عالمی اردو کانفرنس

749

زندگی تجربات سے بھرپور ہی رہتی ہے۔ سب سے اچھا تجربہ دانشمندوں اور محبت کرنے والے انسانوں کا ساتھ ہے ۔ جہاں آپ اپنے خیالات ، تصورات اور سوچ کو پوری دیانت اور آزادی کے ساتھ بیان کرسکیں۔ ایک ایسے وقت میں جہاں مصائب اور یاسیت نے ہمیں اپنے حصار میں رکھا ہے بلاشبہ اجتماعی دانش کے لیے ہمیں اکٹھا ہونا پڑے گا کہ یہی واحد حل ہے۔
یہ اتفاق نہیں تھا بلکہ حسن اتفاق تھا کہ ایک دن فون آتا ہے کراچی سے، کہا گیاآرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی دسویں عالمی اردو کانفرنس میں مجھے ایک مقالہ پیش کرنا ہوگا۔ سوپیشگی دوہری خوشی ہوئی پہلی یہ کہ صاحبان علم و دانش کے روبرو پیش ہوں گا جب کہ دوسری خوشی اس بات کی ہوئی کہ کچھ دن خالص علمی و ادبی گفتگو رہے گی اور خالی جگہیں پر ہوتی رہیں گی۔اردو کانفرنس میں شرکت انہی تجربات میں سے تاعمر ایک تجربہ رہے گا۔پھر اس کے بعد وہ دن بھی آگیا اور میں اس کانفرنس میں شریک تھا ۔ یہ کہا جائے کہ یہ کانفرنس ہم دوستوں کے لیے دن رات چلتی رہی کہ ہم نے کہیں اور جانا ہی چھوڑ دیا تھا صرف کانفرنس اور کانفرنس کے دوست،آرٹس کونسل اور ہوٹل کی لابی میں گجر دم تک بیٹھکیں جن کی شہرت جلد ہی پورے کراچی اور اسی طرح پوری دنیا میں پھیل گئی اور بہت سے احباب کو ان میں شرکت نہ کرنے کا افسوس بھی ہوا۔ یقیناًان کا فیس بک اکاؤنٹ نہیں ہوگا یا پھر ان دنوں فیس بک سے استفادہ نہیں کیا ہوگا۔بہت سے نئے دوست بنے اور پرانے دوستوں کی ہیرے جیسی دوستی کی چمک میں ہزار گنا اضافہ بھی ہوتا گیا۔ اتنے بھرپورلمحات اور صاحبان ذوق و دانش کی ہمراہی میں بہت کچھ سیکھنے کو ملا ،یقیناًاس کے نتائج آتے رہیں گے۔
عالمی اردو کانفرنس کا سلسلہ اس سال کے اختتام تک اپنی ایک دہائی مکمل کرچکی۔ اس سے قبل نو کانفرسوں کا حال احوال دووستوں کی زبانی و تحریری پتہ چلتا رہا ۔ خوش قسمتی سے اس دسویں عالمی اردو کانفرنس میں میرا اپنا تجربہ اور مشاہدہ شامل ہے۔ 21دسمبر تا 25دسمبر 2017ء جاری رہنے والی اس کانفرنس میں اردو دنیا کے لکھاریوں، دانش وروں اور شاعروں کے علاوہ فنکاروں اور موسیقاروں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ان ہزاروں شعر وادب کے چاہنے والوں کاذکر نہ کرنا زیادتی ہوگی جنہوں نے کراچی جیسے مصروف اور بڑے شہر میں رہتے ہوئے اپنا وقت اس کانفرنس کو دیا۔یقین مانیں بہت سے پروگراموں میں تل دھرنے کی جگہ نہ ہونے والا معاملہ ادھر جاکر سمجھ میں آیا۔انہی لوگوں کا ذوق اور شوق ہی تو ہے کہ معاشرہ مکمل زوال سے بچا ہوا ہے۔یہ ہجوم نہیں تھا ایک برادری تھی جو کتابوں کی خریداری سے لے کر مختلف پروگراموں میں شرکت تک اپنے ہونے کا اعلان کررہی تھی۔ایک بات کی بے انتہا خوشی ہوتی ہے کہ جب ہم سنتے ہیں کہ کراچی کے حالات بہتر ہوئے ہیں کیونکہ ان برے دنوں کا میں بھی شاہد رہا ہوں۔قارئین کرام اس کی قدر ہم کوئٹہ والوں سے پوچھیں تو بتاتے ہیں کہ ہم اچھے دنوں پر کتنا رشک کرتے ہیں؟
آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی دسویں عالمی اردو کانفرنس میں افتتاحی و اختتامی تقاریب کے علاوہ تیس سے زائدچھوٹے بڑے پروگرام ہوئے۔ انتظام و انصرام میں تمام منتظمین اور رضاکاروں کا انہماک بذات خود ایک قابل توجہ امر تھا۔ انتظامات  کرنا اور کراناباقاعدہ ایک اہم شعبہ بن چکا ہے ۔میری بھی اس شعبہ میں دلچسپی بہت زیادہ رہتی ہے، لہذا مجھے ان کے مندوبین سے مستقل رابطہ رکھنا اچھا لگا اورجس طرح سے وہ آپس میں مربوط انداز میں رابطے میں تھے وہ کمال کا تھا۔پوری کانفرنس میں ان کاباہمی رابطہ ہی تو در اصل ان کی کامیابی کا راز رہا ۔ پانچ روزہ اس کانفرنس میں شعر ، تنقید، افسانہ، فکشن، مصوری، موسیقی ،فلم، تھیٹر، کتابوں کی رونمائی سمیت بہت سے ایسے موضوعات کو رکھا گیا تھا جہاں جہاں اردو میں کام ہورہا ہے۔اس کی موجودہ و سابقہ صورت حال کے علاوہ اس کے مستقبل پر بھی بات ہوئی امید کی جاتی ہے کہ سنجیدہ حلقوں میں حاضرین مجلس کا کام جلد ہی سامنے آئے گا جسے دل جمعی کے ساتھ پڑھنا نہایت ضروری ہے۔
یہاں میں کانفرنس میں پیش کی گئی قرادوں کو نقل کرنا چاہوں گا کہ یہ وہ ماحصل ہے اس ساری کانفرنس کا جن کو بعد میں تحریری شکل میں لاکر اختتامی سیشن میں پیش کیا گیا۔قرارداد کسی بھی باقاعدہ تقریب کا ایک اہم حصہ ہوتی ہے۔ یہ  مطالبات و خواہشات کے علاوہ ایک تاریخی دستاویز بھی ہے۔ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی دسویں عالمی اردو کانفرنس2017میں پیش کی گئی کل دس قراردادوں کو ملاحظہ کیجئے ۔ ان قراردادوں پر عمل کی امید کے ساتھ آئندہ کے برسوں میں اس سماج کے خدوخال اور اس کے مسائل کا بخوبی اندازہ ان قراردادوں سے لگایا جاسکے گا۔

