علمائے اسلام کا ریٹایرمنٹ کے بارے میں کیا فتوی ٰہے؟

1,021

، اسلام میں ریٹایر منٹ کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا۔ ، یہی موقف’’ و ذکر‘‘ نامی ویب سائٹ کا بھی ہے۔ ان کا کہناہے کہ اسلام محنت کرکے روزی کمانے پر زور دیتا ہے اس لئے مسلمان کے لئے موت تک کام کرتے رہناواجب ہے

ریٹایر منٹ کے مسئلے پر  علما  میں شدید  اختلاف پایا جاتا ہے۔ ریٹا ئر منٹ   یعنی ساٹھ سال یا ایک مقررہ عمر تک نوکری کے بعد  ملازمت سے فارغ ہوجانے  کے قوانین   انیسویں صدی  میں لاگو ہو نا شروع ہوے۔ چنانچہ اس  کی حلت یا حرمت کے بارے میں شریعت یعنی  قرآن اور حدیث میں واضح  احکام موجود نہیں۔ یہ اختلاف فطری بات ہےلیکن  جب تک  اختلاف کے اسباب  کا تجزیہ  شامل   نہ کیا جائے   اس اختلاف کی شدت واضح  نہیں ہوتی۔ اس مختصر  تحریر میں ان تمام وجوہات پر تو بحث نہیں ہو سکتی ہم صرف  اس موضوع پر علما  کےفتاویٰ  اور ان میں میں مذکور  قرآن، احادیث، فقہ اور تاریخ کے حوالوں کا  مختصر جائزہ پیش کررہے ہیں۔

ریٹایرمنٹ کیا ہے؟

’’ریٹایر منٹ‘‘    انگریزی زبان کا لفظ ہے ۔انگریزی لغات میں  اس کے مندرجہ ذیل معنی بیان کئے جاتے ہیں:   ریٹایر ہونے کی عمر،  فوج  کی پسپائی،  گوشہ نشینی، آرام اور استراحت۔ فوج اور عدلیہ کے حوالے سے بھی ریٹایر منٹ  کا مطلب مختلف ہوتا ہے۔ فوج کے حوالے سے ریٹایرمنٹ  پسپائی کی جنگی حکمت عملی کا نام بھی ہے اور      جنگ سے احتراز بھی۔ عدلیہ کے حوالے سے  ریٹایر منٹ  استراحت یا  وقفے کے لئے بولا جاتا ہے جب جج  حضرات  مقدمات   کے  دوران   عدالت سے اٹھ کر اپنے کمرو ں میں چلے جاتے ہیں ۔ تاریخی طور پر ’’  ریٹایر منٹ‘‘ کے متداول  معنی  انیسویں صدی سے پہلے موجود نہیں تھے۔  ۱۵۳۰  تک ریٹایر منٹ محض   فوجی پسپائی یا    گوشہ نشینی کے معنوں میں استعمال ہوتا تھا۔۱۶۶۰ سے محفل برخاست کرکےخوابگاہ  کی جانب روانگی کا اعلان بھی  اس کے معانی میں شامل ہو گیا۔ ۱۶۸۰ سے  عہدے یا منصب سے سبکدوشی  کو  ریٹایر منٹ   کہا جانے لگا۔ مروجہ مفہوم میں اس کے منفی  تصورات  ختم کر کے اسے محض قانونی  کاروائی  کا درجہ دیا گیا ہے۔  اس میں منفی یا مخصوص  مفہوم شامل کرنے کے لئے جبری ریٹایرمنٹ،   پیشگی ریٹایر منٹ اور رضاکارانہ ریٹایرمنٹ  کی اصطلاحیں استعمال ہوتی ہیں۔

