احمدیوں کی مذہبی اور آئینی حیثیت کی بحث

3,144

احمدیوں کی تکفیر اور ختم نبوت سے متعلق امت مسلمہ کے اجماعی عقیدے کے تحفظ کے ضمن میں ہمارے ہاں کی جانے والی قانون سازی گزشتہ دنوں بعض مبینہ قانونی ترمیمات کے تناظر میں ایک بار پھر زیر بحث آئی۔ اس تناظر میں والد گرامی مولانا زاہد الراشدی نے اپنی ایک حالیہ تحریر میں بعض توجہ طلب سوالات دینی حلقوں کے غور وفکر کے لیے اٹھائے۔ ان میں سے ایک نکتہ یہ ہے کہ “چوتھی بات اس مسئلہ کے حوالہ سے ان حلقوں کے بارے میں کرنا چاہتا ہوں جو 1974 کے بعد سے مسلسل مسئلہ ختم نبوت کے دستوری اور قانونی معاملات کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ یہ بین الاقوامی ادارے ہوں، عالمی سیکولر لابیاں ہوں یا ملک کے اندر قادیانیت نواز حلقے ہوں، جب یہ ان کے علم میں ہے اور انہیں اس بات کا پوری طرح اندازہ ہے کہ وہ اس مسئلہ پر پاکستان کی رائے عامہ، سول سوسائٹی اور منتخب اداروں میں سے کسی کا کھلے بندوں سامنا نہیں کر سکتے اور ہر بار انہیں درپردہ سازشوں کا ہی سہارا لینا پڑتا ہے تو وہ پاکستانی قوم کے اجتماعی فیصلے کو تسلیم کرنے اور زمینی حقائق کا اعتراف کر لینے سے مسلسل کیوں انکاری ہیں؟ یہ انصاف، جمہوریت، اصول پرستی اور حقیقت پسندی کی کون سی قسم ہے کہ پاکستانی قوم نے اجتماعی طور پر ایک فیصلہ کیا ہے اور وہ اس پر قائم رہنا چاہتی ہے تو اسے اس سے ہٹانے کے لیے دباؤ، سازش اور درپردہ کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اپنے اجماعی عقیدہ اور موقف سے ہٹنے پر بلاوجہ مجبور کیا جا رہا ہے۔ چنانچہ ان بین الاقوامی اور اندرون ملک حلقوں کو ان کی اس غلط روی بلکہ دھاندلی کا احساس دلانے کی ضرورت ہے۔”(روزنامہ اسلام،8 نومبر2017)

آئندہ سطور میں ہم اس سوال کے بعض پہلوؤں کے حوالے سے اپنی معروضات پیش کرنا چاہیں گے۔

یہ بات درست ہے کہ مغربی حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کی طرف سے پاکستان میں اسلامی قانون سازی کے ضمن میں کیے جانے والے اقدامات کو ختم کرنے کے لیے دباؤ موجود ہے اور اس کے لیے علانیہ اور پس پردہ کوششوں کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔  یہ حقیقت بھی ناقابل انکار ہے کہ احمدی کمیونٹی اپنا مقدمہ بین الاقوامی فورمز پر مسلسل پیش کر کے عالمی سطح پر عمومی ہمدردی حاصل کر چکی ہے اور اپنے خلاف امتیازی قوانین کے خاتمے کے لیے پاکستانی حکومت پر مختلف اطراف سے دباؤ کو بڑھانے کے لیے بھی کوشاں رہتی ہے۔ تاہم ہمارے نزدیک اس صورت حال کو سادہ طور پر “پاکستانی قوم کے اجتماعی فیصلے کو تسلیم نہ کرنے” اور “اپنے اجماعی عقیدہ او رموقف سے ہٹنے پر بلا وجہ مجبور کرنے” سے تعبیر کرنے سے پہلے ذرا توقف کر کے معاملے کے چند بنیادی پہلوؤں پر غور کر لینےاور بالخصوص زاویہ نظر کے اس اختلاف کو سمجھنے کی ضرورت ہےجو احمدیوں کے حوالے سے ہمارے مذہبی موقف اور اس کی مخالفت کرنے والے بین الاقوامی اور قومی حلقوں کے مابین پایا جاتا ہے۔

