مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا میں بنیاد پرستی کی وجوہات

فادی فراسین، صحت بتالوغلو، آدم عطاء اللہ بنساد(ترجمہ: حذیفہ مسعود)

895

مسلم معاشروں کو کئی ایک جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ان میں ایک چیلنج انتہا پسندی کا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا کے عرب معاشرے میں ذہنی رویوں کی تشکیل کے عوامل تقریباً ایک جیسے ہیں۔ وہ کونسے عوامل ہیں جو ان رویوں میں بگاڑ پیدا کر رہے ہیں، اس پر نوجوان محقق فادی فرانسین نے تحقیق کی ہے اور عرب معاشرے میں سرایت کرتی بنیاد پرستی کے سماجی، معاشی، سیاسی، مغربی اثرات اور نظریاتی اسباب پر بحث کی ہے۔ پاکستان کے تناظر میں یہ بحث کوئی مختلف نہیں لگے گی کیونکہ اسی نوعیت کے مسائل سے ہم بھی دوچار ہیں۔(مدیر)

فہرست مطالب
۱۔ تعارف
۲۔ بنیاد پرستی کی بنیادی وجوہات
الف۔ سماجی و معاشی وجوہات
ب۔ سیاسی وجوہات
ج۔ مغربی مداخلت
د۔ نظریہ
ہ۔ جدیدیت
۳۔ اختتامیہ
۴۔ حوالہ جات
۱۔ تعارف
امریکا، یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور افریقا میں تباہ کن حملوں کے باعث القاعدہ ایک عالمی دہشت گرد تنظیم بن کرابھری تو دہشت گردی اور بنیاد پرستی جیسے موضوعات نے اپنی طرف توجہ مبذول کروائی۔ داعش کے وجود میں آنے ، اس کے مظالم اور مختلف دہشت گرد گروہوں کے اس سے الحاق کے بعد علاقائی شدت پسندی میں اضافے کی وجہ سے یہ موضوع مزید اہمیت اختیار کر گیا۔ انھی وجوہات نے بنیاد پرستی کے مسئلے کوعالمی پیش نامے ( ایجنڈے)کانہایت اہم نکتہ بنا دیا۔ داعش جیسے انتہا پسند گروہوں کی بیخ کنی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات زیادہ تر فوجی کارروائیوں پر مبنی ہیں جبکہ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا محض طاقت کا استعمال دہشت گردی جیسے مسائل کے دیر پا حل کا ضامن ہے۔ دہشت گرد ی کی حالیہ لہر کوبزورِ طاقت روکنا بیرونی عسکریت پسندوں کے باقی دنیا میں پھیل جانے کے اندیشے کو جنم دیتا ہے جس سے نہ صرف مزید مسائل جنم لیں گے بلکہ عسکریت پسندوں کے بنیاد پرستانہ نظریات کو کسی اور نہج پر پھلنے پھولنے کا موقع میسر آجائے گا۔
کسی بات کو صحیح طور پر سمجھے بغیر رد کرنا نا ممکن ہوتا ہے۔اسی لیے بنیاد پرستی کی وجوہات سے آگاہی حاصل کرناضروری ہے۔ دہشت گردی اور بنیاد پرستی سے بہتر طور پر نمٹنے اور ان کوششوں کی بارآوری کے لیے ان وجوہات کی تفہیم نہایت اہم ہے جو ان مسائل کی بنیاد ہیں۔بنیاد پرستی دراصل ایک گھمبیر اور کثیرالجہتی رجحان ہے اور اس کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے اس کا اجمالی سا جائزہ کافی نہیں ہے۔
یہ مطالعہ شرقِ اوسط اور شمالی افریقا میں بنیاد پرستی کی بنیادی وجوہات تلاش کرنے کی ایک کاوش ہے جو دنیا بھر کے بنیاد پرست اور عسکریت پسندعناصر کو مقناطیس کی طرح اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔اس مطالعے میں بنیاد پرستی کے ممکنہ محرکات کا تجزیہ پیش کیاگیا ہے اور ابتداًخطے کی مجموعی سماجی و اقتصادی صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ کیا خطے میں ایسی سماجی و اقتصادی محرو می کا وجود ہے جس کے تناظر میں بنیادپرستی میں ابھار کو پرکھا جاسکے۔اس میں معیشت و سماجیات کی مکمل تصویر کشی ممکن بنانے کے لیے غربت، عدمِ مساوات اور انسانی ترقی کے مدارج کی عکاسی پر بھی توجہ دی گئی ہے۔اس مطالعے میں سیاسی شراکت، سیاسی و سماجی انضمام، قانون کی حکمرانی، اور جمہوری اداروں میں استحکام جیسے عوامل کو محیط سیاسی نقائص کا تذکرہ بھی شامل ہے جنھیں بنیاد پرستی کے فروغ کی بنیادی وجوہات کے حوالے کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔یہ مطالعہ مغربی دخل اندازی کودو پہلوؤں سے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، اولاً آمریت پسند بادشاہتوں کی پشت پناہی اور ثانیاًاس خطے میں براہِ راست مغربی فوجی مداخلت۔ یہ مقالہ دلیل پیش کرتا ہے کہ نظریاتی عنصر بنیاد پرستی کی بنیادی وجہ ہے جس کو عسکریت پسند تنظیمیں خاص طور پر نوجوانوں کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ یہ مقالہ تعلیماتِ اسلام کی غلط اور من چاہی تشریحات پر مبنی ان نظریات کی وضاحت پیش کرے گا جوخطے میں بنیاد پرستی کے فروغ کا سبب بنے۔ آخری صفحات میں روایت پرست اور جدید یت پسند معاشروں کے مابین نہ بھرنے والے خلا کو ردِ عمل اورسماجی و ثقافتی عدمِ برداشت کی نفسیات کی بجائے بنیاد پرستی کی بنیادی وجوہ کے تناظر میں دیکھنے کی سعی کی گئی ہے۔

۲۔ بنیاد پرستی کی بنیادی وجوہات
الف۔ سماجی و معاشی وجوہات
کیا سماجی و معاشی بدحالی بنیاد پرستی اور دہشت گردی کی وجہ ہو سکتی ہے یا پھر دہشت گردی کومحض سلامتی کے لیے خطرے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جس کی وجوہات سماجی و اقتصادی ترقی سے جڑے حقائق سے مطابقت نہیں رکھتیں ؟اس سوال کا جواب خاصا بحث طلب ہے۔ایک طرف وہ لوگ ہیں جن کا ماننا ہے کہ غربت، معاشی تفاوت اور ناخواندگی جیسے سماجی و اقتصادی مسائل عوام کو دہشت گردی وبنیاد پرستی کی طرف دھکیلنے کا ذریعہ ہیں۔ اے جوہنسن یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ روایتی دہشت گردی بڑے پیمانے پر غربت اور پسماندگی کا نتیجہ ہے۔جیفری فرینکل، ڈیوڈ رومر اور بریان لائے کے مطابق معاشی تفاوت پر مبنی معاشروں میں دہشت گردی کے امکانات نسبتاً زیادہ ہوتے ہیں۔الان بی کروئیگر اور ڈیوڈ لائٹن یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ معاشی طور پر پسماندہ سماج دہشت گردوں کا ٹھکانہ بن سکتے ہیں۔یہ دعویٰ دراصل جرائم کی معروف معاشی ادبیات کی توثیق کرتا ہے جن کے مطابق غیر قانونی اور تشدد آمیز افعال پسماندگی اور ناخواندگی کے باعث وقوع پذیر ہوتے ہیں اور دہشت گردی چونکہ جرم سے مماثلت رکھتی ہے اسی لیے سنگین جرائم کا موجب عوا مل کا دائرۂ کار دہشت گردی تک بڑھا دیا گیاہے۔ اس کا منطقی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ دہشت گردی کا علاج معاشی و سماجی ترقی سے ممکن ہے۔
دوسری جانب کے لوگ سماجی و اقتصادی عوامل اور بنیاد پرستی میں کسی ربط کے قائل نہیں ہیں۔ الان بی کروئیگر اور جیٹکا مالیکووا بیان کرتے ہیں کہ غربت، تعلیم اور دہشت گردی میں تعلق بالواسطہ ، پیچیدہ اور ممکنہ طور پر انتہائی کمزور ہے۔ اسی طرح پیٹر کریلڈ کلٹ گارڈ، ان کے ساتھی محققین اور الان بی کروئیگراس بات پر زور دیتے ہیں کہ دہشت گردی کی وجوہات کا تعلق تعلیم یا غربت سے نہیں بلکہ یہ زیادہ تر متاثر کن سیاسی نتائج کے گرد گھومتی ہیں۔دیگر تجزیہ کار اور محققین بھی معاشی و سماجی عوامل اور بنیاد پرستی کے مابین وجوہاتی تعلق کی نفی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ غربت و تنگدستی کو دہشت گردی کے ساتھ نتھی کرنا دراصل دہشت گردی کے خلاف کیے گئے سخت عسکری اقدامات کے لیے ضروری وسائل اور انہماک میں کمی کا باعث ہے۔اسی دعوے کی توثیق کے لیے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سماجی و معاشی عوامل کوزیرِ غور لا نے کا مطلب اپنے آپ کو کمزور ظاہر کرنا اور دہشت گردی اور بنیاد پرستی کو تقویت پہنچانا ہے جس کا نتیجہ دہشت گردی اور بنیاد پرستی میں اضافے کی صورت ہی میں نکلے گا۔
