عظیم مسیحی اور چھوٹی سڑک

میرپور خاص شہر کو آموں اور غیر سرکاری تنظیموں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ تقسیمِ ہند سے قبل شہر میں ہندوؤں کی اکثریت آباد تھی اور مسیحی بھی بڑی تعداد میں بستے تھے۔ دونوں برادریاں شہر میں ہونے والی سماجی بہبود اور بھلائی کے کاموں میں نُمایاں کردار ادا کرتی تھیں۔

میرپور خاص اب ایک ضلع ہے، تقسیمِ ہند سے قبل بھی یہ ایک ضلع ہوتا تھا اور تقسیم کے بعد بھی ایک طویل عرصے تک یہ ایک ضلع رہا ،لیکن اس ضلع کا نام میرپور خاص نہیں بلکہ تھرپارکر تھا۔ میرپور خاص تھرپارکر ضلع کا ہیڈکوارٹر تھا۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ تھرپارکر ضلع محدود ہونا شروع ہوا۔ سب سے پہلے اِس کی ایک تحصیل سانگھڑ کو ضلع کا درجہ دیا گیا۔ اس کے بعد ایک اور تحصیل مٹھی کو ضلع تھرپارکر کا حصہ بنادیا گیا۔ بعد ازاں عمر کوٹ تحصیل کو ضلع کا درجہ دیا گیا۔ ایک طویل عرصے تک ان چاروں اضلاع پر مشتمل علاقوں کو تھرپارکر ڈویژن کہا جاتا تھا۔ پھر تھرپارکر بھی غائب ہوگیا اور ان اضلاع پر مشتمل علاقے میرپور خاص ڈویژن کہلانے لگے۔
میرپور خاص شہر کو آموں اور غیر سرکاری تنظیموں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ تقسیمِ ہند سے قبل شہر میں ہندوؤں کی اکثریت آباد تھی اور مسیحی بھی بڑی تعداد میں بستے تھے۔ دونوں برادریاں شہر میں ہونے والی سماجی بہبود اور بھلائی کے کاموں میں نُمایاں کردار ادا کرتی تھیں۔ لیکن تقسیم کے بعد ہندوؤں کی ایک بڑی تعداد ہندوستان ہجرت کر گئی، لیکن ہندوستان کے دُور دراز علاقوں سے ہجرت کرنے والے مسیحی یہیں آباد رہے اور انھوں نے ہندوستان منتقل ہونا گوارا نہ کیا۔ انہی میں سے ایک ڈاکٹر ایچ ایم اے ڈریگو بھی تھے۔ سماجی خدمات کا کوئی بھی ایسا شعبہ نہ تھا جس میں انھوں نے فعال کردار ادا نہ کیا ہو۔ خوا ہ وہ تعلیم کا شعبہ ہو یا تپِ دق کے مریضوں کے لیے اسپتال کا قیام، یا زچہ بچہ کی صحت کے لیے قائم کیے جانے والے مراکز ہوں یا پولیو کے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے اسپتالوں کا قیام ہو۔ ڈاکٹر ڈریگو ہر جگہ پیش پیش نظر آتے تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر ڈریگو غالباً پاکستان کی وہ پہلی ایسی غیر مسلم شخصیت ہیں جن کی زندگی میں ہی ان کے گھر کے قریب سے گزرنے والی سڑک کا نام ڈاکٹر ڈریگو رکھا گیا۔ یہ سڑک میرپور خاص کے ریلوے اسٹیشن سے شروع ہو کر کھری کوارٹر سے گذرتی ہوئے کالے خان پیٹرول پمپ پر اختتام پذیر ہو جاتی ہے۔ یہ سڑک ڈاکٹر ڈریگو کے نام منسوب کرنے کی مہم میرپور خاص کے چند نوجوانوں جن میں نمایاں نام ایوب فاضلانی اور عنصر ہیں نے شروع کی۔ کچھ ہی عرصے بعد میرپور خاص میونسپلٹی کے اجلاس میں ایک قرارداد اس حوالے سے پیش کی گئی جو متفقہ طور پر منظور ہو گئی اور اس سڑک کا نام ڈاکٹر ڈریگو روڈ رکھ دیا گیا۔آخرایسی کون سی بات تھی کہ میرپور خاص کے شہریوں نے ایک غیر مسلم مسیحی کے نام سے سڑک منسوب کردی۔آئیے اب مختصر جائزہ لیتے ہیں ڈاکٹر ڈریگو کی خدمات کا جس کے سبب یہ عمل ممکن ہوا۔

