پاکستانی وزرائے خزانہ کیوں پسند نہیں کیے جاتے

عثمان حیات

348

اسحٰق ڈار 2013 سے اب تک اپنی وزارتِ خزانہ کی وجہ سے مسلسل تنقید کی زد میں رہے ہیں۔بڑھتے ہوئے قرضوں سے لےکر سکڑتی ہوئی برآمدات تک ، انہیں ملکی معیشت کی تباہ حالی کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے ۔ان کی اقتصادی پالیسیوں کو ڈار نومکس کہا جاتا ہے، اور اکاؤنٹنٹ کہہ کر ان کا تمسخر اڑایا جاتا ہے۔ تاہم عالمی مالیاتی ادارے سمیت بیشتر مبصرین  اقتصادی استحکام اور معاشی نمو  کیلئے ان کی تحسین کرتے رہے ہیں۔سرحد پار بھی اسی طرح کی صورتِ حال ہے جہاں بھارتی وزیرِ خزانہ ارن جیٹلی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ عالمی بینک کی  جانب سے ” کاروباری مواقع میں آسانی ” کی بنا پر کی گئی  درجہ بندی میں بھارت کو 30 ویں درجے پر لائے ہیں ، لیکن حزبِ اختلاف کے راہنما غیر رسمی شعبہ جات میں نوکریوں  میں کمی   کے باعث وزیرِ خزانہ   کو چھوٹے کاروباری مواقع کی بندش کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔تجارتی منڈیوں کی بدحالی ،   برآمدات میں خاطر خواہ کمی اور بڑھتی ہوئی عدمِ مساوات کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے حزبِ اختلاف ارن جیٹلی کو  بھارتی تاریخ کا بدترین وزیرِ خزانہ گردانتی ہے۔ ان کے مطابق اسحٰق ڈار  کے بارے میں کیے گئے  بیشتر   تبصروں میں اسحٰق ڈار کی جگہ  ارن جیٹلی کا نام لکھ دیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔

وجہ صاف ہے، لوگوں  کو  کسی ایسے شخص کی تلاش ہوتی ہے جسے وہ  اپنے معاشی   مسائل  پر  دوش  دے سکیں اور ایسا کرنے کیلئے    وزرائے خزانہ  سے بہتر   ہدف کوئی اور   نہیں ہو سکتا۔اس سے قطع نظر کہ یہ مسائل اسے ورثے میں ملے، یا وہ ان مسائل کوپیدا کرنے والوں میں سے ایک ہے یا پھر یہ کہ ان کو حل کرنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں، وزارتِ خزانہ میں موجود شخص کو اقتصادی بدحالی کا موجب قرار دے دیا جاتاہے۔ تمام تر معاشی زبوں حالی کا ذمہ دار  وقت کے وزیرِ خزانہ کو ٹھہرانے کے باوجود ہم انہیں بہت جلد بھول جاتے ہیں۔پاکستان میں اب تک  وزارتِ خزانہ کا قلمدان    سلیم منڈوی والا،  عبد الحفیظ شیخ، شوکت ترین، شوکت عزیز، نوید قمر، بے نظیر بھٹو، سرتاج عزیز، میاں یاسین خان وٹو، محبوب الحق، غلام اسحٰق خان ، عبد الحفیظ پیرزادہ، مبشر حسن ، نواب مظفر علی خان قزلباش، سید محمد احسن، این ایم عقیلی، عبد القادر، محمد شعیب، سید امجد علی،  چوہدری محمد علی اور غلام محمد کے پاس رہا ہے۔ یاد رہے  کہ ان ناموں میں عبوری  اورنگران  وزراء کے نام شامل نہیں ہیں اور ان میں ترتیب کا  خیال بھی نہیں رکھا گیا ہے۔ آپ نے ان میں سے  کچھ کو   اپنی اوائلِ عمری میں دیکھا ہو گا لیکن  میرا گمان ہے کہ   ان میں سے بہت کم کو آپ جانتے ہوں گے،  اور ان میں سے  بھی بیشتر ایسے ہیں جو بعد ازاں وزراتِ عظمیٰ یا  کرسیِ صدارت  پر براجمان  ہوئے ۔   ان میں سے ایک نام بھی ایسا نہیں جو  بطور وزیرِ خزانہ پاکستانیوں کا اعتماد حاصل کر پایا ہو۔تاہم وزارئے اعظم یا ہمارے صدور کے بارے میں عوامی رویے اس طرح کے نہیں ہیں۔وہ حقیقی یا مصنوعی کارناموں اور چنیدہ نظریات کی بدولت   عام پاکستانیوں کو اپنا اسیر کرلیتے ہیں اور انہیں کی سبب تا دیر یاد رکھے جاتے ہیں۔

