فاٹا کے لیے ایک نئے عدالتی نظام کی ضرورت

198

پاکستان کے صوبائی انتظام میں فاٹا کا انضمام حالیہ سیاسی منظرنامے میں ایک اجاگر موضوع کے طور پر زیربحث ہے جس کے حق اور مخالفت میں دلائل و آرا کے اظہار کا سلسلہ جاری ہے۔ فاٹا اپنی قبائلی روایات کی بنا پر مخصوص ثقافتی اور انتظامی پس منظر کا حامل ہے۔ اس کو نئے سیاسی اور سماجی ڈھانچے میں ڈھالنا ایسی حکمت عملی کا تقاضا کرتا ہے جس سے فاٹا کے عوام کو کم سے کم دقت ہو۔ زیرنظر مضمون انصاف کی فراہمی کے حوالے سے فاٹا کے روایتی اور جدید عدالتی نظام میں موجود تفاوت کو زیربحث لاتے ہوئے ممکنہ صورت حال کا تجزیہ کرتا ہے اور بعض متوقع مسائل کا حل بھی تجویز کرتا ہے۔(مدیر)

فاٹا پاکستان اور افغانستان کے درمیان سات ایجنسیوں پر مشتمل علاقے کا نام ہے۔ اس میں جنوبی و شمالی وزیرستان، اورکزئی، کرم، خیبر، مہمند اور باجوڑ کی ایجنسیاں شامل ہیں۔ اس علاقے کی اپنی ایک بھرپور اور روشن تاریخ ہے جو بہادری، شجاعت ، خودداری اور مہمان نوازی سے عبارت ہے۔ اس علاقے کے مکینوں نے کبھی اپنی آزادی اور خودمختاری کا سودا نہیں کیا۔ اور تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ کسی بیرونی قوت نے اسے سرنگوں نہیں کیا۔ ہر دور میں اس نے اپنی آزادی کو برقرار رکھا اور اس کی خاطر بڑی سے بڑی قربانی دینے سے دریغ نہیں کیا۔ یہاں تک کے انگریز بھی اس کو قابو نہ کرسکے اور اس وقت بھی جب پورا برصغیر انگریزوں کی عملداری میں تھا، وہ اس علاقے پر براہ راست حکومت نہ کرسکے تاہم یہاں پر پولیٹیکل ایجنٹ کے ذریعے اپنے مقاصد پورے کرنے کی کوشش ضرور کرتے رہے۔ اس وقت سے آج تک ان غیور قبائل پر عرصۂ حیات تنگ کیا جا تارہاہے۔ آج یہ پورا علاقہ وفاق کے زیر انتظام ہے اوریہاں انگریزوں کا بنایا ہوا قانون فرنٹیر کرائمز ریگولیشن Frontier Crimes Regulation) ( (FCR) نافذ ہے۔ ایف سی آر کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ سب سے پہلے انگریزوں نے ۱۸۶۷ء میں Murderous Outrages Act نافذ کیا جس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ حکومت کو ایسے اضافی اختیارات دیے جائیں کہ وہ قتل کے مقدمات کی سماعت بھی کرسکے۔ ۱۸۷۷ء میں اسے غازی ایکٹ کے نام سے دوبارہ نافذ کیا گیا تاکہ اسے پشتون علاقوں تک وسعت دی جائی۔ تاہم اس ایکٹ کو ان پر دباؤ ڈالنے کے لیے ناکافی سمجھ کر اس میں مزید ترامیم کی گئیں اور ۱۹۰۱ء میں اس سے بھی زیادہ ایک سخت قانون نافذ کیا گیا جس کو The Frontier Crimes Regulations Act 1901 کا نام دیاگیا۔ بدقسمتی سے پاکستان بننے کے بعد بھی اس قانون کو اسی طرح رہنے دیاگیا۔ آج بھی اس کو ایک کالے قانون کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کیونکہ اس قانون کے تحت عام طور پر کہا جاتا ہے کہ یہ تین بنیادی انسانی حقوق یعنی اپیل، وکیل اور دلیل کو نہیں مانتا۔ اس قانون کے اہم نکات یہ ہیں:
۱۔ اس قانون کے تحت کسی بھی شخص کو جرم بتائے بغیر گرفتار کیا جاسکتا ہے۔
۲۔ انفرادی جرم کی صورت میں مجرم کے تمام خاندان کو سزا دی جاسکتی ہے۔
۳۔ جرگہ ہر قسم کے جرم کے بارے میں فیصلہ دے سکتا ہے جب کہ ملزم کو کسی قسم کی عدالتی چارہ جوئی کا اختیار بھی نہیں ہوتا۔
۴۔ یہ قانون حکومت کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ ملزم کی جائیداد قرق کرے۔
۵۔ پولیٹیکل اور اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ لامحدود اختیارات کے حامل ہو تے ہیں۔