احمدیوں سے متعلق مذہبی موقف کا ایک نکتہ تو یہ ہے کہ احمدی، امت مسلمہ کے نزدیک مسلمہ اور متفقہ مفہوم کے اعتبار سے اسلام کے ایک بنیادی عقیدے یعنی ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتے اور اس وجہ سے امت مسلمہ نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ اعتقادی اور قانونی لحاظ سے انھیں مسلمانوں کا حصہ شمار نہیں کیا جائے گا۔ اسلام کے اعتقادی نظام کا تحفظ نہ صرف مسلمانوں کا اجتماعی دینی فریضہ ہے، بلکہ  سیکولر اخلاقی معیارات کے لحاظ سے بھی یہ مسلمانوں کا گروہی حق بنتا ہے کہ وہ اپنی مذہبی شناخت کو محفوظ رکھنے کے لیے کسی ایسے گرو ہ کو اپنا حصہ شمار نہ کریں جو شناخت کے کسی بنیادی اور اساسی جزو کو تسلیم نہ کرتا ہو۔ تاہم اصل پیچیدگی اس نکتے کو تسلیم کر لینے کے بعد سامنے آتی ہے۔

مسلمانوں کی روایتی مذہبی تعبیرات کی رو سے اگر مسلمانوں میں سے کوئی فرد یا گروہ  اپنے کسی عقیدے یا عمل کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج شمار کیا جائے تو اس کا قانونی حکم یہ ہے کہ توبہ کا موقع دیے جانے کے باوجود اگر وہ اپنے عقیدہ وعمل پر قائم رہے تو اسے قتل کر دیا جائے۔ اس تعبیر کی رو سے احمدیوں کا، اور خاص طور پر ان کی پہلی نسل کا،شرعی حکم یہ بنتا تھا کہ انھیں ارتداد کی پاداش میں قتل کر دیا جائے۔ چنانچہ علماء نے نظری طور پر احمدیوں کی تکفیر کے ساتھ ساتھ ان کا یہ قانونی حکم بھی واضح کیا ، تاہم چونکہ یہ صورت حال اس وقت پیش آئی تھی جب برصغیر میں اسلامی اقتدار قائم نہیں تھا، اس لیے مذکورہ قانون پر عمل درآمد نہیں ہو سکتا تھا۔ اس پس منظر میں علامہ محمد اقبال نے، جو اس صورت حال کو روایتی فقہی تعبیرات کے بجائے جدید سیاسی وقانونی تصورات کے تناظر میں دیکھ رہے تھے، یہ تجویز کیا کہ احمدیوں کو مرتد اور گردن زدنی قرار دینے کے بجائے ایک غیر مسلم اقلیت کا درجہ دے دیا جائے اور مسلمان ان کے ساتھ عملاً‌ وہی برتاو کریں جو دوسرے غیر مسلموں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ روایتی علماء اگرچہ اپنی تحریروں میں عموماً‌ احمدیوں کے متعلق روایتی فقہی موقف کا ہی اعادہ کرتے رہے، تاہم پاکستان بننے کے بعد جب اس ضمن میں عملی قانون سازی کا موقع آیا تو تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء کی ایک مجلس نے اتفاق رائے سے علامہ اقبال کے تجویز کردہ حل کو قبول کر لیا اور یہ مطالبہ کیا کہ احمدیوں کو پاکستان میں غیر مسلم اقلیت کا درجہ دیا جائے۔

والد گرامی مولانا زاہد الراشدی نے موقف کی اس تبدیلی  کو علماء کے اجتہادی زاویہ نظر کی ایک نمایاں مثال کے طور پر پیش کیا ہے۔ لکھتے ہیں”اس تاریخی حقیقت کو پیش نظر رکھنا بھی ضروری ہے کہ قیام پاکستان کے بعد جب علمائے کرام کو نئی ریاست کی دستوری حیثیت کا تعین کرنے کے لیے فیصلہ کرنے کا موقع ملا تو انھوں نے ماضی کی روایات سے بے لچک طور پر بندھے رہنے کی بجائے وقت کے تقاضوں اور علامہ اقبالؒ کی فکر کا ساتھ دیا ۔ عقیدہ ختم نبوت کے منکر قادیانیوں کو مرتد کا درجہ دے کر فقہی احکام کے مطابق گردن زدنی قرار دینے کی بجائے علامہ اقبالؒ کی تجویز کی روشنی میں غیر مسلم اقلیت کی حیثیت دے کر ان کے جان ومال کے تحفظ کے حق کو تسلیم کرنا بھی ملک کے علما کا ایک ایسا اجتہادی فیصلہ ہے جس کے پیچھے علامہ محمد اقبالؒ کی فکر کارفرما دکھائی دیتی ہے۔” (عصر حاضر میں اجتہاد، شائع کردہ: الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ، فروری2008ءص83)

