ایم کیوایم پاکستان ’سیکٹروں اوریونٹوں‘ کوختم کرنے پرراضی کیسے ہوئی؟

310

ایم کیوایم کراچی کو 26 سیکٹروں اور207 یونٹوں کے ذریعے چلاتی تھی۔ اب چھ ضلعوں کے لئے پانچ کمیٹیاں تشکیل دی گئیں ۔

کراچی کی سیاست سے واقف حلقے شہرمیں پھیلے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کے ’سیکٹروں اوریونٹوں‘ کے دفاترکی اہمیت سمجھتے ہیں۔ کراچی کے علاقے اورگلی محلوں تک پھیلا ہواپارٹی کا یہ انتظامی ڈھانچہ شہرکی سیاست، سماجیت اورامن وامان کی صورت حال میں اہم کردار ادا کرتاچلاآرہا ہے اور1984 میں ایم کیوایم کے قیام سے لے اب تک پارٹی کی شہرپرگرفت کا اہم ذریعہ رہاہے۔ البتہ کراچی میں جاری آپریشن سے پہلے ہی سے متاثر متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے 3 جون کو تنظیمی سیٹ اپ میں تبدیلی کرتے ہوئے پارٹی کے ’سیکٹروں اوریونٹوں‘ کوختم کرتے ہوئے دیگرسیاسی جماعتوں کی طرح ضلعی سطح پرتنظیمیں تشکیل دی ہیں جس پرسیاسی حلقے حیرت کااظہارکررہے ہیں اورکہہ رہے ہیں کہ پارٹی نہ صرف سیکٹر اوریونٹ کے ساتھ جڑے  ہوئے منفی امیج کوختم کرنے کی کوشش کررہی ہے بلکہ ایک نیاتنظیمی سیٹ اپ بناکرمتحدہ قومی موومنٹ لندن سے بھی دورہونے کی کوشش کررہی ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی ان چندسیاسی جماعتوں میں سے ایک ہے جوایک منظم مرکز سے لے کرگلی محلوں تک ایک تنظیمی ڈھانچہ رکھتی تھی۔ متحدہ قومی موومنٹ کراچی میں فعال 26 سیکٹروں اور207 یونٹوں کے ذریعے شہرمیں تنظیمی اورسیاسی معاملات چلاتی تھی۔ 1978 میں تشکیل پائے جانے والی آل پاکستان مہاجراسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے بطن سے 1984 میں وجود میں آنے والی مہاجرقومی موومنٹ (جس کانام بعد میں تبدیل کرکے متحدہ قومی موومنٹ رکھ دیاگیا) کے اوائل میں سیکٹرز اوریونٹ تشکیل دئیے گئے تھے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں کے مطابق شروع میں جماعت اسلامی اورپاکستان پیپلزپارٹی کے تنظیمی ڈھانچوں کامطالعہ کیاگیا اوربعد میں پارٹی کے مرکزی رہنماؤں الطاف حسین اورطارق جاوید کی جانب سے سینٹرلائزڈ سطح کی تنظیم سازی کا خاکہ بنایاگیا جس میں سیکٹر اوریونٹ وجود میں آئے۔ محلہ کی سطح پرقائم کی جانے والی تنظیم کو ’یونٹ‘ کہاگیا جبکہ کئی یونٹس کوملا کرایک ’سیکٹر‘ بنایا۔ اسی کے ساتھ ساتھ شہرکو پانچ زونز میں تقسیم کیاگیاتھاجس میں اے، بی، سی، ڈی اورای شامل تھے مگر 1992 کے آپریشن کے بعدزونل کمیٹیاں ختم ہوکررہ گئیں ۔
ہرسیکٹر اوریونٹ کی سربراہی بالترتیب سیکٹرانچارج اوریونٹ انچارج کیاکرتے تھے جبکہ انچارج اورفنانس سیکریٹری سمیت ہرسیکٹر اوریونٹ میں نوافراد ہواکرتے تھے۔سارے سیکٹر اوریونٹ روزانہ شام کے اوقات میں کھلاکرتے تھے اورپارٹی کے منتخب اراکین قومی اورصوبائی اسمبلی اوربلدیاتی نمائندوں کی باقاعدگی سے ان دفاترمیں ڈیوٹیاں لگتی تھی۔ ان دفاتر میں علاقہ مکینوں کے مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ الیکشن یاجلسوں کی تیاریوں، کارکنوں کی تربیت اوردیگرپارٹی امورچلائے جاتے تھےآالبتہ پارٹی کے سیکٹر اوریونٹ کے دفاترپرشروع ہی سے تشدد اورجرائم میں ملوث ہونے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ نوے کی دہائی میں یہ سیکٹر اوریونٹ دفاترخوف کی نشانی سمجھے جاتے تھے ۔ ان دفاترمیں علاقے کے مکین پانی اوربجلی کے کنکشن کے حصول سے لے کرگھریلولڑائیوں کے راضی نامے  کرتے تھے۔