دونوں حلقوں نے علمی و عملی ثبوتوں کے ساتھ دلچسپ مقدمات پیش کیے ہیں جن کے دلائل بنیاد پرستی کی مختلف جہتوں سے پردہ اٹھاتے اور اس مسئلے کی تفہیم میں ہماری معاونت کرتے ہیں۔باوجود اس کے کہ بنیاد پرستی کی وجوہات پیچیدہ، کثیر الجہتی اورباہم متعلق ہیں، دونوں حلقے ان وجوہات کا مکمل طور پر احاطہ نہیں کر پائے ہیں، اسی لیے اس عنوان کے تحت کسی ایک حلقے کی حمایت یا مخالفت نہیں کی جائے گی بلکہ اس بحث میں مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا کے حالات کو زیرِ غور لاتے ہوئے خطے میں بنیاد پرستی کی بنیادی وجوہات کا جائزہ لیا جائے گا۔خطے کی مجموعی صورتِ حال، یہاں کے زمینی حقائق اور ترقی پذیر دنیا کے ساتھ ان کا موازنہ کرتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ کیا واقعی مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا ایسے سماجی و اقتصادی بحران کا شکار ہے جس کے تناظر میں بڑھتی ہوئی بنیاد پرستی کی وجوہات کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ کامل معاشی و سماجی تصویر کشی کے لیے یہ مقالہ غربت، عدمِ مساوات اور انسانی ترقی کے مدارج کو زیرِ بحث لائے گا۔
غربت کی تعریف ہمیشہ محض آمدنی کے تناظر میں کی جاتی ہے جو کہ نامکمل ہے اور اس کی تشکیل کا موجب مختلف النوع عوامل کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے۔اسی وجہ سے اس مقالے میں Oxford Poverty and Humen Development Initiative کی جانب سے بنائے گئے اشاریہ برائے ہمہ جہت غربت کی مدد سے اخذ کردہ نتائج شامل کیے گئے ہیں جو آمدنی ، صحت، تعلیم اور معیارِ زندگی کی جانچ کی بنیاد پر مقررہ وقت میں ہر فرد کو درپیش محرومیوں کا احاطہ کرتا ہے۔ جس کے مطابق شرقِ اوسط اور شمالی افریقا میں ہمہ جہت غربت کی شرح ۱۱ فیصد ہے جو مجموعی طور پر دیگر ترقی پذیر دنیا کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے جہاں ہر تیسرا فرد ہمہ جہت غربت کا شکار ہے۔ خطے میں عدمِ مساوات کے جائزے کے لیے Government International Network Institutes (GINI) کی طرف سے بنائے گئے اشاریے سے مدد لی گئیجو دنیا میں عدمِ مساوات یا معاشی تفاوت کے جائزے کے لیے سب سے معتبر تسلیم کیا جاتا ہے۔جس میں صفر(۰) کا ہندسہ کامل مساوات جبکہ سَو (۱۰۰) کا ہندسہ عدمِ مساوات کی انتہائی صورت کو ظاہر کرتا ہے۔یہ اشاریہ مشرقِ وسطیٰ اور شمال افریقی خطے کے لیے۶۰۳۶ اور دیگر ترقی پذیر دنیا کے لیے ۶۰۴۰ درجے ظاہر کرتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ شرقِ اوسط اور شمال افریقی خطے میں دیگر ترقی پذیر ممالک کی نسبت دولت کی تقسیم بہتر ہے اور مذکورہ خطے میں معاشی مساوات ترقی پذیر دنیا کی نسبت حد درجے اطمینان بخش ہے۔
انسانی ترقی کی جہاں تک بات ہے تو ہم نے اقوامِ متحدہ ادارہ برائے ا نسانی ترقی (UNDP) کی طرف سے بنائے گئے اشاریہ برائے انسانی ترقی کے ذریعے اس کاجائزہ لیا۔ یہ اشاریہ طویل اور صحت مندانہ زندگی، خواندگی اور مناسب معیارِ زندگی جیسی مختلف جہتوں کا احاطہ کرتے ہوئے اوسط کامیابیوں کی پیمائش کرتا ہے۔اس اشاریے کی مدد سے اخذ شدہ نتائج کے مطابق مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا انسانی ترقی کی سطح کے حوالے سے بھی دیگر ممالک کو مات دے چکے ہیں۔ یہ نتائج بتاتے ہیں کہ اس خطے کے ۶۵ فیصد ممالک میں انسانی ترقی کی سطح سب سے بلند ہے جبکہ دیگر ترقی پذیر دنیا کے محض ۲۴ فیصد ممالک میں انسانی ترقی اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔اسی طرح شرقِ اوسط اور شمالی افریقا کے صرف ۱۰ فیصد ممالک ایسے ہیں جن میں انسانی ترقی اپنی کم ترین سطح پر ہے تاہم یہ تناسب باقی ماندہ ترقی پذیر دنیا کی نسبت بہت کم ہے جہاں ایسے ممالک کی تعداد ۳۱ فیصد کی حد کو چھو رہی ہے۔
مندرجہ بالا تجزیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا میں سماجی واقتصادی صورتِ حال دیگر ترقی پذیر دنیا کی نسبت انتہائی اطمینان بخش ہے۔ اس کے باوجود اس خطے میں دہشت گردی اور بنیاد پرستی کا تناسب بہت زیادہ ہے۔تو کیا یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ خطے کی سماجی و اقتصادی صورتِ حال اور دہشت گردی میں کوئی ربط وتعلق نہیں، سماجی و اقتصادی وجوہ کی بحث ختم کر دی جائے؟ مگر اس مفروضے کو تسلیم کر لینا اس خطے کے حالات سے میل نہیں کھائے گا۔جن وجوہات کی بنا پر لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل کر سراپا احتجاج ہوئے وہ اگرچہ متفرق اور پیچیدہ ہیں تاہم ایک عمومی وجہ مسلمہ ہے جو مصر میں مظاہرین کی جانب سے لگائے گئے عربی نعرے ’’عیش حریہ عدالۃ اجتماعیۃ‘‘ سے جڑی ہوئی ہے، جس کا اردو مطلب’’روٹی آزادی عدلِ اجتماعی‘‘ بنتا ہے۔یہ نعرہ تصدیق کرتا ہے کہ ان لاکھوں لوگوں کو سماجی و اقتصادی وجوہات نے مایوس کن صورتِ حال سے دوچار کیا تھا۔ مزید یہ کہ اکثر و بیشتر انتہا پسند بنیاد پرست گروہ اپنے نظریات کی تشہیرو پرچار میں غربت و تنگدستی اور عدمِ مساوات جیسے موضوعات کا حوالہ دیتے رہتے ہیں۔
یہاں بنیادی طور پر خطے کی سماجی و اقتصادی صورتِ حال اور اس کے بارے میں عوامی تاثر میں تضاد نظر آرہا ہے۔ ان حالات کا تجزیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ خطے کی سماجی و اقتصادی حالت باقی ماندہ ترقی پذیر ممالک کی نسبت انتہائی بہتر ہے مگرخطے کے مجموعی عوام کے احساسات اس بارے میں انتہائی افسوسناک ہیں۔ تفاوت کے اس تصور کے ساتھ کہ عوام چاہتے کیا ہیں اور انھیں میسر کیا ہے، اگر محرو می کے اس مسئلے کو مطلقاً دیکھنے کی بجائے نسبتاً دیکھا جائے تو اس ظاہری تضاد کا حل ممکن ہے۔ مثلاً یہ کہ خطے کے عوام کی توقعات بہت زیادہ ہیں جبکہ سماجی و اقتصادی صورتِ حال ان توقعات کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ مجموعی طورپر خطے میں ان بلند توقعات کا منبع کیا ہے اوریہ پنپتی کیسے ہیں؟ اس سوال کا جواب سماجی تخیل کے تصور میں پنہاں ہے۔
سماجی تخیل ایسے طور اطوار کی تعیین کرتا ہے جن کے مطابق لوگ یا اقوام اپنے آپ کو، اپنے تصورِکائنات اور اقوامِ عالم کے درمیان اپنے مناسب مقام کو متصور کر لیتے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا کے عوام میں سماجی تخیل کے مجموعی تصورات انتہائی راسخ ہیں جوامن و خوشحالی ، دولت و ثروت اور سائنس وثقافت میں گراں قدر خدمات پر مبنی ان کے شاندار ماضی اور ان کی عظیم تہذیبوں کا عکس لیے ہوئے ہیں۔یہ سماجی تصورات پر شکوہ عظمت و جلال، شجاعت و بہادری، عظیم فتوحات اورقا بلِ فخر قیادت جیسے اوصاف کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس خطے کے عوام اپنے آپ کو بنو امیہ، بنو عباس، بنو عثمان جیسی عظیم بادشاہتوں کا اصلی وارث سمجھتے ہیں اور ان کے ذہنوں میں غرناطہ، بغداد اور قرطبہ جیسے عظیم شہروں کے نقشے موجود ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ مایوسی اورآزردگی کے احساسات سے انھیں سیدنا عمر بن الخطاب، سیدنا خالد بن الولید اور سلطان محمد فاتح جیسے فاتحین ہی چھٹکارا دلا سکتے ہیں۔ یہ احساسات فطری طور پرسماجی و اقتصادی اور سیاسی ، ہر دو تناظر میں دیکھے جا سکتے ہیں جو ایک طرف تو سماجی و اقتصادی ترقی سے بے اطمینانی کا مظہر ہیں تو دوسری طرف حاکمانِ وقت سے سیاسی بدگمانی کا اشارہ دیتے ہیں جنھیں عوام اپنی بے سکونی کی وجہ مانتے ہیں۔یہ سماجی تخیل داخلی وجوہات پر مبنی ہے جن کے ذریعے عوام اپنے حالات کو اپنے ہی ماضی کے آئینے میں دیکھنے اور پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم اس سماجی تخیل کا دائرۂ کار داخلی حوالوں تک محدود نہیں ہے بلکہ عوام اپنے حالات کو خارجی حوالوں سے بھی جانچتے ہیں جن کے باعث ان میں احساسِ محرومی مزید گہرا ہو جاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ وہ خارجی حوالہ کیا ہے؟ نہایت آسان جواب کہ مغرب۔جی ہاں مغرب ! کیونکہ عرب تاریخ مغرب سے کافی حد تک جڑی ہوئی ہے۔حالات کو اس تناظر میں دیکھنے سے عوام میں مسابقت و شراکت، تصادم و رضا مندی اور تحسین و اختلاف کے متفرق جذبات جنم لیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ خطے کے لوگ سماجی و اقتصادی حوالے سے احساسِ محرومی کا شکار ہوتے ہیں تو وہ سماجی و اقتصادی ترقی کے درجات کا موازنہ مطلق قدروں کے بجائے مغربی اقدار سے کرتے ہیں۔

