بلوچستان میں داعش کے پیچھے کون سی قوتیں ہیں ؟

570

کیا داعش بلوچستان میں ایک علیحدہ خودمختاراور عرب مجاہدین پر مشتمل تنظیم کے تناظر میں منظم ہورہی ہے؟

بلوچستان جہاں اکسیویں صدی کی پہلی دہائی بد تربد نظمی کے ساتھ گزری تھی 2013 کے بعد یہاں امن و آمان کی صورتحال میں بہتری آنی شروع ہوئی تھی اور کم و بیش 2017 کے ابتدائی تین ماہ تک بالخصوص کوئٹہ میں حالات بہتر رہے تھے۔ دہشت گردی کے نمایاں اور بد ترین واقعات بھی وقوع پزیر ہوئے ۔ شاہ نورانی کے مزارپر حملہ پسنی میں مزدوروں کا قتل اور کٹی میں مستونگ کے قریب ڈپٹی چیرمین سینٹ جناب مولانا غفورحیدری کے قافلے پر خوکش حملے کے بعد کوئٹہ شہرسے تین چینی باشندوں کے اغوا کا واقعہ ۔ ایسے معاملات تھے جنہوں نے صوبے میں امن و آمان کی بہتری کے امکانات معدوم کردیے۔

کوئٹہ  کے بارونق رہائشی تجارتی قبائیلی علاقے جناح پادن سے تین چینی باشندوں کے اغوا کی کوشش نے شہریوں کی ریڑھ کی ہڈی میں خوف کی لہر دوڑا دی  تھی۔ ایک بہادر شہری نے مسلح اغواکاروں کی مزاحمت کرتے ہوتے ایک چینی باشندے کو اغوا ہونے سے بچا لیا تھا اغوا کار ایک عورت اور مرد (چینی جوڑے) کو اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب ہوگئے تھے اس واردات سے صوبائی حکومت اورامن عامہ کے قیام کےذمہ دار ریاستی اداروں سےرات کی نیند اور دن کا چین چھین لیا تھا۔ معاملہ دو چینی باشندوں کے اغوا سے بہت اگے کا تھا ۔ گوادر اور سی پیک جس کا مغربی روٹ نسبتاً نظر نہیں آرہا کے تناظر میں یہ سنگین واردات پورے منصوبے کوسبوتاژکرنے کی کوشش تھی۔ اور اب یہ ڈھکی چھپی کہانی نہیں کہ اوبوریا سی پیک کو ناکام بنانے میں مختلف و متحارب قوتیں پوری طرح سر گرم ہیں ۔ بھارت گوادر کے ذریعے چین کو حاصل کرنے والی علاقائی بالادستی و معاشی فوائد سے زیادہ خائف اور مخالفت کر رہا ہے ۔ چنانچہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ چینی باشندوں کے اغوا میں بھارتی خفیہ ادارے را کی معاونت فعال طورپر موجود ہو سکتی ہے لیکن دو مختلف پہلو بھی مد نظر رکھنے ہوں گے۔

گوادر بندرگاہ کی فعالیت دبئی کیلئے انتہائی ناگوارہے اور باخبر ذرائع بتاتے ہیں کہ گوادرکو ناکام بنانے کیلیے بہت پہلے سرمایہ کاری دبئی کی جانب سے ہوئی تھی۔ یہ مشرف دور کی بات ہے جب بلوچ مسلح مزاحمت کار گوادر کے حلاف سراپا احتجاج اور برسرپیکارتھے ان دنوں ایک بلوچ رہنما نے اعلان کیا تھا کہ  گوادران کی لاش سے گزرکر ہی بنایا جا سکے گا۔ خیریہ قصہ پارینہ ہے ۔ حالیہ عرب عسکری اتحاد کے قیام اور ریاض کانفرنس میں پاکستان سے روا رکھے گئے سرکاری مذموم رویے کا حوالہ دے رہا ہوں ۔جہاں پاکستان کو اپنا مؤقف بیان کرنے کا موقع نہیں ملا تودوسری جانب دہشت گردی سے شدید طور پر متاثر ممالک میں اس کا ذکر ہوا نہ ہی دہشت گردی کے خلاف اس کے اقدامات کا۔  دہشت گردی کے خلاف ہمارے اقدامات اپنی جگہ اہم ہیں تا ہم دنیا اس پر کچھ تحفظات کا اظہار بھی کرتی ہے یہ ان  کا حق اور مشاہدہ ہے جو جائزمگر ناقص ہو سکتا ہے ۔ تا ہم دنیا کا کوئی باشعور و با خبر انسان اس بات سے انکا نہیں کر سکتا کہ گزشتہ تین دہائیوں سے پاکستانی سماج بد ترین مسلح دہشت گردی کی زد میں ہے۔ ہزارا ہا انسان ان وحشیانہ کارروائیوں میں شہید ہو چکے ہیں ۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ اور عرب قیادت میں نا عاقبت اندیشی اور سلبی فکر و رجہان رکھنے والے ہی اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے آنکھیں چرا سکتے ہیں اور ریاض کانفرنس نے ایسا ہی نامناسب اور دکھ دینے والا منفی  انداز اختیار کر کےخود ساختہ برادرانہ احترام زائل کیا ہے اسی کانفرنس کے آس پاس دبئی کے حلقہ اقتدار کی موشگافی بھی کانوں تک پہنچی ہے کہ اب گوادر بندرگاہ قصہ پارینہ بن جائے گی۔

