چینی باشندوں کی مخبری کس نے کی ؟

912

یہ بہت حیران کن ہے کہ کوریائی اورچینی باشندے ایک ایسے خطے میں عیسائیت کی تبلیغ کررہے ہیں جوکہ افغان طالبان کاہیڈکوارٹرسمجھاجاتاہے.

آج اخبارت میں وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار کی کل میڈیا بریفنگ کی یہ خبرسامنے آئی ہے جس میں بتایاگیا کہ کوئٹہ سے اغواء ہونے والے دوچینی باشندے بزنس کے بہانے پاکستان ضرورآئے مگروہ یہاں تبلیغی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ وزیرداخلہ کا کہناتھاکہ ‘ بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانہ سے بزنس ویزا حاصل کرنے کے بعد دو مغوی چینی باشندوں سمیت چینی شہریوں کے ایک گروپ کو ویزے جاری کئے گئے تاہم کسی قسم کی بزنس سرگرمیوں میں مصروف ہونے کی بجائے یہ کوئٹہ چلے گئے اور ایک کورین شہری یوآن وون سیو سے اردو زبان سیکھنے کی آڑ میں درحقیقت تبلیغ میں مصروف ہوگئے تھے۔’

دونوں افراد، ایک چینی مرد اورایک خاتون، 24مئی کو کوئٹہ کے علاقے جناح ٹاون سے اغواء کئے گئے تھےجس کے بارے میں عام خیال یہ ہے کہ یہ مارے گئے ہیں۔ اس ماہ 5جون کودوچینی باشندوں کی بازیابی کے لئے مستونگ میں آپریشن بھی کیاگیا، جس میں کئی دہشت گردوں کومارنے کے دعوے توکئے گئے مگرچینی باشندوں کوبازیاب نہ کرایاجاسکا۔ روزنامہ آزادی کوئٹہ کے مطابق داعش نے اپنے ویب سائٹ اعماق پر دعوی کیاہے کہ دونوں چینی باشندوں کواغواء کاروں نے قتل کردیاداعش سے منسلک گروپ نے مبینہ طورپرقتل کی ذمہ داری قبول کرلی۔ داعش نے دعوی 8جون کوکیا۔ جس کے ایک دن بعد چینی امورخارجہ نے تسلیم کیاکہ اسے پاکستانی حکام سے پتہ چلاہے کہ دوچینی باشندوں کے بارے میں امکان ہے کہ وہ مارے گئے ہیں لیکن کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں گئیں۔ کچھ دن قبل مستونگ آپریشن میں بھی داعش ہی نشانہ پرتھی، اس آپریشن میں اس کاہیڈکواٹر، انفراسٹرکچر اورمتعدد دہشت گردمارنے کے دعوے کئے گئے۔ بظاہرحکومتی آپریشن اور داعش کی طرف سے چینی باشندوں کے مارے جانےسے پتہ چلتاہے کہ اغواء میں داعش یا اس سے منسلک گروہ کا ہاتھ نظرآتاہے۔ کوئٹہ کے اردگرد کے علاقہ میں داعش اورپاکستانی ریاستی اداروں میں جنگ حالیہ دنوں میں شدت اختیارکرگئی۔ مئی میں داعش نے سینٹ کے ڈپٹی چیرمین عبدالغفورحیدری پرخودکش حملہ کی ذمہ داری قبول کی جس میں 25افراد ہلاک ہوئے۔ حکومت کی طرف سے جوابی آپریشن میں 12 داعش دہشت گردوں کومارنےکا دعویٰ کیاگیا۔ ایسالگتاہے چینی باشندوں کی موت اس کابدلہ تھا۔

