مفکرین کا ایک طبقہ اس سوچ کو دوبارہ تحریک دے رہا ہے۔لیکن اس وقت یہ سوچ اقدامی نظری بنیادوں پر استوار نہیں ہے بلکہ واقعاتی احتیاج کا نتیجہ ہے اور عملاً اس کی ابتداء خلافت عثمانیہ کے آخری دور میں ہو چکی تھی جب قوانین مغرب سے استفادہ کرکے وضع کیے جارہے تھے اور فقہاء کی عملداری کم ہوگئی تھی۔
جب ہم فقہ کی تشکیل جدید کی بات کرتے ہیں اوراس کا عصر حاضر کے تناظر میں ازسرنو جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں تو بدیہی طور پر اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہوتا کہ ماضی کے فقہی ذخیرے پر مطلقًا غلط یا صحیح کا حکم ثبت کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے،یا ان فقہائے کرام کی نیتوں اور علم پر شک کیا جارہا ہے۔ یہ عمل دراصل قدیم فقہ کے منہج کو جدید علوم اور مناہج کے اصولوں پر پرکھنے کا نام ہے۔اس عمل کے نتیجے میں سامنے آنے والے اختلاف کو غلط یا صحیح کے حکم سے تعبیر کرنے کی بجائے علمی ارتقائی تغیر سے تعبیر کیا جانا چاہیے۔
جدید مناہج جب قدیم فقہ کا جائزہ لیتے ہیں تو سب سے پہلے چند سوالات قائم کرلیتے ہیں جن کے جوابات اور نتائج ہمیں درست سمت قدم اٹھانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔مثلاً یہ کہ:
۔ فقہی ذہنیت میں پائی جانے والی دو انتہاؤں کا تصور(حلال حرام،خیر شیر،مقدس غیر مقدس) کس حد تک درست اور حتمی ہے، اور تاریخ میں اس دوئیت سے اختلاف کرنے کی کوششیں بارآور کیوں نہ ہوسکیں؟
۔ قدیم فقہ میں قرآنی اصول قانون فطرت کی رعایت موجود ہے یا نہیں۔دوسرے لفظوں میں جیسا کہ ڈاکٹر ارکون کہتے ہیں کہ علمِ اصول فقہ اور فقہ وضع کرنے کا اساسی مقصد انسانی بھلائی تھا یا صرف منطقی اور ریاضیاتی مناہج پر اس کی عمارت استوار ہوئی؟
۔ قدیم فقہ کی تشکیل میں حکام کے استبداد کا کردار کتنا رہا؟
۔ قدیم فقہی ذہنیت کی تشکیل میں علم کلام اور مابعد الطبیعیاتی مباحث نے کیا اثرات مرتب کیے؟
۔ علم بشریات، نفسیات،لسانیات اور فلسفہ قدیم علمی فقہی مناہج کی صحت کو جانچنے میں کتنے ضروری ہیں؟
علم فقہ اور اصول فقہ ایک علمی منہج ہے،نہ کہ الوہی اور سماوی اور ہر علمی منہج میں غلطی کا احتمال موجود ہوتا ہے۔ اس لیے پہلے مرحلے میں اس کے متعلق تقدیس کے نظریے کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ مقاصدی فقہ اپنی ذات میں دراصل اسی حقیقت کا اعتراف ہے لیکن عجیب بات یہ ہے کئی مقاصدی مفکرین اس کلیے کو تسلیم کرنے کے باوجود بعض اوقات جدید مناہج فقہ پر تقدیس کا ہالہ چڑھا دیتے ہیں، جیسا کہ طاہر بن عاشور ایک جگہ کہتے ہیں مقاصد فقہ قطعی ہوتے ہیں حالانکہ مقاصد فقہاء کی اپنی اجتہادی کاوش سے کشید کردہ ہیں اور ان کی تعداد متعین کرنا بھی درست نہیں۔وہ کہتے ہیں:
ان اعظم مایھم المتفقھین ھو ایجاد ثلۃ من المقاصد لیجعلوھا اصلا یار الیہفی الفقہ والجلال۔(مقاصد الشریعۃ الاسلامیۃ) فقہاء کی سب سے بڑی اور اہم ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ایسے قطعی مقاصد طے کریں جنھیں فقہ اور مسائل میں اصل اور مرجع کی حیثیت حاصل ہو۔
ہم نے اوپر کہا کہ فقہی منہاج سے تقدیس کے نظریے کو ختم کرنے کی ضرورت ہے اس سے مراد یہ نہیں کہ اس کی بے حرمتی کی جائے۔قدیم فقہاء کی کاوشوں کا احترام ہم پر لازم ہے۔ہمارا مقصد یہ ہے کہ انھیں نصوص کا سا درجہ نہ دیا جائے۔ڈاکٹرارکون اس بات کو اپنے الفاظ میں سمجھاتے ہیں:
ان التراث ھو الحضن الدافی والذاکرۃ الجماعیۃ العمیقۃ ولاینبغی الاستھتاربہ بای شکل ولکن ینبغی اخضاعہ للدراسۃ العیقۃ الاستھتار بہ بای شکل ولکن ینبغی اخضاعہ للدراسۃ العلمیۃ وھذا اعظم احترام یقدم الیہ۔قدیم علمی میراث اجتماعی شعور اور بہترین حافظے کی آئینہ دار ہے اور اس کی بے حرمتی کسی صورت میں بھی درست نہیں،لیکن اسے علمی مناہج پر پرکھنا ضروری ہے اور یہی احترام کی سب سے عمدہ شکل ہے۔(قضایاتی نقد العقل الدینی)
عابد الجابری کے مطابق جدید مناہج کے توسط سے ہم دراصل نصوص کے امکانیاتی معانی کی کھوج لگاتے ہیں،یعنی ہم یہ سعی کرتے ہیں کہ ماضی میں نصوص کے ان دستیاب معانی و مفاہیم کے استخراج میں تاریخی اور خارجی عوامل تو اثر انداز نہیں ہوئے۔عابد الجابری اس کو تاریخی امکانیات کا نام دیتے ہیں۔لکھتے ہیں:
الامکان الذی یجعلنا نتعرف ھلی مایمکن ان یقولہ النص ومالا یمکن ان یقولہ، و ما کان یمکن ان یقولہ النص ولکن شکت عنہ (التراث والحداثہ) وہ تاریخی امکان کہ جس کی بنیاد پر ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ نص کا مقصود یہ ہوسکتا ہے اور یہ نہیں،یا یہ کہ ایک امکان یہ بھی تھا لیکن فقہ میں اس پر سکوت اختیار کیا گیا۔
تاریخی امکانیات کے پس پردہ یقیناکچھ عوامل پوشیدہ ہوتے ہیں جنھیں تلاش کرنے کی حاجت ہے تاکہ بعض اہم امور اور مسائل کی صحت و استناد کی حیثیت معلوم کی جاسکے۔ماضی میں کئی بار عام فقہاء کی رائج تشریحات و توجیہات سے ہٹ کر کچھ دیگر فقہاء نے اپنی مختلف آراء پیش کیں جو قبول عام حاصل نہ کر سکیں، اس کے پیچھے ٹھوس خارجی تاریخی عوامل تھے جن کی نشاندہی ازحد ضروری ہے۔عصر حاضر میں یہ ناممکن نہیں ہے۔مثلاً امام رازی کا نظریہ نسخ بالعقل قبول عام حاصل نہ کرسکا۔علوم القرآن کے ناسخ منسوخ کے قضیے میں جمہور کی رائے یہ تھی کہ نسخ عقل کے ذریعے ممکن نہیں ہے جبکہ امام رازی نے فرمایا کہ نسخ بالعقل جائز ہے مگر یہ تصور آگے نہ چل سکا۔اسی طرح حنبلی عالم نجمی الدین طوفی نے آٹھویں صدی ہجری میں کہا کہ:
اذاتعارض والمصلحۃ تی غیرالاعنتفادات والعبادات قدمت المصلحۃ علی النص۔ (تحدیب العقل العربی،حسن صعب)عقائد و عبادت کے علاوہ مسائل میں نص اور مصلحت کے مابین تعارض واقع ہو تو مصلحت کو نص پر مقدم رکھا جائے گا۔
امام طوفی کا یہ رعایت مصلحت کا خاص نظریہ تاریخ کے اوراق میں اوجھل ہو کر رہ گیا۔ الفقہ المقارن کے شعبے میں نصوص کے تاریخی امکانات کو مطالعہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ تاریخی امکانات اور خارجی عوامل نے فقہاء کی ذہنی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا اور اسی کے باعث فقہی مدارس اور شخصیات میں اختلاف رونما ہوا۔ حجاز اور عراق کے فقہی مدارس میں مناہج کا اختلاف اسی کا آئینہ دار ہے۔دونوں علاقوں کے فقہاء کا علت کی تعین،الفاظ کی دلالت اور حکم کے استنباط جیسے مجالات کی تفہیم کا طریقہ کار الگ تھا۔اس کی وجہ دونوں علاقوں کا مختلف تاریخی ثقافتی پس منظر تھا۔اس کے علاوہ شخصیت کے ذاتی احوال بھی ان کی ذہنی تشکیل اور خاص فقہی مزاج کی تقویم میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اس میں بچپن کی پرورش،معاشی حالات،طبیعت کی سختی یا نرمی،گھریلو ماحول اور معاشرے کے ساتھ میل جول کی نوعیت وغیرہ شامل ہیں۔ یہ علم نفسیات کا موضوع ہے جسے فقہاء کی تحلیل شخصی کے لیے کام میں لانا چاہیے۔
علامہ ابن القیم نے زادالمعاد میں ایک فصل قائم کی جس میں انھوں نے ان مسائل کا ذکر کیا جن میں حضرت ابن عباس نرمی کرتے اور ابن عمر سختی پر عمل پیرا تھے۔کہتے ہیں:
وکذالک کان ھذان الصاحبان الامامان احدھما یمیل الی التشدید والآخر الی الترخیص و ذالک فی غیر مسئلۃ۔ ان دونوں ائمہ صاحبان میں سے ایک سختی کی طرف مائل تھے جبکہ دوسرے رخصت کو ترجیح دیتے تھے اور ایسا کئی مسائل میں ہوا۔
ابن القیم کی یہ فصل راہنما ہے فقہاء کی شخصیات کی نفسیاتی تحلیل کے موضوع پر۔اس سے ہم بہتر طور پر اس نتیجے کے قریب پہنچ سکتے ہیں کہ قدیم فقہی مناہج کی حیثیت وہ نہیں جو روایتی مذہبی طریقہ خیال کرتا ہے۔ فقہی ذخیرہ میں یہ بات مشہور ہے کہ فقہاء مدینہ موسیقی کے معاملے میں نرمی کرتے تھے،عراق کے فقہاء نبیذ کی اباحت کے قائل تھے اور مکہ میں متعہ حلال سمجھا جاتا تھا۔ ہمیں ان مسائل کی حقیقی شرعی حیثیت جاننا مقصود نہیں ہے بلکہ اس قضیے کی بابت استدلال مقصود ہے کہ فقہی مدارس میں تاریخی امکانیات بھرپور طریقے سے اثرانداز تھے۔اس میں شبہ نہیں کہ تینوں شہروں کے علماء نے جو بھی عمل اختیار کیا اس کے لیے ان کے پاس دلیل موجود تھی لیکن رائے کی تشکیل اور رجحان میں صرف نیت کا صدق کافی نہیں ہوتا بلکہ لاشعوری طور پر نفسیاتی عوامل اور معاشرتی عادات و تعامل اس کی تقویم میں اثر انداز ہو جاتے ہیں۔