ریٹایر منٹ کا  سب سے پہلا قانون جرمنی میں ۱۸۹۱ میں اورامریکہ میں ۱۹۰۰  میں نافذ ہوا۔یہ قوانین   ان مسلم ملکوں  میں جو استعمار کے  زیر نگیں یا زیر اثر تھے  انیسویں صدی میں اور باقی ممالک میں بیسویں صدی میں لاگو  ہوے۔ سعودی عرب میں پنشن کا قانون  ۱۹۴۴  میں متعارف ہوا۔پاکستان  میں ریٹایرمنٹ کے قوانین برطانوی دور کے   پنشن (عطیات ) قانون ۱۸۷۱  کا تسلسل ہیں۔ اصل قانون  حکومت کی جانب سے  عطیات    کی  حیثیت   سےجاری ہوا تھا جس میں پنشن اور دیگر   فنڈز کو  تحفہ اور انعام  قرار دیا گیا تھا   ۔  بعد میں اس میں ریٹایرمنٹ کے قواعد اور قوانین بھی شامل کر دئے گئے۔ ان قوانین  میں وقتاً فوقتاً  اضافے، ترمیم اور تنسیخ ہوتی رہی ہے۔ محنت کشوں کی فلاح و بہبود کے پیش نظر قانون سازی زیدہ تر  ۱۹۷۰ کی دہائیوں میں ہوئی۔علما نے پنشن کے احکام   کی فقہی   حیثیت  عطیہ کے اعتبار سے ہی متعین کی۔

ریٹایرمنٹ  کے قوانین کا مقصد  اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے  ایسے ملازمین کو فارغ کر نا تھا جواب مزید کارکردگی کی اہلیت نہیں رکھتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی ان قوانین میں ریٹایرڈ ملازمین اور ان کے اہل خانہ کی فلاح و بہبود کے لئے تنخواہ کی مناسبت سے پنشن   کا حق بھی دیا گیا تھا۔ شروع میں یہ حق صرف سرکاری ملازمین کو تھا بعد میں ملازم کی وفات پر اس کی  بیوہ   کو بھی یہ حق ملا۔ بتدریج غیر سرکاری ملازمین کے لئے بھی یہی قوانین بنادئے گئے۔ اتنے بڑے پیمانے پر پنشن کے نظام کے لئے پنشن فنڈ قایم کئے گئے جن کا سرمایہ ملازم کی تنخواہ   سے  ماہوار کٹوتی  سے حاصل کیا جاتا اور ریاست یا کمپنی بھی اس فنڈ میں کٹوتی کے تناسب سے  اپنا حصہ جمع کراتی۔ اسی فنڈ سے ریٹایرڈ شخص کو تا حیات پنشن ملتی۔ آہستہ آہستہ یہ نظام سرمایہ کار کمپنیوں نے سنبھال لیا جو اس فنڈ سے  کاروبار کرتیں اور پنشن کی ضمانت دیتیں۔ ایسی  بہت سی باتوں  کی وجہ سے  علما  کو شبہ ہوا کہ یہ کاروبار غیر شرعی  اور  سودی ہے۔ اس میں    بعض امور کے نامعلوم ہونے کی وجہ سے، بعض علما نے  عوض یا   بدلہ  کے  ابہام  کی بنا پر اور بعض نے  لین دین میں کمی بیشی کی بنا پر  غرر (نقصان کا اندیشہ)  یا      ربا   (سود)  کی ممانعت کے شبہ ا کی وجہ سے پنشن  اور پراویڈنٹ فنڈ  کے غیر اسلامی ہونے کا فتویٰ دیا۔  ان کا بنیادی اعتراض ریٹایر منٹ  پر یہی رہا کہ یہ قانون انسان  کو کام کرنے کے بنیادی حق اور واجبات سے محروم کرتا ہے۔اسلامی دنیا میں  مساجد اور مدارس میں علما  عام طور پر تا حیات کام کرتے ہیں۔ ان کے ہاں ریٹایر منٹ کا تصور اجنبی ہے۔ تاریخی  طور پر بھی یہ قوانین استعماری دور میں متعارف ہوے اس لئے  بھی ان کے غیر اسلامی ہونےکی بات   آسانی سے مان لی گئی۔

