سیاسی فیصلے۔۔۔سیاسی میلے

604

وہی ہوا جو زبان زد عام تھا۔ تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین نااہل، جھوٹا، فریبی اور مکار قرار پائے جبکہ اسی نوعیت کے معاملے میں  عمران خان صداقت و امانت کے تمام درجات پر فائض پائے گئے۔ قصہ یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ سابق وزیر اعظم نواز شریف پانامہ نظرثانی فیصلے کے بعد اس مقدمے میں تیسری بار بھی نااہل قرار دیےگئے۔اب اگر کوئی یہ کہے کہ کتنا سچا ہے نواز شریف وہی ہوا جیسا کہ موصوف نے کہا تھا تو یہ جھوٹ بھی نہیں ہوگا۔ عمران خان کے مقدمات میں بھی نواز شریف کو ہی نااہل قرار دے دیا گیا۔

چیف جسٹس پر مشتمل تین رکنی بنچ میں شامل جسٹس فیصل عرب نے عمران خان کے کیس کا موازنہ نواز شریف کے کیس کے ساتھ کرنے کی غرض سے اضافی نوٹ بھی تحریر کر ڈالا۔ اضافی نوٹ کے مطابق نواز شریف ہی نااہلی کے معیار پر پورا اترتے ہیں۔چیف جسٹس نے تو اپنے فیصلے میں پہلے ہی اہتمام کے ساتھ نواز شریف اور عمران خان پر تفصیلی اظہار خیال کر لیا تھا، پھر اضافی نوٹ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ سوال یہ بھی ہے کہ اس مقدمے میں ایک نظر ثانی شدہ پانامہ کیس کو زیر بحث لانے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی؟کیا اس فیصلے کی ذریعے عوامی اجتماعات اور میڈیا پر ہونے والی بحث کو سمیٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پھر جب تشفی نہیں ہوئی تو وضاحتوں کے انبار لگا دیے گئے۔دعوی کیا گیا تھا کہ پانامہ کے بارے میں فیصلہ20 سال تک یاد رکھا جائے گا۔  لیکن کیا پانامہ پر 20 سال تک ہر مقدمے میں لکھا جاتا رہے گا؟

نواز شریف اب وہی کر رہے ہیں جس کی امید کی جا رہی تھی۔ عوام کی عدالت میں اپنا سیاسی مقدمہ عدلیہ اور ججز پر شدید تنقید کرکے لڑ رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے خلاف فیصلے کو انصاف کا دہرا معیار قرار دیا۔ جہاں عمران خان کو لاڈلا قرار دیا وہیں نواز شریف نے عدلیہ سے جنرل مشرف غداری کیس پر پیش رفت کا بھی پوچھ ڈالا۔ سابق فوجی آمرنواز دور حکومت میں کمر درد کے بہانے ملک سے باہر چلے گئے تھے۔ موجودہ حکومت کبھی ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور کبھی عدلیہ کو اس کا ذمہ دار قرار دے رہی ہے۔

سیاسی نوعیت کے مقدمات قانونی عدالت میں کم اورعوامی عدالت میں زیادہ لڑے جاتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کو بھٹو کی پھانسی کا انصاف عدالتوں سے نہ ملا تو اس کا خمیازہ عوامی عدالت نے اس جماعت کو کبھی حکومت اور کبھی اپوزیشن میں بٹھا کر کیا۔ نواز شریف خود ججز کو بھی عوامی انصاف کے ذریعےانصاف کی مسند تک پہنچانے والوں میں شامل رہے۔ سابق فوجی آمر جنرل مشرف نے جب انھیں جلا وطن کردیا تو پھر عوام نے انھیں اقتدار کا تاج پہنایا۔

اب پھر امید کا محور عوام ہی ہیں۔ وہی عوام جو اقتدار کی مسند پر براجمان ہوتے ہی سب کو بھول جاتی ہے لیکن جب ان کو نیچے گرایا جاتا ہے تو پھر سب سے پہلے بھولا ہوا سبق یاد آجاتا ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان میں عدلیہ کی تاریخ زیادہ روشن نہیں رہی ہے۔ اس کی مثال ماضی میں چار بار فوجی بغاوتوں کو قانونی جواز فراہم کرنے سمیت ملک کے سب سے پہلے منتخب وزیراعظم کو پھانسی کے پھندے تک پہنچانا بھی عدلیہ کے سیاہ اوراق کا حصہ ہے۔