ضیاء الحق نے اپنے حلقہ انتخاب کی تلاش کے لیے جب 1979 میں بلدیاتی انتخابات منعقد کروائے توانتخابات کے نتیجے میں پنجابی برادری سے تعلق رکھنے والے راجہ میر زمان میرپورخاص کے پہلے میئرمنتخب ہوئے اور ڈاکٹر ایچ ایم اے ڈریگو اقلیتوں کی نشستوں پر کونسلر منتخب ہوئے۔ راجہ میر زمان بھی ایک کمال شخصیت تھے، انھیں میرپور خاص میں بسنے والے تمام غیر پنجابیوں کی حمایت حاصل تھی۔ ایک ناخوشگوار سانحے میں 15مئی 1987 کو انھیں قتل کردیا گیا۔ میر زمان کا ذکر آئندہ کسی بلاگ میں کریں گے۔ فی الحال ہمارا موضوع ڈاکٹر ایچ ایم اے ڈریگو ہیں۔ ڈریگو صاحب وقت کے خطرناک حد تک پابند تھے اور میرپور خاص میونسپلٹی کے اجلاس کے وقت کا تعین صبح نو بجے کیا جاتا تھا ۔ کونسلر حضرات اجلاس میں شرکت کے لیے گیارہ بجے پہنچتے تھے لیکن ڈاکٹر ڈریگو وقت کے پابند تھے اور وہ صبح 9بجے اجلاس میں شرکت کے لیے پابندی سے میونسپلٹی پہنچ جاتے تھے اور گیارہ بجے تک اجلاس شروع ہونے کا انتظار کرتے تھے۔ گیارہ بجے جب کونسلرز اجلاس میں پہنچتے تو یہ دیکھ کر بہت خوش و حیران ہوتے کہ ڈاکٹر ڈریگو اجلاس میں شرکت کے لیے اُن سے پہلے پہنچے ہوئے ہیں۔ کسی کونسلر نے راجا میر زمان کو بتایا کہ جناب آپ اجلاس کا وقت ایجنڈا میں نو بجے لکھ کر بھیجتے ہیں، 9بجے کا مطلب 11 بجے ہوتا ہے، لیکن ڈاکٹر ڈریگو نو بجے پہنچ جاتے ہیں اور دو گھنٹے تک انتہائی صبر اور برداشت کے ساتھ اجلاس شروع ہونے کا انتظار کرتے ہیں ،لیکن کبھی بھی حرفِ شکایت زبان پر نہیں لاتے۔
مجھے اُ س وقت کے میرپورخاص کے ایک کونسلرنے بتایا کہ میر صاحب نے اپنے اسٹاف کو ہدایت کی کہ میونسپلٹی کے اجلاس کے دو جدا، جدا، ایجنڈے تیار کیے جائیں۔ جو ایجنڈا ڈاکٹر ڈریگو کو بھیجا جائے اُس میں اجلاس کا وقت گیارہ بجے اور باقی کونسلرز کوبھیجے جانے والے ایجنڈے میں اجلاس کا وقت نو بجے لکھا جائے ،تاکہ وہ گیارہ بجے تک اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچ جائیں۔ یہ بات صرف میونسپلٹی کے اجلاسوں کی حد تک محدود نہ رہی بلکہ وہ تمام سیاسی اور سماجی تنظیمیں جو اپنی تقریبات میں ڈاکٹر ڈریگو کو مدعو کرنا چاہتی تھیں لیکن پابندیء وقت کی ان کی عادت سے شرمندگی محسوس کرتی تھیں، اُن سب نے اِ س فارمولے کو اپنا لیا۔ تقریب کا وقت اگر تین بجے ہوتا تھا تو ڈاکٹر صاحب کو عموماً ساڑھے چار بجے کا دعوت نامہ دیا جاتا تھا تاکہ ڈاکٹر صاحب تقریب کے وقت سے بہت دیر پہنچیں۔ لیکن اس کے باوجود اکثر یہ ہوتا تھا کہ وہ مقررہ وقت سے ڈیڑھ گھنٹے کے بعد تقریب میں شرکت کے لیے پہنچتے تھے، تب بھی تقریب شروع نہیں ہوتی تھی، لیکن ڈاکٹر صاحب اپنی چھڑی ہاتھ میں پکڑے بیٹھے مسکراتے رہتے تھے۔
