گلگت بلتستان میں ٹیکسز کا نفاذ اور اسکی قانونی حیثیت

1,434

گلگت بلتستان میں ٹیکسز کے نفاذ کے بعد عوام میں تشویش اور اضطراب پایا جاتا ہے ۔ گلگت میں عوامی ایکشن کمیٹی اور بلتستان میں انجمن تاجران نے ٹیکسز کے مکمل خاتمے کیلئے  گلگت بلتستان بھرمیں پہیہ جام اور مکمل شٹر ڈاون ہڑتال کی کال دی ہے۔ اس سے قبل بھی اس حوالے سے ہڑتال کی کال دی گئی تھی مگر وزیر اعظم  شاہد خاقان عباسی کے دورہ سکردو کے موقع پرگلگت بلتستان میں لاگو ٹیکسزکو معطل کرنے کے اعلان کے بعد یہ ہڑتال ملتوی کردی گئی تھی۔  یہ حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان کی مخصوص آئینی و قانونی حیثیت کے پیش نظر ماضی میں گلگت بلتستان کو ٹیکس فری زون کی حیثیت حاصل رہی ہے  ۔ 2012  میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے گلگت بلتستان میں پہلی بار انکم ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ کیا۔گلگت بلتستان کونسل نے اپنے اجلاس منعقدہ 21 مارچ 2012 میں انکم ٹیکس آرڈر 2001 کو گلگت بلتستان تک توسیع دینے کی منظوری دی جوGilgit Baltistan Council Income Tax (Adaption Act 2012)  کے نام سے موسوم ہے ۔یہ ایکٹ 12  اکتوبر 2012  کو    گزٹ  آف پاکستان  میں شائع ہوا ۔اس ایکٹ کے تحت پچاس ہزارماہانہ یا اس سےزائد آمدن رکھنے والے  نجی و سرکاری شعبہ جات سے منسلک افراد پر ٹیکس لاگو ہو گا  اور اس سے حاصل ہونے والی تمام تر رقم گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی پر صرف ہوگی۔پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے  اس وقت کے  وزیر خزانہ محمد علی اختر نے اس فیصلے پر موقف اختیار کیا کہ” ٹیکسز کے نفاذ کا یہ فیصلہ بیوروکریسی کا ہے۔میں اس اجلاس میں موجود نہیں تھا  میں سمجھتا ہوں کہ آئینی حقوق کے بغیر ٹیکس کا نفاذ غیر آئینی ہے۔  ” تاہم پیپلز پارٹی کے دور میں ہی   گلگت بلتستان میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے محکمے کا قیام عمل میں لایا گیا اور اس طرح   آئینی حقوق  دینے سے قبل ہی گلگت بلتستان کوٹیکسز کے شکنجے میں جکڑ لیا گیا ۔

