سعودی عرب کو معتدل اسلام کی طرف لے جانے کا عزم

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اقتصادی امور کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپنے ملک کو اعتدال پسند اسلام کی طرف لے جانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔اس موقع پر شہزادہ محمدبن  سلمان نے 38 کروڑ پاؤنڈ کے بڑے اقتصادی زون کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ریاض میں جمع ہونے والے سرمایہ کاروں سے خطاب کرتے ہوئے شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ ہم پہلے جو کچھ تھے ،اسی کی جانب لوٹ رہے ہیں یعنی اعتدال پسند اسلام کے حامل ملک کی جانب۔یہ ملک تمام مذاہب کے پیروکاروں اور دنیا کے ہر فرد کے لیے کھلا ہے اور کھلا رہے گا۔ ہم اپنی زندگیوں کے اگلے تیس برس تخریبی نظریات کی نذر نہیں کرناچاہتے بلکہ ہم ان متشدد اور تخریبی نظریات کو آج ہی تباہ کریں گے اور بہت جلد انتہاپسندی کا خاتمہ کردیں گے۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے جس کانفرنس میں مملکت کو معتدل اسلام کی طرف لے جانے کا عزم کیا ہے،وہ کانفرنس خود جدیدیت کی طرف بڑھنے کی ایک علامت ہے جو کہ خوش آئند ہے۔اس تقریب میں مردوخواتین ایک ساتھ شریک ہوئے۔ٹونی بلیر اور آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لاگارڈ جیسی اعلیٰ شخصیات کی بھی شریک تھیں۔

چند برس قبل تک سعودی عرب میں ایسی کسی کانفرنس  یا ایسے عزائم کے اظہار کا تصور تک نہیں کیا جاسکتاتھا۔ شہزادہ محمد بن سلمان کے ولی عہد بننے کے بعد سعودی عرب میں نمایاں تبدیلیاں نظر آرہی ہیں۔وہ اپنے وژن کے مطابق سعودی عرب کو آئندہ چندسالوں میں ایک جدید اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے خواہش مند ہیں ،جس میں کسی بھی دوسرے مذہب کے پیروکاروں کو بھی مکمل حقوق اور تحفظ حاصل ہو،جس میں خواتین پر بے جا پابندیاں نہ ہوں بلکہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق انہیں مکمل شہری آزادیاں حاصل ہوں۔شہزادہ محمد بن سلمان کے یہ عزائم اور مقاصد سعودی عرب میں موجود سخت گیر علماء کی کثیر تعداد کے لیے چیلنج بن چکے ہیں۔ان سخت گیر علماء کی طرف سے آنے والے ردعمل کے نتیجہ میں سعودی ریاست نے کچھ اقدامات اٹھائے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ محض ریاستی اقدامات کافی ہونگے یا سعودی حکومت کو کچھ ایسے اقدامات  پر بھی غور ہونا چاہیے جن پر عمل کرتے ہوئے  سخت گیر علماء کو راہ اعتدال پر گامزن کیا جاسکے تاکہ وہ معاشرے کا ایک کارآمد فرد بن سکیں۔اس سے قبل سعودی حکومت انتہاپسندانہ نظریات کے خاتمہ کے لیے بعض عملی پروگرام کرچکی ہے، ان کے نتائج و تجربات پر غور کرنے کی ضرورت ہےتاکہ مستقبل میں انتہا پسندانہ نظریات کو پنپنے کا موقع نہ مل سکے۔

تجزیات کے قارئین اس بارے میں اپنی قیمتی آراء کا اظہار اسی صفحہ پر نیچے جاکر کرسکتے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...