تاریخ میں ہمارے پاس بہت سارے شواہد موجود ہیں کہ عرف،عادت اور لوگوں کا تعامل فتوے کی نوعیت کو بدل دیتے ہیں۔متعدد بار ایسا بھی ہوا ہے کہ ایک ہی علاقے میں کسی شے کا حکم پہلے اور تھا مگر وقت کے ساتھ جب لوگوں کا تعامل بدلا تو فقہی حکم میں بھی تبدیلی واقع ہوگئی۔احمد فہمی کہتے ہیں:
ان المالکیۃ نصوا فی باب القضاء علی انہ یجوز الافتاء بالقول الضعیف اذاجری العرف بموجبہ۔۔ومنہ ان ابا حنیفۃ قال بفساد المزاعۃ وقال الصاحبان بصحتھا، ومع تقویتھم لمذھب ابی حنیفۃ من حیث الدلیل قالوا:الفتوی الیوم علی قول الصاحبین لتعامل الناس بھا۔(العرف والعادۃ فی رای الفقہاء) مالکی فقہاء نے قضاء کے باب میں یہ اصول طے کیا کہ معاشرے کے تعامل کی رعایت رکھتے ہوئے ضعیف قول پر فتویٰ دیا جاسکتا ہے۔اسی قبیل سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ امام ابو حنیفہ نے اجرت پر زمین دینے کو ناجائز کہا ہے جبکہ صاحبین(امام ابو یوسف و امام محمد) نے اس کو درست قرار دیا ہے،امام ابو حنیفہ کے دلائل قوی ہونے کے باوجود احناف صاحبین کے قول کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ مزارعت کے اس مسئلے میں لوگوں کا تعامل یہی چل رہا ہے۔
اس موضوع پر مستقل کتب تصنیف کی جا چکی ہیں جن میں ثابت کیا گیا ہے کہ ماضی میں لوگوں کے تعامل اور عادات کی بنا پر فقہی فتوے تبدیل ہوتے رہے ہیں۔
پیغمبر اسلامؐ کی حدیث ہے جس کا مفہوم ہے کہ ان بدوؤں اور اعرابیوں کے دلوں میں تکبر اور غرور ہوتا ہے جو اونٹ گھوڑے پالتے ہیں جبکہ وہ لوگ جو بکریاں پالتے ہیں ان کی طبیعت میں عاجزی اور نرمی ہوتی ہے۔ظاہر ہے کہ طرفین کا یہ مزاج اور عادت قصداً اختیار کردہ نہیں ہے اور نہ ہی شعوری طور پر انھوں نے اس کو اپنے اندر سمویا،بلکہ یہ ماحول اور اشیاء کا نفسیاتی اثر ہے جوخود بخود انسان میں اترتا چلا جاتا ہے اور اس کا اثر انسان کے ہر فیصلے اور اس کے حرفتی یا علمی شعبے میں بھی ظاہر ہوتا ہے جن میں سے ایک فقہ بھی ہے۔ ابن خلدون نے مراکش اور اندلس کے مالکی فقہ کی طرف میلان کا ایک سبب یہ بھی بیان کیا ہے کہ ان کے مزاج میں حجاز والوں کی طرح بداوت اور قبائلی رجحان تھا جبکہ اہل عراق میں شہریت اور تہذیبی تجدد غالب تھا،اس لیے انھوں نے اپنے مزاج کے مطابق حجاز کی مالکی فقہ کو ترجیح دی اور یہ کہ تہذیبی غلبہ جس طرح دیگر مسالک پر اثر انداز ہوا مالکی فقہ پر ویسا نہ ہوسکا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...