1992 آپریشن کے دوران ایم کیوایم کے سیکٹروں اوریونٹوں کے تشدد میں مبینہ طورپرملوث ہونے کے الزامات کی وجہ سے کافی نشانہ بنایاگیا اوریوں کچھ عرصے کے لئے سیکٹرزاوریونٹس غیرفعال ہوگئے۔ کچھ عرصے بعد سیکٹرزاوریونٹوں کو دوبارہ فعال کیاگیا۔
ستمبر 2013 سے جاری آپریشن میں بھی متحدہ قومی موومنٹ کے سیکٹروں اوریونٹو ں سے وابستہ عہدیداروں کوگرفتارکیا گیا ۔ قانون نافذکرنے والے اداروں خصوصاً رینجرزکی جانب سے بارباریہ الزامات عائد کئے گئے ہیں کہ متحدہ کے سیکٹرز اوریونٹس کراچی میں تشدد اورقتل وغارت میں ملوث ہیں۔ جولائی 2015 میں رینجرزکی جانب سے ایم کیوایم لانڈھی سیکٹرکے انچارج رکن الدین کی گرفتاری کے بعد جاری کردہ بیان میں یہ کہاگیاکہ ’’متحدہ قومی موومنٹ کی آرگنائزنگ کمیٹی پارٹی کے عسکری ونگ کی سربراہی کرتی ہے اوریہی وجہ ہے کہ سیکٹروں اوریونٹوں کے انچارجوں کوگرفتارکیاجارہاہے‘‘۔ایم کیوایم ذرائع کے مطابق پاک فوج اپنے ڈھانچے میں ’سیکٹر‘ اور’یونٹ‘ کی اصطلاحات استعمال کرتی ہے اوریہی وجہ ہے کہ سیکورٹی اداروں کی جانب سے ان اصلاحات کی مخالفت کی گئی۔
پچھلے سال اگست میں متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین کی اشتعال انگیزتقریر کے خلاف پارٹی کے بیشترسیکٹروں اوریونٹوں کومسمارکئے جانے کاسلسلہ شروع ہوا۔ زیادہ تردفاترپارکوں کی زمینوں پربنے ہوئے تھے۔الطاف حسین کی تقریرکے بعد  متحدہ قومی موومنٹ کے پاکستان میں موجود رہنماؤں نے ڈاکٹرفاروق ستارکی سربراہی میں لندن قیادت سے لاتعلقی ظاہرکرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان تشکیل دی ۔
متحدہ قومی موومنٹ کے ذرائع کاکہناہے کہ قانون نافذکرنے والے اداروں کے دباؤ پرسیکٹر اوریونٹ نظام  ختم کرکے دیگرسیاسی جماعتوں کی طرح ضلعی سطح پرتنظیم تشکیل دی اورماضی کے برعکس ان رہنماؤں کوضلعی کمیٹیوں کاانچارج بنایاگیا جوموجودہ ایم پی اے ہے یا ماضی میں ٹاؤن ناظم یا ایم پی اے رہے ہوں۔ اس سلسلے میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے 3 جون کو تنظیم نو کے سلسلے میں کراچی کے چھ اضلاع کے پانچ ڈسٹرکٹ کے انچارجز ، جوائنٹ انچارجز اور کمیٹیوں کا اعلان کردیا ہے اور انہیں تنظیمی ، سیاسی ، سماجی ذمہ داری سونپ دیں ۔ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے ڈسٹرکٹ ویسٹ کی انچارج و جوائنٹ انچارجز سمیت 17رکنی کمیٹی ،ڈسٹرکٹ ویسٹ کی انچارج و جوائنٹ انچارجز سمیت 19رکنی کمیٹی ، ڈسٹرکٹ ساؤتھ کی انچارج و جوائنٹ انچارجز سمیت 15رکنی کمیٹی ، ڈسٹرکٹ سینٹرل کی انچارج و جوائنٹ انچارجز سمیت17 رکنی کمیٹی جبکہ ڈسٹرکٹ ملیر و کورنگی کی انچارج و جوائنٹ انچارج سمیت20رکنی کمیٹیوں کے اعلانات کئے ۔ اس موقع پریہ بھی کہا گیاکہ اب پارٹی کا یونٹ یونین کونسل کے یونٹ کے برابر ہوگا اور سیکٹروں کو ٹاؤن کے ساتھ ہم آہنگ کرکے انہیں ٹاؤن کمیٹیوں میں تبدیل کیا گیا ہے اور پرانے ادوار میں جو زون کی شکل تھی اس کو ضلع کے ساتھ ہم آہنگ کرکے ڈسٹرکٹ کمیٹیوں کے قیام کا اعلان کردیا ہے ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...