نسلی تعصب ، ختم ہونے میں وقت لگے گا

اگر تمام نامزد ملزم گرفتار بھی کرلئے جائیں تو زیر دفعہ 506 کے تحت درج ایف ۔ آئی ۔ آر پر قانونی کارروائی کرتے ہوئے سزا 3 سال بنتی ہے

عرفان مسیح ، کی مین ہول صفائی کے دوران انتقال کی خبر پر مجھے زیادہ حیرت نہیں ہوئی ، کیونکہ نہ تو یہ واقعہ پہلی بار ہوا ہے اور نہ ہی آخری بار ، مین ہول میں دوران صفائی سیور مین کی ہلاکت جیسے واقعات اکثرمیں خود بھی رپورٹ کر چکی ہوں یہ بھی اس سے ملتا جلتا واقعہ ہی تھا ۔ حفاظتی اقدامات کئے بغیر ، صفائی کے لئے گٹر میں اترنے والے محنت کشوں کی موت کا المیہ کچھ ایسا ہی ہے لیکن اس بار جو نیا کام ہوا وہ ڈاکٹر جام کھمبر کی جانب سے سیور مین کا علاج تب تک نہ کرنا تھا جب تک اس کے جسم پر چپکی ہم لوگوں کی گندگی ہٹا نہ دی جائے ۔ ڈاکٹر جام اس بات سے انکاری ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ جس وقت عرفان کو اسپتال لایا گیا وہ پہلے ہی دم توڑ چکا تھا تاہم عرفان کے والدین اس پر الزام لگا رہے ہیں کہ روزہ کی حالت میں ، ڈاکٹر نے یہ کہہ کر عرفان کو دیکھنے سے انکار کیا کہ اگر اس نے عرفان کے گندے جسم کو ہاتھ لگایا تو اس کا روزہ مکروہ ہو جائے گا ۔ بہرحال ڈاکٹر جام کو اپنا موقف دینے کا بھرپور حق ہے اور عرفان مسیح کے والدین جو اپنے جوان بیٹے کی موت کا صدمہ جھیل رہے ہیں ان کی جانب سے عائد الزام پر بھی مکمل تحقیقات ہونی چاہئے  لیکن یہ سب محض اچھی باتیں صرف سوچی جا سکتی ہیں ، حقیقت اس کے برعکس ہے جب تک حفاظتی آلات کاغذوں میں تو رکھے جائیں گے لیکن سیور مین کو بہ وقت ضرورت فراہم نہ کئے جائیں تو ایسی موت آنا مشکل نہیں ۔

ڈاکٹر جام کا رویہ بھی کم سے کم میرے لئے حیرت انگیز نہیں ، ہم ویسے ہی اقلیتوں کے معاملے میں تعصب کے شکار لوگ ہیں ، پھر اگر اس کا جسم گندگی میں لتھڑا ہو تو کوئی دین دار ہی کیوں نہ ہوتا ، معالج سے ایسے سلوک کی توقع کی جا سکتی ہے ۔ ہم اس سوچ کے حامل لوگ ہیں جو آج بھی نماز کی ادائیگی کے دوران اپنے مسلک کی مساجد میں جا کر ہی نماز ادا کرتے ہیں کیونکہ ایک عام خیال یہ ہے کہ ہمارا مسلک ، ہمارا مذہب سب سے بہتر ہے اور اگر کسی اور مسلک کی مسجد میں نماز ادا کی تو قبول نہ ہو گی ایسے میں ہندو اور مسیحی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے لئے ہم برابری کے حقوق کی بات کریں ، لگتی تو اچھی ہے پر یہ حقوق ملتے کہاں ہیں کسی کو معلوم نہیں ، ان حقوق کو ملنے میں وقت کتنا درکار ہے ؟ کوئی نہیں جانتا ۔ عرفان مسیح بھی 25 سالہ ایسا ہی ایک نوجوان تھا جو نسلی امتیاز کا شکار ہوا ، صرف علاج میں نہیں ملازمت میں بھی ، پہلے تو درجہ چہارم کا یہ ملازم ، اس مذہب سے تعلق رکھتا تھا جو اس ملازمت کے حصول کی لازمی شرط ہے ۔ خاکروب ، جمع دار یا ذرا پڑھے لکھے انداز میں سینٹری ورکر کہہ لیں ،  درکار ہے ، اس ملازمت کے لئے مسلمان نہیں غیر مسلم چاہیں ۔ ایسے اشہتار قومی اخبارات میں چھپتے ہیں اور سرکاری اداروں کے یہ اشہتارات حکومتی نمائندوں کی نظر سے اوجھل ہوں میں یہ تسلیم نہیں کرتی ۔ یہ وہی اقلیتی کوٹہ تو ہے جس کا ہمارے ملک میں وعدہ کیا گیا ہے کہ سرکاری ملازمتوں میں اقلیتوں کو بھی حصئہ ضرور ملے گا ۔  