تاہم 2011 میں اس قانون میں کچھ اصلاحات کی گئیں۔ مثلاً
۔ عورتوں، بچوں اور۶۵ سال سے زیادہ معمر افراد کو اجتماعی حراست میں لینے سے مستثنیٰ کرنا۔
۔ کسی جرم میں تمام قبیلے کو حراست میں لینے سے منع کرنا۔
۔ حل مقدمات کے لیے وقت کا تعین کرنا۔
۔ اپیل کے حق کو تسلیم کرنا۔
۔ پولیٹیکل ایجنٹ سے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کو مقدمات منتقل کرنے کی اجازت ملنا۔
۔ ضمانت کی اجازت دینا۔
تاہم ان ا صلاحات پر تنقید کی جاتی ہیں کہ ان کو ان کی روح کے مطابق نافذ نہیں کیا گیا۔ بنیادی انسانی حقوق کی تنظیمیں وقتا فوقتا اس کے خلاف آوازیں اٹھاتی رہتی ہیں۔
موجودہ حکومت کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے پہلی دفعہ اس علاقے کو قومی دھارے میں لانے کے لیے اقدامات اٹھائے اور اس مقصد کے حصول کے لیے فاٹا اصلاحاتی کمیٹی بنائی گئی اس کمیٹی کی سفارشات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تمام قبائل جلد از جلد قومی دھارے میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور خوش آئند بات یہ ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں،ما سوائے ایک دو کے، فاٹا کے انضمام کے حق میں ہیں۔ امید کی جاسکتی ہے کہ اگر اس علاقے کو قومی دھارے میں لایاجائے تو اس کے مثبت اثرات نکلیں گے۔
تاہم یہاں ایک اہم امر کی طرف توجہ دینا ضروری ہے کہ اگر انضمام کے بعد اس علاقے میں ملک میں رائج عدالتی نظام کا نفاذ کیا جاتا ہے تو اندیشہ ہے کہ مسائل اور بھی بڑھ جائیں گے۔کیونکہ موجودہ عدالتی نظام انصاف دینے میں بہت تاخیر سے کام لیتا ہے جن کی بہت سی وجوہات ہیں۔ مثلاً
۔ ضابطہ کارکا لمبا اور پیچیدہ ہونا۔
۔ بحیثیت مجموعی وکلا کا کردار تسلی بخش نہ ہونا۔
۔ مقدمات کی تعداد کے مقابلے میں عدالتوں کی تعداد کم ہونا۔ وغیرہ
اس لیے اگر ایک طرف فاٹا کو قومی دھارے میں لانا وقت کی ضرورت ہے تو دوسری طرف اس بات کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے کہ ایسا نہ ہو کہ جلد بازی میں ایسا فیصلہ کیا جائے کہ جس کی وجہ سے مستقبل میں مشکلات کم ہونے کے بجائے اور بڑھ جائیں۔
اگر موجودہ قبائلی علاقے کے مقدمات کی نوعیت پر غور کیا جائے تو عمومی طور پر اس کی چار قسمیں بنتی ہیں۔
۱۔ دیوانی مقدمات:مثلا بیع وشراء ، شفعہ وغیرہ
۲۔ فوجداری مقدمات و تنازعات مثلاً لڑائی، جھگڑا، اور قتل وغیرہ
۳۔ عائلی مقدمات مثلاً نکاح، طلاق، میراث، وصیت وغیرہ
۴۔ عام مقدمات مثلا ملازمت سے متعلقہ اور ادارہ جاتی مقدمات وغیرہ
جہاں تک پہلی تین اقسام کا تعلق ہے تو اس حوالے سے اگر باقی ملک میں رائج قانون نافذ کیا جاتا ہے تو اس سے بہت سی پیچیدگیاں پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ اور اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔
ایک یہ کہ قبائلی عوام ہزاروں سال سے ایک خاص طرزِ زندگی کے عادی چلے آرہے ہیں۔فطری طور پر سادہ زندگی بسر کرتے ہیں اور پسند بھی کرتے ہیں۔ حل تنازعات بھی وہ جلد از جلد چاہتے ہیں۔ جہاں تک باقی ملک کے نظام عدالت کا تعلق ہے تو یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ یہاں مقدمات سالہا سال چلتے ہیں اور ان کا کوئی فیصلہ نہیں ہوتا تو اگر یہ نظام اسی طرح وہاں رائج کیا جائے تو اس سے بہت سے مسائل جنم لیں گے۔ یہاں اس امکان کا تذکرہ بے محل نہیں ہو گا کہ ایک دفعہ اگر ایف سی آر قانون کا خاتمہ ہوتا ہے تو یکلخت بڑی تعداد میں دیوانی اور عائلی مقدمات شروع ہو ں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب تک بہت سے لوگ اس وجہ سے خاموش بیٹھے ہیں کہ موجودہ رائج قانون میں ان کو انصاف کی امید نظر نہیں آتی اس لیے مقدمہ بازی سے گریز کرتے ہیں۔ لیکن جونہی ان کو معلوم ہوجائے گا کہ اب ان کو انصاف مل سکتا ہے تو لازماً وہ عدالتوں کا رخ کریں گے۔
