غازی نورا مینگل ،کباڑی کا کوٹ اور ایک کہانی سے جڑی سچائی

814

’’ وطن عزیز کو ہیرو بھی کباڑی کے کوٹ کی طرح انگریزوں کے استعمال شدہ ہی ملے ۔جبکہ اصل ہیروکو بے رحمی سے نظر انداز کیا گیا‘‘۔

اردو کے نامور لکھاری اور افسانہ نگار آغا گل بلوچستان کے عشق کی وادیوں کے پیچ و خم کے پرانے راہی ہیں ۔ انہوں نے اپنے قلم اور موضوعات میں بلوچستان کے حسن اور یہاں کے متنوع پہلوؤ ں پر کوئی دقیقہ فروگزار نہیں کیا ہے۔بات وفاکی ہو یا بلوچستان سے اغماض برتنے والوں کی بے وفائیوں کی انہوں نے بلا کمی و کاستی اس سخت جان دھرتی کا حق کماحقہ ایک قلمکار کے منصب اعلیٰ کی ذمہ دار شخص کے طور پر ادا کیا ہے۔ ابھی کلاسیک لاہور سے چھپی ان کی تازہ تصنیف غازی نورا مینگل پڑھنے کو ملی جس میں انہوں نے غازی نورا مینگل اور ان کی جدوجہدکی مختصر مگر دلچسپ تاریخ کو بڑے خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔ انہوں نے جہاں اس دورکے حالات اور واقعات کے پیش منظر اور پس منظر کو قلم بند کیا ہے وہاں انہوں نے براہوی زبان میں غازی نورا مینگل کی بہادری اور مبارزانہ زندگی پر رزمیہ شاعری کو اردو ترجمہ کے ساتھ کتابی شکل میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ کیا ہے۔کتاب کلاسیک لاہور سے منگواکر پڑھ سکتے ہیں لیکن ہزارہا برسوں سے آزادی کے لیے لڑنے والوں کے نام معنون اس کتاب کا آغاز جن دو جملوں سے آغاز کیا گیا ہے کو پڑھیئے ۔
’’ وطن عزیز کو ہیرو بھی کباڑی کے کوٹ کی طرح انگریزوں کے استعمال شدہ ہی ملے ۔جبکہ اصل ہیروکو بے رحمی سے نظر انداز کیا گیا‘‘۔
تاریخ کے ساتھ ناانصافی اورکھلواڑ اپنی جگہ لیکن اس سے بڑھ کر جو المیہ عودکر سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ ایسی مبالغہ آمیزاور خودساختہ باتیں ہمارا اجتماعی بیانیہ بھی بنتی جارہی ہیں۔کیا چھوٹا کیا بڑا ، پڑھا لکھا یا صاحب نظر اکابرین موقع بر موقع ، خواستہ و ناخواستہ ایسے جعلی اور ریڈی میڈنظریات ، واقعات اور شخصیات کا ذکر ضرور کرتے ہیں بلکہ دیکھا گیا ہے کہ ان پر پوری کی پوری فکری و علمی عمارتیں بھی کھڑی کردی جاتی ہیں۔البتہ مروج جھوٹ کا ایک فائدہ یہ ضرور ہوتا ہے کہ آپ ہمرنگ زمانہ رہتے ہوئے جان لاکھوں میں بچاتے پھرتے ہیں۔بہر حال خواہش ہے کہ اجتماعی دروغ گویانہ بہاؤ نصیب نہ ہو تو بہتر ہے لیکن کیا کریں کہ آفاقی قانون کے تابع بھی اعمال سرزد ہوجاتے ہیں۔جب تاریخی سچائیوں کی بات ہوگی تو درج بالا دو جملوں میں یہاں کے تہذیبی المیوں کی اس سے بہتر تصویر کشی نہیں ہوسکتی تھی۔ ظاہر ہے جب بات سمجھ میں آتی ہے تو گتھیاں سلجھتی ہی چلی جاتی ہیں تب جھگڑوں کی نوبت گھٹتی ہے۔
جب کوئی نہیں جانتا تو اسے سمجھایا جاسکتا ہے پہچان کرائی جاسکتی ہے اسی طرح جب کسی کو پہلے پتہ ہوتا ہے چاہے کم یا زیادہ تب تو وضاحتوں کا ایک باب شروع ہوتا ہے لیکن اگر کوئی غلط جانتا ہے تو سمجھ لیں بھائی کہ یہ کار عبث ہے اور دشوار۔۔۔اب اگر میں کچھ کہوں گا تو برا نہ مانیں ،مہربانی کرکے اس بات کو مان لیں کہ ہم آخرالذکر قبیل کے لوگ ہیں ہمارا غلط پڑھا، سمجھا اور سوچنا ہماری منزل و مقصود سے دوری کا باعث بن رہا ہے۔
