مذہبیات اور سماجی اخلاقیات

1,023

علامہ ثاقب اکبر ایک دردمند مذہبی رہنما اور مفکر ہیں۔ فیض آباد دھرنے سے اہل مذہب کی زبان اور شائستگی پر جو بحث شروع اور جس طرح مذہبی طبقات کا تاثر مجروح ہوا، اسے انھوں زیرنظر تحریر کا موضوع بنایا ہے اور قرآن و حدیث کی روشنی میں نہ صرف مذہبی رہنماؤں بلکہ عام مسلمانوں کو بھی غوروفکر کی دعوت دی ہے کہ وہ اپنی روزمرہ معاملت کو کیسے سنوار سکتے ہیں۔ انھوں نے اس بحث کو مذہب کی اخلاقیاتی تشکیل کے دائرے میں لانے کی کوشش کی ہے۔(مدیر)

مذہبی شخصیات کی قیادت میں برپا دھرنوں کا ایک دور آخر کار اپنے اختتام کو پہنچا لیکن بہت سے سوالات اپنے پیچھے چھوڑ گیا۔ دھرنوں کے مذہبی قائدین کی دلیلیں، تاویلیں اور اندازِ بیاں کو سامنے رکھیں تو بہت کم لوگ حوصلہ کر پائیں گے کہ جوکچھ ان کے دل میں ہے اُسے آزادی اور آسانی سے کہہ سکیں۔ آزاد انصاری کا یہ معروف شعر شاید اسی کیفیت کو بیان کرتا ہے:
افسوس بے شمار سخن ہائے گفتنی
خوف فسادِ خلق سے ناگفتہ رہ گئے
یہ کوئی آج کی بات نہیں، جبر کی تاریخ کا ہمیشہ یہی المیہ رہا ہے کہ بہت سی باتیں اَن کہی رہ جاتی ہیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے صحیح بخاری میں مروی ایک حدیث یاد آتی ہے جس کے مطابق:
’’سعید مقبری سے روایت ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دو تھیلے علم حاصل کیا۔ ایک کو میں نے لوگوں میں پھیلا دیا جب کہ دوسرے کو اگر میں ظاہر کروں تو گلا کاٹ ڈالا جائے۔‘‘(صحیح بخاری جلداول، کتاب العلم، حدیث نمبر۱۲۰)
بابا بلھے شاہ نے اگرچہ ملّاؤں کا بھیس چھوڑ کر بابوں کا بھیس اختیار کر لیا تھا جس کی وجہ سے ان کے لیے بہت کچھ کہنا اور بہت کچھ اختیار کرنا آسان ہو گیا تھا لیکن پھر بھی وہ یہ جانتے تھے کہ سچ کہنا اور دل کی بات زبان پر لانا کس قدر مشکل ہے۔ ان کی ایک نظم کا یہ بند زبان زد خاص و عام ہے:
جھوٹھ آکھاں تے کجھ بچدا اے
سچ آکھیاں بھانبڑ مچدا اے
جی دوہاں گلاں توں جچدا اے
جچ جچ کے جہوا کہندی اے
منہ آئی بات نہ رہندی اے
شاید ہماری بھی کیفیت کچھ یوں ہی ہے اور اب بات جو منہ پر آچکی ہے وہ ادا کرنے ہی کے لیے چند سطور لکھنے کی جرأت کی جا رہی ہے۔
ہماری رائے یہ ہے کہ دین کا مجموعی تصور مضمحل ہو گیا ہے۔ خدا، شریعت،بندہ،حکم، قانون گویا ہر تصور گہنا گیا ہے۔ جان کی امان ملے یا نہ ملے لیکن کہے بغیر چارہ نہیں:
اُس کا میں سوچوں تو دل ڈرتا ہے جاں جاتی ہے
نام جس چیز کا ملّا نے خدا رکھا ہے
