مذہبی گروہ کا دھرنا اور اس کے مضمرات

529

گذشتہ تین ماہ کے دوران ایک واقعہ جس نے ریاست اور اس کے اداروں کو ایک سخت آزمائش سے دوچار کیا، عام آدمی کے ذہن اور رویے کو متاثر کیا، اور جس کے دُوررس سیاسی اور سماجی اثرات ہیں، وہ وسطی پنجاب میں بریلوی شناخت کے ساتھ ابھرنے والے مذہبی گروہ تحریکِ لبیک یا رسول اللہ کا راولپنڈی اور اسلام آباد کی درمیانی شاہراہ پر دھرنا تھا۔ اس دھرنے نے جڑواں شہروں کی زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا اور دنیا بھر میں پاکستان کے امیج کومتاثر کیا۔ ۲۶ نومبر ۲۰۱۷ء کو یہ دھرنا وفاقی وزیرقانون زاہد حامد کے استعفے اور فوج اور حکومت کے ساتھ چھے نکاتی معاہدے کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچا۔ دھرنے کے آخری دو دنوں میں عدالت کے حکم پر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے دھرنے کو ختم کرنے کی کوشش پاکستان کئی شہروں میں پُرتشدد واقعات کا سبب بنی۔ اس پُرتشدد پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ریاست مذہبی گروہ سے مفاہمت پر مجبور ہوئی۔ اس واقعے کو ریاست کے ایک مذہبی گروہ کے سامنے سرنگوں (surrender)ہونے سے تعبیر کیا گیا۔
عسکری اور سیاسی اداروں نے ایک دوسرے کے کردار پر انگلیاں اٹھائیں اور عدلیہ نے اپنے تنقیدی اظہار سے ریاستی اداروں کی بے بسی کو بے نقاب کیا۔
کئی تجزیہ نگاروں نے اسے ریاست کی دوہری شکست سے تعبیر کیا جو ایک انتہائی سخت تنقید ہے۔ جس کے مطابق فوج نے جس طرح اس مسئلے میں ثالثی کا کردار ادا کیا وہ حکومت کا اپنی آئینی اتھارٹی کو سرنگوں کرنے کے مترادف تھا اور جس طریقے سے عسکری ادارے نے مذہبی گروہ سے معاہدے پر دستخط کروائے وہ اس کے آئینی اختیار سے تجاوز اور ایک چھوٹے گروہ کی جیت اور ریاستی اداروں کی تحقیر کا سبب بنا۔ اس معاہدے سے یہ پیغام بھی دیا گیا کہ حسّاس مذہبی معاملات پر چھوٹا گروہ بھی ریاست کو یرغمال بنا سکتا ہے اور اسے اپنے سیاسی قدکاٹھ کو بلند کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
ان آرا سے قطع نظر پہلے اس معاہدے پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