ریٹایرمنٹ کے لئے اردو اور عربی میں  جو الفاظ استعمال ہوتے ہیں  وہ  ان شکوک و شبہات کے تنا ظر میں  پنشن کا ترجمہ کم اور  تفسیر زیادہ لگتے ہیں۔ اردو میں  ریٹایر  منٹ کے لئے مندرجہ   ذیل الفاظ ملتے ہیں: سبکدوشی،   فارغ خدمتی،  گوشہ نشینی،   آرام ۔ ان ترجموں میں  تلخ تاریخی یادوں، ثقافتی رویوں اور معاشی    احتجاج کی جھلک صاف  چھپتی بھی نہیں اور سامنے آتی بھی نہیں۔عربی میں ریٹایرمنٹ کے لئے ’’    التقاعد‘‘  اور ریٹایرڈ شخص کے لئے’’ المتقاعد‘‘ کے لفظ  استعمال ہوتے ہیں۔ عربی میں اس لفظ  کا بنیادی معنی’ بیٹھ رہنا‘  ہے لیکن’’   التقاعد‘‘   میں  دست برداری،   جان چھڑانا،   جنگ یا جہاد سے  فرار ہونا،  ذمہ داری سے فرار،   ہاتھ پر ہاتھ  رکھ کر بیٹھنا، بے کاری  وغیرہ کے مفہوم  بھی شامل ہیں۔ ان معانی  کا عہد نبوی  اور زمانہ حال میں جہاد کے   تاریخی  پس منظر سے گہرا تعلق ہے۔محض اس بنا پر بھی ریٹایرمنٹ  کے بارے میں علما  کے فتاوی میں  اختلاف  ہے

قرآن و حدیث

ریٹایرمنٹ کے  بارے میں حالیہ  فتاوی میں  تین حوالوں سے قرآنی آیات  او ر احادیث  کا ذکر ہوا ہے۔ لفظ ’’قاعد‘‘ کا مفہوم، بڑھاپا  اور لمبی عمر  کی  مہلت ۔

قاعد اور التقاعد کا مفہوم

قرآن کریم  میں تقاعد کا لفظ تو استعمال   نہیں ہوا    البتہ  دستبرداری  اور جنگ سے  فرار کا ذکر ضرور موجود ہے۔ بنی اسرائیل  نے حضرت موسی ؑ   سے کہا  کہ  دشمن  تو بہت طاقتور ہے۔ آپ اور آپ کا رب ان سے لڑیں ہم تو یہیں بیٹھے (قاعدون) ہیں( المائدہ:   ۲۴ )۔ بنی اسرائیل کے اس رویے سے حضرت موسی بہت مایوس ہوے۔ اسی طرح  عہد نبوی میں جب  کچھ لوگوں   نے غزوہ تبوک میں شرکت  سے معذرت چاہی تو  قرآن کریم  نے مجاہدین اور قاعدین  میں فرق کرتے ہوے  جہاد میں شامل نہ ہونے والوں کے لئے’’قاعدین‘‘ گھر بیٹھ رہنے والے( النساء: ۹۵ ، االتوبہ:۴۶ ) ،   پیچھے رہ جانے والے (التوبہ: ۸۱، ۸۷  ، ۹۳؛  الفتح: ۱۱، ۱۶)  اور  بہانے بنانے والے اور معذرت چاہنے والوں کے  الفاظ استعمال کئے۔  قرآن کریم  میں تو’  التعاقد‘  کا لفظ موجود نہیں  لیکن   تاریخ اورتفسیر کی کتابوں میں  یہ لفظ  یقیناً استعمال ہوا ہے۔ الدینوری (م ۲۸۲ ھ) نے’’ الاخبار الطوال‘‘   میں خالد بن عبداللہ  والی عراق کی معزولی   کےضمن میں  تقاعد کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اموی خلیفہ ہشام بن عبدالملک نے خالد بن عبداللہ کو معزول کر کے یوسف بن عمر کو عراق کا گورنر مقرر کیا۔ یوسف بن عمر نے حساب کتاب کے بعد  خلیفہ کو لکھا  کہ خالد بن عبداللہ  نے دس ہزار درہم  کا گھپلا کیا ہے۔  خلیفہ نے  خالد کو خط لکھا :   ’’سلطان کے مال میں یہ تقاعد کیسا؟‘‘  (تم نے سلطان کو جو واجبات بھیجنے تھے،  ان میں سے یہ رقم  کیسے  نکال لی ) ۔  اسی طرح   الماوردی (م ۴۵۰ ھ) نے  قرآنی آیت  ’’اللہ اور اس کے رسول کی پیروی کرو، جھگڑا مت کرو  ورنہ تم  کم ہمت (فشل)   ہو جاؤگے اور تمہاری ہوا  اکھڑ جائے گی ( الانفال:  ۴۶)‘‘   میں مذکور لفظ ’  الفشل‘ کی تفسیر میں  ’التقاعد‘  کا لفظ استعمال کیا ہے اور اس کا مطلب بزدلی اور جنگ سے فرار  بتایا ہے۔’التقاعد‘  کا یہ مفہوم  تفاسیر اور احادیث  میں بہت عام ہے ۔ تاہم    تقاعد کے اس مفہوم کا ریٹایر منٹ  سے تعلق  بہت کھینچ کھانچ  کر  تبھی لیا جا سکتا ہے   جب سرکاری ملازمت کو  جہاد یا  فوجی خدمت قرار دی جائے اور  ریٹایر ہونے والا  شخص  اس ملازمت سے جان چھڑانا  چاہتا   ہو ۔یہاں معاملہ بر عکس ہے۔

