گومل یونیورسٹی ،اساتذہ ضرورت سے کم غیر تدریسی عملہ ضرورت سے زیادہ

798

خیبر پختون خوا کے گورنر کی طرف سے گومل یونیورسٹی میں ہر قسم کی بھرتیوں پر پانچ سال کیلئے پابندی عائد ہونے کے باعث فوری طور پر اساتذہ کی ہائرنگ ممکن ہے نہ اہم انتظامی پوسٹوں پہ تعیناتی ہو سکتی ہے

خیبر پختون خوا کی دوسری بڑی گومل یونیورسٹی کو ان دنوں ایسے تعلیمی بحران اور مالیاتی مشکلات نے آ گھیرا ہے جس کی جڑیں اساتذہ کی سہل انگاری اور انتظامی سربراہوں کی ذہنی فرسودگی میں پیوست ہیں،بلاشبہ،تعلیم انسان کی اخلاقی ،ذہنی،سائنسی اور فنی میراث کو زیادہ سے زیادہ انسانوں تک پہنچانے کا وسیلہ بنی اورعلم ،نور کی وہ کرنیں مہیا کرتا رہا،جو ظلمت کی ردا چاک کرکے زندگی کو خود اپنے وجود سے روشناس کراتی ہیں لیکن بدقسمتی سے کرپشن نے ہمارے تعلیمی اداروں کے رجال کار کی بصیرت کو کند کر دیا،اگر اوپر کی کمائی نہ ملے تو انکا عمل انہضام بگڑ جاتا ہے اور یہی رویہ تعلیمی نظام کے زوال کی بنیاد بنا کیونکہ جو لوگ عقل و دانش اور نیکی کا تجربہ نہیں رکھتے وہ ہمیشہ ایسی دلچسپیوں میں مصروف رہتے ہیں جو انہیں کبھی سچائی کی طرف دیکھنے نہیں دیتیں، ظاہر ہے ادنی ترین سطح پہ اتر آتے ہیں اور عمر بھر اسی سطح پہ رہتے ہیں،وہ کبھی بلند اٹھے نہ کبھی دائمی مسرت سے ہمکنار ہوئے،اسی تناظر میں ہمارے تعلیمی نظام کی پہلی ترجیح انسانوں کو نور علم عطا کرنا نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ مال کمانے کی استعداد پیداکرنا بن گیا،چنانچہ ہمارے سامنے یہ علمی مراکز بددیانتی،کاہلی اور مذہبی تشدد کی آماج گاہیں بنتے گئے ۔

1947میں قائم ہونے والی گومل یونیورسٹی کی پانچ فیکلٹیز اور چاروں کالجز میں اس وقت 5500 سٹوڈنٹ زیر تعلیم ہیں،ان میں،فیکلٹی آف سائنسز،فیکلٹی آف آرٹس،فیکلٹی آف ایگریکلچرز،فیکلٹی آف فارمیسی اور فیکلٹی آف انجنئرنگ شامل ہیں جبکہ کالجز میں، لاء کالج ،وینسم کالج ،گومل کالج آف وٹرنری سائنسیز اور یونیورسٹی پبلک سکول قابل ذکر ہیں۔یونیورسٹی میں پروفیسرز کی کل 45 پوسٹیں ہیں جن میں سے 25 فارغ پڑی ہیں،ایسویسی ایٹ پروفیسرز کی 61 میں 51 پوسٹیں اور اسسٹنٹ پروفیسرز کی 168 میں سے 34 پوسٹیں خالی ہیں،لیکچرز کی کل198 پوسٹوں میں سے 80 خالی پڑی ہیں،مجموعی طور پہ یونیورسٹی کو 39 فیصد اساتذہ کی قلت کا سامنا ہے، گویا 44 سالوں میں اس یونیورسٹی کو اساتذہ کی پوری تعداد میسر نہیں آ سکی۔گومل یونورسٹی میں1167 کلاس فور،155 عارضی ملازمین اور 24 افیسرز ملازمت کرتے ہیں،اس شعبہ میں ایچ ای سی کی مقررہ حد سے 684 اہلکار زیادہ ہیں،حیرت انگیز طور پہ رجسٹرار،ڈائریکٹر فنانس ،ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی،پروسٹ،کنٹرولر امتحانات،ڈائریکٹر ورکس،ڈائریکٹر ایڈمن اور ڈائریکٹر اکیڈیمک جیسی تمام کلیدی اسامیاں خالی ہیں،جہاں عارضی بندوبست کے تحت جونیئر ملازمین کام کرتے ہیں۔