سطوربالا میں میں نے ایک پس منظر نمایاں کرنا چاہا ہے جس کے ساتھ زبانی طور پر گہری وابستگی اور جغرافیائی رشتہ رکھنے والے خطے کو بلوچستان کے دارالحکومت میں چینی باشندوں کو ہدف بنایا جاتا ہے ۔ جو پاکستان اور باالخصوص اہل بلوچستان کیلیے گہری تشویش کا حامل ہے۔

چینی باشندوں کی بازیابی کیلیے ہونے والی کوششوں میں جو تحریک اور فعالیت تھی اس کے نتیجے میں گزشتہ ہفتے ضلع مستونگ کے علاقہ اسپلنجی اور کوہلو کے سنگلا پہاڑی علاقے میں جہاں آمدورفت کے ذرائع انتہائی پیچیدہ ہیں ۔ سیکورٹی اداروں نے زمینی اور فضائی آپریشن کرکے پہاڑ کی گہری کھائیوں اور تنگ چوٹیوں کے بیچ واقع ایک غار کو تباہ کیا جس میں کم و بیش 20 مبینہ مسلح دہشت گرد ہلاک ہوئے ۔ تخریب کاری میں استعمال ہونے والا سامان ۔ اسلحہ اوروہ گاڑی بھی برآمد ہوئی جس کے بارے میں بتایا گیا کہ چینی جوڑے کے اغوا میں استعمال ہوئی تھی۔ اس آپریشن کے اگلے روز کوئٹہ اسپلنجی روڈ پر مسلح افراد نےایک موٹر سائیکل سوار بہن بھائی کو فائرنگ کرکےقتل کردیا تھا ۔ متوفین ہزارہ قبیلہ سے تعلق رکھنے والے اہل تشیع تھے  اس واردات کی ذمہ داری داعش نے قبول کی جبکہ اسپلینجی میں ہونے والے فوجی آپریشن کے بارے میں بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہاں داعش کا ہیڈکوارٹر بنانے کی کوشش ہو رہی تھی جسے ناکام بنا دیا گیا ہے۔

اسپلینجی کے علاقے میں بلوچ مزاحمتی تنظیمیں بھی فعال رہی ہیں شبہ ہے کہ اب وہ یہاں سے جاچکی ہیں یا غیر فعال ہوگئی ہیں اس کے برعکس احرارالاسلام نامی مذھبی شدت پسند تنظیم کے ارکان اس ضلع میں موجود رہے ہیں جن کے بارے میں علاقے کے معززین کا کہنا ہے کہ وہ اب داعش کی زیر قیادت دوبارہ فعال اور متحرک ہو رہے ہیں۔

حکومتی ذرائع یہ بھی تسلیم کررہے ہیں کہ جس غار یا داعش کے ٹھکانے کو تباہ کیا گیا ہے  جناب مولانا غفور حیدری پر خود کش حملہ آور کو بھی  یہاں سے بھجوایا گیا تھا ۔