بڑھا پا اور ساٹھ سال 

قرآن میں انسان کی ہزار سالہ عمر کی خواہش کا ذکر بھی ہے (البقرہ : ۹۶ )  اور یہ بھی بتایا گیا ہے   کہ موت سے کسی کو مفر نہیں   (آل عمران  :  ۱۸۵)،  موت کا   ایک وقت  مقررہے (یونس:  ۴۹ )  جس کا  علم صرف خدا کو  ہے (لقمان : ۳۴)۔ قرآن کریم میں  بڑھاپے کا اور بڑھتی عمر کے ساتھ بدن کی   کمزوری کا بیان  بھی ہے  ۔’’ہم  جس کی عمر زیادہ  کرتے ہیں  اس کی طبعی حالت کو  الٹا دیتے ہیں‘‘ (یس:  ۶۸)۔’’تم میں بعض کو  عمر کے کمزور ترین  دورمیں پہنچا دیتے ہیں  حتی کہ وہ   سب کچھ جاننے کے بعد  اب  کچھ نہیں جانتا‘‘  ( النحل: ۷۰)۔ ان آیات میں لمبی عمر میں   انسان کے معذور ہو جانے کا بیان تو ہے لیکن ساٹھ یا سترسال  کی عمر کا ذکر نہیں ۔البتہ  مفسرین نے معذوری کے   حوالے  سے عمر کا تعین  کرنے کی کوشش  کی ہے۔طبری کے بقول  مفسرین   نے معذوری  کی عمرچالیس، ساٹھ اور ستر سال بیان کی ہے۔ان کی اپنی رائے میں یہ عمر ساٹھ اور ستر کے درمیان کی ہے (تفسیر طبری،    فاطر : ۳۷ )۔ بعض محدثین  نےلمبی عمر کو  معذوری اور  نا اہلی قرار دیا ہے۔ ترمذی اور ابن ماجہ  کی روایتوں کے مطابق  رسول اللہ کی امت  کی اوسط عمر  ساٹھ اور ستر سال کے درمیان ہے۔  تحفۃ القاری  میں  عمر کے تین دور بیان ہوے ہیں۔ ۳۵  سال  کی عمرسے جوانی کا زوال شروع ہوتا ہے۔  ۵۰ سال  سے ادھیڑ  عمر کا آغاز اور ساٹھ سال سے بڑھاپا شروع ہوجاتا ہے۔۔   امام بخاری کے نزدیک معذوری  کی عمر ساٹھ سے ستر سال تک ہے۔  شیخ رامہرمزی نے  المحدث الفاصل میں  وضاحت کی ہے  کہ روایت حدیث کی اہلیت پچاس سال کی عمر تک ہے۔ اس کے بعد  حافظہ اور فہم کمزور پڑنے کی وجہ سے  غلطی کا شائبہ بڑھ جاتا ہے۔ قاضی عیاض کے نزدیک اسی سال کی عمر تک پہنچنے کے بعد محدثین کو  روایت حدیث  سے روک دینا چاہئے۔ ابن بطوطہ نے دوسری اقوام و ملل  میں بڑھاپے  کے  بار ے میں تصور ات کا موازنہ کرتے ہوے لکھا ہے  کہ نصاری میں   بڑھاپے کی مثال سوکھی کھیتی سے دی جاتی ہے کہ اس کے کاٹنے کا وقت آگیا۔ چین میں  ساٹھ کے بعد الٹی گنتی شروع ہو جاتی ہے۔ ساٹھ سال کے شخص کو بچہ قرار دے کر  اسے قانون سے مستثنی سمجھا جاتا ہے۔