چلیں ایک کہانی ہوجائے لگے ہاتھوں، کسی ملک میں لوگ بہت خوشحال تھے۔ سب مہر و محبت سے رہتے تھے نہ نفرت تھی نہ بخل تھا۔سیری و فراوانی کا راج تھا۔ ایثار اور وفا تو قدم قدم پر سایہ فگن تھا اور سچ اور راستی تو سانسوں میں رچی بسی تھی۔ یہی وجہ تھی لوگ تازہ دم اور ان کے چہرے دن کے اجالے کی طرح صاف اور روشن۔الغرض اس ملک کے وصف میں دفتر کے دفتر لکھے جاسکتے ہیں۔ لیکن جس طرح کے ہوتا ہے کہ ہر عروج کو زوال ہے (حالانکہ مجھے ذاتی طور پر اس کی سمجھ نہیں اس لیے مانتا بھی نہیں،لیکن کیا کریں کہ کہانی تو بیان کرنی ہے۔)تو بات ہورہی تھی اس ملک کے عروج کی جس کو زوال تھا۔
اس ملک کے ایسے ہی اچھے دن تھے ۔ لوگ شادمانی اور مسرت کے جام لنڈھا رہے تھے کہ ایک دن وہاں کسی بد ہئیت جادوگرنی کا گزر ہوا۔ جب اس نے دیکھا کہ سب لوگ اتحاد و اتفاق سے رہ رہے ہیں۔ ایک سے بڑھ کربڑھ حسین اور ہرکوئی دوسرے سے زیادہ نطاق و خوش گفتار۔ بدصورت جادوگرنی ایک تو بدصورت اوپر سے بولتے وقت آواز بھی کریہہ اور اذیت ناک۔۔۔ ظاہر ہے اسے ’’لفٹ‘‘کون دیتا۔جادوگرنی اس گلی سے اس گلی اس دیار سے اس دیار ، کبھی زید سے بات کرے تو کبھی بکر سے، پر کوئی ایسی جگہ تھی کہ اسے قبول کیا جاتا نہ کوئی ایسا شخص جو اسے ایک پل بھی سنتا۔اب کیا تھا گندگی میں جادوگرنی کا رہنا سہنا تو تھا ہی اس پر مزید کہ اس نے گندہ سوچنا بھی شروع کردیا۔ سوچ سوچ کر وہ ہفتوں نہ کچھ کھاتی اور نہ ایک لمحہ کے لیے سوتی۔ کبھی آنکھ لگی تو خواب بھی ایسے ہی اور اگر کچھ کھا پی لیتی تو ذائقہ بھی زہرآلودہ۔خلاصہ اس نے ملک کے بڑے کنویں میں منتر پھونکا اور دیکھتے ہی دیکھتے لوگ کچھ ہی دنوں میں فاتر العقل بنتے گئے۔ نہ سوچ اپنی نہ بات اپنی، ہر ایک اپنی بہترین روش بھول بھال چکے تھے۔بادشاہ سے لے کر غلام سب جادوگرنی کی مطیع فرمان ہوگئے۔ دن گزرتے گئے ملک میں ہر طرف گند ہی گند، افراتفری، قتل وغارت گری، چوری چکاری با الفاظ دیگر جو برائی جس سطح پر کوئی ممکن تھی چپے چپے پر چھیل چکی تھی۔فقط ایک شہزادے کی حالت ٹھیک تھی جو اپنے لیے پانی بچپن سے ہی قریب وادی سے لاتا اوروہی پیتا۔عادت راسخ تھی سو بچ گیا لیکن مصیبت یہ تھی کہ پورے ملک کے باسی اسے پاگل سمجھتے تھے۔اس کی بات مذاق اڑاتے اور راہ چلتے اس پر طرح کی طرح کی آواز کستے۔بادشاہ ، مصاحبین اور رعایاسمیت کوئی اپنے ہوش میں نہ تھا اور نہ کسی کو ذرہ برابر تاسف اور ادراک۔شہزادے کو ملک کی بدحالی اورلوگوں کی زبوں حالی کا غم دن بہ دن کھائے جارہا تھا۔ لیکن چارہ نہیں تھا۔
ایک دن ایک عقلمند کا اس ملک میں آنا ہوا ۔اتفاق سے شہزادہ حسب عادت وادی سے لوٹ رہا تھا۔ مسافر کو دیکھا، صاف ستھرا اور ہشاش بشاش۔شہزادے نے اسے روکا اسے اپنے ساتھ محل لے گیا۔تب تک اجنبی نے ملک کی اور شہزادے کی حالت کا خوب اندازہ لگا لیا تھا۔باتوں باتوں میں شہزادے نے مسئلہ کو بھانپتے ہوئے اس اجنبی کے سامنے اپنا دکھڑا بیان کیا اور کہا کہ ایک طرف تو بدحالی تو دوسری طرف ایک مثالی بادشاہ اپنی ذلت و رسوائی کے دن سے بے خبر دن رات پاگلوں کی طرح دوڑتا پھرتا ہے یا پھرکسی ہونق کی طرح رات رات بھر ستاروں کو گھورتا رہتا ہے۔ان سب پر ظلم یہ کہ شہزادے کی بات کو سمجھنے والا تو کجا لوگ اسے دیوانہ و احمق سمجھتے ہوئے اس کی ہر ہر قدم پر تضحیک کرتے ہیں۔