کیا داعش بلوچستان میں ایک علیحدہ خودمختاراور عرب مجاہدین پر مشتمل تنظیم کے تناظر میں منظم ہورہی ہے؟ ذرایع ابلاغ اسی سوال کو نمایاں کررہے ہیں جبکہ حقائق بتانے ہیں کہ داعش جو بنیادی طور پر شام و عراق کے عربوں پر مشتمل تنظیم ہے بلوچستان میں اس طرح سے موجود نہیں ۔ داعش کے نظریات و مقاصد سے متفق مسلح افراد کے کئی گروہ خطے میں پیٹروڈالر سرپرستی میں تین دہائیوں سے فعال طور پر موجود رہے ہیں ۔ ان کی سرپرستی میں تبدیلی اورپاکستان کی جانب سے سخت گیر رویہ اپنانے سے ایسی تنظیموں کا ڈھانچہ تحلیل ہوا۔ زیادہ مالی وسائل ہیبت اور نام رکھنے والی داعش کمزور پڑتی مقامی مسلح تنظیموں کے تسلسل  حیات نو و احیا کا بہترین وسیلہ ہے جس کی خود داعش بھی طلب گار ہے لہذا بلوچستان میں داعش کے پرچم کو اٹھانے والوں کی موجودگی حیرت انگیز نہیں اسی طرح داعش کا یہاں اور افغانستان میں بھی سرگرم ہونا زیادہ حیرت ناک امر نہیں ۔ یہ سب کچھ محض نام اور انداز بدلنے کا مرحلہ ہے اور کچھ نہیں۔

اغوا کیلے گئے چینی جوڑے کو 9 جون جو بے دردی سے قتل کرکے ان کی ویڈیو کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی ہے ۔ یوں اغوا کا یہ بھیانک عمل اختتام پزیرہوگیا ہے۔ مگر کیا اس کے اثرات بھی ختم ہوگئے ہیں؟

کیا چین کیلیے اپنے شہریوں کی جان و مال محفوظ  بنانے کیلیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کرنا ہوگا یا ازخود ایسے اقدامات کرنے کا جواز پیدا نہیں ہوگا؟

گوادر اور اس سے جڑی معاشی امور کی حساسیت میں ہونے والے اضافے کو اگر مذھبی دہشت گردی کی کارروائی نے فزوں تر کیا ہے تو کیا ایسا کرنے والوں کے عقب و ان عناصر کو نظرانداز کردینا دانشمندی ہوگی ۔ جنہوں نے شام و عراق میں داعش کے قیام کیلیے راہ ہموار کی مالی و مادی تعاون کیا ؟

خطے میں ایران و سعودی کشیدگی اور ان ممالک کے پراکسی کردار کو مذکورہ واقعات سے علیحدہ رکھ کر واقعات کا معروضی جائزہ لینا ممکن ہے؟

میرے خیال میں ریاض کانفرنس سےقطر بحران تک  اگریہ واقعات زیادہ قوی نہیں تو بھی انہیں انہی سلسلہ ہائے عمل کا ایک حصہ سمجھتے ہوئے پاکستان کو تیزی کے ساتھ ایران عرب تنازعے سے علیحدہ کرلینا چاہیے اورپوری قوت و ارادہ کے ذریعے گوادر بندرگاہ کی جلد فعالیت کیلیے جنوب ایشیا ۔ وسط ایشا اورچین اوراس کے ساتھ ہم قدم ہو کر اقتصادی ترقی کے عمل کو آگے بڑھانا چاہئے ۔ کسی بھی قسم کی محاذ آرائی ، جنگجو ، یا پراکسی کردار کیلیے ہمارے خطے کو بالخصوص بلوچستان کو میدان جنگ بنانے کی بھر پور مزاحمت ہونی چاہیے ۔ ہرقسم کے جذباتی نعروں اورروایتی غلط کار خوش گمانیوں سے بلند تر ہو کر ۔

بالخصوص تدبر اور شائستگی کے ساتھ ریاض کو آگاہ کردیا جائے کہ پاکستان مزید ان کے تلوے چاٹنے کا متحمل نہیں ہو سکتا اور اسی کے ساتھ ایران کو مشفقانہ تنبہیہ کردی جائے کہ وہ بھی پاکستان میں دراندازی و تخریب کاری  سے مکمل اجتناب کرے۔

شنگھائی تعاون کے سربراہی اجلاس میں پاک افغان تعلقات کیلیے جو الفاظ طے پائے اور ان کی نگرانی کیلیے مقامی طاقتوں پر مشتمل جوکمیٹی بنی ہے اس کے اچھے نتائج کی توقع رکھنی چاہیے ۔ بہت ممکن ہے یہی فارمولا آنے والے سالوں میں پاک بھارت تنازعہ کے حل کیلیےبھی کلید ثابت ہوسکے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...