عوامی طاقت سے محروم حکمران

758

عوامی طاقت نہ رکھنے والے ادارے، ملک اور ریاستیں شکست و ریخت کا شکار ہو جاتی ہیں

توہین اردوان کے مقدمات میں قید ہزاروں ترک شہریوں کو رہا کردیا گیا تھا۔ عوام کی بے مثال قربانیوں کی بدولت فوجی بغاوت ناکام ہو گئی تھی۔ ہزاروں شہری کئی ہفتوں تک جمہوریت اور نظام کی حفاظت کی خاطر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر بڑی شاہراؤں اور چوکوں میں دن رات جمع ہو کرجمہوری نظام کی بقا کے لئیے پہرہ دیتے۔ ننھے ننھے شیر خوار بچوں کی شرکت نے تو اس پہرے کو بے خوف اور زیادہ مؤثر بنادیا تھا۔ صبح شام باغیوں کو پرجوش نعروں، ترانوں اور گانوں سے للکارا جاتا۔ اب کسی کی مجال نہیں تھی کہ وہ سامنے آتا اور نظام کو تلپٹ کرتا۔

یہ مناظر خود حزب اختلاف کی جماعتوں خصوصاً وہ گروہ جو ماضی میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کا حصہ بن جاتے تھےکے لیے بھی کسی حیرت سے کم نہ تھےچنانچہ وہ بھی اس بار عوامی ردعمل کے سامنےآنے کی جرات نہ کر سکےاور خود بھی فوج مخالف مظاہروں کا حصہ بن گئے۔

بڑی تعداد ایسے مظاہرین کی بھی تھی جو سیاسی طور پر اردوان اور اس کی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے منشور اور پالیسیوں سے متفق نہ تھی لیکن ان کے مد نظر ایک بڑا مقصد تھا۔ وہ اپنے خوبصورت ملک کی ترقی میں کوئی رکاوٹ برداشت کرنے کو تیار نہیں تھے۔ وہ پھر دس سال کے عرصے کے لئے مغرب کے آلہ کار کسی طالع آزما کے چنگل میں پھنسنا نہیں چاہتے تھے۔ انھوں نے اپنے آباد اجداد کو ترکی میں فوجی بغاوتوں اور منتخب وزیر اعظم کی پھانسی پر آنسو بہاتے دیکھا تھا۔ اس دفعہ گویا انھوں نے یہ عزم کر لیا تھا کہ وہ صدمے کی آگ میں جلنے کے بجائے امر ہونے کو ہی ترجیح دیں گے اور وہ کامیاب ہو گئے۔ ٹی وی پر دہائی دینے کے بعد ان کا جوش اور ولولہ دیکھ کر ہر خوف سے بالاتر طیپ اردوان ان کے درمیان آگئے۔ اور ان کی بے پناہ محبت اور سرشاری پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ اور تشکر کے یہ اجتماعات بھی تواتر سے مختلف علاقوں، قصبوں اور شہروں میں ہورہے تھے۔

عوام نے اپنا حق ادا کر دیا اور ایک دفعہ پھر حکمرانوں کو یہ یاد دلا دیا کہ اگر آپ ہمارے ساتھ مخلص رہو گے اور ہمیں ہی طاقت کا سر چشمہ سمجھو گے تو پھر ان کی طاقت ہی انھیں ایسے حادثات سے بچا سکتی ہے-

ترکی میں رونما ہونے والے ان واقعات کو جب میں پاکستانی ہونے کی حثیت میں غور سے دیکھتا ہوں  تو اپنے ملک کے سیاسی اور فوجی منظر نامے میں کافی مماثلت نظر آتی ہے ۔

پاکستان میں شاید ایسے مناظر اس وقت دیکھنے میں آئے تھے جب ایک فوجی آمر، جو حکمران طبقے کی نااہلیوں کا فائدہ اٹھا کر اقتدار تک پہنچا،نے ہاں میں ہاں نہ ملانے کی پاداش میں ملک کے چیف جسٹس کو برطرف کر دیا تھا۔ پاکستان میں کئی بارسیاسی حکومتوں کو جیلوں اور قلعوں کے رستے گھر بھیجا جا چکا ہے۔ کسی بھی سیاسی حکومت کو عوامی ردعمل کا ابھی تک ایسا فیصلہ کن دور نصیب نہ ہو سکا۔ شاید اس کا ذمہ دار حکمرانوں کو ہی ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ ان دھتکارے ہوئے حکمرانوں کو بار بارعوام کے  ووٹ کی پرچی  اقتدار کے ایوانوں تک پہنچاتی ہے۔