ایک اہم سوال یہ ہے کہ پاکستانی ریاست کواس کاادارک ا ب ہواہے کہ چینی باشندے بزنس کے بجائے تبلیغی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ ایک اہم معاملہ یہ ہے کہ کوریاسے تعلق رکھنے والا کوئٹہ میں چینی گروپ کامیزبان تھا۔ وائس آف امریکہ کے مطابق چینی باشندوں کا ایک گروپ، جس میں ہلاک کیے جانے والا چینی جوڑا بھی شامل تھا، بزنس ویزے پر پاکستان میں داخل ہوا۔ لیکن کاروباری سرگرمیوں میں حصہ لینے کی بجائے وہ کوئٹہ چلے گئے اور وہاں انہوں نے اردو زبان سیکھنے کی آڑ میں تبليغ کا کا م شروع کردیا۔ کوریا کا ایک باشندہ جو کوئٹہ میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ایک کمپنی چلا رہا تھا، چینی گروپ کا میزبان تھا۔ ایک اوررپورٹ کے مطابق یہ 2چینی باشندے ایک مقامی مسلمان کمیونٹی میں تبلیغ کررہے تھے۔ یہ دونوں 13رکنی عیسائی تبلغی گروپ کے ممبرتھے جس کی سربراہی ایک کوریائی باشندہ کررہاتھا۔ لیکن ان دوچینیوں کے علاوہ دیگر کی بات اس لئے قرین القیاس ہے کہ ایک چینی خاتون اغواء کاروں کے ہتھے نہیں لگی اوراس ہنگامہ میں اغواء ہونے سے رہ گئ ۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق چینی میڈیا قتل کاالزام کوریاکی مشنری (تبلیغی) این جی اوزپرعائد کررہی ہے۔ کوریائی باشندے کے بارے میں بھی اب تک واضح نہیں کہ اس کاتعلق شمالی یاجنوبی کوریاسے تھا۔ یہ بہت حیران کن ہے کہ کوریائی اورچینی باشندے ایک ایسے خطے میں عیسائیت کی تبلیغ کررہے ہیں جوکہ افغان طالبان کاہیڈکوارٹرسمجھاجاتاہے جوکوئٹہ شوری کے نام سے جاناجاتاہے اورقریب کچلاک ہے۔ اس کےساتھ ہی یہاں حال ہی میں داعش کے سرگرم ہونے کی اطلاعات گردش کررہی ہیں۔ کوئٹہ اورارگردکے علاقہ میں لشکرجھنگوی ایک بہت ہی خطرناک فورس سمجھی جاتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ چینی، کوئٹہ میں بلوچ شدت پسندوں کا بھی نشانہ بن سکتے ہیں۔ ان تمام خطرات کے باوجود کوریائی اورچینی باشندوں کی طرف سے این جی اوز کے ذریعے سے عیسائیت کی تبلیغ کی جارہی تھی؟ البتہ یہ واضح نہیں کہ ان کی تبلیغی سرگرمیوں کانشانہ کون ساقومیتی یا لسانی گروہ تھا؟ کیونکہ کوئٹہ میں پشتون، بلوچ، ہزارہ اوربروہی کے علاوہ پنجابی اورصوبہ کے پی کے لوگ بھی آبادہیں۔

اگرچہ وزارت داخلہ کہتی ہے کہ یہ اب چنی باشندوں کوویزوں کی اجراء کوسخت بنارہی ہے اوراس کی کڑی نگرانی ہوگی۔ پچھلے سال 2016میں پاکستان نے کم ازکم 70ہزارچینی باشندوں کوویزے جاری کئے تھے۔ جہاں سی پیک ودیگرسرمایہ دارانہ منصوبوں کی وجہ سے چینی پاکستان میں بڑی تعدادمیں آرہے ہیں، وہاں ابھرتی ہوئی اسلامی تنظیموں اوربلوچ علیحدگی پسندوں کی کاروائیوں میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیاہے۔ حالیہ دنوں میں اس میں ایک دم شدت پیداہوگئی جوپاکستانی ریاست کے لئےتشویش کاباعث ہے۔ بلوچستان واحد خطہ ہے جہاں پاکستانی اداروں کواسلام پرستوں کے ساتھ علیحدگی پسندوں سے نمٹناہے۔ یہ اس کے آپریشن کومشکل تربنادیتاہے۔ بہت ساری سازش تھیوریوں میں سے ایک یہ ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں علیحدگی پسندوں کی تحریک کوکمزورکرنے کے لئے اسلامی تحریکوں کی حوصلہ افزائی کررہی ہیں۔ جس میں زیادہ حقیقت نظرنہیں آتی۔ شدت پسند اسلامی تحریک قوم پرست تحریک کی مشکلات اوراصلاح پسند تحریک کی قیمت پرآگے بڑھ سکتی ہیں۔

اگرچہ چینی باشندوں کی موت نے چنیوں کے لئے پاکستان میں خطرات کی گھنٹی بجادی ہے۔ اوریہ علیحدگی پسندوں کے ساتھ داعش جیسی اسلام پرستوں کے نشانہ پرہوسکتے ہیں۔ البتہ داعش کے دعووں سے اس عزم کااظہارکا پتہ لگانامشکل ہےکہ یہ آئندہ بھی چینیوں کونشانہ بنائیں گے یا ان کا نشانہ یہ چینی گروہ اس لئے بناکہ یہ عیسائیت کی تبلیغ میں مصروف تھے۔ یہاں سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کوریائی اورچینی باشندوں کے بارے میں یہ خبرکیسے لیک ہوئی کہ یہ تبلیغی سرگرمیوں میں ملوث تھے؟ اوراس سے بھی اہم یہ کہ ریاستی اداروں سے پہلے یہ خبر داعش تک کیسے پہنچی؟ ان کے دائرہ کارمیں کون لوگ آئے تھے اوران کے ہاتھوں کسی نے عیسائیت قبول کیاتھا یانہیں؟ یہ سوالات ابھی جواب طلب ہیں۔ اورمزید تحقیات سے سامنے آںے ہیں۔

مضمون نگارکراچی میں مقیم ہے محقق ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...