دھرنے والوں اور حکومت کے مابین ہونے والا معاہدہ
اس معاہدے کے چھے نکات یہ تھے:
۱۔ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد جن کی وزارت کے ذریعے اس قانون کی ترمیم پیش کی گئی، کوفوری اپنے عہدے سے برطرف (مستعفی) کیا جائے۔ تحریکِ لبیک ان کے خلاف کسی قسم کا فتویٰ جاری نہیں کرے گی۔
۲۔ الحمدللہ تحریکِ لبیک یارسول اللہ کے مطالبے کے مطابق حکومتِ پاکستان نے الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء میں ۷۔بی اور ۷۔سی کو مکمل متن مع اردو حلف نامہ شامل کر لیا ہے جن اقدام کی تحریکِ لبیک یارسول اللہ ستائش کرتی ہے۔ تاہم راجہ ظفرالحق صاحب کی انکوائری رپورٹ ۳۰ دن میں منظرِعام پر لائی جائے گی اور جو اشخاص بھی ذمہ دار قرار پائے گئے ان پر ملکی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
۳۔ ۶ نومبر ۲۰۱۷ء سے دھرنا کے اختتام پذیر ہونے تک ہمارے جتنے بھی افراد ملک بھر میں گرفتار کیے گئے ہیں، ایک سے تین دن تک ضابطہ کی کارروائی کے مطابق رہا کر دیے جائیں اور ان پر درج کیے گئے مقدمات اور نظربندیاں ختم کر دی جائیں گی۔
۴۔ ۲۵نومبر ۲۰۱۷ء کو ہونے والے حکومتی ایکشن کے خلاف تحریک لبیک یارسول اللہ کو اعتماد میں لے کر ایک انکوائری بورڈ تشکیل کیا جائے جو تمام معاملات کی چھان بین کر کے حکومت اور انتظامیہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا تعین کر ے اور ۳۰ روز کے اندر انکوائری مکمل کر کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا جائے۔
۵۔ ۶ نومبر ۲۰۱۷ء سے دھرنا کے اختتام تک جو سرکاری و غیرسرکاری املاک کا نقصان ہوا، اس کا تعین کر کے ازالہ وفاقی و صوبائی حکومت کرے گی۔
۶۔ حکومت پنجاب سے متعلقہ جن نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، ان پر مِن و عن عمل کیا جائے گا۔ (نکات لف ہذا ہیں)۔
یہ تمام معاہدہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب اور ان کی نمائندہ ٹیم کی خصوصی کاوشوں کے ذریعے طے پایا جس کے لیے ہم ان کے مشکور ہیں کہ انھوں نے قوم کو ایک بہت بڑے سانحے سے بچا لیا۔

دھرنا، عدالت اور پارلیمنٹ
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اس معاہدے کی تمام شرائط کو غیرقانونی قرار دیا۔ جسٹس صدیقی کی عدالت نے اس معاہدے میں فوج کے کردار پر بھی اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور کئی شدید اعتراضات لگائے۔ مثلاً یہ کہ ایک میجرجنرل نے کس قانون کے تحت حکومت اور مذہبی گروہ میں ثالثی میں کردار ادا کیا ہے اور تجویز دی کہ اس معاہدے پر پارلیمنٹ کے ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں بحث کی جائے۔ اگرچہ اس کی نوبت تاحال نہیں آئی لیکن ایوانِ بالا(سینٹ) نے فیض آباد دھرنے کی گتھی سلجھانے کے لیے عدالتی یا پارلیمانی تحقیقات کامطالبہ کیا ہے۔ ایوانِ بالا کے اراکین نے مطالبہ کیا ہے کہ جس طرح ریاستی رِٹ مجروح ہوئی ہے وہ شرمناک ہے اور تقاضا کرتی ہے کہ دیکھا جائے کہ دھرنے کے پیچھے کون سے عوامل اور قوانین کارفرما ہیں۔

دھرنے کے پیچھے کون تھا؟
۔ ایک رائے یہ ہے کہ مذہبی گروپ اتنے مضبوط ہو گئے ہیں کہ وہ کسی بھی وقت ریاست کی مشینری کو مفلوج کر سکتے ہیں۔
۔ دوسری رائے کے مطابق دھرنے نے مسلم لیگ (ن) کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ناکام حکمتِ عملی کے باعث طول پکڑا۔
۔ پھر یہ کہ یہ مسلم لیگ (ن) کی سازش تھی، جس کا مقصد عسکری اداروں کو نیچا دکھانا تھا یا بحرانی کیفیت ایک عرصے تک قائم رکھنا تھی تاکہ نااہل وزیراعظم کے پارٹی عہدہ رکھنے پر قانون سازی پر عوامی رائے نہ جمنے پائے۔
۔ ایک غالب رائے یہ بھی رہی کہ ریاست اور اس کے ادارے اتنے کمزور نہیں کہ ایک چھوٹے سے دھرنے کو ختم نہ کروا سکیں۔ اس رائے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اس صورت میں دھرنے کے پیچھے ریاستی یا سیاسی قوتیں تھیں۔