روزنامہ ڈان میں معروف ادیب ڈاکٹر آصف فرخی نے ڈاکٹر ڈریگو سے کیے جانے والے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر صاحب کی زبانی اُن کی زندگی کی کہانی یوں بیان کی ہے۔ ڈریگو صبح کے وقت تقریباً بیس مریضوں کا معائنہ کرتے تھے، ان کی بیماریوں کا علاج تجویز کرتے اور اس حوالے سے مختلف رجسٹروں میں بیماری کے حوالے سے تفصیل درج کرتے تھے۔ ڈاکٹر ڈریگو کا تعلق بھارتی شہر گوا سے تھا، وہ 28 فروری 1907 کو گوا میں پیدا ہوئے۔ ان کی بیوی انھیں ہرمی کہتیں تھیں۔ ڈاکٹر صاحب نے میٹرک گوا سے کیا۔ اُن کے خاندان کا پیشا زمینداری تھا ،لیکن انھوں نے اپنے خاندانی زمینیں نہایت ہی سستے داموں اپنے کسانوں کو بیچ دیں۔ بمبئی میں انھوں نے سینٹ زے ویئر کالج میں تعلیم حاصل کی۔ انھوں نے گریجوئیشن گرانٹ میڈیکل کالج سے 1933 میں حاصل کی، تاہم بمبئی میں انھوں نے بہت ہی بُرا وقت گذارا۔ چوں کے انہیں دمہ ہوگیا تھا اس لیے وہ کوئی اعزاز یا نمایاں کامیابی حاصل نہیں کر سکے۔ اُن کے ناناآٹھ کے جتھے میں گرانٹ میڈیکل کالج کے پہلے گریجویٹ تھے۔ انھوں نے جراحی اور علم الابدال میں طلائی تمغہ حاصل کیا۔ بعد ازاں ڈاکٹر ڈریگو کے ماموں نے چار مضامین میں امتیازی حیثیت سے گریجویشن مکمل کی۔ ڈاکٹر کے دادا جن کے ڈاکٹر ڈریگو اسم برادر بھی تھے، پہلے ہندوستانی تھے جن کا برِصغیر میں جج کی حیثیت سے تقرر کیا گیا تو لوگ ڈاکٹر ڈریگوسے یہ توقع رکھتے تھے کہ وہ ایم بی بی ایس سے فقط رگڑ نکلنے کے بجائے کچھ اور بھی کرکے دکھائیں گے۔
ڈاکٹر ڈریگو کے خیر خوا اور دوست اُنھیں طعنہ دیتے تھے کہ وہ خاندان کی رسوائی کا باعث ہیں۔ ایک وجہ تو یہ ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ امراضِ چشم میں تخصیص حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اُس زمانے میں یہاں آنکھوں کے ایک نہایت اچھے سرجن ڈاکٹر سچانند موجود تھے، وہ اینڈرسن بلائنڈ رلیف ایسویسی ایشن کے لیے کام کرتے تھے۔جن کا ہیڈ کوارٹر میرپور خاص میں تھا اور ڈاکٹر کے ماموں سول سرجن تھے۔ اُن دنون یہ بمبئی پرزیڈنسی کا حصہ تھا۔ انھوں نے ڈاکٹر ڈریگو سے کہا کہ اگر تم امراضِ چشم میں دل چسپی رکھتے ہو تو میرپور خاص آجاؤ، لہٰذا ڈاکٹر ڈریگو نے اپنا تقرر میرپور خاص کروالیا۔
