منافقت: ایک بدیہی حقیقت

792

منافقت ایک بدیہی حقیقت ہے جب تک ہم اپنے معیارات اور توقعات کو انسانی اور عملی سطح پر نہ لے کر آئیں۔ اور یہ معاملہ صرف مذہب تک محدود نہیں۔

ایک صاحب ہیں، جو دوستوں کے دوست اور دشمنوں کے دشمن ہیں۔ دین دار ایسے کہ کوئی سال ایسا نہیں گزرتا جس سال وہ حج پر نہ جائیں۔ سال بھر میں دو ایک عمرے کرنے کا موقع بھی نکال لیتے ہیں۔ خدا ترس ایسے کہ کوئی سوالی ان کے در سے خالی ہاتھ واپس نہیں جاتا، (وہ ہمیشہ اسے اپنے کسی متمول دوست کے پاس اپنی پر زور سفارش کے ساتھ بھیج دیتے ہیں)۔ مقرر ایسے کہ سماں باندھ دیں اور پورا مجمع ان سے علم و عرفان کے موتی اور دینی جذبہ لے کر اٹھے۔ دینی حمیت اور غیرت اتنی کہ مذہبی نوعیت کے کسی بھی افسوسناک واقعے پر، دین کی سربلندی اور تحفظ کے لیے، سب سے پہلے آپ کی آواز بلند ہوتی ہے۔ مسلم اور غیر مسلم دنیا میں کوئی ایسا چھوٹا بڑا واقعہ نہیں جس پر آپ کی ایک سوچی سمجھی اور پختہ رائے نہ ہو اور جس میں آپ دشمن کی سازشوں کو ان کی باریکیوں سمیت نہ پہچان چکے ہوں۔

دوسری طرف رند ایسے کہ مخصوص دوستوں کی محفل میں رات گئے جب سب لڑھک جائیں یہ صبح تین بجے تک آنکھ نہ جھپکیں۔ اور اس سب کے بعد چاہے آپ ان سے ڈرائیونگ کا ٹیسٹ لے لیں۔ بذلہ سنج ایسے کہ اپنے چٹکلوں اور لطیفوں کی تفصیلات سے محفل کو زعفران زار بنا ئے رکھیں، یھاں تک کہ سننے والوں کے ٹیسٹاسٹرونز کا لیول خطرناک حد تک بڑھ جائے۔ معلومات اتنی کہ ملک بھر میں کوئی نمایاں خاندان ایسا نہیں جس کے چھوٹوں بڑوں کے تمام اچھے برے کرتوتوں سے واقف نہ ہوں۔ کسی کو دوست کہہ دیا تو ہر اچھے برے وقت میں( اس کے پیسوں اور اپنے تعلقات سے) اس کا ساتھ دیا۔ کسی سے ٹھن گئی تو بیچ بازار اس کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا۔ غرض ایک شخصیت کیا ہیں ایک پوری کائنات ہیں۔ کوئی اچھے سے اچھا اور برے سے برا کام ایسا نہیں جو آپ سے سر زد نہ ہوا ہو۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ میں کیسی پر تضاد باتیں کر رہا ہوں۔ لیکن اگر آپ صنعت تضاد سے واقف ہیں تو جانتے ہوں گے کہ انسان اس کا سب سے بڑا نمونہ ہے۔ ہم سب جس منافقت کا صبح شام رونا روتے رہتے ہیں وہ دراصل منافقت نہیں بلکہ ہمارے فکر و عمل کے تضاد کا لازمی نتیجہ ہے۔ تاہم اس سے پریشانی اور غصے میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔ اس کے نتیجے سے زیادہ اس کی وجوہات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مذہبی فکر کا بنیادی مسئلہ اس کی حتمیت ہے۔ ایسی حتمیت جس کے بعد قلم توڑ دیا جائے، سوال کرنے کی گنجائش نہ رہے، جواب دینے کی ضرورت نہ رہے۔ صرف پیروکار رہ جائیں اور ان کی آنکھوں پر پٹی باندھنے والے پروہت یا ملا۔

مسئلہ مذہبی فکر کا بھی نہیں کہ اگر اس میں غور و فکر کی گنجائش رہے تو یہ قابل قبول ہو سکتی ہے۔ مسئلہ مذہبی فکر کے منہج یا اس کی اپروچ کا ہے جو کسی فکری آزادی، کسی تشکیک، کسی نئے امکان کی گنجائش نہیں چھوڑتی۔ اور ہمیشہ فکر و عمل کی دنیا میں ایک مخصوص، لگے بندھے، حتمی اور طے شدہ نظام کے اندر رہنے پر مجبور کرتی ہے۔ مسئلہ اس قطعیت کا ہے جو مذہبی اور نظریاتی فکر سے جنم لیتی ہے اور اس کے علمبرداروں کو وہ اختیار سونپ دیتی ہے کہ وہ الوہیت کے مرجع بن جاتے ہیں۔ اب بھلا اپنا الوہی اور خدائی اختیار چھوڑنے کو کس کافر کا دل کرے گا؟ ممکن ہے میں غلطی پر ہوں مگر وہ منافقت جس کی ایک مثال اوپر پیش کی گئی، اور ایسی بے شمار مثالیں ہمارے ارد گرد بکھری پڑی ہیں اور جو معاشرے پر تبرا بھیجنے کی ہماری ازلی خواہش کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں، کوئی ایسی غیر معمولی چیز نہیں کہ ہمارے ہوش و حواس اڑا دے۔ یہ دراصل ہمارے شخصی، فکری، کرداری اور اقداری (خود ساختہ اور نا قابل عمل) معیارات اور انسان کی فطری خواہشوں، نفسی اور بدنی ضروریات اور کمزوریوں کے درمیان کا وہ فاصلہ ہے جسے ہم اپنی ۔فیس سیونگ۔ کے لیے دوغلے پن اور منافقت سے پر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اس عمل میں خود کو نیت اور کوشش کا فائدہ دیتے ہوئے حق بجانب بھی سمجھتے ہیں، تاکہ ہمارا ضمیر مطمئن رہے۔ مجھے بتائیے کہ آخر اپنے پیرو کاروں سے کسی بھی نظریے یا مذہب کی ناقابل عمل توقعات کے ناگزیر نتیجے کے طور پر منافقت پیدا نہیں ہو گی تو کیا ہو گی؟ منافقت ایک بدیہی حقیقت ہے جب تک ہم اپنے معیارات اور توقعات کو انسانی اور عملی سطح پر نہ لے کر آئیں۔ اور یہ معاملہ صرف مذہب تک محدود نہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...