لمبی عمر  ایک مہلت

قرآن کریم میں لمبی عمر کو  مہلت کے مفہوم میں بھی بیان کیا گیا ہے۔’’کیا ہم نے  تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی  کہ جس کو سمجھنا ہو تا   وہ سمجھ سکتا  ( فاطر: ۳۷)۔ لمبی عمر  ایک مہلت  ہے اور اس   موقع کو  ضائع کر    دینے کی مذمت کی گئی ہے۔ صحیح بخاری  میں حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ اللہ تعالی انسان کو  چالیس سال کی عمر تک  عذر کا موقع دیتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ کی روایت کے مطابق    اللہ تعالی  ساٹھ سال کی عمر تک  عذر کا موقع دیتا ہے۔اس کے بعد نہیں۔ حضرت ابن عباس  نے روایت کیا ہے  کہ قیامت کے دن  ساٹھ سال  کے لوگوں کو الگ سے بلا یا جائے گا۔  تفسیر قرطبی میں موت کو دو  مرحلوں  میں بیان کیا ہے ایک  چالیس سال کی اور دوسرا ساٹھ  سال کی عمر میں ۔چالیس سال کے بعد کی عمر پہلی مہلت ہے کہ آگے کی تیاری کی طرف توجہ دے۔  ساٹھ سال  کے بعدکی عمر آخری  مہلت ہے۔ اگر یہ  موقع بھی  ضائع کر دیا گیا تو  کوئی  عذر باقی نہیں رہتا۔

تاریخ اسلام میں ریٹایرمنٹ کا تصور

قرآن وحدیث کے اس مختصر  جائزے سے یہ  پتا چلتا ہے کہ آخری عمر  آخرت کی طرف توجہ  کا آخری موقع ہے۔ اسے اسلام کا ریٹایرمنٹ کا تصور بیان کیا جاتا ہے۔    تاہم یہاں ریٹایرمنٹ کا مفہوم ، کام کاج کی ممانعت ،آرام یا   ترک دنیا  نہیں بلکہ آخرت کی تیاری ہے۔ جدید مفہوم    کا تعلق ذاتی معاملات سے ہٹ کر  ریاست کی ذمہ داری سے ہے  کہ بڑھاپے،  معذوری اور کام کاج کی اہلیت نہ رہنے پر   ملازمین  اور ان کے اہل  خانہ کی  فلاح و بہبود کو یقینی بنائے۔ جو علما  ریٹایر منٹ کے جدید  تصور  کی  مخالفت کرتے ہیں  ان کا استدلال زیادہ تر  مذکورہ بالا آیات  اور احادیث  میں ریٹایرمنٹ کے مفہوم پر مبنی ہے۔ اس کے برعکس علما کی اکثریت جو ریٹایرمنٹ کے جدید مفہوم کی رعایت سے  اسے جائز قرار دیتی ہے  وہ  قرآن اور حدیث کے ساتھ ساتھ  نبی کریمؐ اور خلفائے راشدین کی  سیرت سے استدلال کرتے ہیں۔ قرآن  کریم  میں باہمی تعاون اور ایک دوسرے کی کفالت کی ذمہ داری (المائدہ: ۲) اورحکومت کی سطح پر  زکوۃ اور بیت المال کے بارے میں احکام (الانفال: ۴۱ ، التوبہ: ۶۰، الحشر: ۷) سے  استدلال کرتے ہیں۔ سیرت النبی میں حلف الفضول کے علاوہ یمن کے  اشعری قبیلے  کے  ایک رواج کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے کہ  غزوہ ، قحط سالی یا  ہنگامی صورت حال میں قبیلہ کے لوگ  اپنا کھانا اور مال ایک جگہ جمع کرلیتے  اور سب مل کر ایک ہی برتن میں کھانا کھاتے اور ضرورت کے مطابق مال لیتے۔ رسول اللہ نے ان کے اس رواج کی تعریف کرتے ہوے کہا کہ وہ میرے  ساتھ ہیں اور مین ان کے ساتھ ہوں (بخاری، مسلم)۔حضرت عمر نے ایک بوڑھے غیر مسلم کو بھیک مانگتے دیکھا۔ پوچھنے  پر اس نے بتایا  کہ محتاجی اور بڑھاپے نے بھیک مانگنے پر مجبور  کر دیا۔  آپ نے  بیت المال سے اس کا وظیفہ مقرر کرتے ہوے فرمایا: اللہ کی قسم ہم نے انصاف نہیں کیا۔ ہم  بڑھاپے تک ان کی کمائی کھاتے ہیں  اور ان کی محتاجی کی عمر میں انہیں ذلیل ہونے کے لئے چھوڑ دیتے ہیں ۔ آپ نے خالد بن ولید کو  حکم دیا  کہ جو شخص   بھی ضعیف ہو اور کام نہ کر سکے یا کسی حادثے کی وجہ سے محتاج ہو جائے  اس کا جزیہ معاف کرکے  بیت المال سے اسے اور اس کے خاندان کو  عطیات   (وظیفہ، پنشن )  دئے جائیں۔ حضرت عمر نے اس کام کے لئے باقاعدہ دیوان ( محکمے اور رجسٹر) قائم کئے۔ جن میں بیت المال سے وظائف اور عطیات کا حساب رکھا جاتا اور ان لوگوں کے نام درج ہوتے جن کو  یہ وظائف ملتے تھے۔ مشہور ہے کہ یورپ میں یہی نظام عمر لا کے نام سے متعارف ہے۔ اس دعوی کی  توثیق نہیں ہو سکی۔ تاہم اس میں شک نہیں کہ حضرت  عمر کے مذکورہ بالا  اقوال اور سیرت کی روشنی میں علما اور فقہا   نے اسلام میں فلاحی ریاست اور پنشن کے تصور  کو جائز قرار دیا ہے۔ علما، فقہا ، اور صوفیا  اور امرا  کے علاوہ ضرورت مندوں اور محتاجوں کو  وظائف دینا  مسلم حکمرانوں  کا معمول رہا ۔