ایک روز ایک مولوی صاحب برادر عزیز جناب آصف لقمان قاضی سے کہہ رہے تھے کہ آپ میں ساری خصوصیات ایک دینی شخصیت کی موجود ہیں بس ایک ٹوپی کی کمی ہے، آپ اپنے والد صاحب کی طرح کی ٹوپی ہی اپنے سر پر رکھ لیں تو یہ کمی پوری ہو جائے گی۔ ایک دینی شخصیت کا جو تصور مولوی صاحب نے اپنے ذہن میں قائم کررکھا تھا، ہم کتنی دیر تک اُس پر غور کرتے رہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ متون دینی میں سب کچھ موجود ہے لیکن زوال آدمیت کہیے یا دینی معاشرے کی زبوں حالی ، دینی ترجیحات کا ناقص فہم کہیے یا عصری تقاضوں سے عدم آگہی ، جو بھی کہیے بعض افراد کی مذہبی شدت پسندی اور بعض مذہبی شخصیات کا رویہ اس امر کی شہادت دیتا ہے کہ دینی اْفق بہت سی آنکھوں کے سامنے دھندلا چکا ہے۔ غم بالائے غم تو یہ ہے کہ جنھیں اپنی بصارت کی خبر لینا چاہیے وہ دھندلائے ہوئے اُفق ہی کو حقیقت کے عنوان سے بیان کررہے ہیں۔
کہتے ہیں ایک شخص چشمہ پہنے بار بار آئینے کو صاف کررہا تھا ، ایک اور آدمی اسے دیکھ رہا تھا، اس نے بڑے پیار کے ساتھ اس شخص کا چشمہ اتارا اور اس کے شیشوں کو صاف کر دیا اور کہا کہ اب لگائیے، اب لگایا تو سمجھ آیا کہ آئینہ صاف تھا اپنی عینک کے شیشوں کا مسئلہ تھا۔ جس آدمی نے موصوف کا چشمہاُتارا تھا آج وہ خوفزدہ ہے ، چشمہ اتارے بھی تو خطرہ ہے اور کچھ کہے بھی تو خطرہ ہے۔
اسلام آباد میں مذہبی گروہ کے قائد نے جو زبان استعمال کی اسے صرف عامیانہ نہیں کہا جاسکتا ، افسوس کہ بعض ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے ان کی غلاظت آمیز زبان کی تائید میں مذہبی کتابوں سے بعض روایات جمع کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ’’مولانا‘‘ جو زبان استعمال کررہے ہیں وہ تو بڑی بڑی بزرگ ہستیاں استعمال کرتی رہی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ خود مولانا بھی اتنی جرأت سے اپنی زبان کو ’’مذہبی‘‘ کہنے کے لیے تیار نہیں۔ شاید اسی کو کہتے ہیں کہ چمچہ دیگ سے زیادہ گرم ہے۔ فارسی میں اس کے لیے محاورہ ہے:’’کاسہ از آش گرم تر است‘‘
اس معاملے کا یہ پہلو کتنا تکلیف دہ ہے کہ ’’مولانا‘‘ بزعم خویش اسلام کے عظیم مقتدیٰ و پیشوا خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کے عقیدے کی حمایت میں ’’مصروف جہاد‘‘ تھے۔ وہی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن کے بارے میں قرآن حکیم کہتا ہے:
وَاِِنَّکَ لَعَلٰی خْلْقٍ عَظِیمٍ (القلم:۴)
اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک ارشاد گرامی ہے جو حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے:
انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق(مسند البزار)
یعنی یقیناً میں اعلیٰ اخلاقی اقدار کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں۔
بہرحال کوئی حقیقی دین دار ان کی گالیوں سے لتھڑی ہوئی زبان کو اسلامی تعلیمات کا ترجمان قرار نہیں دے سکتا۔ آپ کا بیان کیا ہوا مقصد آپ کے ہر عمل اور قول کی توجیہ نہیں کر سکتا۔ قول و عمل کو بہرصورت آپ کے مقصد سے ہم آہنگ ہونا ہے۔
