سافٹ امیج ، انکار کی نفسیات اور حقیقت

669

ہمارا اختیار صرف اتنا ہے کہ ایک وقت میں کھڑے کھڑے ایک پیر اٹھا سکتے ہیں اور دوسرا نہیں، جبر و اختیار کا یہ ایک قدیمی اصول ہے۔ اصول کے خلاف جائیں گے تو ذمہ داری اپنی ہوگی۔ہماری بہت ساری پالیسیوں کا قریب قریب یہی حال ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اولادکو اتنا ڈانٹیں  کہ اماں خوش ہو اور اولاد بھی دور نہ ہو۔
کافی دنوں سے ایک بات پر سوچ رہا تھا کہ ایک نامی گرامی کالم نگار کا کالم ”وائرل”ہوگیا۔ لب لباب یہ کہ اگر دوبارہ دھرنا ہوا تو پاکستان کا امیج خراب ہوگا۔  میں بھی  اسی چیز پر سوچ رہا تھا۔امیج یا تصویر کیا ہوتی ہے؟ ایک ملک کا اپنا امیج کیا ہوتا ہے ؟ پھر ہر بات پر کوشش کرنا کہ پاکستان کا سافٹ امیج قائم ہونا ضروری ہے۔ یقیناًضروری ہے بلکہ ہمارا مقصد اور ہدف بھی یہی ہونا چاہیئے۔شرط صرف یہ ہے کہ اس سافٹ امیج کو ہم بھی سمجھیں۔

سب سے پہلے عرض ہے کہ یہ سافٹ امیج والی اختراع ہماری اپنی اصطلاح ہے ،مجھے کم از کم ایک طالب علمانہ تجسس کے بعد بھی اس کی سند نہیں مل پائی۔ البتہ اس کا ادراک بھرپور ہے کہ اس کی ہمیں اتنی دہرائی کروائی گئی ہے کہ اس کی توضیح و تشریح کو ماننا ہی پڑرہا ہے ۔ اس کو کس نے اور کیا سوچ کر بنایا ہوگا اس کے پیچھے نہیں جاتے ،لیکن عموما گرافیکس اور فلم سازی میں استعمال ہونے والی یہ  اصطلاح  ہماری زندگیوں کو خیالی دنیا میں لے کر گئی ہے۔سائینٹفک اور تعقل پسندی کے علاوہ کیا یہ ممکن ہے کہ ہم کہیں کچھ مجسم کرسکیں۔تصور بنیادی عنصر ہے اس کے بغیر ترقی و پیش رفت فی زمانہ مفقود ہے۔ایسا سوچنا محض ایک خواہش ہی ہوسکتا ہے۔
یہ جو ہمارے قومی کالم نگار نے جس خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ کسی ایسے کام سے امیج خراب ہوسکتا ہے تو یقیناًدرست کہا ہوگا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اوپری اوپری امیج بنانا ہی ہمارا کام رہ گیا ہے؟ ہمارے سارے اجتماعی کاموں میں کام ہو نہ ہو، نام ضرور ہونا چاہیے اور وہ نیک نامی پر ہی منتج ہو،  نہ کم نہ زیادہ بے شک نیت ہی اس کا م کی خراب رہی ہو۔ نفسیاتی طور پر ہم نے انکار کی نفسیات کو اختیار کیا ہے یعنی ہر حقیقت کو ڈینائی ہی کرتے آرہے ہیں۔ راقم کا خیال ہے کہ اگر حقیقت کو تسلیم کرکے اس پر صادقانہ کام کیا جائے تو سافٹ امیج بنانے پر صرف ہونے والی توانائی یوں ضائع نہ جائے۔ ایسے سافٹ امیج کا کیا فائدہ جو ہم دوسروں کے لیے بناتے ہیں اس سے بہتر ہے کہ ہم اپنی صورت حال کی تعمیر پر توجہ دیں۔
سافٹ امیج سے یاد آیا کہ جن حالات کے یہاں سبھی شکارہیں اور معاشرہ تنزل کے جن مدارج کو طے کرچکا ہے، اس میں طفل تسلیوں اور ڈانٹ ڈپٹ سے کام نہیں چلے گا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کا دور ہے، حقیقت سے روبرو ہونا، سیکھنا اور اپنی سمت درست رکھنے میں کوئی برائی نہیں۔ تصور کریں اور نتائج کے بارے میں سوچیں تو راستہ صاف دکھائی دے گا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...