پولیس اور قانون نافذ کرنے والوں اداروں کے لیے خفت
اس دھرنے کے محرکات کچھ بھی ہوں اور کوئی بھی نادیدہ قوت اس کے پیچھے ہو، اس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عام آدمی کے اعتماد کو بری طرح مجروح کیا ہے۔ اسلام آباد پولیس نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں دھرنے کے خلاف آپریشن کی ناکامی سے متعلق اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا کہ ناکامی کی وجہ طویل دھرنا تھا جس کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی متاثر ہوئی۔ اور دھرنے والوں کی طرف سے ان کے مذہبی جذبات بھی بھڑکائے گئے جس کے باعث انھوں نے زیادہ مؤثر کارروائی نہیں کی۔ اس رپورٹ میں آپریشن کے وقت سے متعلق بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ اس کے لیے صبح پانچ بجے کا وقت طے ہوا لیکن دھرنے والوں کے ساتھ جاری مذاکرات کے باعث اسے صبح تک ملتوی کرنا پڑا۔ سب سے اہم انکشاف دھرنے والوں کے باعث عمومی ہتھیاروں اور آنسو گیس فائر کرنے والے ہتھیاروں کی موجودگی بھی تھی۔ ریاست کی طرف سے بھی حکم تھا کہ نقصانات کو کم سے کم رکھا جائے۔ اس دھرنے سے ریاست اور پولیس کو کروڑوں روپے کے نقصانات اٹھانا پڑے۔ وہ نقصانات اس نقصان سے کم ہیں جو قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کا مورال کم ہونے سے ہوگا۔

دھرنے کے سماجی اثرات
چند ماہرین بشریات نے اس دھرنے اور اس کے شرکا کے حوالے سے سماجی اثرات کا اندازہ لگانے کی کوشش کی ہے کہ زیادہ تر شرکا اور رہنماؤں کا تعلق کم آمدنی والے اور بے اختیار متوسط طبقے سے ہے۔ پاکستان میں خوفناک سماجی تفاوت موجود ہے اور ابھی تک کوئی ایسی سیاسی قوت موجود نہیں ہے جو اس بے اختیار اکثریت کے لیے آواز اٹھائے۔ پاکستان میں مذہبی، قدامت پسند، قومیت پسند، پرواسٹیبلشمنٹ پارٹیاں تو ہیں لیکن غریب پرور پارٹی کوئی نہیں ہے۔ جس کے باعث مذہبی گروہ اس طبقے کے جذبات کو بھڑکا کر سڑکوں پر لے آتے ہیں۔ دھرنے والوں کا غصہ سماجی تفاوت کا ایک خوفناک اظہار تھا جس پر سیاسی جماعتوں اور حکومت کو سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔

انتخابات پر اثرات
معروف دانشور پرویز ہودبھائی نے اس دھرنے کے آئندہ عام انتخابات پر اثرات کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’۲۰۱۸ء کے انتخابات مارشل لا کے بغیر مارشل لا لائیں گے۔ اور دھرنا پارٹیاں ایک کمزور مخلوط حکومت بنانے میں معاون ثابت ہوں گی جس کی قیادت اسٹیبلشمنٹ کے دوست عمران خان کریں گے۔ جبکہ سی پیک، کشمیر، امریکا، افغان پالیسی اور ایٹمی ہتھیار فوج کے دائرۂ اختیار میں رہیں گے اور لگتا ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان اتنی ہی جمہوریت حاصل کر سکتا ہے۔‘‘
اس تبصرے سے قطع نظر کہ انتخابات کے نتائج کیا ہوں گے اور کس قسم کی حکومت قائم ہوگی، چھوٹی مذہبی جماعتیں مرکزی دھارے کی جماعتوں کے انتخاب اہلیت پر اثرانداز ہوں گی۔ یہ جماعتیں چند ہزار ووٹ لے کر نتائج بدل سکتی ہیں۔ اس لیے مرکزی دھارے کی جماعتیں ترجیح دیں گی کہ چھوٹی مذہبی جماعتوں سے اتحادکریں اور آئندہ انتخابات میں ان اتحادوں کی قیمت خاصی زیادہ ہو سکتی ہے۔ مرکزی دھارے کی جماعتوں کو نہ صرف سیٹوں میں انھیں زیادہ حصہ دینا پڑے گا بلکہ اپنے منشور اور اہداف میں ان کے ایجنڈوں کو بھی شامل کرناپڑے گا۔

