کیا مذہب لوگوں کو اخلاقیات سکھاتا ہے؟

مصطفی ایکول

952

اگر طاقت کا استعمال نہ آتا ہو تو یہ بددیانت کرتی ہے۔ طاقت کی تہذیبی تطہیر اخلاقیات سے ہوتی ہے اور مسلم سماج میں اخلاقیات کا منبع ہے۔ لیکن مسلم معاشروں میں مذہب اور اخلاقیات اور کے مابین خلیج بڑھ رہی ہے۔ خود پاکستان میں اس کے مظاہر جابجا ہیں اور گذشتہ برس کا فیض آباد دھرنا تو اس کی ایک بڑی مثال ہے۔ ترک دانشور مصطفیٰ ایکول نے اس مسئلے پر ترک معاشرے کے تناظر میں بات کی ہے اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ فرد پر منحصر ہے کہ وہ مذہب سے کس طرح رہنمائی حاصل کرتا ہے۔ (مدیر)

پچھلے ۱۵ برسوں میں میرا ملک ترکی ایک زبردست سیاسی انقلاب سے گزرا ہے۔ روایتی سیکولر اشرافیہ جو اپنی وابستگی قوم کے بانی مصطفیٰ کمال اتا ترک سے جوڑتی ہے اب اس کی جگہ مذہبی انتہاء پسندوں نے لے لی ہے جو اس سے پہلے تک بے اختیار اور کو نے میں لگے ہوئے تھے۔ مذہبی انتہاء پسنداب ریاست کے تقریباًتمام شعبوں بشمول میڈیا اور کاروبار میں حاوی ہوچکے ہیں۔
مختصریہ کہ وہ آج کی نئی بااثر اشرافیہ بن گئے ہیں۔ اس سیاسی انقلاب کے غیر متوقع نتائج سامنے آئے ہیں۔ اس انقلاب سے مذہبی طبقے کی بظاہر نظر نہ آنے والی خوبیاں عیاں ہوگئی ہیں۔ وہ ناکام ہوئے ہیں۔ ان کی اس قدر بڑی ناکامی سے یہ سوال ابھرا ہے کہ کیا مذہبیت اور اخلاقیات ایک ساتھ چلتے ہیں جیسا کہ مذہبیت پسند لوگوں کا دعویٰ ہے۔ مذہبی لوگوں کی اخلاقی ناکامی کی اس لیے ہوئی کہ یہ لوگ بھی ایسی ہی بد اخلاقی اور ظلم کے مرتکب ہوئے ہیں جس کی ایک وقت میں وہ مذمت کرچکے ہیں۔ کئی دہائیوں سے وہ سیکولر اشرافیہ کو اقربا پروری اور بددیانتی کے سبب، عدلیہ کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے سبب اور ذرائع ابلاغ کو اپنے مخالفین کو بدنام کرنے اور انھیں خوفزدہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔ مگر چند سال اقتدار میں رہنے کے بعد ان لوگوں نے بھی وہی حرکات اور رویے زیادہ شدت سے دہرائے ہیں جن کی وہ سخت مذمت کرتے تھے۔
یہ ایک آشنا کہانی ہے۔ مذہبی رجعت پسند طاقت کے سبب بددیانت ہوگئے ہیں۔ اگر آپ اصول پسند اور ایماندار نہ ہوں تو پھر طاقت آپ کو زیادہ آسانی سے بد دیانت کرتی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ ترکی کے رجعت پسند مذہبی حلقے میں سے کچھ باشعور آوازیں ایسی ہیں جو اس بدترین حقیقت پہ تنقید کناں ہیں۔ مصطفیٰ اوزترک جو کہ ایک معروف فقیہہ اور اخباری کالم نویس ہیں، انھوں نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ ترکی کے مذہبی افراد اخلاقی جانچ میں بری طرح ناکام ہورہے ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ آئندہ چالیس یا پچاس سال تک ہم مسلمان کسی ایمان ، اخلاقیات ، حقوق یا قانون کے بارے میں بات کرنے کا کوئی حق نہیں رکھیں گے اور اگر ہم ایسا کریں گے تو جواب ملے گا کہ ہم تمہیں اچھی طرح دیکھ چکے ہیں اور یہ ہمارے چہروں پر طمانچے کی طرح لگے گا۔