ب۔ سیاسی وجوہات
یہاںیہ استدلال قائم کیا جا سکتا ہے کہ نظام ہائے سیاست بجائے خود عوام کو انتہا پسندی و دہشت گردی کی طرف دھکیلنے کا موجب ہیں۔ تاہم اس سے انکار ممکن نہیں کہ واقعتاً سیاسی عوامل ان حالات کے پنپنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔مستحکم سیاسی ادارہ جات ، حسنِ انتظام،سیاسی آزادی اور آزادئ اظہارِ رائے سے عاری کمزور اور مطلق العنان نظام ہائے سیاست نہ صرف بنیاد پرستی و دہشت گردی کو ایندھن فراہم کرتے ہیں بلکہ عوام میں ناگواری کی حدتک رنجیدگی و عدمِ اطمینان کے جذبات کو بھڑکاتے ہیں، جن کا حتمی نتیجہ شدت پسندی و دہشت گردی کی صورت میں نکلتا ہے۔نوّے کی دہائی کے اواخر میں خطے کے بیشتر ممالک نے قابلِ ذکرسیاسی اصلاحات کا بیڑہ اٹھایا تاکہ اپنی حکومتوں کو قانونی جوازکی فراہمی اور عوام کے سامنے جوابدہی کو ممکن بنایا جا سکے اور ان دنوں خطے کے ممالک حکومتی انتظام و انصرام کومستحکم کرنے میں مصروف رہے۔ حکومت اور عوام کے درمیان موجود خلیج کو پاٹنے کے لیے پالیسی سازی کے عمل میں حزبِ اختلاف کی آراء پر توجہ دینا اہم تھا۔اس کے ساتھ ہی اقتصادی خوشحالی ،تعلیمی نظام میں ترقی اور معیارِ زندگی میں بہتری خطے ، بالخصوص سیاسی حلقوں میں نئی توقعات کے جنم کا باعث بنی۔تاہم شخصی آزادی اس خطے میں نہ پنپ سکی۔ محدود سیاسی آزادی اورغیر اجتماعیت، عوامی سماج کی اہمیت سے پہلو تہی،قانون کی حکمرانی میں کوتاہی اور منظم انتظامی ڈھانچے کی کمی یہاں کی حکومتوں کی امتیازی خصوصیات بنتی گئیں اور اس کے نتیجے میں عوام کی سیاسی توقعات اور خطے کے سیاسی حقائق میں خلیج بڑھتی چلی گئی۔
درج ذیل نثرپاروں میں منتخب اشارہ جات کی مددسے ہم مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا میں ان سیاسی نقائص کا تجزیہ کریں گے جو خطے میں بنیاد پرستی کے ممکنہ موجب ہوسکتے ہیں۔برٹلزمین سٹف ٹنگز ٹرانسفارمیشن اشاریہ(BTI) کے ذریعے ہم سیاسی شراکت، سیاسی و سماجی اجتماعیت، قانون کی حکمرانی، اور جمہوری اداروں میں استحکام کو بہتر طور پر جانچتے ہوئے دیگر ممالک کے حالا ت سے ان کا موازنہ کرنے کی کوشش کریں گے۔سیاسی شراکت کو مختلف نظام ہائے سیاست کے تناظر میں مختلف طریقوں سے دیکھا جاسکتا ہے۔آمرانہ حکومتوں میں ممکن ہے یہ محض حکمران اشرافیہ کے لیے مخصوص ہو اگرچہ عوام کومتحرک و مجبور کیا جاسکتا ہے کہ وہ بادشاہت کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے انتخابات میں رائے دہندگی کا حق استعمال کریں۔ اپنی مرضی و منشا سے حقِ رائے دہندگی استعمال کرنے کی سیاسی آزادی صرف ان چند ممالک میں ہے جہاں قانونی طور پر انتخابات کا انعقاد ضروری قرار دیا جا چکا ہے۔بڑے پیمانے پر سیاسی شراکت کا عمدہ مقدمہ جین جیکوئس روسیو اورجان اسٹارٹ مل کے کلاسیکی ادب میں پیش کیا گیا ہے جس کے مطابق کسی بھی ملک کے عوام کا سیاسی عمل میں حصہ لینا افراد کی اخلاقی و معاشرتی حالت کی بہتری اور قوم کی مجموعی سیاسی زندگی کے لیے نہایت مفید ہے۔ جدید سیاسی شراکت داری حکومت، سیاسی جماعتوں اور انتخابات کے ذریعے ملک کی کسی بھی انتظامی اکائی کے عوام کی سیاسی عمل میں شرکت کو یقینی بناتی ہے۔ اسی لیے رائے دہندگی کو عام انتخابات کی ہمہ گیر سیاسی سرگرمی کہا جا سکتا ہے۔
تاہم جہاں تک مشرقِ وسطیٰ اور شمال افریقی خطے کی بات ہے تو یہاں کی زیادہ تر بادشاہتیں، شفاف انتخابات،انجمن سازی اور آزادیِ اظہارِ رائے جیسے بنیادی انسانی حقوق کو اپنے اصلاحاتی پیش نامے کا حصہ بنانے سے گریزاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کی سیاسی اصلاحات محض اپنی بادشاہتوں کی بقاکے لیے کی جارہی ہیں جو مجموعی سیاسی شراکت کی حوصلہ شکنی اور عوامی توقعات کی عدمِ تکمیل کا باعث ہیں۔ سیاسی شراکت کے تجزیے سے ہمارے پاس جو نتائج آئے ہیں ان کے مطابق مذکورہ خطے میں سیاسی شراکت کی سطح دیگر ممالک کی نسبت انتہائی کم ہے۔ جبکہ۲۰۱۲ء سے ۲۰۱۴ء کے درمیان خطے میں سیاسی شراکت کی حد مستحکم نظر آتی ہے جو نام نہاد عرب بہار کے بعد سامنے آئی تاہم یہ قلیل عرصے تک برقرار رہی اور ۲۰۱۴ء کے بعد حالات انتہائی ابتری کی طرف بڑھتے چلے گئے۔یہ استدلال ممکن ہے کہ ۲۰۱۶ء کے بعد بیشتر عرب ممالک میں سیاسی اصلاحاتی عمل متروک ہو جانے سے سیاسی شراکت ۲۰۱۰ئسے بھی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔
خطے کے سیاسی منظرنامے کی تصویر کشی کے لیے اشاریہ برائے سیاسی و سماجی انضمام کی مدد لی گئی۔ خطے میں سیاسی و سماجی انضمام کو یقینی بنا کر عوام کی توجہ مسلکی، نسلی اور قبائلی عصبیتوں سے ہٹا کر ایک جامع سیاسی نظام پر مرکوز کی جا سکتی ہے۔اتحاد ، ہم آہنگی، مجموعی شناخت اور سماجی بہتری میں پنہاں انفرادی ترقی کے احساسات کو فروغ دے کرخاطر خوا ہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ سیاسی و سماجی انضمام کے بغیر نہ صرف عوام مشترکہ سماجی سرمائے سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں بلکہ وہ سماج سے بد ظنی اور لاتعلقی کے احساسات تلے دب جاتے ہیں، جن کے سبب بنیاد پرستانہ نظریات و اثرات کو معاشرے میں نفوذ کا موقع میسر آ جاتا ہے۔ تاہم خطے میں سماجی و سیاسی انضمام کی حالت باقی ممالک اور دنیا کی نسبت اطمینان بخش نہیں ہے۔
کسی بھی ملک کے شہریوں کی خوشحالی اسی میں ہے کہ وہاں کا سیاسی نظام تمام لوگوں کے لیے قوانین کے یکساں اطلاق کو یقینی بنائے نہ کہ اپنے عوام کو انارکی و بدنظمی کی بھٹی میں جھونک دے۔البرٹ وین ڈیسے اس عمل کو صوابدیدی مناصب پر قانون کی بالادستی سے تعبیر کرتا ہے۔قانون کی حکمرانی کو بہر طور یقینی بنا کرعوام میں پنپنے والے شدت پسندانہ رجحانات اور سیاسی ا نتشار کی حوصلہ شکنی کی جا سکتی ہے۔ اگرچہ بیشترنظام ہائے سیاست کے تحت چلنے والی حکومتیں اطلاقِ قانون کے اس تصور کو تسلیم کرنے کا دعویٰ رکھتی ہیں ،تاہم خرابی دراصل یہ ہے کہ یہ حکومتیں قانون کی تشریح و نفاذکو قانون سے ماورا اداروں کے سپرد کرتے ہوئے خود قانون سے تجاوز کرنے پر آمادہ ہو جاتی ہیں۔اس ضمن میں بی ٹی آئی اشاریہ کی مدد سے اختیارات کی تقسیم، عدلیہ کی آزادی، اختیارات سے تجاوز پر مواخذے اورشہری حقوق کے تحفظ کی بنیاد پرقانون کی حکمرانی کے حوالے ۱۲۹ ممالک کی درجہ بندی کی گئی ہے جس کے مطابق مذکورہ خطے کی صورتِ حال باقی دنیا کے ممالک کی نسبت زیادہ تشویشناک ہے۔ ۲۰۱۰ء کے بعد جہاں قانون کی حاکمیت کے حوالے سے دنیا بھر کے ممالک میں صورتِ حال تنزلی کی جانب مائل ہوئی وہاں یہ خطہ بھی اس کی لپیٹ میں آیا۔
جہاں تک جمہوری اداروں کے استحکام کی بات ہے تو انھیں تکنیکی طور پر ان کے وجود اور آزادانہ طور پر بغیر کسی بیرونی دباؤیا رکاوٹ کے خودمختاری کے ساتھ کام کرنے کی بنیاد پر پرکھا گیا ہے۔ یہ بھی مدِنظر رکھا گیا ہے کہ سیاسی یا حکومتی عمل میں مختلف شراکت داروں کی طرف سے ان اداروں کے کردار کو کس حد تک جائز تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان شراکت داروں میں حکومتی ادارے، سیاسی جماعتیں، شہری انجمنیں ، بالخصوص اہلِ مذہب اور فوج جیسی قوتیں شامل ہیں جو سیاسی عمل پر خاص طور پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ اس تحقیق کے نتائج بھی حوصلہ افزا نہیں ہیں جن کے مطابق مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا میں جمہوری ادارے باقی دنیا کی نسبت کافی حد تک غیر مستحکم اور کمزور ہیں۔