یہاں یہ بات سمجھنا اہم ہے کہ مذہبی علماء نے علامہ محمد اقبال کی تجویز کو نتیجے کے اعتبار سے تو قبول کر لیا، یعنی یہ کہ احمدیوں کو قتل نہیں کیا جائے گا، تاہم وہ اقبال کی رائے کی اصل بنیاد پر یا تو غور نہیں کر سکے اور یا اسے قبول کرنا ان کے لیے ممکن نہیں ہوا۔ اقبال کی رائے، جیسا کہ عرض کیا گیا،  ایک جمہوری ریاست میں حق شہریت کے جدید تصورات پر مبنی تھی جس کی رو سے ریاست کے تمام باشندوں کو یکساں شہری وسیاسی حقوق حاصل ہوتے ہیں اور ریاست کسی گروہ کے ساتھ مذہبی جبر کا اختیار نہیں رکھتی۔ یہ تصور، ظاہر ہے کہ دار الاسلام کے کلاسیکی فقہی تصور سے بالکل مختلف ہے جس میں نہ صرف یہ کہ ریاست کو ارتداد پر سزا دینے کا حق حاصل تھا، بلکہ ریاست کے غیر مسلم باشندے بھی شہری وسیاسی حقوق کے اعتبار سے مساوی درجے کے شہری تسلیم نہیں کیے جاتے تھے۔ اگرچہ ریاست مخصوص شرائط کی پابندی کے ساتھ ان کے جان ومال اور مذہبی آزادی کے تحفظ کی ذمہ دار سمجھی جاتی تھی۔ فقہی اصطلاح میں اسی وجہ سے انھیں “اہل ذمہ” قرار دیا جاتا ہے۔ مزید برآں اسلامی قانون کی رو سے  اسلام سے ارتداد اختیار کرنے والے فرد یا گروہ کے بارے میں ریاست کو یہ اختیار بھی حاصل نہیں تھا کہ وہ انھیں “اہل ذمہ” کا درجہ دے کر دوسرے غیر مسلموں کی طرح ان کے جان ومال اور مذہبی آزادی کے تحفظ کی ضامن بن جائے ۔

اب ہوا یہ کہ احمدیوں کے حوالے سے اقبال کی تجویز کو علماء نے ظاہری نتیجے کے لحاظ سے تو قبول کیا، لیکن معاملے کے مختلف پہلوؤں کو بنیادی طور پر روایتی فقہی زاویے سے ہی دیکھتے رہے اور اس ثنویت یا دو ذہنی کا اظہار علماء کے موقف میں مختلف پہلوؤں سے ہونے لگا۔ مثلاً‌ متعدد ذمہ دار مذہبی علماء اور اداروں کی طرف سے تسلسل کے ساتھ یہ کہا گیا کہ قادیانیوں کے بارے میں پارلیمنٹ کا فیصلہ موجودہ حالات کے اعتبار سے وہ کم سے کم اقدام ہے جو ممکن تھا، لیکن ان کا اصل حکم یہی ہے کہ جب بھی حالات سازگار ہوں، ان پر زندقہ وارتداد کے احکام جاری کیے جائیں۔ پھر جن علماء نے پارلیمنٹ کے فیصلے کو ایک حتمی فیصلے کے طور پر قبول کیا، انھوں نے بھی احمدیوں کے لیے غیر مسلم اقلیت کے حقوق تسلیم کرنے کو ایسی شرائط کے ساتھ مشروط کر دیا جو شہریت کے جدید تصور کے بجائے ذمہ کے روایتی فقہی تصور سے پیدا ہوتی تھیں۔ مثال کے طور پر1974 میں قومی اسمبلی کے فیصلے کے بعد مولانا محمد یوسف بنوری نے اس کے شرعی نتائج واضح کرتے ہوئے لکھا” مرزائیوں کی حیثیت قبل ازیں کفار محاربین کی تھی اور قومی اسمبلی کے فیصلہ کے بعد اس کی حیثیت پاکستان کے غیر مسلم شہریوں کی ہے جن کو ذمی کہا جاتا ہے (بشرطیکہ وہ بھی پاکستان میں بحیثیت غیر مسلم کے رہنا قبول کر لیں، اس لیے کہ عقد ذمہ دو طرفہ معاہدہ ہے)۔ اور کسی ذمی کے جان ومال پر ہاتھ ڈالنا اتنا سنگین جرم ہے کہ رسول اللہ ﷺ قیامت کے دن بارگاہ الٰہی میں ایسے شخص کے خلاف نالش کریں گے۔ اس بنا پر تمام مسلمانوں کا فرض ہے کہ ان کی جان ومال کی حفاظت کریں۔ مجلس عمل نے مرزائیوں سے سوشل بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا جو مسلمانوں کے دائرہ اختیار کی چیز تھی، لیکن جن مرزائیوں نے قومی اسمبلی کا فیصلہ تسلیم کر کے اپنے غیر مسلم شہری ہونے کا اقرار کر لیا ہو، اب ان سے سوشل بائیکاٹ نہیں ہوگا۔ اور جو مرزائی اس فیصلہ کو قبول نہ کر رہے ہوں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ مسلمانوں سے ترک محاربت پر آمادہ نہیں۔” (احتساب قادیانیت، شائع کردہ مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان، جلد16، ص333)