ایک اور معروف فقیہہ استنبول کے سابقہ مفتی مصطفیٰ جاگریجی نے بھی مذہبیت اور اخلاقیات کے مابین بڑھتی ہوئی خلیج کے متعلق لکھا ہے۔ انھوں نے محسوس کیا ہے کہ ماضی میں اخلاقی رجعت پسند، جیسا کہ وہ خود یہ دعویٰ کرتے تھے کہ مذہب کی غیر موجودگی میں کوئی اخلاقیات ہوہی نہیں سکتیں۔ مگر اب انھوں نے لکھا ہے کہ اخلاقیات کے بغیر کسی مذہب کی کوئی گنجائش باقی نہیں ہے۔ ظاہری طور پر یہ بحثیں آج کل کے ترکی کے ہی بارے میں لگتی ہیں لیکن یہ ایک بین الاقوامی طور پر موجود بلاتخصیص زمان و مکان، اہم سوال ہے۔
کیا مذہب ہی در حقیقت میں لوگوں کو اخلاقیات سکھاتا ہے؟ یا یہ کہ اخلاقیات اور اخلاق پرست لوگوں میں جو ایک فرق حائل ہے اور یہ ترکی اور دیگر معاشروں میں عام دکھائی دیتا ہے، اس منافقت سے پردہ اٹھاتا ہے جو تمام مذاہب کے علمبردار طبقے کے پیچھے چھپی ہوئی ہے۔
میرا مؤدبانہ جواب ہوگا کہ یہ فرد پر منحصر ہے۔ مذہب دو انتہائی راستوں میں بھی کارفرما ہوسکتا ہے۔یہ خود کو سکھانے کا ذریعہ بھی ہوسکتا ہے اور اپنی ذات کی بڑائی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ خود اپنی ذات کو تعلیم دینے کا عمل انسان کو زیادہ اخلاقیات سکھا سکتا ہے جبکہ اپنی ہی ذات کی بڑائی بیان کرنے کا عمل انسان کو پست اخلاقیات کی طرف مائل کرتا ہے۔
مذہب خود کو تعلیم دینے کا ذریعہ بن سکتا ہے کیونکہ اس کے اندر اخلاقیات کی تعلیم موجود ہوتی ہے۔ جس کی مدد سے لوگ سوال بھی کرسکتے ہیں اور خود کی اصلاح بھی کرسکتے ہیں۔ بائبل ہی کی طرح قرآن میں بھی دانائی کے موتی موجود ہیں۔ یہ مومن کو اپنے اندر منصفانہ صلاحیتیں ابھارنے کی تبلیغ کرتے ہیں چاہے وہ خود اس کے اپنے ، یا اس کے والدین یا رشتہ داروں کے ہی خلاف کیوں نہ ہو۔ مذہب ایسے لوگوں کی شان بیان کرتا ہے جو اپنے غصے پہ قابو پائیں اور انسانیت کے لیے درگزر سے کام لیں۔ وہ ہدایت کرتا ہے برائی کو اچھائی سے دور کردو تاکہ تمہارا دشمن بھی تمہارا دوست بن جائے۔ ایسا شخص جو ان بابرکات تعلیمات کی پیروی کرتا ہے بہت حدتک ممکن ہے کہ خود کے لیے ایک اعلیٰ اخلاقی کردار قائم کرلے بالکل ایسے جیسے کوئی دوسرا شخص انجیل کی ایسی ہی تعلیمات پر عمل کرکے خود کو باکردار بنا سکتا ہے۔