درج بالا نتائج بتاتے ہیں کہ دیگر دنیا کے مقابلے میں مشرقِ وسطیٰ اور شمال افریقی خطے کے سیاسی نظام جابرانہ، بدعنوان اور غیر مستحکم ہیں۔شخصی آزادیوں، آزادیِ اظہارِ رائے، سیاسی شراکت، سماجی و سیاسی انضمام اور قانونی بالا دستی کی عدم موجودگی خطے میں سیاسی انتشار کی بنیادی وجوہات ہیں، جن کے سبب ریاستی استحقاق کو زک پہنچتی اور بنیادی پرستی اور سیاسی شدت پسندی کو ہوا ملتی ہے۔ جابرانہ سیاسی نظام ایسے اداروں اور ایسی اخلاقیات کی نشو ونما کرتے ہیں جو ایک گھٹن زدہ ماحو ل کو جنم دیتے ہیں۔ نتیجتاًمایوس و نالاں افراد کو بنیاد پرستی میں ہی جائے پناہ نظر آتی ہے۔یعنی درحقیقت خطے کی ابتر سیاسی صورتِ حال نا انصافی، ریاستی جبر اور آمرانہ حکومتوں کی مغربی پشت پناہی کے خلاف عوامی تحریک کی نشوونما کرتی ہے۔ اسی لیے سیاسی نظام کی ابتری کوخطے میں بنیاد پرستی کی بنیادی وجہ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
بنیاد پرستی کی سیاسی وجوہات کے تدارک کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں خاطر خواہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔بیشتر حکومتوں نے انتخابی سیاست کے کم از کم معیارات پر پورا اترنے کے ساتھ ساتھ سیاسی اصلاحات کی شروعات اور اداراتی استحکام کو ممکن بنانے کا وعدہ کیا ہے۔تاہم ابھی تک خطے کے اکثر ممالک میں حکومتوں کو تفویض کردہ بے حساب اختیارات کو نہیں چھیڑا گیا جو نتیجتاًسیاسی سماجی انضمام و ارتقا میں بڑی رکاوٹ ہیں۔جن کی واضح مثال خلیجی ممالک ہیں جہاں سیاسی جماعتوں پر پابندی اور عوامی سماج پر جابرانہ تسلط کو قانونی حیثیت حاصل ہے۔ ان ممالک میں مذہب پسندوں کے سوا تمام مکاتبِ فکر حکومتی عتاب کا شکار ہیں۔ جب مذہب پسند گروہ سیاست پر اثرا نداز ہونے کا واحد راستہ رہ جاتے ہیں تو ایسے ممالک میں عقائد کا سیاسی استعمال جنم لیتا ہے، سیاسی مفادات کے لیے مذہبی تعلیمات کی من چاہی تشریحات کی جاتی ہیں، نتیجے کے طور پر بنیاد پرست، جارحانہ اور انتہاپسند تحریکیں جنم لیتی ہیں۔سو مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا میں ایک سیاسی کایا پلٹ انتہائی ضروری ہے ، جوایسی ترقی پسنداصلاحات پر مشتمل ہو جن کے ذریعے متنوع سیاسی اقدار پر مشتمل متحرک عوامی سماج، مساوات پر مبنی قانون کی حکمرانی اور منظم انتظامی ڈھانچے کا قیام یقینی بنایا جاسکے۔
علاقائی اور ملکی سطح پرسیاسی نظام میں بہتری کی کوششوں کے ساتھ ساتھ مغربی ممالک نے خطے میں بنیاد پرستی اور دہشت گردی کے تدارک کے لیے جمہوری منصوبے شروع کر رکھے ہیں۔عراق پرحملے، ابوغریب، گوانتا ناموبے جیسی جیلوں اوریورپ میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا نے چونکہ جمہوری قدروں کے فروغ کے حوالے سے مغربی جدو جہد سے اعتباراٹھا دیا ہے ، اسی لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور شمال افریقی خطے کی سماجی، اقتصادی اور سیاسی حرکیات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے سیاسی آزادی کی تعریف کو از سرِ نو طے کیا جائے۔ یہ بات انتہائی اہم ہے کہ سیاسی آزادی کو مختلف جمہوری پہلوؤں سے دیکھنے کی بجائے خطے کے ممالک کو چاہیے کہ وہ خطے کی سیاسی و سماجی بنیادوں پر قائم قابلِ قبول سیاسی اصلاحات کے تناظر میں’’آزادی‘‘ کی نئی تفہیم پیش کریں۔

ج۔ مغربی مداخلت
ذرائع ابلاغ کے مطابق بنیاد پرست اور دہشت گرد گروہ مغربی مفادات اور عوام پر حملوں کا جواز فراہم کرتے ہوئے متواتر کہتے آئے ہیں یہ حملے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا میں مغربی مداخلت و دراندازی کا جواب ہیں۔اس بیانیے کے حوالے سے نتائج انتہائی واضح ہیں کہ مغربی مداخلت مشرقِ وسطیٰ میں بنیاد پرستی اور مغرب مخالف جارحانہ جذبات کی موجودگی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔خطے میں مغربی مداخلت کی تاریخ بہت پرانی ہے جس کا نقطۂ آغازبیسویں صدی کے اوائل کا وہ وقت ہے جس دوران سقوطِ خلافت (سلطنتِ عثمانیہ)کا واقعہ رونما ہوا۔ سقوطِ خلافت کے بعد فرانس اور برطانیہ نے قدرتی وسائل پر قبضے، تجارتی راہداریوں پر تسلط اور اسرائیل کے قیام جیسے مفادات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا کو مختلف نو آبادیوں میں تقسیم کردیا۔ اگر آپ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک پر نظر ڈالیں توآپ دیکھیں گے کہ بیشتر ممالک کی حد بندیاں مصنوعی ہیں جو دراصل۱۹۱۶ء میں ہونے والے سائیکس بیکو معاہدے کے تحت برطانیہ اور فرانس نے مقرر کی تھیں۔
مغربی طاقتوں نے نہ صرف ثقافتی ، لسانی اور نسلی امتیازات کو دیکھے بغیر خطے میں مختلف ریاستوں کی حد بندی کی بلکہ ان ریاستوں میں ایسی مطلق العنان اور آمرانہ بادشاہتیں قائم کیں جو مغربی آقاؤں کی فرماں بردار تھیں۔اسی دوران عالمی افق پر جمہوری اقدار پنپ رہی تھیں تاہم مشرقِ وسطیٰ میں مغربی طاقتیں اپنی منظورِ نظر بادشاہتوں کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ خطے میں اٹھنے والی ہر جمہوری تحریک کو سبوتاژ کرنے میں مصروف تھیں۔مثال کے طور پر کمیونزم کے خلاف مغربی تحریک کا حصہ بننے سے انکار پرامریکا نے شام کی جمہوری حکومت ( ۱۹۵۴ تا ۱۹۵۸ء )کو گرانے سے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ ۱۹۶۵ء میں امریکا نے مراکش کے شاہ حسن دوم کی جانب سے پارلیمنٹ تحلیل کر کے تمام انتظامی و قانونی اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لینے کے اقدامات کی حمایت کی۔ ۱۹۸۶ء میں سوڈان نے بادشاہت کے خاتمے کے بعد عوامی حکومت کا اعلان کرتے ہوئے جمہوری عمل کی شروعات کیں توامریکا سوڈان کی نئی جمہوری حکومت سے ناخوش تھا چونکہ وہ سوویت یونین، لیبیا اور ایتھوپیا سے تعلقات کی خواہش مند تھی۔ ۱۹۹۱ء میں الجزائر کے مسئلے پر امریکا کی مشرقِ وسطیٰ میں جمہوریت دشمنی اور آمریت پرستی اپنی تمام تر حشرسامانیوں کے ساتھ عیاں ہوتی ہے۔ اسی سال آزادی کے بعد اولین کثیر الجماعتی انتخابات میں اسلامک سالویشن فرنٹ اکثریتی نشستوں پر کامیاب قرارپائی تو الجزائر کی فوج نے حکومت کا تختہ الٹ کر اسلامک سالویشن کے حمایتی ہزاروں مسلمانوں کو صحارا کے ریگستانوں میں قائم عقوبت خانوں میں ڈال دیا۔ عرب دنیا نے اس سے پہلے اس قدر مقبول اور حقیقی جمہوریت کا نظارہ نہیں کیا تھا۔ تاہم امریکا نے ۱۹۹۲ء میں فوج کی طرف سے جمہوریت کی بساط لپیٹ دینے کے عمل کی حمایت کی۔کیونکہ الجزائر کی اسلام پسند جمہوری حکومت خطے میں امریکی استعماری عزائم کے لیے خطرہ تھی۔ اور اس پر مستزاد یہ کہ نئی فوجی حکومت نے بھی خطے میں امریکی مفادات کی آبیاری کے لیے واشنگٹن سے تعلقات کی بہتری میں دلچسپی کا اظہار کیا جن کے تحت خطے میں امریکی استبداد کے قیام کے لیے اسرائیل کے ساتھ شراکت داری کا پہلو بھی موجود تھا۔
یہ جاننا نہایت ضروری ہے کہ خطے میں جمہوری اقدار کا فروغ کسی بھی طرح مغربی طاقتوں کے لیے قابلِ قبول نہیں بلکہ اس کے برعکس وہ یہاں کی آمرانہ حکومتوں کی پشت پناہی اور حمایت کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ آمرانہ حکومتیں مغربی طاقتوں کے معاشی و تزویراتی مفادات کے تحفظ کے لیے آزادنہ جمہوری رویوں کی افزائش و نمو کی حوصلہ شکنی پر آمادہ رہتی ہیں۔تاہم یہ حکمتِ عملی کسی طور بھی مغربی مفادات کے لیے بہتر ہے نہ جامع، اور اسی لائحۂ عمل کی وجہ سے خطے میں بنیاد پرستانہ نظریات جنم لیتے ہیں۔ سابق امریکی صدر جارج بش نے انھیں حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ مغربی اقوام کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں آزادانہ حقوق کی پامالی کو ہلہ شیری دینے کے طرزِ عمل کی۶۰ سالہ تاریخ نے ہماری سلامتی کے لیے کوئی خدمت سر انجام نہیں دی۔کیونکہ آزادی کی قیمت پر استحکام حاصل نہیں کیا جا سکتا۔جب تک مشرقِ وسطیٰ میں آزادی کو صحیح معنوں میں ممکن نہیں بنایا جا تا تب تک یہ خطہ دنیا میں تشدد، غم و غصہ اورجمود کا مرکز رہے گا۔