جنرل پرویز مشرف نے جب 3 نومبر کو ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ کر کے ججز کو قید کر دیا تو ایک دفعہ پھر کسی حد تک عدلیہ کی آزاد روش کی قدر کرتے ہوےَ یہی عوام سڑکوں پر نکل آےَ اور نہ صرف فوجی آمر کو اپنے اقدامات واپس لینے پر مجبور کیا بلکہ ملک سے باہر ناامید سیاسی رہنماوں کی واپسی کو بھی یقینی بنایا  اور پھر ان میں سے ہر ایک کو باری باری اقتدار کی مسند پر بھی اسی عوام نے پہنچایا-

یہ حکمران بن کر پھر قبلہ درست نہ کرسکے۔ جس آمر کو عوام کی نفرت کے سمندر نے غرق کر دیا تھا اس کو سرخ قالین کی سلامی دے کر رخصت کیا- پھر جب عوام نے موقع دیا تو ایک دفعہ پھر یہی باہر نکالے گئے اقتدار کے ایوانوں میں تھے- انھوں نے فوجی آمر کو اپنے طور پر سبق سکھانے کی کوشش کی- آمر کے خلاف مقدمہ چلایا گیا- لیکن نظام کو بہتر کرنے اور عوام مخالف پالیسیاں اختیار کرنے کے بعد یہ ’مظبوط حکمران‘ لڑکھڑا گئے اور مقدمہ بھی کٹھائی میں پڑ گیا-

یہ حکمران اپنی مصلحتوں کا شکار ہوجاتے ہیں-  اپنے لیے نئے آقا ڈھونڈ نکالتے ہیں اور پھر ان کی خوشنودی حاصل کرنے میں لگ جاتےہیں اور اپنی اصلی طاقت کے مرکز سے دور نکل جاتے ہیں۔  پھر جب یہ کسی مشکل میں پھنستے ہیں تو ان کو اپنی رعایا یاد آتی ہے۔ پھر یہ جلسے کرتے ہیں، ٹی وی پر آکر دہائیاں دیتے ہیں اور جب مصیبت ٹل جاتی ہے تو اسےاپنی بہترین تدبیر قرار دیتے ہیں۔

حکومت وقت کو بظاہر کوئی بڑا چیلنج نظر نہیں آ رہا لہٰذا آج کل وفاقی تفتیشی ادارہ (ایف آئی اے) اپنےشہریوں کے سوشل میڈیا پر آزادی اظہار رائے کو جانچنے میں مصروف ہے۔ کوئی لحاظ روا نہیں رکھا جا رہا ہے۔ انھیں ان کے ٹیکسوں اور قربانیوں کی بدولت چلنے والے ریاستی نظام اور اس کے ’مقدس اداروں‘ کی توہین کا مرتکب ٹھہرایا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر موثر کالعدم اور فرقہ بندی اورمنافرت پھیلانے والی تنظیمیں اپنا دھندا بے خوف آگے بڑھا رہی ہیں۔ یہ خود مختار ادارے کیسی چپ سادھ لیتے ہیں یا پھر کیسے چپ کا روزہ رکھ لیتے ہیں- کسی بے حال سینیٹر کے بیان پر سو موٹو لینے والے عوام کو بے حال کرنے والے عناصر کی کاروائیوں پر خاموش کیوں ہیں- شاید انھیں اپنی وٹس ایپ اور فیس ٹائم کی فکر زیادہ ستارہی ہے-

کسی اور کی عزت کی کیا حفاظت کرنی یہ ادارے تو اپنی ہی آبرو خاک میں ملا رہے ہیں۔ وجہ صاف ظاہر ہے۔ حدود و قیود کا تعین کوئی چند محدود مقاصد کے لیے کرے تو ایسے ادارے عوام کی آبرو کا کتنا لحاظ رکھ سکتے ہیں۔

ان حکمرانوں اور اداروں کو یہ بات ذہین نشین کر لینی ہو گی کہ عوام کی طاقت جب ان کے پاس ہوگی تو یہ اندرونی اور بیرونی محاذوں پر کامیابیا ںسمیٹ سکتے ہیں- عوامی طاقت نہ رکھنے والے ادارے، ملک اور ریاستیں شکست و ریخت کا شکار ہو جاتی ہیں-

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...