یہاں “محاربین” اور “ذمی” کی اصطلاحات کے استعمال سے واضح ہوتا ہے کہ مولانا کے ذہن میں گفتگو کا تناظر ایک جمہوری ریاست نہیں، بلکہ دار الاسلام کا فقہی تصور ہے، اس لیے کہ جمہوری ریاست کے باشندوں کو نہ تو عقیدہ ومذہب کے اختلاف کی وجہ سے محارب کہا جا سکتا ہے اور نہ غیر مسلم شہریوں کو ذمی۔  پاکستان کے آئین کی رو سے احمدیوں کے شہری وسیاسی حقوق سے بہرہ ور ہونے یا نہ ہونے کا تعین ان کے مسلمان یا غیر مسلم  ہونے  پر سرے سے منحصر ہی نہیں تھا، کیونکہ  انھین یہ تمام حقوق اس فیصلے سے پہلے بھی حاصل تھے اور اس کے بعد بھی۔

پھر “ذمی” کی حیثیت سے ان کے جان ومال کے تحفظ کو اس سے مشروط کرنا کہ وہ خود کو غیر مسلم تسلیم کر لیں، بدیہی وجوہ سے ناقابل فہم ہے۔ آئین شہریت کی شرائط میں اسے شمار نہیں کرتا کہ کوئی شخص نظری طور پر من کل الوجوہ آئین کے تمام اجزاء کو تسلیم کرے۔ شہریت کا تعلق عملاً‌ آئین اور قانون کی پابندی کرنے اور ملک وقوم کے مفاد کے ساتھ وفاداری سے ہے اور  کسی مخصوص سیاسی نظریے یا مذہبی عقیدے کو غداری کے ہم معنی نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں مذہبی آئین کے مخالف اور سیکولر ریاست کے حامی گروہ موجود ہیں اور پوری طرح شہری وسیاسی حقوق سے بہرہ مند ہیں۔ اسی طرح جمہوریت کو غلط سمجھنے اور اس پر تنقید کرنے والے مذہبی گروہ بھی یہاں پائے جاتے ہیں اور ان کے لیے بھی وہ تمام شہری وسیاسی حقوق تسلیم کیے جاتے ہیں جو باقی شہریوں کو حاصل ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ غیر مسلم اقلیت تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انھیں اپنے عقیدے پر رہتے ہوئے شہری حقوق حاصل ہوں گے۔ احمدی اپنے عقیدے کے مطابق خود کو مسلمان تصور کرتے ہیں۔ امت مسلمہ ان کا یہ دعویٰ قبول نہیں کرتی، یہ تو درست ہے، لیکن احمدیوں سے یہ مطالبہ کہ وہ بھی خود کو مسلمان نہ سمجھیں، دراصل اس بات کا مطالبہ ہے کہ وہ اپنا عقیدہ چھوڑ دیں، تبھی انھیں اقلیت کے حقوق حاصل ہوں گے۔