دھرنے کے مقاصد اور بریلوی سیاست
جہاں تک بریلوی جماعتوں کی سیاست کا تعلق ہے تو گذشتہ انتخابات میں وہ خاص کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پائی ہیں۔ گدی اور سجادہ نشین ہمیشہ مرکزی دھارے کی جماعتوں میں رہ کر سیاست کرتے ہیں اور ملکی سیاست سے اپنا پلّو بچائے رکھتے ہیں۔ مولانا خادم حسین رضوی کی جماعت الیکشن کمیشن میں تحریک لبیک پاکستان کے نام سے رجسٹرڈ ہے اور لاہور اور نوشہرہ کے گذشتہ دو ضمنی انتخابات میں کئی ہزار ووٹ بھی حاصل کرچکی ہے جس سے اس کی قیادت کو حوصلہ ملا کہ وہ اپنی سیاسی قوت بڑھائیں۔ انتخابی اصلاحات میں مجوزہ ترمیم کے خلاف احتجاج اس کے لیے سنہری موقع تھا اگرچہ یہ سلسلہ ان کے دھرنے سے پہلے ختم ہو چکا تھا، لیکن اس دھرنے سے انھوں نے پورے پاکستان میں رائے عامہ تک رسائی حاصل کی ہے۔ فرقہ وارانہ جماعتوں کے لیے عوام کو متحرک کرنا مشکل نہیں ہوتا لیکن کسی مذہبی مسئلے پر مسلسل عوام کو متحرک رکھنا ایک کٹھن کام ہے اور اس کے لیے انھیں اپنے مذہبی، فرقہ وارانہ بیانوں کو زیادہ سے زیادہ تلخ اور تند بنانا پڑتا ہے۔ یہ سارا عمل نفرت کو انگیخت کرتا ہے اور سیاسی جماعتوں اور ریاست کے لیے بھی چیلنج لے کر آتا ہے۔
بریلوی جماعتیں اندر سے اتنی متحد نہیں ہیں اور شخصیات کے گرد بری طرح تقسیم ہیں۔ تحریک لبیک پاکستان بھی دو دھڑوں میں منقسم ہے اور اس میں مزید تقسیم کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ اس تقسیم کو ختم کرنے کے لیے بڑی بریلوی پارٹیاں متحدہ انتخابی پلیٹ فارم کے لیے کوشش تو کر رہی ہیں لیکن تحریک لبیک شاید تنِ تنہا یا مرکزی دھارے کی پارٹیوں کے ساتھ انتخابی اتحاد کو ترجیح دے گی لیکن دیکھنا یہ ہو گا کہ مرکزی دھارے کی وہ کونسی جماعتیں ہوں گی جو شدید فرقہ وارانہ نقطۂ نظر کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کر پائیں گی۔

علمائے کرام کی ذمہ داری
دھرنا اور اس کے سیاسی مضمرات اپنی جگہ لیکن اس نے پاکستان میں مذہبی قوتوں کے امیج کو بھی نقصان پہنچایا ہے اور معتدل قوتوں کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اس صورت حال میں علمائے کرام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ گالی گلوچ اور نفرت انگیز بیانوں کی بیخ کنی کریں کیونکہ یہ نہ تو پاکستان کی سالمیت، سماج کی بہتری اور توانا سیاسی رجحانات کے لیے خطرناک ہے بلکہ خود مذہبی طبقات کے اپنے مفادات کے منافی ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...