فاٹا اصلاحات اور ہماراقومی رویہ

219

سیاسی قیادت کی بے ثباتی نے فاٹا اصلاحات جیسے حساس معاملہ کو روایتی طور طریقوں میں الجھا کے ہمارے اجتماعی مصائب میں ایک نئے تنازعہ کا اضافہ کر دیا،کالا باغ ڈیم کے بعد اب فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کا عمل بھی سیاسی عدواتوں،دوطرفہ الزام تراشیوں اور سازشی تھیوریز کی نذر ہو جائے گا،ہمیشہ کی طرح آج بھی کوئی نادیدہ قوت میڈیا کی مدد سے جذباتی فضاء بنا کے خانہ ساز فیصلوں کو مسلط کرنے کی کوشش میں قوم کے اجتماعی شعور کو ٹھکرا رہی ہے،سچ پوچھیئے تو جلدی میں فیصلے کرنے والے ہی دیر تک کف افسوس مَلتے ہیں،خدشہ ہے کہ یہی رویہ مملکت کو سقوط ڈھاکہ کی مانند کسی ناقابل برداشت المیہ سے دوچار نہ کر دے۔قومی سلامتی سے جڑے ایسے حساس معاملات جو طویل بحث و مباحثہ اور وسیع تر قومی اتفاق رائے کے متقاضی ہوتے ہیں،انہیں سواد اعظم کی نظروں سے اوجھل رکھ کے نمٹانا خلاف عقل ہو گا اور یہی اخفاء بداعتمادی کا سبب بھی بنے گا۔مو لانا فضل الر حمن  سمیت کئی کہنہ مشق سیاست دان جب انہی بیمار سوچوں کے مضمرات کی نشاندہی کرنے کے علاوہ فاٹا کے مستقبل کا تعین کرنے جیسے حساس معاملات کو وسیع تر مشاورت اور قومی اتفاق رائے سے سلجھانے کی بات کر کے ملک و قوم کو نادیدہ مشکلات اور سیاسی پیچیدگیوں سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے،شاید اسی طرز عمل نے ستر سالوں میں ہمیں قوم نہیں بننے دیا۔