اب عرفان مسیح کا یہ واقعہ خبر کی صورت میں سامنے آ گیا ورنہ عمر کوٹ کے تھر بازار کے اسی مین ہول میں ستمبر 2012ء میں 25 سالہ کرشن گجراتی اور  28 سالہ نوازش مسیح بھی کام کے دوران دم گھٹنے سے انتقال کر چکے ہیں ۔ ہم نے ایسے واقعات سے نہ تو کچھ سیکھا اور نہ ہی ایسا کچھ سیکھنے کا ارادہ ہے ۔ خبروں کا اثر بھی اب زیادہ دیر نہیں رہتا ۔ گرم خبر کیسے ٹھنڈی کرنی ہے اس کا ایک عام سا طریقہ یہ ہے ۔ خبر دیکھتے ہی صوبائی وزیرداخلہ سندھ سہیل انور سیال نے نوٹس لے لیا ۔ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ کو تحقیقات کا حکم ،  ڈی ۔ جی ہیلتھ  نے صوبائی وزیر داخلہ کے حکم پر 2 رکنی کمیٹی تشکیل دے کر تحقیقات کا حکم دے دیا جس کی رپورٹ 3 روز میں پیش ہو گی جو اب تک نہ ہوئی ۔ یہ صورتحال دیکھ کر پولیس نے بھی اپنی کارکردگی دکھائی ، فورا ایک ایف ۔ آئی ۔ آر درج ہوئی اور ڈاکٹر جام کو حراست میں لے کر کارروائی کا آغاز کر لیا ۔ اگلے ہی روز ڈاکٹر جام نے ضمانت کروا لی جبکہ ایف ۔ آئی ۔ آر میں درج باقی 5 نام ڈاکٹر یوسف ، ڈاکٹر اللہ داد اور تین سینٹری انسپکٹرز خالد کھوسو ، بہاری لعل اور سرون مالی ، تمام روپوش ہیں ۔ تینوں سینٹری انسپکٹرز کے بارے میں عرفان کے والد نذیر مسیح بتاتے ہیں کہ وہ عرفان کو مین ہول کی صفائی کے لئے گھر سے لے کر گئے تھے ۔ عرفان نے انہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ مین ہول میں زہریلی گیس کا اخراج ہو رہا ہے جو جان لیوا ہو سکتا ہے ۔ ڈاکٹرز اور سینٹری انسپکٹرز کے رویے پر محکمہ صحت اور بلدیہ کی محکمانہ کارروائیاں بھی نتیجہ خیز رہیں گی ۔ اگر تمام نامزد ملزم گرفتار بھی کرلئے جائیں تو زیر دفعہ 506 کے تحت درج ایف ۔ آئی ۔ آر پر قانونی کارروائی کرتے ہوئے سزا 3 سال بنتی ہے ۔ یہاں ایک اور قابل غور بات بھی ہے کہ عمر کوٹ کا شمار سندھ کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں اقلیتیں بڑی تعداد میں رہتی ہیں خصوصاً ہندو برادری ذاتی کاروباری حثیثیت میں مضبوط ہے اور ان علاقوں میں مسلمانوں سے زیادہ بہتر گزر بسر کر رہی ہے ۔ ان علاقوں میں ہندو ، مسلمان اور مسیحی مذہب کے درمیان کھبی انتشار کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا اور ایسی صورتحال میں اگر اقلیتیں اپنے بنیادی حقوق کے لئے بھی بات نہ کریں مسائل کے حل کے لئے اکٹھے نہ ہوں تو کمزوری ان کی جانب سے بھی ضرور ہے جب تک اقلیتیں خود آئین پاکستان میں درج اپنے حقوق سے بے خبر رہیں گی  تب تک ان کے حالات تبدیل ہونے کی توقع کرنا درست نہیں ۔

 یکم جون کو پیش آنے والے اس افسوسناک حادثے پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ عرفان کی واپسی تو اب ناممکن ہے ۔ عمرکوٹ کی کریسچن کالونی میں ایک کمرے کے کوارٹر میں رہائش پذیر ، عرفان کے والدین ، ایک بھائی اور چار بہنوں کی اپنے بھائی سے جڑی یادیں اور محبت بھلا کون ختم کر سکتا ہے لیکن عرفان کی موت ان تین سیور مینوں فیصل مسیح ، یعقوب مسیح اور شوکت مسیح کے گھرانوں کی امید بن گئی جو عرفان کے ساتھ ہی اسی مین ہول میں صفائی کے لئے اترے تھے اور حالت خراب ہونے پر انہیں بھی عمر کوٹ کے اسپتال منتقل کیا گیا تھا ، عرفان کی موت کے بعد ،  آکسیجن سلنڈر میں آکسیجن گیس نہ ہونے پرمزید اموات کے خوف پر ان تینوں کو پہلے حیدر آباد اور پھر کراچی کے اسپتال میں منتقل کر دیا گیا جہاں ان کی زندگیاں بچا لی گئی اور یہ تب تک ممکن نہ ہوتا جب تک عرفان نہ مرتا ۔    

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...