عدلیہ کو سیاسی مقدمات میں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ سیاستدان اداروں کو ورغلاتے رہتے ہیں لیکن ادارے اپنی حد سے باہر کبھی نہیں نکلتے اور جب وہ یہ غلطی کرتے ہیں تو پھر خمیازہ ضرور بھگتنا پڑتا ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے آئینی ترمیم کے حوالے سے ایک فیصلے میں لکھا کہ ملک میں فوجی آمریت کو ہمیشہ سے ہی استثنیٰ حاصل رہا جبکہ سیاستدانوں کو کرپشن اور اس طرح کے الزامات سے سزائیں سنائی جاتی رہی ہیں۔ پھر انھوں نے سیاستدانوں کو نااہل قراردیے جانے والے فیصلوں سے باز رہنے کا مشورہ بھی دیا۔مگریہ سلسلہ رکنا تھا  نہ رکاہے۔

سپریم کورٹ کی طرف سے نوازشریف کو جس طرح اقامہ کی بنیاد پر نااہل قراردیا گیا عوام میں یہ فیصلہ مقبول نہ ہوسکا۔ مقدمہ بڑی کرپشن کی کہانیوں کے گرد گھومتے گھومتے چند ہزار درہم پر پہنچا دیا گیا۔ اہم مرحلے پر نیب کو نظر اندا کیا گیا اور پھردیر کر کے اس ادارے کو تمام مقدمات  جلد منطقی انجام تک پہنچانے کا ٹاسک بھی دے دیا گیا۔ بدقسمتی سے نیب کا اپنا ریکارڈ پہلے اچھا تھا اور نہ ہی بعد میں کوئی صورت نظر آ رہی ہے۔

اگر فوجی آمر نے سیاستدانوں کو ان کی اوقات یاد دلانے کے لیے قوم کے نام پر احتساب بیورو کا قیام عمل میں لایا تو بعد میں جمہوری حکمرانوں نے اسی ادارے کو کلین چٹ حاصل کرنے کی لانڈری کے طور استعمال کیا۔

عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف سماعت ایک سال تک جاری رہی۔ ہر پہلو سے بے قاعدگیوں کا جائزہ لیا گیا۔ ترین پر ان سائڈ ٹریڈنگ کے الزامات بھی سچ ثابت ہوئے۔ یہ نکتہ کہ جہانگیر ترین  نے غیر قانونی طور پر 18 ہزار5 سو66 ایکڑ سرکاری اراضی پر قبضہ کیے رکھا جب عدالت کے سامنے آیا تو اس کو تفصیل سے سنا گیا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ یہ مقدمہ عدالتوں میں زیر التواء ہے تو عدالت نے یہ قرار دیا کہ پھر بھی اس کیس کوتفصیل سے سنا جا ئے گا۔ جہانگیر ترین اس حوالے سے کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکے تو پھر تفصیلی فیصلے میں لکھ دیا گیا کہ یہ مقدمہ ابھی مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہے۔

اس حوالے سے نہ کوئی ہدایت جاری کی گئی اور نہ ہی مشترکہ تحقیاتی ٹیم وجود میں آسکی۔ اگر فیصلہ کرنا مقصود نہیں تھا تو پھر میرٹ پر اس کیس کو سنا ہی کیوں گیا؟ عمران خان آف شور کمپنی سے متعلق بار بار موقف بدلتے رہے اور پھر تسلیم بھی کر لیا کہ انھوں نے اس فرم کو ظاہر نہیں کیا تھا تو فیصلے میں اسے ایک معمولی غلطی قرار دے کر کپتان کو بے گناہ قراردے دیا گیا۔

عدالتی فیصلے عوام کی میراث ہوتے ہیں۔ ان پر تنقید کی جاسکتی ہے۔ نوازشریف بھی ان فیصلوں پر بھرپور تیر برسارہے ہیں لیکن سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ریاست کے اداروں کی تضحیک کرکے ملک و قوم کی کون سی بڑی خدمت انجام دی جاسکتی ہے؟ جب حکمران تنقید کرتا ہے کہ ملک میں انصاف کا نظام نہیں ہے تو پھر سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار وہ کس کو قرار دے رہے ہیں اور کس کے خلاف مہم جوئی کررہے ہیں؟ اگر ملک میں ریاستی اداروں نے اپنی حدود کو نہ پہچانا اور حکمران اپنے فرائض سے غافل رہے تو پھر عبرت کے لیے مشرق وسطیٰ  کی کسی بھی ایک  ریاست کا نقشہ دیکھاجاسکتا ہے۔

 

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...