دہشتگردی کی مہیب جنگ کے خونی جبڑوں میں  تڑپتے قبائل کے مستقبل بارے کسی بھی فیصلہ سے قبل قبائلی عوام کو مجوزہ اصلاحاتی منصوبوں کے نفع و نقصان سے پوری طرح آگاہ کرنا اور فیصلہ سازی کے عمل میں انکی شمولیت یقینی بنانا فطری تقاضا ہے لیکن پچھلی سات دہائیوں میں قومی پالیسیز اور ملک کے مستقبل بارے  کیے جانے والے فیصلوں  پہ  قومی سطح پر بحث و تمحیص کی اجازت تھی  نہ سیاسی اتفاق رائے حاصل کرنے کی روایت ڈالی گئی،انتہائی اہم نوعیت کے ان فیصلوں کے فوائد و مضمرات  سے قوم کو آگاہ نہیں کیا جاتا جن سے ان کی نسلوں کا مستقبل وابستہ ہوتا ہے۔ریاست کی تمام قوتیں یا تو خود غرضانہ جبریت پہ صرف ہوئیں یا پھر اپنے فیصلوں کے دفاع پہ لگی رہیں۔یہاں مخصوص سوچ کا حامل اقلیتی گروہ اپنے اٹل ارادوں کے متبادل کسی تجویزکو پیش کرنے کی اجازت دیتا ہے نہ قومی ماحول میں دوسرے نقطہ نظر کیلیے گنجائش چھوڑتا ہے۔بدقسمتی سے کشمیر اور بلوچستان کے سلگتے ایشوز ہوں یادہشتگردی  کا معاملہ،مڈل ایسٹ اور افغانستان کے تنازعات ہوں یا خارجہ پالیسی کی تشکیل،اگر ان ایشوز پہ کوئی قومی لیڈر متبادل تجاویز سامنے لائے تو ایک بپھرا ہوا گروہ ان کی نیت پر حملہ زن ہونے کے علاوہ میڈیا کی مدد سے انہیں بیرونی ایجنٹ اور  وطن دشمن قرار دیکر ایسے فکری مغالطے پیدا کرتا ہے جو مدتوں قوم کو باہمی نفرتوں کی آگ میں جلاتے رہتے ہیں۔ایک تو ہمارے تجزیہ کاروں کا تنقیدی شعور غیر ہمدردانہ ہے، دوسرا وہ ایسے بیکار دعوے کر گزرتے ہیں جنہیں اگر مروجہ پیمانوں پہ جانچنے کی کوشش کی جائے تو جھلا اٹھتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے اسی رجحان نے پچھلے ستر سالوں میں من مانے  فیصلے مسلط کر کے ملک کو دو لخت اور سیاسی نظام کو نا قابل عبور مشکلات سے دوچار رکھا۔فاٹا ریفارمز کے حوالے سے وفاقی حکومت کے سرتاج عزیز کمیشن نے قبائلی عمائدین اور عوام سے مشاورت کا جو طریقہ کار اختیار کیا وہ اگرچہ متنازعہ تھا لیکن اس سب کے باوجود انہوں نے اصلاحات بارے جو تین چار ایشوز فریم کیے وہ منطقی طور پہ قبول کر لئے گئے،جن میں پہلا فاٹا کی موجودہ حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے وہاں بنیادی انسانی حقوق کی بحالی،تعلیم،صحت،قانون اور انتظامی شعبوں میں اصلاحات کے ذریعے قبائلی علاقوں کو بتدریج قومی دھارے میں لانا،دوسرا فاٹا کو الگ صوبے کا درجہ دینا اور تیسرا وہاں منتخب کونسل کے قیام کے بعد فاٹا کو مرحلہ وار خیبر پختون خواہ میں ضم کرنے جیسی صائب تجاویز شامل تھیں۔پیش کردہ تجاویز کی معقولیت کے پیش نظر نواز شریف کی وفاقی کابینہ نے فاٹا میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ ان تمام تجاویز کو پانچ سال تک پبلک ڈسکور کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا تاکہ لمبے غور و فکر کے بعد خیبر پختون خوا اور قبائلی عوام کی آزادانہ رائے سے ان تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کی راہ نکالی جائے، لیکن افسوس کہ کسی پر اسرار قوت نے  اس مساعی کو بلڈوز کر کے میڈیا کی یلغار سے پبلک کے اذہان کو  یر غمال بنا کر نہایت جلد بازی میں انضمام کی تجویز پر فوری عملدرآمد کرانے کی مہم چلائی،جس سے کئی سنجیدہ سوالات اور سیاسی تنازعات اٹھ کھڑے ہوئے۔بلاشبہ صرف مولانا فضل الر حمن ہی ایک ایسی بالغ النظر قومی لیڈر ثابت ہوئے جس نے  جذبات کے اس بہتے دھارے کے سامنے سینہ سپر ہونے کا فیصلہ کیا اور ویژنری قائد کی مانند ایک متبادل نقطہ نظر لیکر سامنے آئے، انہوں نے فاٹا ریفارمز جیسے انتہائی حساس معاملہ کے لئے سر جوڑ کے بیٹھنے اور قومی امور کو بین الاقوامی طور پہ مسلمہ معیارات  اور صدیوں سے آزمودہ طریقوں سے سلجھانے کی بات کی تو دلیل کا جواب دلیل سے دینے کی بجائے کرایہ کے دانشوروں نے انکی نیت پہ  حملے شروع کر دیے۔  میڈیا کے ذریعے ان کی کردار کشی کی مہم چلائی گئی،انتہائی شرمناک طریقہ سے ایک نہایت ہی  متعبر سیاستدان کے خیالات کو وطن دشمنی اور ملت فروشی پر محمول کر کے بدگمانیاں پیدا کی گئیں۔