خیبر پختون خوا کے گورنر کی طرف سے گومل یونیورسٹی میں ہر قسم کی بھرتیوں پر پانچ سال کیلئے پابندی عائد ہونے کے باعث فوری طور پر اساتذہ کی ہائرنگ ممکن ہے نہ اہم انتظامی پوسٹوں پہ تعیناتی ہو سکتی ہے۔یونیورسٹی ذرائع نے بتایا کہ اگر نئی بھرتی نہ ہوئی تو 2020 یونیورسٹی اساتذہ سے خالی ہو جائے گی۔یونیورسٹی کو اپنے وسائل اور ایچ ای سی سے ملنے والی سالانہ امداد کا حجم 1195 ملین روپے ہے لیکن گومل یونیورسٹی کو انتظام چلانے کیلئے سالانہ 1507,30 ملین درکار ہوتے ہیں،یعنی یونیورسٹی کا سالانہ خسارہ 312,03 ملین تک جا پہنچا ہے،اس مالیاتی خسارے کی بنیادی وجوہ حکومت کی طرف سے تنخواہوں اور پنشن میں متواتر اضافہ ، پے سکیل میں ردو بدل اور تمام ڈیپارٹمنٹس میں طلبہ کے داخلوں کو محدود کرنے جیسی وجوہات شامل ہیں،گزشتہ دس سالوں میں یونیورسٹی کی عنان سنبھالنے والے منتظمین نے طلبہ کی تعداد کو گھٹایا اور ملازمین کی تعداد بڑھاتے گئے گویا یونیورسٹی کو تعلیمی ادارے کی بجائے ایمپلائمنٹ ایکسچینج بنا دیا گیا ہے لیکن اس سب کے باوجود 2008 تک گومل یونیورسٹی مالی لحاظ سے مستحکم اور انتظامی طور پہ مربوط رہی۔ 2008 سابق وائس چانسلر فرید اللہ وزیر کے دور میں سلیکشن بورڈ کر کے 140 افسران و اساتذہ کو اٹھارہ اور انیس میں براہ راست بھرتی یا پھر اگلے گریڈوں میں ترقی دی گئی،جن میں ان کے دست راست دلنواز اور وہ خود بھی شامل تھے،اسی طرح سابق وائس چانسلر ڈاکٹرمنصور اکبر کنڈی نے اپنی مدت ملازمت کے دوران 2010,11,12 میں تین سلیکشن بورڈ کر کے 70 ملازمین کو سترہ گریڈ میں بھرتی اور 35 کو بیس اور اکیس گریڈ میں پرموٹ کیا،سابق وی سی ڈاکٹر شفیق احمد کے استفعی کے بعد انجئنرنگ یونیورسٹی پشاور کے پروفیسر ڈاکٹر عنایت اللہ بابر کو جب عارضی چارج ملا تو انہوں نے اپنے سگے بھائی نعمت اللہ بابڑکو پروفیسر پرموٹ کرنے کی خاطر 65 اساتذہ کو اگلے گریڈ میں ترقی دیکر مالی بحران میں پھنسی یونیورسٹی کو ڈھائی کروڑ سالانہ کے خسارہ سے دوچار کر دیا،جو اب بڑھکر چار کروڑ سالانہ تک پہنچ چکا ہے،ڈاکٹر عنایت اللہ بابڑ کے 2014 کے اسی سلیکشن بورڈ کے خلاف گورنر نے ایچ ای ڈی سے انکوائری کرا کے سابق وی سی ڈاکٹر فریدکے 2008 اور ڈاکٹر عنایت اللہ کے 2014 کے یکشن بورڈز منسوخ کرنے احکامات صادر کر کے پانچ سال کیلئے گومل یونیورسٹی میں ہر قسم کی بھرتی پہ پابندی عائد کر دی،یہ ایسا غیرفطری فیصلہ تھا جس پر گومل یونیورسٹی کے کسی بھی وائس چانسلر کے لئے عملدرآمد ممکن نہیں تھا،اگر ایچ ای ڈی