اسی حقیقت کا اعادہ سانحہ۱۱ ستمبر کی کمیشن رپورٹ میں ان الفاظ کے ساتھ کیا گیا کہ جہاں بہت سی مسلم حکومتیں ان اصولوں کی پاسداری نہیں کرتیں، چاہے وہ دوست ہی کیوں نہ ہوں، لیکن امریکا کو اپنے بہتر مستقبل کے لیے ان اصولوں کی لازماً پیروی کرنا ہوگی۔طویل سرد جنگ کا ایک سبق یہ بھی ہے کہ جابر آمرانہ حکومتوں کے ساتھ شراکت داری سے امریکی مفادات کو فائدہ بہت کم اور نقصان زیادہ اٹھانا پڑا ہے۔
اب تو حالت یہ آن پہنچی ہے کہ خطے میں مغربی مداخلت آمر انہ حکومتوں کی پشت پناہی سے بڑھ کر بلا واسطہ فوجی دراندازی تک پھیل گئی ہے۔ فوجی دراندازی خطے کے عوام میں غم و غصے اورشکایت کی بنیادی وجہ ہے۔بنیاد پرست اور دہشت گرد گروہ انھیں جذبات کو مؤثر مزاحمت کی شکل میں ڈھال دیتے ہیں۔ رابرٹ پائپ اور جیمز فیلڈمین اپنی تصنیفCutting the Fuseمیں۱۹۸۰ء سے ۲۰۰۹ء تک کے خودکش حملوں کے دستاویزی شواہد جمع کیے ہیں اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ حملے کسی بھی مذہبی یا نظریاتی مخاصمت کی بنا پر نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مداخلت کے جواب میں کیے گئے تھے۔بیرونی جنگجوؤں سے دہشت گردی کے خطرات کے حوالے سے ادارہ بروکنگز کی جانب سے شائع شدہ رپورٹ میں دانیال بئمن اور جریمے شاپیرنے بیرونی جنگجوؤں کو تشددآمیز انتہا پسندی پر آمادہ کرنے والے تمام عوامل کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔ان کے مطابق مہم جوئی کے شوق سے لے کر مذہبی بنیاد پرستی جیسے عوامل بھی اس کا سبب ہیں تاہم بیرونی مداخلت چند بنیادی اور مؤثر محرکات میں سے ایک ہے۔
اپنی تمام تر حشر سامانی کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں بیرونی مداخلت کی شروعات۲۰۰۳ء میں عراق حملے سے ہوئیں ، جب تباہ کن امریکی حملے میں عراق کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی۔ نتیجتاً عراق میں بھڑک اٹھنے والی آگ نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ مجموعی طور پر تمام دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اسی برس خطے میں موجود تضادات کے کم ہوتے رجحان میں دیگر دنیا کی نسبت اضافہ دیکھنے میں آیا اور اب تک مسلسل بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ جبکہ دنیا میں دہشت گردانہ حملوں میں قتل ہونے والے افراد کی تعدادمیں بھی ۲۰۰۳ء کے بعد مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔
امریکا نے عراق پرحملے کو’’دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ‘‘کا نام دیا تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ نے دہشت گردی کے خاتمے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔عالمی تنظیم عفوِ عام کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ ’’عراق میں داعش کی تسلیح: ایک جائزہ‘‘ میں نتیجے کے طور پر اخذ کیا گیا ہے کہ داعش کا ظہور ۲۰۰۳ء میں عراق حملے کا بلا واسطہ ردِ عمل ہے۔درج بالا تجربات و نتائج یہ ثابت کرتے ہیں کہ خطے میں مغربی فوجی مداخلت بنیاد پرستانہ رجحانات میں اضافے کا ایک بڑا سبب ہے۔

د۔ نظریہ
کیا انفرادی یا گروہی نظریات بنیاد پرستی کے عمل کا حصہ ہو سکتے ہیںیا کیا بنیاد پرستانہ نظریات پُرتشدد انتہا پسندی اور دہشت گردانہ کارروائیوں کا بنیادی محرک ہو سکتے ہیں؟ان سوالات کے جوابات مختلف فیہ اور بحث طلب ہیں۔محققین اس بات پر متفق نہیں ہیں کہ نظریہ دراصل کیا ہے اور اس کے قدرتی نتائج کیا برآمد ہوتے ہیں۔اگرچہ بنیاد پرستی کی بیشتر تعریفیں نظریات و اعتقادات کی قید سے آزاد ہیں تاہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا میں یہ عنصر انتہا پسندی کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے۔ بنیاد پرست تحریکیں اپنی تشہیر اور لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے نظریے کا سہارا لیتی ہیں۔اس عنوان کے تحت ہم دہشت گردی کا موجب اسلام کی غلط تشریحات و توضیحات کو موضوعِ بحث بنائیں گے۔
حالیہ برسوں میں بڑھتے ہوئے دہشت گردانہ حملوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں نے اعتقادات اور پرتشدد بنیاد پرستی کے مابین تعلق کوقابلِ توجہ موضوع بنا دیا ہے۔اندازاًنظریات کسی مخصوص یا مجموعی عمل کی بجا آوری کے لیے عقیدہ، نظریہ اور بیانیے کے مابین ربط قائم کرتے ہوئے عالمی واقعات کو سمجھنے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔کسی بھی سماج میں نظریاتی ڈھانچے کی تعمیراتی بنیادیں سماجی اقدار (ثقافت، روایات، تاریخ، مذہب)میں پیوست ہوتی ہیں۔ نظریات متنوع خواص کے حامل ہوتے ہیں، بنیاد پرست گروہ اپنے اہداف کے حصول کے لیے انھیں استعمال کر سکتے ہیں اوران کی اصل روح کو برقرار رکھتے ہوئے حالات کی مناسبت سے ان کی تعبیرات و تشریحات ممکن بناکر ان سے مطابقت پیدا کرنانسبتاً آسان ہوتا ہے۔انھیں پیچیدہ اور ہمہ جہت نوعیات کے سبب نظریات کا مطالعہ انتہائی مشکل امر ہے۔
دنیا کی تاریخ میں پُر تشدد بنیاد پرست تحریکوں اور تنظیموں کی کثیر تعداد ایسی ہے جوباقاعدہ طورکسی خاص نظریے یا نظریاتی بیانیے سے منسلک رہی ہیں۔ یہ نظریات سماجی، ثقافتی اور جغرافیائی خصوصیات پر مبنی ہیں۔ بیشتر بنیاد پرست تحریکیں عوامی حمایت اور رکنیت سازی کے لیے قومی یا طبقاتی حساسیت کی حوصلہ افزائی کرکے عوام کو نئی پہچان دیتی نظر آتی ہیں۔ مثال کے طور پر مارکس ازم بیشتر لاطینی امریکی اور جنوب مغربی یورپی ممالک میں مغربی سرمایہ دارانہ برتری کے خلاف بنیادی نظریاتی رکاوٹ بن کرا بھرا اور اسی طرح بیسویں صدی کے دوران بیشتر نو آبادیاتی ممالک میں خود ارادیت اورقومیت پرست رجحانات کی حامل تحاریک چھائی رہیں۔
تاہم مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا کا معاملہ اس سے مستثنیٰ ہے کیوں کہ یہاں کے عوام’’ مسلمان‘‘ کے طور پر اپنی مستقل پہچان رکھتے ہیں، وہ اپنے وجود کے بارے میں انتہائی حساس ہیں اور انھیں اس کے لیے کسی نئی شناخت کی ضرورت نہیں ہے۔یہاں مساجد، جامعات اور حالیہ دور میں سماجی ذرائع ابلاغ جیسے سماجی بندوبست کے ذریعے مذہبی دائرہ ہائے اثر سے ہم آہنگ سیاسی پہچان ممکن بنا ئی جا سکتی ہے۔ اسلامی تعلیمات کی پر تشدد اور من چاہی تشریحات پر مبنی نظریاتی ذہنیت ترجیحی مسلم پہچان کوآسانی سے متاثر کر سکتی ہے۔
اس استثنیٰ کی وجہ سے خطے میں جنم لینے والے زیادہ تر بنیاد پرست افراد مسلم شناخت کے حامل ہیں۔ اسی لیے اس مسئلے کی تنقیح اس تناظر میں ہی ممکن ہے کہ انتہاپسند گروہوں یا افراد کی پرتشدد کارروائیوں اور بنیاد پرستی کے اخلاقی جواز کے لیے مقدس مآخذ اور اصولوں کی من چاہی اور ممکنہ طور پر تحریف شدہ تشریح و توضیح کی جاتی ہے۔ بنیاد پرستی کی توجیح کا یہ حوالہ اسلام کے تصورِ جہاد سے منسلک ہے ، جس کے باعث تصورِ جہاد اس بحث کاایک اہم موضوع بن جاتا ہے۔اولیویئر رائے کا دعویٰ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا کے مسلمان عوام میں بنیاد پرستی کا بڑھتا ہوا رجحان آمریت یا غربت کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی وجہ جہادہے ، ایک مقدس اور عالمی مشن،جسے داعش اور القاعدہ جیسے بنیاد پرست گروہ اپنے عسکری ایجنڈے کی تکمیل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اسلام کی مخصوص تشریح کے سبب یہ بحث مذہبی تعلیمات اور اصولوں پر مشتمل نہیں ہوگی بلکہ اس میں اصل تعبیرات کی مدد سے مذہبی تعلیمات کو سمجھنے کی کوشش کی جائے گی۔ان مقدس تعلیمات کی تشریح کی مرکزیت و اہمیت خطے میں بنیاد پرستی کے رجحانات کی حوصلہ شکنی کے لیے مذہبی علماء کے منطقی کردار کواجاگر کرتی ہے۔اسلامی روایت میں علماء کو شریعت کاقانونی جائزہ لے کر فتویٰ جاری کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ اس طرح اسلامی تعلیمات کی غلط تعبیرات پر مبنی فتویٰ کے تحت جہاد بنیاد پرستی کی حوصلہ افزائی کرسکتا ہے۔ جس کی وجہ سے بہت سے لوگ اسے شرعاً درست سمجھتے ہوئے اس کی سمت کھنچتے چلے آتے ہیں۔ سلفی اہلِ سنت مسلمانوں کا ایک فرقہ ہیں جو مذہبی حوالے سے شدید نظریات کے حامل ہیں۔ ان کی طرف سے کی گئی جہاد کی تشریحات بہت سے لوگوں کو اپنی طرف مائل کرچکی ہیں اورخطے کے روبہ زوال سماجی و اقتصادی اور سیاسی حالات ، عراق، لیبیا، یمن،اور شام میں عدمِ استحکام اور بیرونی مداخلت کے باعث سلفی جہاد کے حامیوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا میں انتہا پسندی کا تجزیہ کرنے کے لیے گہرے نظریاتی اثرات کے ساتھ ساتھ مختلف بیانیوں کو بھی مدِ نظر رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ سماجی و اقتصادی ، سیاسی اور انفرادی شکایات جب بنیاد پرست اور پر تشدد تحاریک سے مطابقت اختیار کر لیتی ہیں تو یہ گروہ رائے عامہ کی تشکیل، اپنے پیغام کی تشہیر، نئی رکنیت سازی اور ہمدردی کے حصول کے لیے ان بیانیوں کو مؤثر طورپر استعمال کر سکتے ہیں۔یہ بیانیے سماجی و اقتصادی تنزلی، سیاسی عدمِ استحکام، شہری اختلافات اور بعض اوقات جنگ جیسے مسائل کا احاطہ کیے ہوتے ہیں۔عظمتِ رفتہ کی بحالی ، وسیع مسلم سلطنت کا قیام اور مسلمانوں کے مقام و مرتبہ کی ازسرِ نو تعیین جیسے پر کشش بیانیے تشکیل دے کریہ گروہ خطے کے بااثر اورممتاز حلقوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی وہ اپنے بیانیے کو جہاد، دارالحرب، تکفیر جیسی مذہبی اصطلاحات کے لبادے میں پیش کرتے ہیں۔بنیاد پرست گروہوں کی طرف سے سامنے آنے والے بیانیے کے بنیادی احساسات مختصراً درج ذیل نکات میں بیان کیے گئے ہیں۔
۱۔ کسی بھی معاشرے میں سماجی نا انصافی،جرائم اور خطرات کو تلاش کرنا اور اس پر تنقید شروع کردینا
۲۔ مبینہ سماجی نا انصافی، جرائم، خطرات اورہتک کا ذمہ دار کوئی مشترکہ دشمن متعین کرنااور اس کے خلاف محاذ آرائی شروع کردینا
۳۔ بنیاد پرستانہ نظریات اور زیرِ حوالہ معاشرے کے اشتراک سے ایک مثبت سماجی شناخت کی تشکیل کرنا
۴۔ مجموعی مقاصد کو بنیاد پرستوں کی زیرِ حوالہ معاشرے کی اخلاقیات اور ترجیحات سے مربوط کرنا
۵۔ تشدد کو مجموعی مقاصد کی تکمیل کا واحدمؤثر راستہ ثابت کرنا
۶۔ ایک ایسی مثالی اور معیاری مستقبل کی ریاست ذہن کو متصور کرناجہاں تشدد کے ذریعے بنیاد پرست اپنے مجموعی مقاصد کی تکمیل یقینی بنا چکے ہیں
خطے میں بنیاد پرستی کی نظریاتی وجوہات کا جائزہ لینے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہاں مقدس اسلامی تعلیمات کی من چاہی اور غلط تشریحات بنیاد پرستی کے فروغ کا ذریعہ ہیں۔سو سیاسی، سماجی اور اقتصادی مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ پالیسی سازوں اور مذہبی علماء کو چاہیے کہ بنیاد پرستانہ متشدد بیانیے کے رد کے لیے اسلام کی اصل تعلیمات پر مبنی بیانیہ سامنے لائیں تاکہ اس ناسور سے چھٹکارا ممکن ہو پائے۔ حتمی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا میں لوگ اسلام کی وجہ سے بنیاد پرستی طرف کی مائل نہیں ہو رہے بلکہ بنیاد پرستوں کی طرف سے اسلام کو بنیاد پرستی کا جامہ پہنایا جا رہا ہے۔

ہ۔ جدیدیت
مشرقِ وسطیٰ اور شمال افریقی خطے میں موجود بنیاد پرستی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دراصل رجعت پسندانہ ردِ عمل اور ثقافتی و مذہبی عدمِ برداشت کی انتہائی کیفیت کی ایک شکل ہے۔ تاہم ایسے تجزیاتی نقطۂ نظر سے مشرقِ وسطیٰ میں انتہاپسندی کی مکمل تفہیم ممکن نہیں بنائی جاسکتی جو روایت پسندی کو جدیدیت اور اس کی تمام تر شرائط کے مخالف لا کھڑا کرتا ہے۔در حقیقت مشرقِ وسطیٰ میں جدیدیت کے ساتھ کشمکش دانشورانہ سیاسی سوچ و فکر پر مبنی ہے۔کامل تین صدیوں تک جدیدیت یا اس کی تشریح کے لیے مختلف نقطہ ہائے نظر ترتیب دیے گئے تاکہ ایسی مذہبی روایات کا جوطرزِ معاشرت میں ممکنہ طور پر مزاحم ہو سکتی تھیں، متبادل تلاش کیا جاسکے۔ تاہم جدیدیت کا مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا کی سماجی و مذہبی اقدار پر غالب آجاناایک فطری امر تھا۔اس کشمکش کی تاریخ دراصل خطے میں مغرب کے قائم کردہ نو آبادیاتی نظام کی وجہ سے پید ا ہونے والے تکنیکی و سیاسی کمتری کے شدید احساسا ت سے جڑی ہوئی ہے۔اس لحاظ سے خلافت، ایک روحانی و سیاسی سلسلہ ، جو صدیوں کی مسافت طے کر کر بالآخر رسولِ مکرم محمدؐ تک جا پہنچتا تھا،کا خاتمہ خطے کی سماجی و ثقافتی ساخت کے لیے بہت بڑا صدمہ تھا۔ خلافت اداراتی اور علامتی، ہر دو طرح سے بیک وقت مطلق روایتی منصب اورعمومی یکجہتی کی علامت تھی۔خلافت کے خاتمے کے بعد اربابِ دانش اور سیاسی مفکرین کی نئی نسل نے قدیم روایتی سماجی ساخت اورممکنہ طور پر پیش آمدہ جدیدیت کے مابین خلیج کو پاٹنے کی کوشش کی۔
دراصل فطری طور پر اسلام اور جدیدیت کے مابین کوئی تضاد نہیں ہے۔ معروف کلاسیکی ماہرِ عمرانیات ابنِ خلدون ابتدائی طرزِ بودوباش اور ترقی یافتہ طرزِ زندگی کا موازنہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ارتقا کا یہ روشن سفر فطری ہے اور اسے جاری رہنا چاہیے۔تعریف کے لحاظ سے مشرقِ وسطیٰ اور شمال افریقا روایت پسند سماج کے طور پر سامنے آتے ہیں جو ماضی سے حال کی طرف ثقافت کی ترسیل کو تسلیم کرتے ہیں، چاہے وہ اعتقادات، ادارہ جات اور عبادات کی صورت میں بھی کیوں نہ ہوں۔مطلب یہ کہ روایت پسند سماج کشادہ دل،متنوع اور سماجی درجہ بندی کا احترام کرتے ہیں، اور یہ تمام علامات اس خطے کے مشترکہ سماجی بندو بست کا مظہر ہیں۔ جدیدیت کی معاصر تعبیرات کے مطابق معاشی طور پر صنعتی ارتقاء اور سیاسی طور پرانقلابِ فرانس کے ساتھ جدیدیت کو فروغ ملا۔ وسیع تر مفہوم کے باوجود جدیدیت مغرب کی پہچان بن چکی ہے، غالباًاسی کے ساتھ مخصوص ہو کر رہ گئی ہے، یا پھر اعلیٰ ترقیاتی سطح سے منسلک ہو چکی ہے۔ تمام تر غیر مغربی سماجی و ثقافتی ڈھانچوں اور نظامِ اخلاقیات کو واضح طور پر پسِ پشت ڈالتے ہوئے جدیدیت کے تمام تر مباحث میں بنیادی مفروضہ یہ قائم کیا جاتا ہے کہ جدت پسندانہ پہچان کے لیے روایت پرست معاشروں کو اپنے طور اطوار بدلنے ہوں گے۔جدیدیت کی طرف ارتقائی عمل بذاتِ خود ماضی کی روایتی رہنمااخلاقیات کے ساتھ بے رحم مقاطعے کے مترادف ہے۔کارل ڈیوچ کے مطابق ایک ایسا عمل جس میں پرانے سماجی و نفسیاتی بندھنوں کو توڑ کر معاشرے کو سماجی رویوں کی نئی ساختیات کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔اس نقطۂ نظر سے تو روایت اور جدیدیت میں کوئی تعلق قائم نہیں ہوپاتا۔تاہم یہ ہمارا مقدمہ نہیں ہے۔رائلڈروڈولف کی تصنیف ’’روایات کی تجدید‘‘ کے مطابق ان میں کسی باہمی ربط کے نہ ہونے کی بات دراصل جدیدیت کے مفہوم سے نا واقفیت کے سبب کی جاتی ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ جدیدیت کی غلط تشریح کا مسئلہ حل کرنامشکل ہو گا کیونکہ اس کی جڑیں استشراقی تشریح سے جاملتی ہیں جس کے مطابق روایت پسندمعاشرے کم ترقی یافتہ اور پسماندہ ہیں۔مغرب کے ذہن میں ترقی کے تصور کو ماہرینِ عمرانیات اور پالیسی سازوں کے ساتھ ساتھ دوسری دنیا میں ترقی یافتہ، جدید اور جمہوری ریاستوں کے قیام کا دباؤڈال کر اپنے مفادات کی آبیاری کے لیے دوسرے ملکوں میں مداخلت کی طویل مغربی تاریخ نے مزید راسخ کردیا ہے۔اس طرح کی مداخلت بجائے خود ماضی میں نوآبادیاتی نظام کی یاددلاتی ہے جس کے نشان مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا میں قانون، زبان اور ثقافت کی صورت میں اب بھی باقی ہیں۔