آج امن دنیا کا سب سے بڑامسئلہ ہے، ہم اہل قلم اس امر پر اپنے یقین کا اظہار کرتے ہیں کہ امن انسانی معاشرے کی ناگزیر ضرورت ہے۔ پرامن فضا میں زندگی گزارنا انسان کا پیدائشی حق ہے جس کے بغیر انسان کی تعمیری اور تخلیقی صلاحیتوں کی نشوونما نہیں ہوسکتی۔ اس لیے ہر ممکن صورت میں امن کی کوششوں کو فروغ دیا جائے۔

ہمارا یقین ہے کہ جنگیں ، ان کی تیاریاں اور اسلحے کی دوڑ، یہ سب انسانی ترقی کی راہ میں مزاحم ہیں۔ انہوں نے معاشروں میں بگاڑ اور عدم استحکام پیدا کیا ہے، ہم سمجھتے ہیں محض جنگ کا نہ ہونا ، امن قرار نہیں دیا جاسکتا ۔یہ ہی نہیں بلکہ تشدد کی ہر شکل بھی امن کی ضد ہے۔ سو ہم قیام امن کی بات کرتے وقت اس کے وسیع تر مفہوم کو یعنی تشدد سے پاک صورت حال کو اپنا مقصد تصور کرتے ہیں۔ خاص طور سے خواتین ، بچوں اور اقلیتوں پر تشدد کا خاتمہ کیے بغیر ہم امن کا تصور نہیں کرسکتے ۔ ہم اس کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں۔

اردو اور دیگر قومی زبانوں کے مابین روابط کے فروغ اور استحکام کے لیے صوبائی سطح پر ادیبوں اور فن کاروں کے وفود کے دورے کرائے جائیں ، دیگر قومی اور غیر ملکی زبانوں سے ادب، فلسفہ، فنون ، اقتصادیات اور سائنس سمیت دوسرے شعبوں کی کتابوں کے اردو میں تراجم کا اہتمام کرایا جائے جبکہ کتابوں اور اور رسالوں کی ترسیل کو آسان بنایا جائے۔

جنوبی ایشیا کے بین الملکی مسائل کو بات چیت اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے کے سوا دوسری کوئی صورت ممکن نہیں ہے۔ اس لیے بات چیت کے عمل کو فوری اور مؤثر سطح پر شروع کیا جائے۔

ہم ادیبوں ، شاعروں اور فنکاروں کے روابط کی مضبوطی پر زور دیتے ہیں۔ ان روابط کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف ملکوں کے اہل قلم کی انفرادی اور اجتماعی ملاقاتوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیئے۔ مختلف ملکوں کے درمیان آمد و رفت کوسہل بنانے کی ضرورت ہے، خاص طور سے ویزا کے حصول کو آسان بنایا جانا ضروری ہے۔ریلوے اور ہوائی سفر میں ادیبوں ، شاعروں اور فنکاروں کے لیے خصوصی رعایت فراہم کی جائے۔

نوجوانوں کو اپنی تہذیبی اور ثقافتی اقدار اور مظاہر سے روشناس کرانے کے لیے حکومتی سطح پر خصوصی اقدامات کیے جائیں تاکہ نئی نسل کے دلوں میں ثقافتی ورثے کا افتخار اور یقین جگہ پا سکے۔

ہم جنوبی ایشیا کے تخلیقی و تدریسی اداروں ، خاص طور سے جامعات کے درمیان روابط، اساتذہ و طلبہ کی آمد و رفت اور ان ملکوں میں کانفرنسز، سیمینارز اور کورسز میں ان کی شمولیت کی پرزور وکالت کرتے ہیں۔

ذرائع ابلاغ خصوصا ًالیکٹرانک میڈیا زبان کی درستی اور تہذیبی اقدار کا خیال رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ کردار ادا کرے۔

اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے کا فیصلہ تو سپریم کورٹ نے کیا ہے اور وزیر اعظم نے بھی اس کا اعلان کیا ہے لیکن ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس فیصلے پر عملدرآمد کیا جائے اور پرائمری تعلیم کے حصول کو مادری زبان میں ممکن بنایا جائے۔

ہم قائد اعظم کی سالگرہ کے موقع پر یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں قائد اعظم کے تصور پاکستان کو رائج کیا جائے۔ پاکستان کے نصاب تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کرکے اس ملک کے طلبہ کو صحیح معنوں میں تعلیم یافتہ بنایا جائے جو کہ قائداعظم کے Visionکے عین مطابق ہو۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...