اجنبی سمجھدار اور دنیا دیدہ تھا اس نے قریب قریب کے دنوں کے حالات و واقعات اور انہونیوں کے بارے میں پوچھا۔ تب پہروں مختلف پہلوؤ ں پر بات کرنے سے پتہ چلا کہ جب سے وہاں وہ میلی کچیلی بڑھیا آئی ہوئی ہے تب سے یہ حالات خراب ہوگئے ہیں۔پس طے یہ ہوا کہ اس بڑھیا کی نگرانی کی جائے گی اور اس کے آنے جانے پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔اب کیا تھا کہ اجنبی اور شہزادے نے نہ دن دیکھا نہ رات اس بڑھیا کا پیچھا کرتے رہے۔ایک دن وہ بڑھیا اس کنویں کے پاس گئی اور جب آس پاس اسے کوئی دکھائی نہیں دیا تو اس کا سارا حلیہ یکایک بدل گیا اور اس نے وہاں زور زور سے قہقہہ لگایا اور کہنے لگی کہ یہ لوگ مجھے دھتکارتے تھے میں نے اس کنویں کے پانی پر جادو کیا ہے اب سب نے یہ پانی پیا ہے اور میرے علاوہ کوئی دوسرا اس منتر کا توڑ نہیں کرسکتا۔پھر ایک دل دہلادینے والا منظر دیکھا گیا کہ اس نے اپنی گز پھر کئی نوکوں والی زبان نکالی اور اسے کاٹ کر کنویں میں پھینک دیا۔اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ جادوگرنی وہاں سے سرپٹ بھاگ گئی۔گمان یہی ہے کہ وہ پھر کبھی نہیں دیکھی گئی ۔
اجنبی اور شہزادہ دونوں بد حال و پریشان واپس محل کو چلے گئے۔اجنبی نے کہا کہ اب تمہاری رعایا کا علاج ممکن نہیں۔بہتر یہی ہے تم دوردیس جا کر آباد ہوجاؤ۔شہزادہ نہ مانا اور کہا نہیں میں یہ نہیں کرسکتا ۔مجھے اپنے ملک اور اپنے لوگوں سے پیار ہے ۔ میں ان لوگوں کویہاں اس حال میں نہیں چھوڑ سکتا چاہے کچھ بھی ہو۔شہزادے نے اجنبی سے درخواست کی کہ کوئی حل نکالو تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں اور ان کو مانیں۔اجنبی نے وقت مانگا اور تین دن بعد آیا اور کہا کہ ایک ہی حل سمجھ آتا ہے۔
شہزادے نے اس اجنبی کا مشورہ قبول کیا۔(یہاں وہ مشورہ آپ پر چھوڑا ہے کہ کیا ہوسکتا ہے۔)اجنبی کے مشورے پر عمل کیا کرنا تھا کہ شہزادہ کو قوت ، طاقت اور بادشاہت مل گئی۔ اجنبی نے کچھ دنوں کے بعد شہزادے سے جو اب بادشاہ بن چکا تھا اجازت چاہی اورجاتے جاتے کہا کہ آپ لوگوں نے اگر اس جادوگر نی کو شروع ہی سے اپنے قلمرو میں نہ چھوڑتے یا پھر اسے کسی ایک جگہ قید یا پابندکرتے یا پھر پہلے ہی دن اس کی زبان اس کی گدی سے کھینچ لیتے تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ وقت کے بادشاہ کو خاک سمجھ آنی تھی یہ بات وہ تو پاگلوں کی طرح تھالی میں پڑی چیزیں ٹھونس رہا تھا اور صراحی سے اپنے سر و لباس کو تربتر کررکھا تھا۔اجنبی زیر لب مسکرایا اور وہاں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نکل پڑا۔کہتے ہیں کہ وہ اجنبی بھی ایک جادوگر اور بہروپیا تھا جو اس جادوگرنی کے کہنے پر وہاں آیا تھا۔بعد میں دور دیس اجنبی نے اس بڑھیا سے شادی رچا لی اب وہ دونوں صبح وشام گیت گاتے ہیں اور اپنے اپنے کارنامے ایک دوسرے کو سناتے ہیں۔
واضح رہے کہ یہاں کسی بھی قسم کی مشابہت ڈھونڈنے کا مطلب اس ساری کہانی کا مزہ کرکرا کرناہے اور کچھ نہیں۔۔۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...