کی انکوائری ٹیم صرف ڈاکٹر عنایت اللہ بابڑ کے سن2014 کے متنازعہ سلیکشن بورڈ کو ختم کرنے کا حکم دیتی تو اسے منسوخ کرنا آسان تھا لیکن ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی تحقیقاتی کمیٹی نے اے این پی کے فرینڈز گروپ کے سرگرم رکن ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی دور کے 2010 ؁ء2011 ؁ء اور2012 کے تین درمیانی سلیکشن بورڈز کو چھوڑ کے ڈاکٹر عنایت اللہ بابڑ کے 2014 ؁ء کے سلیکشن بورڈ کے ساتھ سابق وی سی ڈاکٹر فرید کے سن 2008 ؁ء کے سلیکشن بورڈ کو منسوخ کرنے کے احکامات دیکر عملاً گومل یونیورسٹی کو موت و حیات کے درمیان معلق کر دیا،اب گورنر کے احکامات اس بدقسمت یونیورسٹی کو مرنے دیتے ہیں نہ جینے دیتے ہیں،جب تک متذکرہ بالادونوں بورڈز منسوخ نہیں ہوتے،گومل یونورسٹی میں نئی بھرتی ہو سکے گی نہ اس کی تعلیمی فیکلٹی مکمل ہو گی،بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ایچ ای ڈی نے جان بوجھ کے ایسا ناقابل عمل فیصلہ صادر کیا جس پہ عملدرآمد ممکن نہیں ہو سکتا کیونکہ پشاور میں بیٹھے لوگوں کو اس پسماندہ اور غریب خطہ کی درسگاہوں کی بقاء سے کوئی دلچسپی ہے نہ قومی وسائل کے زیاں کا احساس۔دلچسپ امر یہ ہے کہ ایچ ای ڈی کے ان بزرجمہروں نے غلط سلیکشن بورڈ کرنے والے وائس چانسلرز کیلئے تو کوئی سزا تجویز نہیں کی لیکن اپنے متنازعہ فیصلوں سے اس عظیم تعلیمی ادارے کو مفلوج کر کے رکھ دیا جو پہلے ہی انتظامی سربراہوں کی فرسودگی کے ہاتھوں تباہ حال تھا۔بد انتظامی کے وبال نے اعلی تعلیمی اداروں میں تعلیم و تحقیق کی فضا کو آلودہ کر کے ایسی پراگندہ خیالی کو پروان چڑھایا جو قوم کے زرخیز دماغوں کو بنجر بنانے لگی ہے۔وائس چانسلر ڈاکٹر محمد سرور نے بتایا کہ دنیا بھر کی ان تمام یونیورسٹیز میں، جہاں سمسٹر سسٹم ہے، گرمیوں کی چھٹیاں نہیں ہوتیں لیکن یہاں گرمیوں کی تعطیلات ختم کرنے پہ اساتذہ بھڑک اٹھے ہیں اور دو معزز پروفیسرز،جو اسی یونیورسٹی میں قائم مقام رجسٹرر بھی رہ چکے ہیں،نے منفی ہتھکنڈوں سے یونیورسٹی بند کرانے کی خاطر بدنام کرداروں سے رابطے کر لئے ہیں،حالانکہ گزشتہ سال انہی گرمیوں کی چھٹیوں کی بدولت طلبہ کو سال کی بجائے آٹھ ماہ پہ محیط سمسٹر پڑھایا گیا ،جس سے طلبہ وطالبات کا تعلیمی نقصان ہوا۔حیران کن امر یہ ہے کہ گومل یونیو رسٹی میں اساتذہ سمیت ادنی اسٹاف کی تنخواہیں ملک بھر کی یونیورسٹیز اساتذہ اور اہلکاروں سے چالیس فیصد زیادہ ہیں، سابق وائس چانسلر ڈاکٹر فرید اللہ وزیر نے اپنی مقبولیت بڑھانے کی خاطر یونیورسٹی کے تمام مقامی اہلکاروں کو،وہ ہارڈ ایریا اولاونس بھی جاری کر دیا،جو الاونس صرف دور دراز سے آنے والے ملازمین کیلئے مخصوص تھا لیکن پھر بھی اساتذہ کا پڑھانے کو جی نہیں چاہتا اور وہ ہر آن زیادہ سے زیادہ چھٹیوں پہ اصرار کرتے ہیں۔