تحریک انصاف کا ایک باغی کارکن

462

2013 کے الیکشن میں بھرپور انتخابی مہم چلانے والے تحریک انصاف کے ایک سرگرم کارکن کچھ عرصہ سے عمران خان پہ سیاسی گولہ باری اور تنقید کے نشتر چلاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ دوست ہونے کے ناطے میں اس وقت بھی جب وہ عمران خان کی محبت میں گرفتار ہو چکے تھے ، انہیں حمایت و مخالفت میں اعتدال اورتوازن اختیار کرنے کی تلقین کرتا تھا۔ میرے یہ دوست  انتہائی تعلیم یافتہ، زیرک اورجذبات سے بھرپور شخصیت کے مالک ہیں۔ مسلسل وہ میرے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں اور ہم ایک دوسرے سے فقط سیاسی نہیں بلکہ ذاتی معاملات پہ بھی تبادلہ خیال کرتے رہتے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا تحریک انصاف سے اس دوری کا آغاز کب اورکہاں سے شروع ہو ا؟ وہ بولے کہ میں نے 2013کے الیکشن میں تحریک انصاف کو ہر طرح سپورٹ کیا، انتخابات سے قبل عمر ان خان نے جس سیاسی بلوغت کا اظہارکیا، پارٹی میں الیکشن ہوئے، جسٹس وجیہہ الدین جیسے ایماندار شخص کو ذمہ داریاں سونپی گئی، تھنک ٹینکس کے قیام اور ان کی کارکردگی سے تحریکی اورملکی معاملات کو جمہوری طریقے سے حل کرنے کی تجاویز زیر غور آئیں۔ مجھے محسوس ہوا میں جس جماعت کی تلاش میں تھا وہ جماعت تحریک انصاف ہے۔ عمران خان کا دوسو فیصد یقین تھا کہ الیکشن ہم جیتیں گے اورحکومت ہم بنائیں گے لیکن ا لیکشن میں ہمیں وہ پوزیشن نہ مل سکی جس کی ہم توقع رکھتے تھے۔ خیبر پختونخواہ میں ہم حکومت بنا نے میں کامیاب ہوئے۔ خیبرپختونخواہ کی حکومت سے  میں کسی حد تک مطمئن ہوں کہ انہوں نے چند شعبوں میں بہتر کارکردگی دکھائی ہے لیکن اگر وہ چاہتے تو اس سے بھی بہتر کارکردگی دکھا سکتے تھے، لیکن اس نے اپنا وقت اور صلاحیت جلسے، جلوسوں اور دھرنوں کی نذر کردیا۔ میں اپنے دوست کوواپس اسے نکتے پہ لایا مجھے یہ بتاؤ کہ یہ دوری کب اور کیوں ہوئی۔ اس نے مجھے ڈانٹنے کے انداز میں کہا اب خاموشی سے سنو تمہیں ہر سوال کا جواب مل جائے گا۔ کہنے لگا ، الیکشن کے فوراً بعد عمران خان نے الیکشن کے نتائج تسلیم کرنے کا بیان جاری کیا لیکن کچھ عرصے کے بعدانہوں نے حکومت گرانے کی تحریک پہ غور وخوض شروع کر دیا۔ مجھ سمیت بہت سے لوگ عمران خان اورجماعت کے دیگر راہنماؤں سے دو باتوں کی توقع رکھتے تھے۔ ایک بات خیبر پختونخواہ کی تعمیر و ترقی کی طرف بھرپور توجہ دوسری بات پارلیمنٹ میں حکومت کو قانون سازی اورنفاذِ قانون پہ ٹف ٹائم دینا۔
تمہیں معلوم ہے میں نے برطانیہ میں تعلیم حاصل کی ہے اورزندگی کے کئی سال سیاست و جمہوریت کو سمجھتے اور پڑھنے پہ لگائے ہیں ۔ مجھے اس بات کی خوشی تھی کہ عمران خان اورتحریک انصاف پارلیمنٹ میں بطور اپوزیشن اپناوہ کردار ادا کریں گے جس سے قوم کو یقین ہو جائے گا اگر آئندہ حکومت تحریک انصاف کی ہو گی تو ملک میں جمہوریت مضبوط ہو گی اورعوام کے حقوق محفوظ ہوں گے لیکن انہوں نے ایک روایتی اپوزیشن کا کردارہی ادا کیا۔ کیا تبدیلی حکومت میں آکر ہی لائی جا سکتی ہے؟۔ کیا حکومت سے باہررہ کر سنجیدہ طرزِ سیاست سے تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔عمران خان اپنے آس پاس کرپٹ لوگوں کو بٹھا کر نواز شریف کی کرپشن کے خلاف بات کرتا ہے مجھے یہ اصولی نہیں ذاتی لڑائی لگتی ہے۔
میں جب نوجوان نسل کو دیکھتا ہوں وہ مجھے اب زیادہ بدتمیز اور بدزبان دکھائی دیتی ہے ۔ میں نے اسے فوراً ٹوک کر کہا اس کاالزام عمران خان کو مت دو۔ یہ طرزِ کلام بہت پہلے سے ہے ۔اس نے درمیان میں روک کر کہا میں یہ بات سمجھتا ہوں جو تم کہہ رہے ہو لیکن میں اپنی توقعات کی بات کر رہا ہوں جو تحریک انصاف سے وابستہ تھیں کہ وہ مختلف سیاسی کلچر کی بنیاد رکھے گی جس میں سیاسی اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا احترام ہو گا۔ تحریک انصاف ، مسلم لیگ اورپیپلز پارٹی سے جُدا انداز اختیار کرتے ہوئے ، ہمارے لئے پاکستان کی سیاست میں امید کی کرن بنے گی۔
وہ کہتے ہیں کہ  مجھے اس وقت شدید دھچکا لگا جب عمران خان نے طاہر القادری کے ساتھ اتحاد کر لیا اوردونوں دھرنا دینے اسلام آباد پہنچ گئے۔ طاہرالقادری ایک غیرجمہوری شخص ہے۔ اس کے مزاج میں پختگی نہیں ہے وہ ایک موقع پر ست انسان ہے۔ وہ صرف اس پہ ہی خوش ہے کہ اسے قومی سطح کا راہنما مانا جائے ۔ اخبارات میں شہ سرخی میں اس کے بیانات شائع ہوں خواہ اسے الیکشن میں ایک سیٹ نہ ملے۔میں نے اسے کہا تمہیں معلوم نہیں عمران خان طاہرالقادری کے ساتھ سیاست کر رہا ہے اور اس کے وسائل استعمال کر رہا ہے ۔ کہنے لگا نہیں عمران خان اپنے پاؤں پہ کلہاڑی نہیں کلہاڑا مار رہا ہے۔
بدھ کی صبح اس نے فون کر کے مجھے ڈرادیا ،کہنے لگا تم نے رات خبریں سنیں یا صبح کی اخبار پڑھی ہے میں نے کہا نہیں اُس نے بتایا عمران خان نے کہا ہے “میں آصف زرداری کے ساتھ بیٹھنے کے لئے تیار ہوں” بولا جو سفر جہانگیر ترین، عبدالعلیم خان کے ساتھ شروع ہوا اس کا انجام یہی ہونا تھا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...