یہی وہ طرز عمل ہے جس نے پون صدی سے اس قوم کو باہمی اعتماد کے فقدان اور سیاسی بحرانوں میں مبتلا  رکھا۔ایک ایسا رویہ جس سے ہم اجتماعی دانش کو بروکار لانے کی بجائے اپنی صلاحیتوں کو خود سے مختلف انداز میں سوچنے والے اہل وطن کو ملک دشمن ثابت کرنے پر صرف کرتے ہیں۔حیرت ہے کہ  ایک ایسا ایشو جس سے ملک و قوم کا مستقبل متاثر ہو سکتا ہو اس پر وسیع بحث و تمحیص جیسا معقول مطالبہ کیوں ہضم نہیں ہوتا،ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ  معاملہ زیر غور کے تمام پہلوؤں کا اچھی طرح  جائزہ لینے کے علاوہ قبائیلی علاقوں کے ماہرین سے متبادل تجاویز مانگی جاتیں لیکن نصف صدی تک فاٹا میں خدمات سر انجام دینے والے کہنہ مشق افسران اور قبائل کے بہترین دماغوں کو فاٹا اصلاحات سے لا تعلق کر کے اس حساس ایشو کو انتہائی تنگ نظر اور نا تجربہ کار ٹی وی اینکرز کے سپرد کر دیا گیا جو خود نہیں سوچتے بلکہ مقتدرہ کے چبائے ہوئے لقموں کو چبانے میں عافیت  تلاش کرتے ہیں۔رائے عامہ کا درست ادارک کیے بغیر قومی نوعیت کے فیصلوں کے منفی اور مثبت اثرات بجائے خود سیاسی جماعتوں کے مستقبل کومتاثر کر سکتے ہیں۔ابھی کل ہی کی بات ہے کہ پیپلز پارٹی کے افلاطون آصف علی زرداری نے اے این پی کے ساتھ سیاسی رومانس کی لہر میں بہہ کر رائے عامہ کا درست ادراک کیے بغیر بالائی سطح  پر این ڈبلیو ایف پی کا نام تبدیل کر کے خیبر پختون خواہ رکھنے کی غلطی کر کے اس صوبہ میں اپنی پارٹی کو زندہ درگور کر ڈالا۔ 2013  کے الیکشن میں پختون خوا نام رکھنے کی مخالف خاموش اکثریت نے پیپلز پارٹی کو عبرتناک شکست سے دوچار کر کے ایسا انتقام لیا جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔اے این پی حکومت نے اس فیصلہ کے جبری اطلاق کی خاطر ہزارہ ڈویژن میں سات لاشیں گرا کے جو خونی لیکیر کھینچی ، اسکے ہولناک اثرات مدتوں ان کا تعاقب کریں گے۔

اگر مسلم لیگ نے فاٹا کو خیبر پختون خواہ میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا تو ڈیرہ اسماعیل خان کے علاوہ ہزارہ میں اسے شدید ترین عوامی نفرتوں کا سامنا کرنا پڑے گا،لاریب ا  س ضمن مولانا فضل الرحمن کا طرز عمل زیادہ منطقی  اور دانشمندانہ ہے۔ انہوں نے عقل اجتماعی کو بروئےکار لانے کی خاطر فاٹا کے مستقبل بارے فیصلہ سازی کے عمل میں قبائیلی عوام کی شمولیت کا موقف اپناکے فتح و شکست دونوں صورتوں میں اپنے سیاسی مستقبل کو محفوظ کر لیا۔اگر حکومت نے رائے عامہ کو بلڈوز کر کے من مانے فیصلے کر بھی لیے تو مولانا فضل الرحمٰن اپنے اصولی موقف کی بدولت خیبر پختون خوا اور قبائلی عوام کے سامنے سرخرو ہوں گے اور عام انتخابات میں دونوں جگہیں انہیں بیمثال کامیابی ملے گی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...