یہ فرق وزیرِ خزانہ کے کام کی  مخصوص نوعیت   کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔اس کا کام لوگوں کے دل و دماغ میں گھر کرنا نہیں،  معاشی وسائل پید ا کرنا اور انہیں خرچ کرنا اس کی ذمہ داریوں میں شامل ہوتا ہے۔یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ وہ  مالیاتی پابندی، ضابطوں میں نرمی ،نجکاری اور آزادنہ تجارت   جیسی انتظامی اصلاحات کے لیے  جدوجہد کرے گا ۔یہ تمام امور  پرہیزی کھانے، جراحی، مشق  ، اور دوا جتنے ہی پسندیدہ ہو سکتے ہیں اور ظاہر ہے یہ اشیاءمحبت کے اجزائے ترکیبی نہیں ہیں۔1624 میں کنگ جیمز نے دارالامراء میں تقریر کے دوران مشاہدہ کیا تھا کہ ” وہ اپنے آقاؤں کی جتنی بھی اچھی خدمت کر لیں ، ان کا سرمایہ عموماً نفرت ہی ہوتی ہے۔”  ہمارے وزراء اچھی خدمت نہیں کرسکتے ، بہرحال نفرت  ان کا مقدر بنتی ہے۔ ملک میں مالیاتی خسارے کی  سیاسی اقتصادیات ، جو  وزرائے خزانہ کو اپنی ذمہ داریاں صحیح طرح ادا نہیں کرنے دیتی، کیلئے تو ان پر ترس کھانا چاہئے۔صاحبان ِاقتدار آئندہ انتخابات کیلئے مالیاتی خسارے کو برقرار اور کسی بھی طرح کی اصلاحات کو ملتوی کئے رکھتے  ہیں۔یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ 70 برسوں کے دوران کوئی بھی وزیرِ خزانہ امراء  و  اہلِ طاقت  کو  محصولاتی نظام کے تابع نہیں کر سکا، اور جو بھی ایسا کرنے  کیلئے پیش رفت کرے گا، وہ  مزید  وزیرِ خزانہ کی کرسی پر  نہیں رہ  پائے گا۔

قسمت بھی ہمارے وزرائے خزانہ کا ساتھ نہیں دیتی۔پاکستانیوں کی اکثریت   اپنی آرزوؤں اور تمناؤں کی تکمیل کی  فقط  خواہش کر سکتی ہے اسی لئے  یہ بعید از قیاس ہے کہ وہ اس بات پر یقین کر لیں کہ کسی وزیرِ خزانہ  کے دورِ وزارت میں ملکی خزانے میں اضافہ ہوا ہے۔ جو اپنی خواہشات کی تکمیل کر پاتے ہیں، وہ اسے اپنی  قسمت اور محنتِ شاقہ کا ثمر قرار دیتے ہیں۔ ممکن ہے وہ لوگ غلط نہ ہوں۔ہم ایک ایسے ملک کے شہری ہیں جس کی حکومتی مشنری انتہائی حد تک ناکارہ  ہے اور جہاں   معاشی حساب کتاب کا  کوئی جامع نظام العمل موجود نہیں ہے۔پاکستان میں عوامی سطح پر ہونے والے  بیشتر مالیاتی  معاملات پر وزیرِ  خزانہ کی پالیسیاں کوئی خاص اثرا نداز نہیں ہوتیں۔حالات اس قدر بدتر ہو چکے ہیں کہ انہیں سدھارنے کیلئے کسی  عام شخص کی نہیں، دیومالائی خواص کے حامل  کسی انسان کی ضرورت ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ دفاعی اخراجات  اور قرضوں کی ادائیگی  کے سبب کسی بھی وزیرِ خزانہ کیلئے  ان حالات میں سلجھاؤ  کے راستے مسدود ہوتے جارے ہیں۔محققین نے اس راز سے پردہ اٹھانے کیلئے کافی کام کیا ہے کہ آخر وہ کون سی خصوصیات ہیں جو کسی شخص کو ایک موزوں وزیرِ خزانہ بناتی ہیں۔ جرمن تجربات کی بنیاد پر ایک تحقیق میں یہ نتائج اخذ کیے گئے ہیں کہ متعلقہ شعبہ میں خاطر خواہ تجربہ ایک ایسی خاصیت ہے  جس کی بدولت مالیاتی خسارے کو کم کیا جا سکتا ہے۔باوجود اس کے کہ یہ نتیجہ ایک حد تک معقول ہے  لیکن پاکستان کے حالات اس سے آگے بڑھ چکے ہیں۔  2009 میں زمبابوے کے وزیرِ خزانہ کی طرف سے کہے گئے الفاظ کا بجا طور پر یہاں اطلاق کیا جا سکتا ہے  کہ ” میری ذمہ داری دنیا کی بد ترین ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔” سچ یہی ہے کہ ہمارے وزرائے خزانہ ایک دشوار مہم پر بھیجے جاتے ہیں ۔ جہاں وہ فتح یاب ہو سکتے ہیں نہ انہیں عوام کی  محبت میسرآ سکتی ہے۔

 

(ترجمہ: حذیفہ مسعود، بشکریہ : ڈان)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...