مسلم لیگ کی حکومت نے  بھی وفاق سے گلگت بلتستان تک ٹیکسز  کے دائرہ ِ کار کو وسعت دینے کا سلسلہ جاری رکھا۔ 11   جولائی 2015 کو صدارتی آرڈ نینس  کے تحت گلگت بلتستان کی  بنکوں میں موجود رقوم کی لین دین پر 0.6  فیصد ودہولڈنگ ٹیکس لاگو کیا گیااور بعد ازاں3 اکتوبر 2016 کو فیڈرل بورڈ آف ریوینیو FBR)) کی طرف سے زیر آرڈC.No.1 (26)Secy(ITP)/2016 گلگت بلتستان میں سامان کی برآمدگی پربھی  ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کر دیا گیا ۔ اس ٹیکس کے جمع کرنے کا اختیارگلگت بلتستان کی بجائےوفاق کو دیا گیا۔ 25 دسمبر 2015 کو گلگت بلتستان میں انکم ٹیکس پر موجود 50٪ چھوٹ کو ختم کرتے ہوئے انکم ٹیکس 3.5  فیصد سے بڑھا کر 7 فیصد کردیا گیا۔وزیرِ اعظم وچیئرمین گلگت بلتستان  کونسل میاں نواز شریف کی زیرِ صدارت  14 اپریل 2015  کو  گلگت میں منعقدہ کونسل کے اجلاس میں ملک کے فنانس  ایکٹ 2014  کو گلگت بلتستان تک توسیع دی گئی اور اس کی توثیق سے دس ماہ قبل سے اسے  قابل عمل قرار دیا گیا  ۔  کو نسل کے اجلاس منعقدہ 30جون 2017 میں   ایک بار پھرملکی فناس ایکٹ کو  گلگت بلتستان  تک توسیع دی گئی۔یہ ایکٹ (Gilgit Baltistan Finance (Adaption) Act 2017)        کے نام سے کونسل سے منظوری کے بعد   10  اگست  2017   کو زیر  نوٹیفیکیشن نمبر C – 1 (1)/2016 GBC  کے  تحت جاری کیا گیا۔ بنکوں کو ٹیکسز کی کٹوتی کے لئے جو شیڈول موصول ہوا  اُس کے مطابق  پانچ لاکھ روپے تک منافع کی رقم پر 10٪ اور پانچ لاکھ سے زائد پر 10 ٪ سے 15٪ ،سامان کی خریداری پر کمپنی کے لئے 4٪اور عام خریداری پر5۔4  ٪ اور عمارتوں کے سالانہ  کرایوں پر  15٪ کی شرح سے  ٹیکس وصول کئے جائیں گے ۔ ایسے میں وزیر اعظم کا گلگت بلتستان میں ٹیکسز کے نفاذ سے متعلق کسی ابہام کا ذکر کرنا اور اُس ابہام کو دُور کرنے تک  ٹیکسز کو معطل کرنے کی بات سمجھ سے بالاتر ہے ۔ گلگت بلتستان میں ٹیکس کا خاتمہ اب تبھی ممکن ہے جب سال 2012 سے اب تک ٹیکس سے متعلق پاس کئے گئے تمام بل  گلگت بلتستان کونسل کی طرف سے واپس لئے جائیں   ۔   مگر اب تو صوبائی حکومت کی جانب سے بلدیاتی اداروں کے ذریعے  بھی الگ  سے ٹیکس کے نفاذ کا عمل بھی شدو مد کے ساتھ جاری ہے۔  14 جون 2016  کو زیر نمبر No.SEC-1(24)/2015-16   گت بلتستان  لوکل گورنمنٹ  ایکٹ 2014   کے  تحت  40  کے قریب   متفرق روز مرہ امور پرٹیکسز عائد کردئے گئے  جس پر فوری طور عمل در آمد شروع ہوچُکا ہے ۔گلگت بلتستان کونسل کے ارکان کا اس حوالے سے موقف ہے  کہ اُنھوں نے کسی اجلاس میں ملک میں نافذ ٹیکسز کو گلگت بلتستان  تک توسیع دینے کا فیصلہ نہیں کیالیکن جی بی کونسل کے اجلاس منعقدہ 19 مئی 2016 میں گلگت بلتستان  کی نئی منرل  پالیسی کی منظوری دی گئی اور اس شعبے کے تمام اختیارات صوبے سے اُٹھا کروزارت ِ اُمور کشمیر کے سُپرد کر دئے  گئے جس پر گورنر میر غضنفر علی خان نےوزیر اعظم  سے اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے نظرِ ثانی کی اپیل کی۔

اپریل 2015 میں اُس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف  نے گلگت  بلتستان کی آئینی حیثیت کے تعین کے لئے  سفارشات تیار کرنے کے لئے  سینیٹر سرتاج عزیز کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے کمیٹی کو تین ماہ میں رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت کی ۔اس کمیٹی کو بنے اڑھائی  سال کا عرصہ گزر چُکاہے  مگر  ابھی تک اس کمیٹی کی رپورٹ ہی سامنے نہیں آئی ۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ کمیٹی کی تمام تر کارروائی کو خود گلگت بلتستان سے خفیہ رکھا جارہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس خطے کی آئینی حیثیت کا تعین ہونا ابھی باقی ہو اور جس خطے کے لوگ  انسانی حقوق کے حصول  کے لئے ملکی آئینی عدالتوں سے رجوع کر نے سے محروم ہوں  وہاں ٹیکسز کا نفاذ  آئینی ہے یا نہیں ؟ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کو عوام کے آئینی حقوق کی ادائیگی سے زیادہ ان سے ٹیکسز کی وصولی عزیز ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...