ڈاکٹر کا تقرر جولائی میں ہوچکا تھا مگر دراصل یہاں اگست 1933 میں پہنچے۔ ڈاکٹرنے چودہ ماہ تک سوِل اسپتال میں کام کیا اور بدین، ٹنڈو الہ یار اور سامارو میں کافی تعداد میں آنکھوں کے کیمپوں میں شرکت کی۔ پھر انھوں نے کپاس کے ایک کارخانے میں ملازمت اختیار کرلی۔ جیمس فنلے اینڈ کمپنی نے ایک نیا کارخانہ قائم کیا تھا، سو انھیں ایک نوجوان اور فعال ڈاکٹر کی ضرورت تھی اور ڈاکٹر کو معلوم نہیں کہ کس نے اُن کا نام تجویز کیا۔ جنرل مینیجر ڈاکٹر ڈریگوکے پاس آیا اور پوچھا ،کیا وہ اُن کے ساتھ کام کرنا پسند کریں گے۔ سول اسپتال میں انھیں دن رات بہت زیادہ کام کرنا پڑتھا، کیوں کہ آر ایم او میڈیکو لیگل کیسوں میں دلچسپی رکھتا تھا اور اُس نے سارا کام ڈاکٹر ڈریگو پر چھوڑ رکھا تھا۔ وہاں صرف دو ڈاکٹرز تھے، ڈاکٹر ڈریگو نے وہاں سے جان چھڑانے میں ہی عافیت جانی۔ اُس ذات شریف سے انھوں نے کہا کہ میں آرہا ہوں اور کسی قسم کی شرائط کا کبھی ذکر نہیں کروں گا۔ جب ڈاکٹر ڈریگو نے اپنے ماموں کو بتایا تو اُنھوں نے کہا کہ پھتورو جنگل ہے، تم وہاں بیزار ہوجاؤ گے۔ انھیں افسوس تھا کہ اُنھوں نے ڈاکٹر ڈریگو کو واقعتاً      کام تلے دبا دیا تھا۔ لیکن اس میں بھی ڈاکٹر ڈریگو کی بہتری تھی۔ ڈاکٹر صاحب کے طب اور جراحی کے علم میں بہت اضافہ ہوا اور انھوں نے ہر شعبے میں کام کیا، بشمول امراضِ نسواں۔
ڈاکٹر صاحب جب پتھورو پہنچے تو ایسے زمیں دار، جو اسپتال آتے رہتے تھے، جب اپنی کپاس بیچنے کے لیے کارخانے میں آئے اور اُس کو دیکھا تو انھوں نے کہا کہ تم یہاں کیوں آئے ہو؟ واپس میرپور خاص آجاؤ۔ ڈاکٹر کے ماموں نے کہا کہ نہیں، بہتر یہی ہے کہ تم بمبئی لوٹ جاؤ۔ میرپور خاص ایک چھوٹا سا شہر تھا اور یہاں پہلے ہی دو پیشہ ور ڈاکٹر موجود تھے۔ اُنھیں یہاں میرے پریکٹس کرنے کا خیال قطعی پسند نہ آیا۔اُ ن کا خیال تھا کہ ڈاکٹر کو چلا جانا چاہیے۔ مگر جب ڈاکٹر ڈریگو نے پریکٹس شروع کی تو دو مہینوں کے اندر ہی مریض سیلاب کی طرح ٹوٹ پڑے، کیوں کہ دوسرے ڈاکٹر طبی اُمور کے ساتھ ساتھ دیگر چیزوں کی جانب بھی میلان رکھتے تھے۔ ایک سیاست میں پیش پیش تھا، وہ کانگریس کا صدر تھا۔ جب کہ دوسرا مقامی سیاست میں ملوث تھا۔ ڈاکٹر ڈریگو نے سوچا کہ وہ یہاں آنکھوں کے سرجن کی بہ نسبت ایک عام معالج کی حیثیت سے بڑھ کر لوگوں کی زیادہ اچھے انداز میں خدمت کرسکتے ہیں اور رفتہ رفتہ تخصیص کا خیال اُن کے ذہن سے دور ہوتا چلاگیا۔