فاٹا کے مخصوص پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس کے دو حل ممکن ہیں:
پہلا یہ کہ پورے فاٹا کے علاقہ میں قاضی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا جائے۔ اس کا بہت بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ایک طرف یہ عدالتیں فاٹا کے لوگوں کے مزاج کے عین مطابق ہوں گے کیونکہ اگر کسی مقدمے کا فیصلہ شریعت کے اصولوں کے مطابق ہوتا ہے تواس کا ایک فائدہ تو یہ ہے فیصلہ جلد ہوتا ہے اور فریقین کا وقت بھی بچتا ہے۔ دوسرا یہ کہ مقدمات بر وقت نمٹانے سے ان کی تعداد بھی کم ہوگی۔اور تیسرا یہ کہ فریقین بھی اسے خوشدلی سے تسلیم کریں گے۔ اس کے لیے سب سے پہلے قانون سازی کی ضرورت ہو گی اور پارلیمنٹ سے اس کی منظوری ضروری ہو گی تا کہ آئندہ قانونی پیچیدگیوں سے بچا جاسکے۔ اس کا طریقہ کار یہ ہوگا کہ انضمام کے بعد جب اس علاقے کو تحصیلوں میں تقسیم کیا جائیگا تو ہر تحصیل کی سطح پر تین قسم کی عدالتیں ہوں۔ دیوانی ، فوجداری اور عائلی۔ بہتر یہ ہوگا کہ اس مقصد کے لیے ان قاضیوں کا انتخاب کیا جائے جن کا بیک وقت عصری قوانین اور فقہ اسلامی دونوں پر عبور ہو۔ تاہم یہ ملحوظ رہے کہ اگر اس طریقہ کار کو اپنایا جاتا ہے تو اس میں ایک مشکل یہ پیش آسکتی ہے کہ فقہ اسلامی میں بعض اوقات ایک مسئلہ کے حل کے بارے میں فقہاء کی ایک سے زیادہ آراء ہوتی ہیں مثلاً شفعہ میں تین طلبات ہوتے ہیں۔ ایک طلب مواثبہ(جب شفعہ کنندہ کو قابل شفعہ جائیداد کی خرید و فروخت کا علم ہوجاتاہے تو فوری طور پر کہتا ہے کہ میں اس پر شفعہ کا دعوی کرتا ہوں )دوسرا طلب اشہاد( اپنے دعویٰ شفعہ پر گواہ بنانا) اور تیسرا طلب خصومت(دعویٰ شفعہ عدالت میں لے جانا) طلب خصومت کی مدت کے تعین حوالے سے فقہاء کے ایک سے زیادہ اقوال ملتے ہیں۔ اس قسم کی صورت حال میں قاضی کو یہ مشکل پیش آسکتی ہے کہ ان میں کس قول کو اختیارکرے؟ اس کا حل یہ ہے کہ فوری طور پر اسلامی نظریاتی کونسل کو یہ ذمہ داری سونپ دی جائے کہ وہ اس قسم کے معاملات کے بارے میں علماء کی مشاورت سے راجح قول کا تعین کرکے پارلیمنٹ کوبھیج دیں جہاں اس کے بارے میں قانون سازی ہو۔ اس حوالے سے اسلامی ممالک اور خاص کر مصری قوانین سے استفادہ کیا سکتا ہے۔
فاٹا میں عدالتی نظام کے حوالے سے دوسرا حل یہ ہے کہ موجودہ عدالتی نظام ہی کو نافذ کیا جائے لیکن اس میں کئی اصلاحات کی ضرورت ہوگی، مثلاً
۔ ہرتحصیل کی سطح پر عدالتوں کا قیام۔
۔ مقدمات کی تعداد زیادہ ہونے کی صورت میں ججوں کی تعداد بڑھانا۔
۔ جج کو پابند کرنا کہ روزانہ اتنے ہی مقدمات کی سماعت کرنا جتنا کہ ممکن ہو تاکہ بے جا طور پر فریقین کو زحمت نہ ہو
۔ اور یہ کہ وکیل کے کردار کو کم سے کم رکھنا تاکہ مقدمات بے جا طور پر طوالت اختیار نہ کریں