ریٹایرمنٹ کے  ضمن میں  بعض علما نے جن تحفظات  کا اظہار کیا اس کی بنیاد چند شبہات ہیں    جن میں  سے ایک تو  یہ ہے کہ ریٹایر منٹ  کا مقصد لوگوں کو کام سے روکنا ہے۔ ریٹایر منٹ   کے  نفسیاتی ، معاشی اور معاشرتی اثرات  کا ذکر بھی آتا ہے۔  ریٹایرڈ شخص   خود کو بےکار سمجھنے    لگتاہے۔  سوچتا ہے کہ اہل خانہ اسے بوجھ سمجھتے ہیں۔ لوگ ملنے سے گریز کرتے ہیں۔ وہ بہت جلد بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر اور حکیم بھی   تسلی میں یہی کہتے ہیں کہ بڑھاپا ساری بیماریوں کی جڑ ہے۔  ریٹایر ہونے پر  رفقائے کار بھی اسے گھڑی کا تحفہ دیتے ہیں کہ اب  گھڑیاں گن کر  وقت گذارو۔ گھڑیال  کی   موسیقی اب اس بات کی منادی لگتی ہے کہ  عمر کی ایک اور گھڑی گھٹ گئی۔ ساٹھ  اور ستر سال کے نام سے سٹھیا جانے اور  کھوسٹ  کے الفاظ اور محاورے  ریٹایرڈ  شخص کو ناکارہ    ہونے کا طعنہ دیتے ہیں۔ سب لوگ  اسے   دنیا  کے مشاغل ترک کرکے اللہ کی یاد میں مصروف ہونے کی تلقین کرتے ہیں۔ گویا اللہ کو  صرف بڑھا  پے میں یاد کرنا چاہئے۔ یہ ساری معاشرتی  سوچیں ہیں۔