’’جب سندھ علیحدہ ہوا تو ڈاکٹر ڈریگو کے ماموں بمبئی واپس چلے گئے۔ اُنھوں نے ڈاکٹر سے کہا کہ وہ اُن کے لیے جگہ تلاش گریں گے جہاں ڈاکٹر ڈریگو آسکیں اور کام کرسکیں۔ ڈاکٹر ڈریگو کو تن تنہاوہاں نہیں رہنا چاہیے، یہاں اُن کی برادری کا کوئی آدمی نہیں ہے۔ سو 1938 میں انھوں نے ڈاکٹر ڈریگو کو بمبئی چلے آنے کے لیے کہا۔ ’میں نے تمہارے لیے ایک نہایت ہی عمدہ جگہ ڈھونڈ نکالی ہے۔‘ انھوں نے کہا۔ یہ اورنگ آباد تھا، جو ایک بڑا ریلوے جنکشن تھا اور جہاں عیسائی برادری بھی بڑی تعداد میں موجود تھی، ڈاکٹر کے ہندو دوستوں نے ڈاکٹر کو کہا کہ وہ اُن کو احمق گردانیں گے اگر انھوں نے وہ جگہ چھوڑی۔ تم یہاں اچھے خاصے قدم جما چُکے ہو، پھر کسی اور جگہ کیوں جانا چاہتے ہو؟ ڈاکٹر نے اُن کی بات سنی اور رک گیا اور تاحال یہیں موجود ہوں۔‘‘
ڈاکٹر ڈریگو اس شہر میں برسوں پر محیط تبدیلیوں کے متعلق بیان کرتے ہیں: ’’جب وہ یہاں آئے تو یہاں پر بجلی نہیں تھی اور نہ ہی کوئی پکی سڑک تھی، مگر شہر صاف ستھرا اور کم آبادی والا تھا۔ یہ تقریباً سولہ ہزار نفوس پر مشتمل ایک قصبہ تھا۔اب سڑکیں تارکول سے مسلح ہیں مگر گندے پانی میں ڈوبی ہیں۔ انھوں نے اسے بمبئی پریزیڈنسی کے حصے کی حیثیت سے بھارت کے ایک حصے کے طور پر دیکھا تھا۔ پھر یہ ایک علیحدہ صوبہ بن گیا اور بعد ازاں ایک علیحدہ ملک۔
’’جب پاکستان مورد وجود میں آیا تو مہاجرین کو لے کر خصوصی ٹرینیں آرہی تھیں۔ اُن میں سے اکثر لوگ زخمی اور بیمار ہوتے تھے، ڈاکٹر صاحب کے عملے میں چھ افراد تھے۔ ڈاکٹر ڈریگو روزانہ زخموں کی پٹیاں، پیٹ درد اور پیچش کے لیے محلول لے کر اسٹیشن جاتے اور لوگوں کو ابتدائی طبی امداد بہم پہنچاتے تھے، نیز اُنھیں ملیریاسے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر سے بھی آگاہ کرتھے تھے۔ انھوں نے پتھورو میں قیام کے دوران کافی تجربہ حاصل کرلیا تھا ،جہاں ہر شخص ملیریا کا مریض تھا۔ خصوصاً مشینوں پر کام کرنے والا عملہ جس کا تعلق جنوبی بھارت سے تھا، اورکارکن جو جودھ پور سے آئے تھے۔ اس خدمت کے صلے میں ڈاکٹر ڈریگو کوپاپائے روم نے ’نائٹ‘ کا رُتبہ عطا کیا۔ ڈاکٹر کو1950 میں سینیٹ گرے گری عالی شان نائٹ کا منصب عطا کیا گیا۔ عام طور پر اس منصب کے حامل صرف دو سو نائٹ ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے ڈاکٹر کو حیرت ہوئی کہ اُنھوں نے ڈاکٹر کو صحرا سے چنا ہے۔ ڈاکٹر ڈریگو نے اُسقف کو لکھا کہ انھین نائٹ کا منصب نہیں چاییے، میرے لیے نائٹ کے خطاب کا بھلا کیا مصرف ہے؟ مگر اُنھوں نے کہا، ’ہم اپنے کام کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ آپ ازراہِ کرم اسے قبول فرمالیں۔‘ یہ بتاتے ہوئے انھوں نے کونے میں رکھی ہوئی ایک تصویر کی جانب اشارہ کیا جو اُنھیں اُس موقع کی مناسبت کے لباس میں پیش کررہی تھی۔