جہاں تک فوجداری مقدمات کا تعلق ہے تو ان کو ابتداء ہی سے صحیح رخ پر ڈالنا ضروری ہے۔ اس حوالے تمام فاٹا کے مکینوں کو اس پر آمادہ کرنا ہوگا کہ کسی بھی صورت میں قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں اور قانون کی پاسداری کو یقینی بنائیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ عوام کا عدالتوں پر مکمل اعتماد ہو اور مجرم کو قرار واقعی سزا ملے۔ انضمام کے بعد جب یہاں پولیس کا ادارہ قائم کیا جائے گا تو ان کو تربیت دینی ضروری ہوگی اور تمام پولیس، ماتحت سے لے افسران کو یہ بات ذہن نشین کرانی ہوگی کہ قانون کی بالادستی کی خاطر کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا جائے ورنہ اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔ چونکہ فاٹا ایک روایتی اور مذہبی معاشرہ ہے اس لیے لوگوں کو قانون کا پابند بنانے میں علماء کا اہم کردارہوگا، ان کے تعاون سے لوگوں کو یہ باور کرانا ہوگا کہ کسی بھی جرم کے سرزد ہونے کی صورت میں خود بدلہ لینا شریعت کے اصولوں کی منافی ہے اور اس کے لیے بہر حال عدالتی چارہ جوئی ہی بہترین حل ہے۔
اسی طرح فاٹا میں جب جیل خانہ جات کا قیام عمل میں لایا جائے گا تو ان میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہوگی۔ ایسا نہ ہو کہ وہاں پر باقی ملک کی طرح ایسے جیل خانہ جات قائم کیے جائے جس سے فائدہ کے بجائے نقصان زیادہ ہو۔ اس لیے ضروری ہے کہ مستقبل کے ہر ضلع میں ایک معیاری جیل خانہ کا قیام ہو جس میں قیدیوں کی بحالی کا ایک مربوط اور منظم پروگرام ہو، قیدیوں کی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی اصلاح احوال کا بھی انتظام ہو تاکہ قیدی جب قید سے آزادی حاصل کریں تو وہ معاشرے کے مفید اور کارآمد اعضاء ثابت ہوسکے۔
جہاں تک عائلی مقدمات کا تعلق ہے تو اگرچہ امکان یہ ہے کہ انضمام کے فوری بعد ان کی تعداد زیادہ نہیں ہوگی تاہم وقت کے گزرنے کے ساتھ ان کی تعداد میں اضافہ متوقع ہے۔ ان میں شائد میراث کے مقدمات کی تعداد زیادہ ہوگی۔ کیونکہ بدقسمتی سے پورے پشتون معاشرہ میں عورتوں کو اکثر و بیشتر میراث کے حق سے محروم رکھاجاتا ہے۔ یہاں بھی علماء کا کردار اہم ہوگا کہ وہ اپنے خطبات کے ذریعے عوام کو قانون میراث پر عمل درآمد کے دنیوی اور اخروی فوائد سے روشناس کریں۔
دیگر عائلی مسائل کے حل میں جرگہ جو کردار ادا کرسکتا ہے شائد ہی کوئی دوسرا ادارہ کرسکتا ہو تاہم اس کے لیے بھی قانون سازی کی ضرورت ہوگی۔ مقدمات چاہے دیوانی ہو، فوجداری ہو یا عائلی سب میں جر گہ بطور ثالث کے بہترین کردار ادا کرسکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ جرگہ عدالت کا مقرر کردہ ہو اور جرگے کے فیصلے کا نفاذ بھی عدالت کے ذریعے ہو۔
حسبِ بالا مقدمات کے علاہ دیگر مقدمات مثلاً سرکاری ملازمتوں سے متعلق کوئی مقدمہ ہویا سرکاری اداروں کے آپس میں جو تنازعات ہوں یا ایک ادارے کے اندر ان کے قوانین کی تعبیر و تشریح وغیرہ ہو تو ان کے لیے باقی ملک میں رائج عدالتیں ہی مناسب رہے گی۔ اور ان عدالتوں میں وکلاء کا کردار بھی اہم ہوگا۔ تاہم باقی تین قسم کے معاملات میں وکیل کا کردار جتنا کم ہوگا اتنا ہی فیصلہ سازی میں کم وقت لگے گا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ انضمام کا فیصلہ نہایت خوش آئند ہے اور فاٹا کے عوام کو اس سے بجا طور پر بہت سی توقعات وابستہ ہیں۔ تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کے متعلق ہر پہلو سے بھر پور تیاری کی جائے تاکہ انضمام کا عمل احسن طریقے سے سر انجام پائے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...