دھرنا اور مابعد دھرنا اثرات

442

ہر عمل میں سازش ڈھونڈنے کی عادت اس سماج کو کس ڈگر پر لے جا رہی ہے، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ احتجاج کے طریقے بدل رہے ہیں اور ان بدلے ہوئے طریقوں نے سماج کی نفسیات پر جو اثر ڈالا ہے، وہ اہلِ دانش کی توجہ کا متقاضی ہے۔ صاحبزادہ محمد امانت رسول ایک خوش فکر دانشور ہیں اور انھوں نے تحریک لبیک یارسول اللہ کے فیض آباد دھرنے کے تناظر میں ان مسائل پر بحث کا دروازہ کھولا ہے۔(مدیر)

کچھ برسوں سے پاکستانی سیاست میں دھرنا بھی متعارف ہوا ہے۔دھرنا ایک طرف مایوسی کا غماض ہے، دوسری طرف دھونس اورجبر کا بھی عکاس ہے۔ مایوسی اس حوالے سے کہ عوام کا خیال ہے جب تک ہم اونچا نہ بولیں یا کچھ انہونا کرکے نہ دکھائیں تو حکومت کے کانوں پہ جوں بھی نہیں رینگتی۔جب یہی بات میں نے ایک عالم دین سے کہی کہ دھرنا کے بغیرکیا اورراستہ نہیں ہے ؟تو ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس کے بغیر ہمیں سنجیدہ نہیں لیتی۔ مایوسی کے ساتھ جبر خود ہی شامل ہو جاتا ہے کہ مایوسی میں اٹھایا ہوا قدم کیسے لاقانونیت کی طرف اٹھتا ہے، اس کی خبر کسی کو بھی نہیں ہے۔
چند سال قبل احتجاج اورمظاہرہ تک جماعتیں سڑکوں پہ آتی تھیں، چند گھنٹے احتجاج و مظاہرہ کیا اور واپس اپنے گھروں کو چلے گئے۔ اب صورت حال مختلف ہوچکی ہے۔ دھرنا دینا ہر سیاسی یا مذہبی جماعت کے لیے بائیں ہاتھ کاکھیل بن چکا ہے۔ ایک گروپ دھرنا دے کراسلام آباد سے واپس آیا اور دوسرا گروپ پنجاب ا سمبلی کے سامنے دھرنا دے کر اس لیے بیٹھا کہ ان کے خیال میں فیض آباد دھرنا کے قائدین نے شہدائے ختم نبوت کے خون کا سودا کیا ہے۔شنیدہے کہ سنی اتحاد کونسل کے سربراہ حامد رضا بھی دھرنا اڑان بھرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
فیض آباد دھرنا کی بنیاد وہ ترمیم ہے جو حلف نامے میں کی گئی جسے ختم نبوت پہ ڈاکہ قرار دیا گیا۔ واضح بات ہے ایسے ماحول میں کوئی مسلمان کیسے پیچھے رہ سکتا ہے۔ عوام دھرنے میں شریک ہوئی یا نہ ہوئی بہرحال مدارس کے طلباء و علمائے کرام نے اس میں شرکت کی۔ یہ دھرنا تقریباً 22 دن جاری رہا۔ حکومت وقت نے جب اس کے خلاف آپریشن کیا تو اس کا شدید ردعمل پورے پاکستان میں سامنے آیا جس کے نتیجے میں وزیر قانون کو استعفیٰ دینا پڑا۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں بدگمانی اور شک وشبہ کا ایسا ماحول وجود میں آچکا ہے کہ ہمیں جنگ ہو یا امن دونوں کے پیچھے کوئی سازش دکھائی دیتی ہے۔ غلطی سے متعلق انسان کے دو ردعمل سامنے آ سکتے ہیں ایک یہ ہے کہ اخلاص وخیرخواہی کے ساتھ اصلاح کی نیت سے غلطی کی نشاندہی کر دی جاتی ہے۔ دوسرا ردِعمل یہ ہوتاہے کہ غلطی کے خلاف محاذ قائم کرکے ہنگامہ برپا کر دیا جاتا ہے، ان دونوں رویوں کے پیچھے مقاصدو عزائم عیاں ہیں۔
دھرنا کے مقاصدحاصل کرنے کے بعد، حالات اپنے معمول پہ آ چکے ہیں۔اب ذرا اس نکتہ پہ بھی غور کر لیا جائے کہ جو ترمیم کی گئی تھی ،اس سے مسلمان ،پاکستان اور اسلام کا کیانقصان ہوا اور امریکا، یورپ اور احمدیوں کاکیا فائدہ ہوا؟ اگر ایک غیرجانبدار کمیشن قائم کیا جائے یا اسلامی نظریاتی کونسل اس پہ رپورٹ مرتب کرے تاکہ قوم کو معلوم ہو کہ جس حساس مسئلے کو بنیاد بنا کر 22 دن دھرنا دیا گیا اس ترمیم کی اصل حقیقت کیا ہے؟ یہ مسئلہ ایسے ہی ہے جیسے کسی فرد پر توہین مذہب کا الزام لگتا ہے اوربعد میں یہ الزام ثابت نہیں ہوتا تو الزام لگانے والا سزاکا مستحق قرار پاتا ہے۔