لیکن خود کو بااخلاق بنانے کی مسلسل کوشش میں لگے رہنا ایک الگ معاملہ ہے اور خود کو صرف اس لیے بااخلاق سمجھنا کہ ہم ایک خاص مذہب کی پیروی کرتے ہیں، یہ الگ معاملہ ہے۔ مؤخرالذکر کی بناء پر انسان مذہب کے ذریعے اپنی ہی بڑائی بیان کرنے لگتا ہے۔ مذہبی پیروکار افراد خود کو پیدائشی طور پر ہی بااخلاق سمجھنے لگتے ہیں۔ اور وہ خود پہ کوئی سوال اٹھانا غیر اہم سمجھنے لگتے ہیں اور اسی دوران وہ کسی دوسرے نظریے کے کاربند افراد کو بھٹکی ہوئی روحیں سمجھنے لگتے ہیں۔ اور تو اور وہ انھیں گناہگار اور کافر سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے مذہب کسی روحانی معالج کی بجائے ان کی انا کے لیے ایک مہمیز کا کردار اداکرتا ہے۔ یہ انھیں عاجزی نہیں بلکہ تکبر سکھاتا ہے۔
یہ مسئلہ تب ابھرتا ہے جب مذہب کی اصولی تشریحات میں جیسا کہ اسلام اور یہودیت میں ہے اگر ان کے پیروکار صرف مذہبی رسومات کی ادائیگی تک محدود ہوجائیں۔ آئینی ضابطوں کی پیروی کرنے والے پیروکار خود کو خدا کی نظر میں برگزیدہ سمجھنے لگتے ہیں۔ چاہے وہ افراد ساتھی انسانوں کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے غیر اخلاقیت کا مظاہر ہ ہی کیوں نہ کررہے ہوں۔
ایک غیر معمولی یہودی راہب جو دو ہزار سال پہلے ہو گزرے ہیں، یعنی نزرت کے مسیحا (حضرت عیسیٰؑ ) نے اس مسئلے کو سمجھ لیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ وہ عملی ریاکار لوگ جو خود کو ہی درست سمجھتے ہیں اور دوسروں کو تحقیر کی نظر سے دیکھتے ہیں، درحقیقت بھٹکے ہوئے لوگ ہیں۔ ایسے گناہگار جو اپنی ناکامیوں پہ پشیمان ہوں ایسے متقیوں سے بہتر ہیں جو ہر لمحہ اپنی نیکیوں پر متکبر رہتے ہیں۔
مذہب سے اخلاقیات کو اس لمحے ادھیڑ دیا جاتا ہے جب مذہب صرف ایک گروہ کی شناخت تک محدود ہوکر رہ جائے۔ یہ ’’ہم اور تم‘‘ کی تقسیم کسی بھی مذہبی گروہ کو بددیانت اور انتہاء پسند بنا سکتی ہے چاہے وہ مسیحی ہوں، مسلمان ہوں ، ہندو ہوں یا بدھ مت کے ماننے والے، ایک ہی طرح کے نفرت سے بھرے ہوئے عسکریت پسند بن جاتے ہیں جب وہ اپنے آپ کو ہی درست اور مظلوم سمجھتے ہیں۔ یہ رویہ پوری دنیامیں عیاں ہے چاہے وہ بدھ مت کے پیروکار مونک ہوں جو میانمار میں روہنگیا کی نسل کشی چاہتے ہیں، چاہے وہ ہندوستان کے ہندو انتہاء پسند ہو جو ہند کی سیاست میں ہندتوا کا راج چاہتے ہیں یا وہ مشرق وسطیٰ میں متشدد مسلمان انتہاء پسندہوں۔ کسی بھی عقیدے کے ماننے والے باشعور افراد پر لازم ہے کہ وہ مذہب کی تشریحات میں زہریلے غصے، متکبر سوچ، تعصب ، نفرت اور لالچ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ ورنہ ان کے مذہب کے نام پر مزید برائیاں راہ پائیں گی۔ اور مزید افراد پوچھیں گے جیسا کہ آج کل کے ترکی کے بہت سے نوجوان یہ سوال کررہے ہیں کہ مذہب سے آخر کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...