اس سلسلے میں یہ حدیث بھی قابل ملاحظہ ہے جو حضرت انسؓ بن مالک سے مروی ہے:
لم یکن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سباباً ولا فحاشاً ولا لعانا
(بخاری،ج۸،ص۳۱،ح۱۳۰۶،کتاب الادب)
یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہرگز گالی نہ دیتے ، فحش زبان استعمال نہ کرتے اور نہ لعن طعن کرتے۔
ایک صحابی نے رسول اللہؐ سے عرض کی کہ مجھے کچھ نصیحت فرمائیے تو آپ نے دیگر نصیحتوں کے علاوہ اسے یہ بھی فرمایا:
لا تسبن أحداً (مسند احمد، ج۳۴،ص۲۳۹،ح۲۰۶۳۶، بیروت، موسسہ رسالہ ،ط اول،۲۰۰۱)
یعنی کسی کو بھی گالی نہ دینا۔
سب سے بڑھ کر تو اہل ایمان کے لیے قرآن حجت رکھتا ہے، جس میں فرمایا گیا ہے:
وَ لَا تَسْبّْوا الَّذِی أنَ یَدعْونَ مِن دْونِ اللّٰہِ فَیَسْبّْوا اللّٰہَ عَدوً ا بِغَیرِ عِلمٍ(انعام:۸۰۱)
جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو پکارتے ہیں انھیں گالی نہ دو کیونکہ اس طرح وہ دشمنی میں بغیر علم کے اللہ کو گالی دینے لگیں گے۔
رسول اللہؐ کی سیرت بیان کرنے والے بعض عمیق نظر علماء نے آپ کی زندگی اور روشِ حیات سے چند اصول اخذ کیے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ آپ جائز مقصد کے لیے ناجائز وسیلہ اختیار نہیں کر تے تھے۔ مقصد کا جائز ہونا آپ کے وسیلے کے ناجائز ہونے کے لیے جواز فراہم نہیں کر سکتا۔
دھرنے مذہبی حوالے سے ہوں یا سیاسی حوالے سے، ہمیں عوام الناس کے حقوق کو بہرحال سامنے رکھنا چاہیے۔ یہ درست ہے کہ ہماری حکومتوں کے کان بھی ہاتھی کے کانوں جیسے ہیں اور جب تک کلہاڑی نہ ماری جائے انھیں متوجہ نہیں کیا جاسکتا لیکن پھر بھی عوام الناس کے حقوق کو پامال کرنے کا کسی کو حق نہیں پہنچتا۔ اس پر ہماری سیاسی اور مذہبی قیادت کو زیادہ غوروفکر کرنا چاہیے۔
یہ امر تاسف آور ہے کہ حکمرانوں نے جو کچھ بعداز خرابی بسیار کیا، اسے بہت پہلے کیا جاسکتا تھا۔ دانش و دانائی بازار سے نہیں ملتی ورنہ ان حکمرانوں کو چند پڑیاں خرید کر بھجوائی جا سکتی تھیں جن کی بصیرت کا یہ عالم ہے جس کا اظہار ختم نبوت کے حوالے سے قانون کی عبارتوں میں کی گئی قطع و بریدکے بعد خسروان دوراں کی گفتار و رفتار سے ہوا، اس نے حکمرانوں کے دیگر سارے امور کو بھی دھندلا دیا ہے۔
بہرحال ہم دیکھتے ہیں کہ مختلف مسالک کے علماء نے مختلف مواقع پر عوام الناس کو اذیت پہنچانے سے منع کیا ہے۔ ایک دینی مسئلے پر عمل کرتے ہوئے دیگر دینی احکام کو پامال کرنا دانشمندی نہیں کہلا سکتا۔ خاص طور پر جب بندگان خدا کے حقوق پامال ہوتے ہوں اور سماجی زندگی منفی طور پر متاثر ہوتی ہو تو اہل مذہب کو اپنے طرز عمل کا بار بار جائزہ لینا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے احساس جوابدہی کے ساتھ کوئی قدم اٹھانا چاہیے۔ سماجی زندگی میں خلل پیدا کرنے نیز پلوں اور راستوں کو بند کرنے کے حوالے سے ہم ذیل میں بعض اہم علمائے کرام کی چند عبارتیں پیش کرتے ہیں:
ڈاکٹر سید حسنین احمد ندوی قاسمی نے ایک تفصیلی مضمون ’’راستے کا حق‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے جس میں انھوں نے راستوں کو صاف رکھنے اور رکاوٹوں کو ہٹانے کے حوالے سے اسلامی تعلیمات کو بیان کیا ہے، وہ لکھتے ہیں:
اسلام نے حقوق و واجبات کی فہرست میں راستہ کے حق کا اضافہ کیا اور اس بات کو یقینی بنانے کا حکم دیا کہ راستہ مسافروں کے لیے مامون و محفوظ ہو اورانھیں دوران سفر کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے، اس کے لیے کسی بھی تکلیف دہ چیز کو راستہ سے ہٹانا بھی ایک عبادت بنا دیا گیا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الایمان بضع وسبعون شعبۃ أوبضع وستون شعبۃ فأفضلھا قول لا الہ الااللہ وأدناھا اما طۃ الاذی عن الطریق(بخاری و مسلم)
ایمان کے بہت سے شعبے ہیں ان میں پہلا کلمہ یعنی لا الہ الا اللہ اور آخری تکلیف دہ چیز کو راستہ سے ہٹانا ہے۔
انھوں نے ایک اور حدیث بھی نقل کی ہے جس میں فرمایا گیا ہے:
بینما رجل یمشی بطریق وجد غصن شوک علی الطریق فاخرہ فشکر اللہ لہ فغفرلہ
(بخاری و مسلم)
راستہ چلتے ہوئے ایک شخص کو کانٹوں بھری ٹہنی نظر آئی تو اس نے اسے راستہ سے ہٹا دیا، اس پر اللہ نے اس کی مغفرت فرما دی۔
ڈاکٹر صاحب موصوف نے رسول اللہؐ کا یہ فرمان بھی نقل کیا ہے:
لقد رأیت رجلا یتقلب فی الجنۃ فی شجرۃ قطعھا من ظہر الطریق کانت توذی الناس(مسلم)
ایک شخص صرف اس بنیاد پر جنت میں چلا گیا کہ اس نے راستہ میں موجود درخت کو کاٹ کر ہٹا دیا تھا جس سے لوگوں کو دشواری ہوتی تھی۔
رسول اللہ ؐ نے یہ بھی فرمایا:
نزع رجل لم یعمل خیراً قط: غصن شوک عن الطریق أما کان فی شجرۃ فقطعہ والقاہ واما کان موضوعا فأماطہ فشکر اللہ لہ بھا فأدخلہ الجنۃ (ابوداؤد:۰۴۲۵)
ایک شخص نے کوئی اچھا کام نہیں کیا سوائے اس کے کہ کانٹوں بھری ٹہنی کو ہٹایا جو راستے پر تھی یا درخت پر تو اس عمل پر اللہ نے اسے جنت میں داخل کردیا۔
ان احادیث سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی گزرگاہ سے کانٹوں کا ہٹانا بھی اللہ تعالیٰ کو کس قدر محبوب ہے لیکن اگر خود ہی کوئی گروہ راستوں میں دھرنا دے کر بیٹھ جائے اور کاروبار حیات کو مشکل بنا دے تو اسے بہرحال اپنے اللہ کے سامنے جواب دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اگر اس کے کاموں پر اس دنیا میں گرفت نہیں ہوگی تو بھی اس دنیا میں ضرور پوچھا جائے گا جس کے بارے میں فرمایا گیا ہے:
فَمَن یَّعمَل مِثقَالَ ذَرَّۃٍ خَیرًا یَّرَہO وَمَن یَّعمَل مِثقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہO(الزلزلہ:۷و۸)
پس جس نے بھی ذرہ بھر خیر کا کوئی عمل کیا ہوگا تو وہ اسے دیکھے گا اور جس نے بھی ذرہ بھر برا عمل کیا ہوگا تو وہ بھی اسے دیکھے گا۔
خدا جانے انسانوں کو اذیت دینے والا شخص کیا سمجھتا ہے کہ وہ اپنے عمل کو خیر کے طور پر دیکھے گا یا شر کے طور پر ، اسی طرح گندگی اور غلیظ گالیاں دینے والا شخص کیا ان گالیوں کو خیر کے پلڑے میں پائے گا یا شر کے پلڑے میں۔ دارالعلوم دیوبند کے دارالافتاء سے سوال کیا گیا:
کیا مسجد سرکاری زمین میں تعمیر کرنا ٹھیک ہے اور مسجد کی آڑ میں راستہ کی زمین ہڑپ کرنا ٹھیک ہے؟(سوال نمبر۵۸۸۵۷، مورخہ ۲مئی ۲۰۱۵ء )
جواب:
۱۔ سرکاری زمین میں سرکار کی اجازت سے مسجد تعمیر کرنی چاہیے، سرکاری زمین میں بغیر سرکار کی اجازت سے مسجد تعمیر کرنا صحیح نہیں، اگر کسی جگہ سرکاری زمین پر مسجد تعمیر کرلی گئی ہے تو کوشش کرکے حکومت سے اجازت لے لینی چاہیے تاکہ وہ شرعی مسجد بن جائے۔
۲۔ راستہ کی زمین پر مسجد تعمیر کرنا یا مسجد کے کسی کام میں لانا درست نہیں۔
اس موضوع پر ہم یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ جب مسجد کے لیے راستہ بند کرنا جائز نہیں تو کسی بھی اور کام کے لیے لوگوں کی گزرگاہ میں حائل ہونا کیسے جائز ہو سکتا ہے۔ اگرچہ ہر قانون میں استثنائی صورتیں ہوتی ہیں لیکن اس کا فیصلہ بھی اجتماعی بصیرت سے کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی ایک فرد کو ایسا فیصلہ خود سے نہیں کرنا چاہیے۔
آیت اللہ علی سیستانی نے اپنی توضیح المسائل کے مسئلہ نمبر ۲۵۵۴ میں بیان کیا ہے:
اگر کوئی شخص لوگوں کو مسجد یا مدرسے یا پل یا دوسری ایسی جگہوں سے جو رفاہ عامہ کے لیے بنائی گئی ہوں استفادہ نہ کرنے دے تو اس نے ان کا حق غصب کیا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص مسجد میں اپنے (بیٹھنے کے) لیے جگہ مختص کرے اور دوسرا کوئی شخص اسے اس جگہ سے نکال دے اور اسے اس جگہ سے استفادہ نہ کرنے دے تو وہ گناہ گارہے۔
ان تعلیمات اور فتاویٰ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دین نے ان سماجی مسائل کو بہت عمدگی سے بیان کردیا ہے۔ ہمارا ناقص فہم چیزوں کو بگاڑ دیتا ہے۔ دین کے اس فہم کی اصلاح کی ضرورت ہے۔
مسئلے کا ایک پہلو اور بھی ہے وہ یہ کہ ہمارے ’’مولوی صاحبان‘‘ بالعموم ایسے مسائل کے لیے باہر نہیں نکلتے جو عوام الناس کے لیے نہایت تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ انسانوں کی مصیبتیں کم کرنے کے لیے وہ عموماً آواز بلند نہیں کرتے۔ آج پاکستان میں کتنے لوگ ہیں جو پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں اور گندے پانی کی وجہ سے لاکھوں لوگ بیمار ہو رہے ہیں اور اذیتوں میں مبتلا ہیں لیکن ہمارے مذہبی راہنما شاذونادر ہی اس کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے سنائی دیتے ہیں۔