ہندو دھرم  میں  زندگی کے چار ادوار (آشرم )  بتائے جاتے ہیں۔ پہلا برہما چاریہ آشرم   طالب علمی کا دور  جوانی تک، دوسرا گرہ استھا آشرم ، گھر گرہستی کا دور   جب جوانی میں شادی اور بیاہ کے بعد گھر بار کی طرف دھیان دیا جاتا ہے۔ تیسرا  وانا پرستھا آشرم، گوشہ نشینی کا دور جب   مذہب کی طرف دھیان دیتے ہوے جنگل میں  عزلت اختیار کرنا چاہئے۔ چوتھا  سنیاس آشرم  جب  دنیا سے منہ موڑ کر خود کو   عبادات    کے لئے وقف کردی۔ مسلمان حکما بھی  زندگی کو چار حسوں میں تقسیم کرتے ہیں:  بچپن،  جوانی،  ادھیڑ عمر اور بڑھاپا۔ تاہم اسلام ترک دنیا کا دین نہیں۔ جن آیات کا ذکر ہوا ان میں بھی یہی کہا گیا ہے کہ یہ مہلت کا وقت ہے۔ اگر اللہ کو جوانی  میں یاد نہیں کیا اور اپنے علاوہ دوسروں کی طرف دھیان نہیں دیا تو یہ کمی پورا کرنے کا وقت ہے۔

ریٹایرمنٹ   کے بارے میں یہ خیال بھی  غلط ہے کہ یہ رزق کا دروازہ بند ہونے کا زمانہ ہے۔ اگر  ہمت اور طاقت ہے تو  کام کو جاری رکھنے میں کیا رکاوٹ ہے۔ یہ تصور عام طور پر سرکاری ملازمت میں ہی  ممکن ہے جہاں بہت سے لوگ تنخواہ کو بھی وظیفہ اور پنشن سمجھ کر لیتے ہیں کہ اس کے معاوضے میں کام کرنا ضروری نہیں۔  یا کام صرف   ملازمت کا ہی نام ہے۔غیر سرکاری اداروں، تجارت یا  اپنا  ذاتی کام کرنے والے ان وسوسوں کا شکار نہیں ہوتے۔ الغرض اس نفسیاتی اور معاشرتی صورت حال کی ذمہ داری  ریٹایرمنٹ کے تصور پر نہیں ڈالی جاسکتی۔

ریٹایر منٹ اور پنشن کے بارے میں فتاویٰ

ریٹایر منٹ  کے  جواز میں  ڈاکٹر سعود بن عبداللہ الفنیسان کا  فتوی بہت تفصیلی ہے ۔  ان کا تعلق سعودی عرب کی جامعہ امام السعود کے کلیہ  الشریعہ سے ہے۔ یہ فتوی پاکستان سے  ایک استفتا کے جواب میں ۱۴۲۵ ھ( ۲۰۰۴ ) میں لکھا گیا۔ اس فتوی کے اہم نکات یہ ہیں:

۱۔ ریٹایر منٹ کے قوانین   کا  سود  یا بیمہ سے کوئی تعلق نہیں۔’’ میں کسی ایسے عالم کو نہیں جانتا  جس نے کسی مستند دلیل کی بنیاد  پر پنشن ( معاش التقاعد) کو حرام قرار دیا ہو۔

۲۔ بیمہ عقد معاوضہ ہے اور پنشن عقد تبرع۔ معاوضہ میں فریقین     ایک معاہدے کے تحت لین دین کرتے ہیں۔ تبرع میں ایک فریق اپنی خوشی سے دوسرے فریق  کی خدمات کے اعتراف میں خیر خواہی کے طور پراضافی عطیہ دیتا ہے۔ عقد تبرع کو نہ معاوضہ کا معاہدہ کہا جا سکتا ہے نہ  سود کہ سکتے ہیں۔

۳ ۔ یہ شبہ  بھی درست نہیں کہ پنشن کی جمع شدہ رقم پر زکوۃ ادا  کرنا ضروری ہے  ۔ پنشن فنڈ  ملازم کی ملکیت نہیں ہوتا۔