مہاجرین کی دیکھ بھال کے حوالے سے اندازہ یہ تھا کہ ہجرت کرکے آنے والے بہت سے خاندان واپس جائیں گے۔ اُن کے ساتھ بہت سارے لوگ نزلہ، زکام اور کھانسی میں مبتلا تھے۔ جو لوگ مریضوں کو لے کر اسپتال آتے تھے، جگہ نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کو اسپتال کے برآمدے میں چار پائیوں پر لٹا دیا جاتا باقی لوگ چار پائی کے آس پاس سو جاتے تھے۔ مریض کو لانے والوں میں اکثر تپِ دق کے شکار ہوتے۔ میرپور خاص کے سول اسپتال میں چودہ ماہ کے دوران تپِ دق کے شکار صرف چند مریضوں سے واسطہ پڑا تھا ،یا پھر پتھورو میں کسی کسی فرد سے میرے پاس آنے والے پچیس فیصد افراد تپِ دق کا شکار تھے۔اس لیے ڈاکٹر ڈریگو نے ضلع کے ڈپٹی کمشنر سے بات کی کہ کیوں نہ ضلع میں ٹی بی ایسوایشن قائم کی جائے۔ ڈپٹی کمشنر کا موقف تھا کہ اُن کے پاس مطلوبہ وسائل نہیں ہے۔ڈریگو نے فنڈز جمع کیے اور 1959میں ٹی بی کے مریضوں کے علاج کے لیے تنظیم قائم کرلی۔

اسی طرح زچہ و بچہ کی بہبود کے لیے کوئی ادارہ نہ تھا، ڈاکٹر ڈریگو نے انگریز زمیندار سر راجر تھامس اور چودھری رفیق احمد کے والد کے تعاون سے ایک زچہ و بچہ مرکز کی بنیاد ڈالی۔ یہ زچہ و بچہ سینٹر محدود نہیں رہا بلکہ آگے بڑھتاچلا گیا۔ میرپور خاص میں کوڑھ کے مریضوں کے لیے بھی ایک مرکز بنایا گیا، اس مرکز کے قیام کی بنادی وجہ یہ تھی کہ ڈاکٹر ڈریگو اور ڈاکٹر روتھ فاو نے ملاقات کی۔ روتھ فاو کے اسپتال میں مریضوں کی اکثریت کا تعلق میرپور خاص کے مہاجرین سے تھا۔ اسی بنیاد پر ڈاکٹر ڈریگو نے جزام (کوڑھ) کے مریضوں کے لیے میرپور خاص میں اسپتال قائم کیا۔
ہمارے میرپور خاص کے دوست اقبال چوہان نے بتایا کہ روٹری کلب میرپور خاص کی جانب سے اُن کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر تقریب کے لیے ایس اے خان ایڈووکیٹ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ سالگرہ کے دن ایس اے خان ایڈووکیٹ کے مرحوم بیٹے اشفاق احمد خان اور میں ڈاکٹر صاحب کو ان کے گھر سے لینے گئے۔ ڈاکٹر صاحب جیسے ہی گاڑی میں بیٹھے تو ہنسنے لگے۔ یہ ہمارے لیے ایک غیر متوقع بات تھی، کیوں کہ ڈاکٹر صاحب کے چہرے پر ایک معصومانہ شفقت آمیز مسکراہٹ ہمیشہ طاری رہتی تھی۔ ان کو ہنستے ہوئے شاید ہی کسی نے دیکھا ہو۔ ہم دونوں خاموش رہے، ڈاکٹر صاحب خود سے گویا ہوئے اور کہا کہ بھئی بات یہ ہے کہ ہمارے خاندان میں کوئی بھی مرد پچاس سال تک نہیں جیا ۔میرے بارے میں بھی عموماً یہی رائے تھی، لیکن آج میری 75 ویں سالگرہ منائی جارہی ہے۔ لیکن ڈاکٹر صاحب نے اپنے 90 ویں سالگرہ بھی منائی۔ ان کی 90 ویں سالگرہ اس حوالے سے بھی اہم تھی کہ جس کے خاندان کا کوئی مرد یا فرد عمر میں 50 سال کا ہندسہ عبور نہیں کرپاتا تھا لیکن وہ 90 سال کی عمر تک پہنچ گئے تھے۔ لیکن دوسری اہم بات یہ تھی کہ ان کی نواسی سندھیا بھی اُس روز پیدا ہوئی، یا یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ قدرت نے اُن کو 90ویں سالگرہ کا تحفہ نواسی کی صورت میں دیا۔