یہ نکتہ بھی غور طلب ہے کہ ختم نبوت پر ہر مسلمان کا ایمان ہے،ہر مسلمان کے نزدیک احمدی غیرمسلم ہیں لیکن اختلاف کی وجہ دوسرے نکات ہیں۔اس حوالے سے مختلف نقطہ ہائے نظر معاشرے میں موجود ہیں۔ ایک نقطہ نظر ہے کہ ان سے مناظرہ و مکالمہ ہی نہیں کرنا چاہیے تھا، ہماری مخالفت اور سخت اقدام نے انھیں زندگی بخشی ورنہ ایسے گروہ چند سالوں کے بعد خود ہی ختم ہو گئے۔ ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ ہمارا فریضہ دعوت و تبلیغ ہے، ہمیں آخری حد تک دعوت کا کام کرنا ہے اس کے لیے ساری دنیا ہماری مخاطب ہے۔ ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ جب 1973ء کے آئین میں انھیں غیر مسلم و اقلیت قرار د ے دیا گیا تو اب انھیں کسی طرح غیر مساوی سلوک کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ لیکن کسی بھی نقطہ نظررکھنے والے کا مندرجہ بالا دو نکات پہ کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اول ختم نبوت، دوم احمدیوں کا غیرمسلم ہونا۔ خطرناک صورتِ حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ایک جماعت کھڑے ہو کر یہ کہتی ہے کہ ختم نبوت پہ تمہارا ایمان تب تسلیم کیاجائے گا جب تم احمدیوں سے متعلق اسی نقطہ نظر کی حمایت کرو جو ہم کہتے اوربتاتے ہیں ورنہ (نعوذباللہ) تم بھی مسلمان نہیں ہو، یہ طرزِ فکر انہی حالات کو جنم دیتا ہے جو طالبان نے پیدا کیے تھے۔
ایسے اجتماعات جوکسی ردِ عمل اورہنگامی صورت میں برپا کیے جا تے ہیں، عارضی ہونے کے باوجود بہت سے سوالات چھوڑ جاتے ہیں۔ ڈاکٹر طاہرالقادری اور عمران خان کا دھرنا ہویا موجودہ دھرنے، ان تمام دھرنوں کے بعد فوج، حکومت ،سیاستدان اور علمائے کرام کے کردار پہ بہت سے سوالات اٹھے جن کا جواب کبھی نہ مل سکا۔
’’عظیم مقاصد ‘‘کے حصول کے لیے دھرنا دینے والوں نے ہمیشہ اپنے معاہدہ و عہد کی پاسداری نہیں کی۔ اگر انھوں نے وعدہ کیا کہ ہم فیض آباد پہنچ کر دعائے خیر کے بعد منتشر ہو جائیں گے تو انھوں نے اس کے برخلاف 22 دن دھرنا دیا اسی طرح طاہر القادری اور عمران خان نے بھی معاہدہ وعہد کے خلاف اقدام اٹھایا ،ا س سے ایک تاثرجو معاشرے پہ قائم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ’’وعدے قرآن وحدیث نہیں ہوتے ‘‘دوسرا یہ کہ اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لیے چھوٹے چھوٹے جھوٹ بولے جا سکتے ہیں۔ اگر معاشرے کے راہنما،خاص طور پر مذہبی راہنما، یہ کلچر متعارف کروا رہے ہیں تو افراد کی اخلاقی تربیت کیسے ہوگی۔
ہر دھرنے کے بعد فوج کا کردار ہمیشہ زیر بحث آتا ہے۔ طاہرالقادری اورعمران خان نے اْس وقت کے چیف آرمی سٹاف سے ملاقات کی۔ اب بھی یہی صورتِ حال بنی کہ دھرنا قائدین اورحکومت کے درمیان ثالثی کاکردار فوج نے اداکیا۔ سوال یہ پیداہوتا ہے کہ جب سیاستدان فوج کی مداخلت اوراس کے سیاسی کردار کی شدید مخالفت کرتے ہیں تو ایسے حالات میں وہ فوج سے مدد کیوں مانگتے ہیں اگر اس حوالے سے فوج کاکوئی کردار آئین متعین کرتا ہے تو اس کی بھی وضاحت کی جائے تاکہ عوام کے اذہان سے یہ ابہام وشک کلی طو ر پر ختم ہو۔
دھرنے کے بعد کی صورتِ حال جہاں افسوسناک ہے، وہاں دلچسپ بھی ہے۔ لاہور پنجاب اسمبلی کے سامنے موجود دھرنا کے قائد ڈاکٹر اشرف آصف جلالی کے مطالبات دلچسپ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ترمیم کو پڑھے بغیر جنہوں نے دستخط کیے انھیں تاحیات نا اہل قراردیا جائے اورجو اس کا ماسٹر مائنڈ ہے، اسے عمرقید کی سزا دے کر جیل میں ڈالا جائے۔ رانا ثناء اللہ صوبائی وزیر قانون کے حوالے سے فرماتے تھے وہ ہماری ’’عدالت‘‘ میں آکر اپنی صفائی پیش کرے۔ طالبان نے بھی عدالتیں لگائی تھیں جہاں مجرموں کو سزائیں دی جاتیں تھیں۔ لاہور میں ایک جماعت اپنی عدالت میں لوگوں کے کیسز کا فیصلہ کرتی تھی۔ یہ بھی ایک ذہنی روِش ہے، جس کا حل معاشرے اور ریاست دونوں نے تلاش کرنا ہے کیونکہ عمرانی معاہدہ معاشرے اور ریاست کے باہمی ربط و تعلق سے قائم ہوتا ہے، یہی دونوں اس کے ذمہ دار ہیں۔ انھیں اس حوالے سے فکر مند ہونا چاہیے کہ جب اس سوچ کے لوگ معاشرے کی راہنمائی کرتے ہیں تو معاشرہ کن بحرانوں کاشکار ہوتا ہے۔ آخراس سوچ کامرکز و مصدر کہاں ہے؟ معاشرہ اور ریاست کومل کر اس کی اصلاح و تہذیب کی کوشش کرنی ہے، اگرچہ یہ سفر طویل ہے لیکن معاشرہ و ریاست کی بقاء کے لیے ازحد ضروری ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...