شہریت کے تصور کے حوالے سے زیر بحث الجھاؤ کا دوسر ابنیادی اظہار اس مطالبے میں ہوتا ہے کہ احمدیوں کے لیے کلیدی مناصب پر تقرر کو ممنوع قرار دیا جائے۔ یہ مذہبی علماء کا ایک بنیادی مطالبہ رہا ہے اور پارلیمنٹ میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیے جانے کے بعد سے لے کر اب تک اس کا اعادہ کیا جاتا اور اس کی قانونی عدم تنفیذ کی وجہ سے غیر مسلم قرار دیے جانے کے فیصلے کو بھی ادھورا قرار دیا جاتا ہے۔ یہاں بھی بدیہی طور پر وہی الجھاؤ کار فرما ہے، کیونکہ یہ مطالبہ دار الاسلام کے اہل ذمہ کے بارے میں تو کیا جا سکتا ہے، لیکن جمہوری قومی ریاست کے تناظر میں اس کا کوئی آئینی جواز نہیں بنتا۔ آئین، چند ایک استثناءات کے ساتھ، شہری وسیاسی حقوق میں مذہب کی بنیاد پر کوئی تمیز نہیں کرتا اور احمدیوں کے لیے اس امتیاز کا مطالبہ دراصل آئین میں دی گئی عدم امتیاز کی ضمانت کو رد کرنا ہے۔

الجھاو کا اس سے بھی بڑھ کر اظہار علماء کے اس عمومی فتوے میں ہوتا ہے جس کی رو سے احمدیوں کے سماجی اور معاشی مقاطعہ کو مسلمانوں کی دینی ذمہ داری قرار دیا جاتا اورکسی بھی سطح پر احمدیوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کو عقیدہ ختم نبوت پر ایمان کے منافی گردانا جاتا ہے۔ اس ضمن میں جو شرعی وفقہی استدلال پیش کیا جاتا ہے، وہ تمام تر شہریت کے اسی فقہی تصور پر مبنی ہے جس میں ان معاملات کو عقیدہ اور مذہب  کی روشنی میں طے کیا جاتا ہے۔ یہاں ہمارے پیش نظر  اس نوعیت کاایک مفصل فتویٰ ہے جو مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی مرحوم کے قلم سے ہے اور”فتاویٰ بینات” کی پہلی جلد صفحہ217 میں شامل ہے۔ مولانا نے اس فتوے میں احمدیوں کے مقاطعہ کے تفصیلی و شرعی دلائل پیش کرنے کے بعد جو نتائج اخذ کیے ہیں، ان میں سے چند اہم نتائج یہ ہیں۔

کفار محاربین سے دوستانہ تعلقات ناجائز اور حرام ہیں۔ جو شخص ان سے ایسے روابط رکھے، وہ گمراہ، ظالم اور مستحق عذاب الیم ہے۔

جو کافر مسلمانوں کے دین کا مذاق اڑاتے ہوں، ان کے ساتھ معاشرتی تعلقات، نشست وبرخاست وغیرہ بھی حرام ہے۔

جو کافر مسلمانوں سے برسرپیکار ہوں، ان کے محلے میں ان کے ساتھ رہنا بھی ناجائز ہے۔

مرتد کو سخت سے سخت سزا دینا ضروری ہے۔ اس کی کوئی انسانی حرمت نہیں، یہاں تک کہ اگر پیاس سے جاں بلب ہو کر تڑپ رہا ہو، تب بھی اسے پانی نہ پلایا جائے۔

اقتصادی اور معاشرتی مقاطعہ کے علاوہ مرتدین، موذیوں اور مفسدوں کو یہ سزائیں بھی دی جا سکتی ہیں، قتل کرنا، شہر بدر کرنا، ان کے گھروں کو  ویران کرنا، ان پر ہجوم (یعنی حملہ) کرنا وغیرہ

اگر محارب کافروں اور مفسدوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کی عورتیں اور بچے بھی تبعاً‌ اس کی زد میں آ جائیں تو اس کی پروا نہیں کی جائے گی، ہاں اصالتاً‌ عورتوں اور بچوں پر ہاتھ اٹھانا جائز نہیں۔

ان لوگوں کے خلاف مذکورہ بالا اقدامات کرنا دراصل اسلامی حکومت کا فرض ہے، لیکن اگر حکومت اس میں کوتاہی کرے تو خود مسلمان بھی ایسے اقدامات کر سکتے ہیں جو ان کے دائر ہ اختیار کے اندر ہوں اور ظاہر ہے کہ عوام کے اختیار میں مکمل مقاطعہ ہی ایک ایسا اقدام ہے جو موثر بھی ہے اور پرامن بھی۔ (ص239، 240)