ڈاکٹر ڈریگو کا انتقال 93 برس کی عمر میں میرپور خاص میں ہوا۔میرپورخاص کے سینیئر صحافی سلیم آزاد کے مطابق میرپور خاص کے شہری چاہتے تھے کہ ڈاکٹر ڈریگو کی تدفین مسیحی قبرستان کے بجائے ایک ایسی جگہ کی جائے جہاں اُن کی خدمات کے حوالے سے کتبے موجود ہوں۔ جن پر اُن کی زندگی اور خدمات کا ذکر ہو تاکہ آنے والی نسلوں کو ان کی خدمات کے حوالے سے آگاہی ہو، لیکن جب ان کے خاندان نے یہ فیصلہ کیا کہ ڈاکٹر صاحب کی تدفین میرپور خاص کے بجائے کراچی کے گورا قبرستان میں ہوگی تو لوگ خاصے مایوس ہوئے۔ ڈاکٹر صاحب کی تدفین کراچی میں کیوں ہوئی اس حوالے سے ڈاکٹر صاحب کے بھانجے ٹونی ڈریگو نے بتایا کہ ان کی بیوی ارجنٹینا نے کہا کہ میرپورخاص میں ان کے رشتے داروں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس لیے وہ بضد تھیں کہ ڈاکٹر صاحب کی تدفین کراچی میں ہو۔ اور یہ ہو بھی گئی۔ ڈاکٹرصاحب کی بیوی کا انتقال ڈاکٹر صاحب کے انتقال کے تقریباً دو برس بعد ہوا۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ تھی کہ وہ بضد تھیں کہ ان کی تدفین کراچی کے بجائے میرپور خاص میں کی جائے۔
وہ شخص جو تقسیمِ ہند سے قبل ہندوستان سے پاکستان آیا اور تقسیم کے بعد جب پاکستان میں غیر مسلموں کے حوالے سے زمین تنگ ہو گئی تھی اور غیر مسلم پاکستان سے انڈیا ہجرت کر رہے تھے اُس وقت ڈاکٹر ڈریگو ایک ایسی شخصیت تھے جنھوں نے اپنے آبائی شہر گوا سے اگست 1933 میں میرپور خاص پہنچے، لیکن انھوں نے دوباہ انڈیا جانے کی کوشش نہ کی ،لیکن اسے حالات کی ستم ظریفی کہیں یا ان کے خاندان کی خواہش، کہ جو شخص 1947میں میرپور خاص چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھا اسے انڈیا نہیں بلکہ کراچی منتقل کردیا گیا، لیکن زندہ نہیں مردہ حالت میں۔
ان کی تدفین شاہراہ فیصل پر واقع گورا قبرستان میں ہوئی، اور یہ سب کچھ ان کی بیوی کی خواہش پر کیا گیا، جن کا خیال تھا چوں کہ خاندان کے بیشتر لوگ کراچی میں آباد ہیں، اس لیے ڈاکٹر ڈریگو کی قبر کی دیکھ بھال بہتر طریقے سے ہو سکے گی لیکن المیہ یہ ہے کہ جب ڈریگو صاحب کے انتقال کے بعد ان کی بیگم شدید علیل ہوئیں تو انھوں نے وصیت کی کہ انھیں کراچی کے بجائے میرپورخاص میں دفن کیا جائے۔
ڈاکٹر ڈریگو کی وفات کے بعد میرپور خاص کے کئی فلاحی اداروں کے نام تبدیل کر کے ان کے نام سے منسوب کئے گئے جن میں حمید پورہ میں واقع میٹرنٹی ہوم اور چائلڈ ہیلتھ کیئر سینٹر آج بھی زیر استعمال ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...