اٹھارویں ترمیم کے بعد ہائر ایجوکیشن سسٹم کو صوبائی حکومتوں کے حوالے کر کے اسے سیاسی حرکیات کا حصہ بنا دیا گیا،پچھلے دور حکومت میں عوامی نشنل پارٹی کی گورنمنٹ نے فرینڈز گروپ کی ایما پر یونیورسٹی ماڈل ایکٹ بنا کر پہلے یونیورسٹیز میں پری آڈٹ نظام کی بساط لپیٹ کر بدعنوانی کے دروازے کھول دیئے،پھر چارسدہ،مردان،صوابی،سوات ،کوہاٹ اور بنوں یونیورسٹی کو اربوں کی گرانٹ ریلیز کر اپنے انتخابی حلقوں کو نوازا گیا،اس وقت وسطی خیبر پختون خوا کی تمام یونیورسٹیز میں اے این پی سے تعلق رکھنے والے فرینڈز گروپ کے اساتذہ کا تسلط قائم ہے جو ایک مخصوص سوچ کی آبیاری کیلئے خالص تعلیمی مقاصد سے زیادہ سیاسی تعصبات کو فوقیت دیتے ہیں،جس سے نوجوانوں کو وسیع پاکستانی قومیت کے تصور سے جدا کر کے محدود نسلی قومیت کے تنگ دائرہ میں رہ کر سوچنے کا خوگر بنایا جاتا ہے،چنانچہ اے این پی دور میں سرائیکی بولنے علاقہ ڈیرہ اسماعیل خان کی گومل یونیورسٹی جیسے قدیم تعلیمی ادارے کو پھوٹی کوڑی نہیں دی گئی،بدقسمتی سے ایچ ای ڈی کا گومل یونیورسٹی سے لاتعلقی کا رویہ اب بھی قائم ہے کیونکہ آج بھی اس اہم ادارے کی اجتماعی سوچ پہ لسانی تعصبات کا غلبہ قائم ہے۔

2013 ؁ء میں صوبائی وزیر مال علی امین گنڈہ پور کی کوششوں سے وزیر اعلی نے گومل یونیورسٹی کیلئے 36 کروڑ کی معمولی گرانٹ منظورکی لیکن فنانس ڈیپارٹمنٹ میں بیٹھے اسی مائنڈ سٹ نے بغیر کسی قانونی جواز کے اسے قرض میں بدل کر قسط وار ادائیگی کا پیچیدہ شڈول جاری کر کے اس محدود گرانٹ کو بھی بیکار بنا دیا لیکن ممبران اسمبلی سمیت کسی صاحب اقتدار نے اس کا نوٹس نہ لیا۔وفاقی حکومت کے اتحادی مولانا فضل الرحمٰن نے وی سی کی دعوت پہ دوماہ قبل اپنے حلقہ نیابت کی یونیورسٹی کا دورہ کر کے گومل یونیورسٹی کیلئے وفاقی حکومت سے دو ارب کی گرانٹ منظور کرانے کی یقین دہانی کرائی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ بھی اس کام کو فراموش کر بیھٹے،بلاشبہ قومی سیاست میں مولاناکی گہری تلویث اور علاقائی سیاست کے ناگزیر تقاضے انہیں تعلیم جیسے عظیم مقاصد سے بیگانہ کر رکھتے ہیں،راز ہائے نہاں خانہ سے آگاہ حلقوں کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن گومل یونیورسٹی کی زرعی فیکلٹی کو یونیورسٹی کا درجہ دلا کر اپنے والد مرحوم مفتی محمود کے نام سے منسوب کرانے جیسے مخصوص مقصدکے سوا کسی ایسے تعلیمی ادارے کی بقاء میں کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتے جو جدید سائنسی علوم کا حامل ہو۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...