استدلال کے دروبست سے واضح ہے کہ صاحب فتویٰ احمدیوں کی قانونی حیثیت محارب کے فقہی تصور کے تحت متعین کر رہے ہیں۔ اس سوال سے قطع نظر کر لیا جائے کہ فقہی لحاظ سے یہاں محارب کی تعریف صادق آتی ہے یا نہیں،  لیکن یہ سامنے کی بات ہے کہ جمہوری ریاست کے تناظر میں یہ بحث نہ صرف بالکل غیر متعلق ہے، بلکہ کسی گروہ کے مقاطعہ کی عمومی دعوت دینا اور اس کی مہم چلانا ریاست کی دی ہوئی اس ضمانت کی نفی ہے کہ کسی شہری کے ساتھ اس کے عقیدے کی وجہ سے امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔ ریاست نہ صرف خود اس اصول کی پابند ہے، بلکہ اس کی بھی ذمہ دار ہے کہ کسی  گروہ کو کسی دوسرے گرو ہ کے خلاف نفرت کا ایسا ماحول پیدا کرنے کی اجازت نہ دے جس سے اس کے مسلمہ شہری یا سیاسی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔

اس تفصیل سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس معاملے میں اصل الجھاؤ کہاں ہے اور اس کا فکری منبع کیا ہے۔ مذہبی علماء  اصولاً‌ اس مسئلے کو روایتی فقہی احکام کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں اور اقبال کے تجویز کردہ حل کو اس کی پوری قانونی بنیاد اور تمام مضمرات کے ساتھ نہیں، بلکہ صرف ظاہری نتیجے کے لحاظ سے قبول کرتے ہیں۔ اسی سے ایک طرف علماء کے مطالبات اور فتووں اور دوسری طرف آئین کی دی گئی ضمانتوں کے درمیان وہ تمام تضادات پیدا ہوتے ہیں جن کا سابقہ سطور میں ذکر کیا گیا۔  احمدیوں کو مظلوم اور مذہبی امتیاز کا شکار قرار دینے اور اس بنیاد پر ان کے ساتھ ہمدردی رکھنے  والے بین الاقوامی اور قومی حلقوں کے سامنے بنیادی طور پر معاملے کا یہ پہلو ہوتا ہے اور احمدی حضرات بھی جب اپنا مقدمہ پیش کرتے ہیں تو انھی پہلووں کو اجاگر کرتے ہوئے خود کو غیر مسلم قرار دیے جانے کے فیصلے کو اس کے ساتھ نتھی کر دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جدید دنیا میں ریاست اور شہریت کے معروف اور مسلم تصورات کی رو سے ان کے موقف میں وزن محسوس کیا جاتا ہے، جبکہ مذہبی علماء اس پہلو کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے اپنے تئیں یہ تصور قائم کر لیتے ہیں کہ امت مسلمہ کو اس کے اجماعی عقیدے سے ہٹانے کے لیے ناروا دباو ڈالا جا رہا ہے۔یہ یقیناً‌ معاملے کا ایک پہلو ہو سکتا ہے، لیکن اسے صرف اسی ایک پہلو سے دیکھنا ہمارے خیال میں معاملے کی پیچیدگی سے نظریں چرانے کے ہم معنی ہوگا۔

یہ بات کہ اس معاملے میں مذہبی حلقوں میں ذہنی اور فکری سطح پر ایک الجھاؤ موجود ہے، اس کا احساس بعض ذمہ دار علماء کو بھی ہے۔ چنانچہ والد گرامی مولانا زاہد الراشدی لکھتے ہیں۔