۴۔ زکوۃ کا نصاب سونے اور چاندی پر ہے۔ آج کے درہم، دینار اور ڈالر اور روپے سونا  چاندی نہیں۔  ان کے قایم مقام ہیں۔ ان کی قیمت میں کمی بیشی  سونے اور چاندی کی بازار میں قیمت کے حساب سے نہیں بلکہ  ریاست کی اقتصادی  قوت اور کمزوری کے لحاظ سے  ہوتی ہے۔ ملازم   اگر پنشن پر زکوۃ دینا چاہے تو پنشن ملنے پر اس فنڈ میں اپنی کٹوتی کے حساب سے دے سکتا ہے۔ لیکن یہ واجب نہیں اس کی اپنی صوابدید ہے۔

۵۔ ریاست کے ملازمین  اور ان کے اہل  خانہ کی فلاح و بہبود  کی ذمہ داری  ولی الامر پر ہے۔ اس لئے پنشن ریاست کی ذمہ داری ہے

۶۔ اسلامی تعلیمات میں  بیت المال میں محتا جوں کا حق ہے۔

۷ ۔ پنشن ملازم  کا ذاتی حق ہے،اس لئے اس کی وفات پر پنشن کا حق رشتہ داروں کو منتقل نہیں ہوتا۔ اگر ملازم نے کسی کو نامزد کیا ہے تو یہ حق اسی کو منتقل  ہو گا۔ ملازم کی وفات پر   جمع شدہ پنشن  پر وراثت کا قانون   لگ سکتا ہے۔

علما میں اختلاف  کے اسباب

علما کی اکثریت  قرآن و سنت کی روشنی میں   ریٹایر منٹ کو جائز سمجھتی ہے۔  علمائے مغرب کے اجتماعات  منعقدہ فاس ۱۳۳۲ ھ ( ۱۹۱۴ ) ،  علمائے اسلام کی  دوسری کانفرنس منعقدہ  قاہرہ  ۱۳۸۵  ھ ( ۱۹۶۵ ) ، ساتویں کانفرنس  ۱۳۹۲ ھ (۱۹۷۲)، مجلس کبارالعلما ، سعودی عرب ۱۳۹۷ ھ (۱۹۷۷) ،  مجمع فقہ اسلامی، رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ ۱۳۹۸ھ  (۱۹۷۸ )کی قرار دادوں اور شیخ سعود بن عبداللہ الفنیسان کے ۱۴۲۵ ھ (۲۰۰۴) کے فتوی  میں ریٹایرمنٹ کو  اسلامی نقطہ نظر سے  متفقہ طور پرجائز   بتایا گیا ہے۔ تاہم بعض  نامور علما  کے نزدیک   جن میں  سعودی عالم  خالد بن محمد الانصاری شامل ہیں ، اسلام میں ریٹایر منٹ کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا۔ ، یہی موقف’’ و  ذکر‘‘ نامی ویب سائٹ کا بھی ہے۔  ان کا کہناہے کہ اسلام محنت کرکے روزی کمانے پر زور دیتا ہے  اس لئے مسلمان کے لئے موت تک  کام کرتے رہناواجب ہے۔ البتہ جب بیماری، حادثے یا بڑھاپے کی وجہ سے  انسان معذور ہو  جائےتبھی وہ  اس ذمہ داری سے سبکدوش ہو تا  ہے۔وہ ریٹایر منٹ کے اس جدید تصور کے خلاف ہیں  کہ محض اس وجہ سے کہ ایک شخص  ساٹھ سال کا ہو گیا ہےاسے  صحت اور تندرستی کے باوجود ملازمت سے فارغ کردیا  جائے۔ وہ  اپنے استدلال میں خواتین کے بارے میں  احکام  کا  ذکر کرتے ہیں  کہ چونکہ ان کی بنیادی  ذمہ داری  گھر کا کام کاج ہے اس لئے  اس معاملے  میں ریٹایر منٹ کا کوئی تصور نہیں۔ان تمام   دلائل کے لئے وہ  بھی قرآنی آیات  اور احادیث سے استدلال کرتے ہیں۔ تاہم  اس سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں  کہ ریٹایر منٹ کے بارے میں اختلاف قرآ ن  یا احادیث میں پایا جاتا ہے کیونکہ وہاں تو یہ موضوع زیر بحث ہی نہیں۔یہ  اختلاف  در اصل علما      سے تعلق رکھتا ہے جو  ریٹایر منٹ  کے معنی، تصور اور مقصد کے سمجھنے میں ایک دوسرے سے اتفاق نہیں کرتے ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...