اسرائیلی وزیراعظم کرپشن کے گرداب میں

296

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کچھ عرصے سے کرپشن کے الزامات کے گرداب میں ہیں۔ ان کے خلاف بڑے پیمانے پر عوامی مظاہرے بھی ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی پولیس کی طرف سے ان کے خلاف دو مقدمات کی بنیادپر تحقیقات کا عمل جاری ہے۔ اس سلسلے میں پولیس کئی مرتبہ ان کی رہائش گاہ پر آکر ان سے پوچھ گچھ کر چکی ہے۔بعض اوقات انھوں نے تحقیقاتی اداروں کے ساتھ تعاون سے انکار بھی کیا ہے۔ الزامات کے گرداب میں فقط نیتن یاہو نہیں بلکہ ان کا پورا خاندان ہے۔ 8جنوری 2018 کو اسرائیل کے چینل 2نیوز نے اسرائیلی وزیراعظم کے بیٹے یائیر کی ایک آڈیو ریکارڈنگ نشر کی ہے جس میں وہ نشے کی حالت میں اسرائیلی گیس ٹائیکون کوبی میمن (Kobe Mammon) کے بیٹے سے کہہ رہا ہے کہ میرے باپ نے تمھارے باپ کے مفاد میں پارلیمنٹ میں 2015میں ایک متنازعہ بل کی حمایت کی تھی۔ یہ کہتے ہوئے دراصل وہ اس سے کچھ تقاضا کررہا ہے۔ آڈیو ریکارڈنگ میں اس کے الفاظ کچھ یوں ہیں:
“Bro, you got to spot me. My dad made an awesome deal for your dad, bro, he fought, fought in the Knesset for this, bro,”
“Bro, my dad now arranged for you a $20bn deal and you can’t spot me 400 shekels?”
یہ لیک یقینی طور پر اسرائیلی وزیراعظم کے لیے پاکستان کے وزیراعظم کے خلاف مشہور ہونے والی پاناما لیک سے کم ثابت نہیں ہوگی، کیونکہ اس سے پہلے بھی بہت کچھ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف لیک ہو چکا ہے۔
دسمبر2017کے آغاز میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی مبینہ کرپشن کے خلاف اسرائیلی عوام سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ اسرائیلی شہر تل ابیب میں بیس ہزار افراد نے وزیراعظم کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کیا تھا۔ عوام کا مطالبہ تھا کہ نتین یاہو کے خلاف شفاف تحقیقات ہونا چاہییں۔ ادھر عوام یہ مطالبہ کررہے تھے اور ادھر وزیراعظم اپنے اثر و رسوخ سے اسرائیلی پارلیمنٹ میں کرپشن تحقیقات محدود کرنے کا بل منظور کروا رہے تھے۔
عبرانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف زیر تحقیق مقدمہ 1000 کی بنیاد پر فرد جرم تیار کی جا چکی ہے جس کے مطابق نیتن یاہو کے بدعنوانی میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ان کے خلاف رشوت وصول کرنے، امانت میں خیانت کرنے اوردیگر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔پولیس کو ایک آسٹریلوی یہودی جیمز پاکر کی گواہی میسر آئی ہے جس کے بعد وہ اس نتیجے تک پہنچی ہے کہ انھوں نے وزیراعظم اور ان کے خاندان کی جانب سے مطالبے پر تحائف دیے اور انھیں ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق رواں ہفتے میں پولیس کرپشن کے الزامات میں وزیراعظم  نتین یاہو کے خلاف فوج داری تحقیقات کا آغاز کرنے والی ہے۔اسرائیل میں سب سےزیادہ  دیکھے جانے والے چینل 2کے مطابق وزیراعظم نے دو بڑے تاجروں سے قیمتی تحائف یا مراعات حاصل کی ہیں۔ مشہور ویب سائٹ وائے نیٹ نے بھی یہی دعویٰ کیا ہے۔بظاہر یوں لگتا ہے کہ نیتن یاہو کے بیٹے کی آڈیو سامنے آنے کے بعد صورت حال میں تیز رفتاری سے مزید پیش رفت ہوگی۔ کہا جارہا ہے کہ کیس میں اسرائیلی وزیراعظم کے خاندان کے متعدد افراد بھی شامل ہیں۔ خاص طور پر ان کے بیٹے نے جس انداز سے مراعات حاصل کیں اور بڑے بڑے اسرائیلی سرمایہ داروں کی سرپرستی میں امریکا جا کرعیاشی کی اس کے واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف ملک کی حزب اختلاف بھی تحقیقات کے لیے مہم چلا رہی ہے۔ حزب اختلاف کے اہم قانون ساز اور صہیونی یونین پارٹی کے ایئریل مرجالیت نے نیتن یاہو اور ان کو عطیات فراہم کرنے والی نمایاں شخصیات کے مابین تعلق کے حوالے سے تحقیقات کروانے کے لیے تحریک چلا رکھی ہے۔ڈاؤچے ویلے کی رپورٹ کے مطابق ماضی میں نتین یاہو اعتراف کر چکے ہیں کہ انھوں نے فرانس میں مقید ٹائیکون آرنو میمران سے رقم وصول کی تھی ۔ وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق 2001میں چالیس ہزار ڈالر وصول کیے گئے تھے جب نیتن یاہو ابھی وزیراعظم نہیں تھے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق قبل ازیں اسرائیلی وزیراعظم پر عائد ہونے والے الزامات کی وجہ سے اسرائیل اور جرمنی کے مابین ہونے والا آبدوز معاہدہ بھی کھٹائی میں پڑ گیا تھا۔ ڈولفن کے نام سے مشہور یہ آبدوزیں سمندر کی گہرائیوں میں ایٹمی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسرائیل کی نیشنل سیکورٹی کونسل کے ذرائع کے مطابق جرمنی نے اسرائیل کو تین عدد ڈولفن آبدوزوں کی فروخت مؤخر کر رکھی ہے۔ مبینہ کرپشن کے الزامات میں اسرائیلی پولیس پہلے ہی تین افراد کو گرفتار کر چکی ہے۔ جرمنی نے تل ابیب پر یہ واضح کر دیا ہے کہ اگر اس سودے میں کرپشن ثابت ہوئی تو برلن اس معاہدے کو منسوخ کردے گا۔ یاد رہے کہ جرمن حکومت اس نوعیت کی چار آبدوزیں پہلے بھی اسرائیل کو فروخت کر چکی ہے۔
نیتن یاہو کے خلاف عوامی مظاہروں، تحقیقات، رپورٹوں، الزامات اور اپوزیشن کے شور شرابے کا نتیجہ کیا نکلتا ہے، اس کے بارے میں ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا تاہم اس امر کا امکان موجود ہے کہ نئے شواہد سامنے آنے کی وجہ سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف فضا مزید سنگین ہو جائے اور شاید انھیں وقت سے پہلے اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنا پڑے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...