“کچھ عرصہ سے ہمارے ہاں یہ روایت سی بن گئی ہے کہ ہم کسی اجتماعی مسئلے پر دینی اور شرعی حوالے سے ایک قدم اٹھا لیتے ہیں، فیصلہ کر لیتے ہیں، لیکن اس پر آزادانہ علمی بحث نہ ہونے کی وجہ سے اس فیصلے کی علمی توجیہ سامنے نہیں آتی اور دلائل کا پہلو اوجھل رہتا ہے جس سے کنفیوژن پیدا ہوتی ہے اور فیصلہ ہو جانے اور اس پر عمل درآمد ہو جانے کے باوجود علمی دنیا میں وہ فیصلہ بدستور معلق رہتا ہے۔ قادیانیوں کے بارے میں ہم نے اجتماعی طور پر فقہی احکام کو نظر انداز کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ انھیں غیر مسلم اقلیت کے طور پر ملک میں رہنے کا حق دیا جائے گا اور ان کے جان ومال کے تحفظ کی حکومت ذمہ دار ہوگی۔ یہ فیصلہ جو تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام نے متفقہ طور پر کیا ہے اور ملک میں نافذ العمل ہے، ہمارے روایتی فقہی موقف سے ہٹ کر ہے۔ میں اس فیصلے کی مخالفت نہیں کر رہا، بلکہ اس کے حق میں ہوں اور اس کا قانونی اور دستوری درجہ دلوانے کے لیے عملی جدوجہد کرنے والوں میں شامل ہوں، لیکن سوال یہ ہے کہ اس کی علمی توجیہ کیا ہے اور ایسا کرنا شرعی طور پر کیا حیثیت رکھتا ہے؟ ہمارے خیال میں اس پر علمی مباحثہ ضروری ہے اور نہ صرف علما وطلبہ بلکہ جدید تعلیم یافتہ طبقات کے سامنے بھی اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ یہ تبدیلی کیوں آئی ہے اور اس کا شرعی جواز کیا ہے؟”(کلمہ حق ماہنامہ الشریعہ، مئی جون2009)

غالباً‌ اسی تناظر میں کچھ عرصہ قبل اسلامی نظریاتی کونسل میں بھی یہ نکتہ زیر بحث آیا تھا کہ احمدیوں کی شرعی حیثیت کے مسئلے پر ازسرنو غور کرنے کی ضرورت ہے، تاہم اس پر کونسل کے ارکان میں ایک تنازع پیدا ہو گیا اور غالباً‌ یہ سوال سنجیدہ طور پر زیر بحث نہیں لایا جا سکا۔  بہرحال یہ بات باعث اطمینان ہے کہ مذہبی مطالبات میں پائے جانے والے الجھاؤ اور عملی مضمرات کا اب فکری سطح پر ادراک کیا جا رہا ہے اور دینی سیاسی موضوعات پر لکھنے والے کئی راسخ العقیدہ اہل دانش کی تحریروں میں اس پر نظر ثانی کی ضرورت کو اجاگر کیا جانے لگا ہے۔ چنانچہ حالیہ بحث کے دوران میں ملک کے معروف صحافی اور دانش ور جناب عامر ہاشم خاکوانی نے اس موضوع پر سوشل میڈیا میں اپنا نقطہ نظر پیش کیا جسے، بعض پہلوؤں سے اختلاف کی گنجائش کے باوجود، بحیثیت مجموعی ایک متوازن اور معتدل موقف کہا جا سکتا ہے۔ عامر ہاشم خاکوانی لکھتے ہیں۔

“تین چار باتیں الگ الگ ہیں۔ پہلا یہ کہ قادیانی غیر مسلم ہیں چونکہ وہ ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتے۔ یہ ایسا بنیادی نکتہ ہے جسے نہ ماننے والا دائرہ اسلام میں رہ ہی نہیں سکتا۔ اس لئے قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کے حوالے سے کسی دوسری رائے کی گنجائش ہی نہیں۔

دوسرا یہ کہ پاکستانی آئین کے تحت قادیانی غیر مسلم قرار بھی پا چکے ہیں۔ یہ بھی واضح امر ہے، اس میں کوئی ابہام نہیں۔ یہ طے شدہ امر ہے، اسے قطعی طور پر ری اوپن نہیں کرنا چاہیے۔ ہم قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کی آئینی ترمیم میں ایک نقطے کی تبدیلی کے بھی حق میں نہیں۔ قانون توہین رسالت بھی اپنے اصول میں ایسی ہی حتمیت کا حامل ہے۔ اس کے پروسیجر میں کوئی تبدیلی صرف علمائے دین کی مشاورت سے ہوسکتی ہے، اس کا بہترین فورم اسلامی نظریاتی کونسل ہے۔ اکابر علما کے مشورے اور منظوری سے کوئی قدم اٹھانا چاہیے۔