خطے میں اسلامی عقائد کی بالادستی کے سبب جدیدیت پرفقہی مباحث کی منفرد تاریخ موجود ہے جس میں دو اصطلاحوں تقلید اور تجدید کو زیرِ بحث لایا جاتا ہے۔اکثر و بیشتر لبرل نظریہ ساز اور رہنما، جو مغرب سے تعلیم یافتہ تھے،تقلید کی حمایت کرتے دکھائی دیتے ، جس کی بنیاد عموماً مغربی صنعتی ترقی کی تقلید میں جدیدیت اورصنعت کاری کے فروغ پر قائم ہوتی تھی۔ موجودہ سیکولر ریاستی نظام میں شہری حقوق کے قوانین کی شمولیت اور اسلامی فقہی یا قانونی ڈھانچے کی از سرِ نو تشکیل اسے تقریباً غیر مؤثر کردیتی ہے۔یہی بات مسئلے کا باعث ہے۔اسلام میں فقیہ کی حیثیت محض ایک وکیل کی نہیں بلکہ وہ قانون کا موجد اورسماجی اخلاقیات کو مقاصدِ شریعہ اور شرعی قوانین کے دائرۂ کار میں رکھنے کا ذمہ دار منتظم تھا۔ اس لحاظ سے علماء اور فقہاء سماجی توقعات، رویوں اور معاملات کی تعریف و تعلیم کے ساتھ رائے عامہ، حکومت اورقانون کے مابین واسطے کا کردارادا کرتے تھے۔وہ ایمان، اخلاقیات اورعوامی تخیلات کے معاملات میں حکومت کی معاونت کرتے ہوئے ریاستی استحکام کے عمل میں شریکِ کار رہتے تھے۔
ایک طرف دھکیل دیے جانے کے بعد روایتی اسلامی مناصب کا اثرورسوخ ختم ہوگیا۔نو آبادیاتی نظام اور از خود سقوطِ خلافت کے بعد روایت پسندانہ تحرک اور روایت پرستی پر سوالیہ نشان لگ گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جدت پسند مفکرین کی بڑھتی ہوئی تعداد سیاسی و دیگر موضوعات پر متنوع خیالات پیش کر رہی تھی۔ کچھ لوگ اب بھی روایت پسندی کی طرف جھکاؤ رکھتے تھے تاہم باقی ماندہ تبدیلی میں جائے پناہ ڈھونڈھ چکے تھے۔ایک بات پر سب کا اتفاق تھا کہ جدیدیت فطری طور پر اسلام سے مطابقت نہیں رکھتی اور روایتی سماج کی طرف سے اس پر سوال ضرور اٹھیں گے۔یہی مسئلہ جدیدیت کے اس اصرار کے ساتھ بھی تھا کہ سائنسی تشریحات کو کامل تسلیم کیا جانا چاہیے جو انسانی عقل کو مقدس سمجھتی تھی۔ سائنسی ارتقاء کا نظریہ اور اس کی تاریخ مکمل طور پرانسانی تہذیب وتمدن اور آدمیت کی تخلیق وافزائش کے مذہبی تصورات اور سماجی اسلامی تعلیمات سے متصادم تھی۔
تاہم خطے میں جدیدیت کے حق یا مخالفت میں جس قدر بھی آراء پیش کی گئی ہوں یا ان کی نوعیت جو بھی رہی ہو، آج کی حقیقت یہ ہے کہ تما م مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا میں جدیدیت ہی موجودہ اخلاقیات ہیں۔ مفکرین اور نظریہ سازوں کی کثیر تعداد نے جدیدیت کے مقابلے کے لیے جتنی بھی کوششیں کیں، رائیگاں گئی ہیں۔ بیشترمفکرین ، فلاسفہ اور دیگر اہلِ دانش نے روایت پسندی اور جدیدیت میں مطابقت پیدا کرنے کی جوکوششیں کیں وہ رفتہ رفتہ ماند پڑ گئیں اور بالآخر خطے میں موجودہ بنیاد پرستی کے تباہ کن رجحانات کو ابھرنے کا موقع میسر آگیا۔
مغرب کے نقادمکاتب ہائے فکر میں امتیاز برتا گیا۔ایک مفکرین اور دوسرے سیاسی مفکرین ، اور بعد ازاں دباؤ ڈال کر جاری مباحث سے دوسرے گروہ کو بھی باہر کردیا گیا۔یہ کوتاہ اندیشی تھی، جس سے بہت سی قابل اور اہم آوازیں خاموش ہو گئیں۔مزید یہ کہ خطے بھرکے جدت پسند مفکرین نے اپنی فکرودانش سے اپنے گرد و پیش میں موجود سیاسی تنازعات کو اخلاقیات کا مسئلہ نہیں بنایا۔ ان کے نظریات کی بنیادیں تاریخ اور سماجی حالات پر قائم تھیں۔تاہم مجموعی طور پر اسلامی نظریات یا فلسفے کو جدیدیت تک پہنچنے کے سفر میں نظر انداز کیا گیا۔ اس کی بنیاد سادہ سا ایک مفروضہ تھا کہ ’اسلامی‘ فکر اس کے لیے معقول نہیں تھی۔ایک دوسری وجہ یہ تصور تھا کہ اسلامی تعلیمات مغربی معیارات، سماجی و سیاسی میکانیات اور خیالات سے مطابقت نہیں رکھتیں۔معلوم نہیں قصداً یا سہواً ایک مسلم سماج کو سمجھنے کے لیے اس طرح کے طرزِ تحقیق کو قبول کر لیا گیا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ اس طرزِ تحقیق نے مسائل کے حل میں کس قدر مدد کی ہے؟ کیا اس سے نظریات کی تہہ تک پہنچا جا سکتا ہے؟ کیا جمہوری جدیدیت کے خلاف بر سرِ پیکار بنیاد پرست مزاحمتی عناصر اور انتہا پسند دہشت گرد گروہوں کو روکنا ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ جہاں تنقیدی نقطۂ نظر کو مکمل طور پر نظر انداز کردینے سے خطے میں جدیدیت کو فروغ ملا وہیں نتیجے کے طورپر سماجی مسائل کا ہجوم سر اٹھائے آن کھڑا ہوا۔یہ لاقانونیت کا دور تھا۔جہاں معیارات قوانین سے نہ صرف زیادہ اہمیت اختیار کر جاتے ہیں بلکہ معاشرے کی سماجی و ثقافتی ساختیات کو نمایاں کرتے ہوئے تمام تر سماجی توقعات و تعامل کوبھی منظم کرتے ہیں۔ یہ عمرانی نظریہ سب سے پہلے امیل دورکائم نے تیز رو سماجی تغیرات کے نتیجے میں باقی رہ جانے والے معاشرتی خلا کی نشاندہی کے لیے پیش کیا۔اس نے اسے نئے معیارات کے فروغ وقیام میں عدمِ توازن کے نتیجے میں پنپنے والے سماجی عدمِ استحکام سے تعبیر کیا ہے۔سوزین کارسڈٹ لاقانونیت اورجمہوری تغیرات سے جنم لینے والے تشدد اورقتل و غارت میں ربط قائم کرتے ہوئے استدلال کرتی ہیں کہ ان کے اثرات اس قدر معمولی نہیں ہوتے کہ خود مختار حکومتوں کے خاتمے سے زائل ہو جائیں، بلکہ لاقانونیت کی شکل میں تادیر قائم رہتے ہیں۔ مثال کے طور پرما بعد کمیونزم سماجی تغیر اور جنوب افریقی بادشاہت کے خاتمے کے بعد اسی طرح کے حالات متواترسامنے آتے رہے ہیں۔سوزین کارسڈٹ کا دعویٰ ہے کہ جب روایتی آمرانہ حکومتوں میں لاقانونیت سے نمٹنے کے لیے متبادل سماجی و ثقافتی رد و قبول کے باقاعاعدہ عمل سے پہلو تہی کی جاتی ہے تو جرم اور تنازعات کی شکل میں تشدد پھوٹ پڑتا ہے۔امیل دورکائم بھی یہی دعویٰ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ قید بندیوں سے ماورا ہونا انسان کی ازلی خواہش ہے، یہی وجہ ہے کہ لاقانونیت کے دوران معاشرہ جرائم و تنازعات کی آماج گاہ بن جاتا ہے۔
امیل دورکائم نے ان مختلف النوع وجوہات کو تیز رفتار سماجی تغیرات سے منسلک کیا ہے جو جدیدیت کے ساتھ ضمناً وقوع پذیر ہوئے،جن سے نہ صرف سماجی نظام تہ وبالا ہوا بلکہ متعلقہ حکومتیں عدمِ اعتماد کی کیفیت کا شکار ہوگئیں۔ اس تناظر میں یہ بات قابلِ غور ہے کہ امیل کے مطابق سماجی معیارات کی تائید ایک ایسی قوت سے ممکن ہے جو ثقافتی نظریات و اعتقادات اور تصورات کی عکاسی کرتے مجموعی احساسات پر مبنی ہو۔مزید یہ کہ تمام روایت پسند ثقافتیں مذہبی بنیادوں پر مبنی سماجی و اخلاقی معیارات کی حامل ہوتی ہیں ، جن کے سبب معاشرے میں ملی احساسات و اتفاقات موجود رہتے ہیں اورانفرادیت یا انفرادی آزادی سے، جو کہ جدیدیت کا لازمی جزو ہیں، ان معیارات پر زد پڑتی ہے۔
رابرٹ میرٹن نے اسی تصور کو زیادہ وضاحت سے پیش کیا ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ لاقانونیت سماجی اداروں کی کوتاہ اندیشی سے جنم لیتی ہے ، جو سماجی تبدیلیوں اور ان کے نتیجے میں پیش آمدہ سماجی ضرورتوں کا صحیح ادراک نہیں کر پاتے۔تباہ کن معاشرتی تغیردراصل مطلوبہ سماجی اہداف کی مناسب تفہیم میں رکاوٹ کا باعث ہوتا ہے ، نتیجتاًشدت پسندی جنم لیتی ہے۔غالباًیہ رائے انتہائی متوازن ہے کہ بیرونی مداخلت اور حکومتی جبرکے ذریعے سماجی ڈھانچے اور جدیدیت کے مباحث میں سیاسی و مذہبی عناصر کو دیوار کے ساتھ لگانے کے نتیجے میں سیاسی بنیاد پرستی اور دہشت گردی کا فروغ متاثر کن سماجی تبدیلی کے روپ میں سامنے آیا۔اس طرح کے منظر نامے میں پر تشدد بنیاد پرستی کو قدیم معیارات کی توڑپھوڑ کے ذریعے تبدیلی کے لیے کارگر طریقہ کار سمجھا جا سکتا ہے۔یہی کچھ مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا میں ہوا جہاں ماضی میں فقہ کی تمام شاخیں موجود تھیں جو عوامی ضروریات کی تنظیم و رہنمائی کرتی تھیں اور ملکی سلامتی و تحفظ اور یکجہتی کے خلاف کسی بھی طرح کے عمل کی حوصلہ شکنی کرتی تھیں۔اس تناظر میں مجازروایتی مذہبی مناصب عوام اور حکمرانوں کے درمیان ایک واسطہ تھے اور دونوں کی نگرانی پر معمور تھے۔ان روایتی مناصب کے غیر متعلق ہو جانے اور ان کی ریاستی حیثیت میں تنزلی سے بذاتِ خود ان روایتی ڈھانچوں میں کج روی در آئی اور نتیجتاًخودیابی، یا پھر اپنی متعلقیت کی از سرِ نو تشکیل کے لیے بنیاد پرستانہ بیانیے پیش کرنے شروع کر دیے۔ رچرڈ کلورڈ اور لائیڈ آلن اس پر اصرار کرتے ہیں کہ تبدیلی اور اہم سماجی اہداف کے لیے قانونی مواقع انتہائی کم ہیں جبکہ دوسری طرف ڈھیر ساری وجوہات ہیں جو سماج میں پرتشدد بنیاد پرستی کے جواز کے راستے کھلے رکھتی ہیں۔مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا میں غیر ملکی مداخلت سے لے کر طاقت کے غلط استعمال تک بیسیوں وجوہات ہیں جو اس طرزِ عمل کے لیے غلط استدلال کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