پاکستان پر قرضوں کا ایسا بوجھ لاد دیا گیا ہے جس سے ہماری آزادی کے گروی ہوجانے کا اندیشہ لاحق ہو گیا ہے لیکن حریت و آزادی کے نبوی تصورسے ہمارے مذہبی راہنما شاید بے خبر ہیں۔ انھوں نے اس کے لیے کبھی ایسی آواز بلند نہیں کی کہ لوگ یہ سمجھیں کہ انھیں عصری مسائل کا ادراک ہے اور انھیں پاکستان کے کروڑوں انسانوں کی آزادی بہت عزیز ہے۔
مجموعی طور پر سماجی اخلاقیات کے اعتبار سے سارا معاشرہ پستی کا شکار ہے۔ معاشرے میں سماجی ناہمواری اپنے عروج کو پہنچ چکی ہے۔ سچ اور جھوٹ کی تمیز مٹتی چلی جارہی ہے۔ انسانی قدریں پامال ہو رہی ہیں۔ غریب گھرانوں کے بیمار علاج سے محروم ہیں اور تعویذ گنڈوں کے سحر میں مبتلا ہیں لیکن مذہبی قوت کا اظہار ایسی سماجی قباحتوں کے خاتمے کے لیے نہیں کیا جاتا۔
ہمارے معاشرے میں لاکھوں گھرانے ایسے ہیں جن میں خواتین کو ان کے حقوق سے محروم کردیا جاتا ہے، شریعت نے انھیں اپنی زندگی کا ساتھی منتخب کرنے کی اجازت دے رکھی ہے لیکن ہمارا معاشرہ کم ہی انھیں یہ آزادی فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح خواتین کو جائیداد میں بھی ان کے حصے سے محروم کرنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں۔ خواتین پر گھریلو تشدد کے خلاف ایک دنیا سیخ پا ہے لیکن ان ساری سماجی برائیوں کے خلاف اگر بھرپور آواز سنائی نہیں دیتی تو وہ مذہبی راہنماؤں کی ہے۔ مذہبی راہنما اگر ان ساری برائیوں کے خلاف بھی ایسے ہی علم بلند کریں کہ جیسے انھوں نے مذکورہ قانون کے حوالے سے بلند کیا ہے تو معاشرے میں یقینی طور پر ان کی حیثیت اس سے کہیں زیادہ ہو جو آج دکھائی دیتی ہے۔
ہمیں تو یہ خطرہ ہے کہ اگر اہل مذہب نے اپنے طرز عمل پر غوروفکر کرکے اس کی اصلاح نہ کی اور دینی حوالے سے اپنی ترجیحات کو آج کی انسانیت کے مسائل سے ہم آہنگ نہیں کیا تو جدید تعلیم یافتہ طبقہ ان سے ہی مزید دور نہ ہوگا بلکہ دین سے بھی دور ہو جائے گا۔ اس کا تجربہ پہلے ہی مشرق و مغرب میں کئی مرتبہ کیا جا چکا ہے۔ اپنے تصور مذہب کو منوانے کے لیے شدت پسندی کے رویے نے کبھی اچھے نتائج مرتب نہیں کیے۔ اللہ کے قوانین اور سنتیں پائیدارہیں، یہ بدلتی نہیں۔ ایسا نہیں کہ ایک کام اہل مغرب کریں تو اس کا اور نتیجہ نکلے گا اور اگر اہل مشرق کریں تو ان کا اور نتیجہ نکلے گا، ایک جیسے کام کا ایک جیسا ہی نتیجہ نکلے گا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...