تیسرا معاملہ قادیانی کے ساتھ تعلق کا ہے۔ یہ ہر ایک کی اپنی صوابدید پر منحصر ہے، کوئی داعیانہ تعلق بنانا چاہتا ہے اور بطور غیر مسلم ان تک دعوت پہنچانا چاہتا ہے، ان کے فکری مغالطے اور گمراہی کو دور کرنا چاہتا ہے تو اسے اس کا حق حاصل ہے، اسے کسی مولوی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں(اللہ اور اس کا رسول اس کی نیت جانتا ہے، اسے اجراپنی نیت اور عمل پر ملے گا، کسی مولوی صاحب کے سرٹیفکیٹ کی بنا پر نہیں)۔ کوئی فاصلہ رکھنا چاہتا ہے تو رکھے، یہ اس کا ذاتی معاملہ ہے، مگر اسے اپنی رائے کو دوسروں پر تھوپنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

چوتھا معاملہ ہے قادیانیوں کے بطور غیر مسلم سرکاری ملازمتوں کا۔ آئینی طور پر وہ پاکستانی ہیں، دوسرے پاکستانیوں کی طرح ان کا مساوی حق ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں ایسا ممکن نہیں کہ کسی مذہب ،نسل کی بنیاد پر کسی کو باقاعدہ قانون بنا کر روکا جائے۔ ایسا کرنا خطرناک بھی ہے کہ جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کی طرح اس کا بائیکاٹ ہوجائے گا،سماجی مقاطعہ۔ سرکاری اداروں میں ملازمتیں قادیانی بھی لے سکیں گے دوسروں کی طرح۔ ہاں جو اہم یا حساس محکمے ہیں،جہاں کسی قسم کا خطرہ ریاست کو محسوس ہوگا تو وہاں پر غیر تحریری، غیر رسمی طور پر ایسا کیا جاتا ہے۔

امریکی قانون کے تحت کسی مسلمان کو امریکی صدر بننے سے نہیں روکا جا سکتا یا سی آئی  اے کا چیف بننے یا جج یا کسی اور اہم حساس محکمے میں ٹاپ پوزیشن لینے سے نہیں روکا جا سکتا۔ وہاں صرف یہ پابندی ہے کہ پیدائشی امریکی ہو۔ مسلمان بھی بن سکتا ہے اگر وہ پیدائشی امریکی ہوتو۔ لیکن کبھی کوئی مسلمان امریکی صدر بنے گا نہ سی آئی اے کا چیف یا کسی اور اہم حساس امریکی محکمے کی ٹاپ پوزیشن میں آ سکے گا۔ ایسا مگر غیر تحریری، غیر رسمی طور پر سلیقے سے کیا جاتا ہے۔ کوئی احمق امریکی ہی مطالبہ کرے گا کہ نہیں ، مسلمان کے لئے باقاعدہ قانونی پابندی لگائی جائے۔ اس کی اس بات پر اس کا مذاق اڑایا جائے گا، کیونکہ ایسا ہوتا نہیں۔ یہ صرف پاکستان ہے جہاں ایسے غبی العقل لوگ موجود ہیں جو ایسے معاملات کی پیچیدگی اور حساسیت کو نہیں سمجھتے۔ جہاں جہاں روکا جانا مقصود ہے، بے فکر رہیں، وہاں ایسا ہو رہا ہے۔ ایسا ہونے دیں، احمقانہ مطالبات اور تقریروں سے مسائل پیدا نہ کریں۔

نوٹ: یہ بھی یاد رکھیں کہ جس طرح ہریہودی صہیونی نہیں، ہر ہندو بی جے پی والا نہیں، اسی طرح ضروری نہیں کہ ہر قادیانی پاکستان یا اسلام کے خلاف دن رات سازشیں کرنے میں لگا ہو۔ عالمی قادیانیت تحریک کے حوالے سے مجھے بھی تحفظات ہیں۔ کچھ لوگ ہوسکتے ہیں جنہیں پاکستان کھٹکتا ہو، مگر عام آدمی ہر جگہ ایک جیسے ہوتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے چونکہ کسی خاص مذہب کے گھر میں پیدا ہوگئے، اس لیے وہ مذہب اختیار کر لیا۔ دعوت کا کام اچھے طریقے سے ہو تو ان شاءاللہ ایک بڑی تعداد حق کی طرف لوٹ سکتی ہے۔ یہ گنجائش باقی رکھنی چاہیے۔”

امید کرنی چاہیے کہ اہل فکر کی توجہ کے نتیجے میں اس طرح کے موضوعات پر عمومی بحث ومباحثہ کی راہ کھلے گی اور اس نوعیت کے حساس مسائل پر اجتماعی دانش کو بروئے کار لاتے ہوئے ہم بہتر مستقبل کی طرف پیش رفت کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...