قابلِ ذکر حد تک مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا کا موجودہ سماجی معیا رلاقانونیت ہے۔روایتی سماجی ڈھانچوں میں دہشت گردی، حتیٰ کہ بنیاد پرستی کو بھی سماجی معیارات سے انحراف سمجھا جاتا اور فی الفور اس کی اصلاح کی جاتی تھی۔تاہم سماج میں استحکام کا باعث ان اداروں کی عدمِ موجودگی کی بنا پر ا ختلاف و نزاع کو معمولی سمجھ لینے کی روش چل نکلی، جس کے سبب بنیاد پرستی میں تشدد کا عنصر مزید گہرا ہوتا گیا۔ پریشانی کی اصل بات یہ ہے کہ کیا سماجی تبدیلی لانے کے لیے دہشت گردی کو بھی ایک معمولی اور مانوس لائحۂ عمل تو نہیں سمجھ لیا گیا۔ اور اگر یہ لائحۂ عمل ایسا سماجی معیار واقعتاً بن چکا ہے جو سماجی و سیاسی انضمام کے عوامی تصورات کا عکاس ہے تو اسے جلد بدلنے کی سبیل کرنی چاہیے۔
خطے میں بنیاد پرستی کی وجہ جدیدیت اور روایت میں کشمکش بنی ، ایک ایسی کایا پلٹ کا پیش خیمہ، جسے جنم نہیں لینا چاہیے تھا، جس نے آج سماج کے ہر فرد کو اپنی لپیٹ میں لے لیاہے اور جو سیاست، تعلیم، مذہب ، سماج میں اس کے کردار،اور حیران کن طورپرخود جدید معیارات پر بھی اثر انداز ہورہی ہے۔ایک خالص روایتی استعاراتی اقتدار کے معیاراتی خدوخال کی عدم موجودگی اور جدیدیت کے باعث جنم لینے والی لاقانونیت کا اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ آموجود ہونابنیاد پرستی کا موجب بنا۔ ان حالات میں روایت پسندوں نے جدیدیت سے تقریباً ویسا ہی رویہ روا رکھا جیسا کہ جدید اصلاح پسند مفکرین روایت کے بار ے میں رکھتے چلے آرہے تھے۔ تاہم روایت پسندوں کا نقطۂ نظر کافی حد تک غیر سنجیدہ ،جذباتیت اور سطحیت پر مبنی رہا، جو فقط نوجوان اور کم تعلیم یافتہ افراد کے لیے متاثرکن ہو سکتا تھا۔اکثرو بیشتر یہ نقطہ ہائے نظر خطے میں مغربی کردارپر مبنی بیانیے کی شکل میں پیش کیے جاتے ، جن میں وسائل پر قبضے، استعماریت، آمریت پسند حکومتوں اور فوجی مداخلت کا رونا رویا جاتا تھا۔
یہ بات قابلِ غور ہے کہ بیشتر معتدل اصلاح پسند مسلم مفکرین ’اندھی تقلید‘سے منع کرتے ہوئے اولین اسلام کے ان موافقانہ اورقوائیانہ اوصاف سے روشنی لینے پر اصرار کرتے رہے جو فکر و دانش، سائنس اور تہذیبی ارتقاء کی تو ثیق کرتے ہیں۔یہ فکر جدت پسندی کی مظہر ہے ،تاہم روایت سے جڑے رہنے کی ترغیب دیتی ہے۔ممتاز اصلاح پسند مفکر جلال الدین افغانی اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کی بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اسلام سائنسی توجیہات سے مطابقت رکھتا ہے۔ان کے ایک شاگرد ابو محمد مذہبی اصلاحات کے باب میں اپنے استاد کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے غالب قدامت پسندانہ مسلم فکرسے اختلاف کرتے ہیں اوراسلامی تعلیمات کی تغیر پذیر اور ناقابلِ تغیر روایات کے مدِ نظر ازسرِ نو تشریح کی ضرور ت پر زور دیتے ہیں۔ مذہب و ثقافت کے محاسن کے اعتراف او رروایت سے ممکنہ تطبیق کے لیے جدیدیت کے مختلف پہلوؤں کے مطالعے پر مبنی یہ فکر آئندہ نسلوں کے لیے غالب اصلاح پسند فکر بن سکتی تھی۔اس اصلاح پسندانہ جدید اسلامی فکر کے علمبردار علماء میں، محمد رشید رضا ، سید قطب،ابوالاعلیٰ مودودی،الشریعتی، حسن طربانی،اور ہم عصر علما ء میں راشد غنوش، جنہوں نے اسلامی جمہوری جماعتوں، مثلاً تیونس کی جماعتِ النہضہ کے حوالے سے قابلِ قدر کام کیا ہے،شامل ہیں۔
مسلح جہاد کے علمبردار اور ناانصافی کے خلاف اپنی مؤثرآواز رکھنے والے متنازع مفکر سید قطب کی فکرو نظر سے اختلاف پر مبنی دلائل کو مدِ نظر رکھا جاناچاہیے۔ یہ بات بالکل عیاں ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جدید اصلاح پسند فکرکبھی غیر سیاسی نہیں رہی۔تشریحات و تعبیرات کا مسئلہ ایک طرف، یہ بات حقیقت ہے کہ اس طرح کے مفکرین کو صرف اس لیے خاموش کروادیا گیا یا پھر قید کردیا گیا کہ وہ آمرانہ حکومتوں کے جبر کے خلاف توانا آواز تھے۔ مسلسل ایذا رسانی کا فطری نتیجہ غم و غصے کی کیفیت کی صورت ہی میں نکلتا ہے۔ آزاد خیال اشرافیہ کو اکثر و بیشتر مغربی پشت پناہی حاصل رہتی ہے جس کے سبب اسلام پسندوں اور قوم پرستوں کے درمیان تعامل و تبادل کے امکانات مفقود ہو جاتے ہیں اور ہردو مکاتبِ فکر میں باہمی شراکت کی کوششیں ثمربار نہیں ہو سکتیں، جیسے کہ ہم مصر میں مابعدانقلاب افتادِ جدید ہ کا مشاہدہ کرچکے ہیں۔
بہرحال ، ان اصلاح پسند جدید مفکرین کا زاویۂ فکر جو بھی رہا ہو، ان مفکرین کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ سماجی بے ربطی کی صورت میں سامنے آیا ہے۔سابقہ مذہبی روایتی نظام،عالمگیریت کے اثرات اور قدیم سماجی و ثقافتی اور روایتی معیارات و اقدار میں ربط قائم کرکے ہی مشرقِ وسطیٰ اور شمال افریقی خطے کو لاقانونیت کے اس جہنم سے نکالا جا سکتا ہے۔سماجی تغیرات کی تفہیم میں کوتاہی،تشدد کے جواز کی آسان فراہمی اور اس کی عمل انگیزی سے خطے میں بنیادپرستی کو فروغ تو دیا جاسکتا ہے اس کا تدارک نہیں کیا جا سکتا۔ نہایت اہم بات یہ کہ جدیدیت سے تطبیق وتعلق کی جستجوپر مبنی حقیقی اعتدال پسندزاویۂ فکر کو دیوار سے لگا کرصرف القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں کی مدد کی جا سکتی ہے جنہوں نے جدید اصلاح پسند معتدل اسلامی فکر کو منظرنامے سے پیچھے کہیں دھکیل کر سماجی تبدیلی کے زیادہ مؤثر راستے کو اپنا مطمحِ نظر بنا رکھا ہے۔

۳۔اختتامیہ
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بنیاد پرستی نے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا کی سیاسی و سماجی ساخت اورریاستی استحکام کوانتہائی مشکل بنا دیا ہے۔بد قسمتی سے اب تک بنیاد پرستی کی بنیادی وجوہات کے لیے پیش کیے گئے تمام تر روایتی بیانیے بنیاد پرستی کے نامیاتی تصورات اور عمل انگیز عوامل کا احاطہ نہیں کر تے، جس کے باعث اپنی اثر انگیزی کھو چکے ہیں۔خطے کی ابتر صورتِ حال کی بہتری کے لیے کی گئی تمام کوششیں مبہم تصورات اور تخفیفی تجزیات پر مبنی حوالوں کو مدِ نظر رکھ کر کی جاتی رہیں۔ اور سب سے اہم یہ کہ ان تمام تر کوششوں پر فوجی کارروائیاں غالب رہیں ، جو ظاہر ہے اس مسئلے کادیر پا حل نہیں ہو سکتیں۔
پُر تشدد انتہا پسندی کے رد کے لیے سماجی و ثقافتی، معاشی اور نظریاتی عوامل کو مدِ نظر رکھنا ضروری ہے جن کی بنا پر بنیاد پرست بیانیے جنم لیتے ، غلط تعبیرات پر مبنی مذہبی تصورات پنپتے اورشدت پسندی کے رجحانات فروغ پاتے ہیں۔اس تناظرمیں تیزرو سماجی تغیرات کا سامنا کرتے معاشروں میں سماجی معیارات کے انتقال،پر اثر سماجی تغیرات میں کج روی،غیرقانونی ریاستی اختیارات، دیگر ممالک سے موازنے پرمبنی اقتصادی تنزلی کی جانچ ،مغربی مداخلت کے حوالے سے سماجی ردِ عمل،استعاراتی روایتی سماج کی قابلِ قبول جگہ،سست رو روایتی تسلسل اور سماجی تخیلات جیسے تمام موضوعات کو محیط تاریخی اور ثقافتی حوالوں کو مدِ نظر رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
آخر ی مگر انتہائی اہم نکتہ یہ کہ مشرقِ وسطیٰ اور شمال افریقا میں سماجی و نظریاتی اور مذہبی بیانیے کی ازسرِ نو تشکیل میں عوامی شعوراوربنیادی اسلامی اصلاح پسندانہ فکر کے لازمی کردار کے پیشِ نظر دونوں کے مابین ربط قائم کیا جانا چاہیے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...