سلامتی اور معیشت کی سلجھاﺅ طلب گتھی

804

سیاست سے انہیں کوئی سروکار نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کا ایسانجی شعبہ ہے جس میں کوئی بھی بلا خوف سرمایہ کاری کر سکتا ہے۔ یہ ملکی طاقت کی حرکیات سے آگاہی رکھتا اورمشکل اوقات میں اس کا رخ متعین کرنے کی طرف ان کی جبلی رہنمائی کرتا ہے ۔ ایک اجلاس میں ابتر کاروباری ماحول کیلئے سیاسی رہنماﺅں کو ذمہ دار ٹھہرانا سپہ سالار اعلیٰ کو نظامِ سلطنت سنبھالنے کی دعوت دینے کے مترادف تھا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کی تقریر بصیرت افروز تھی۔کیا یہ ملکی سلامتی کے کسی نئے لائحہِ عمل کی عکاس تھی؟ مصدقہ معلومات کی عدم دستیابی کی بنا پر ایسا کہنا مشکل ہے۔ تاہم جنرل باجوہ کے اختتامی کلمات پورے دن پر محیط پر جوش اجلاس کی کارروائی اورباقی ماندہ تقاریر کے مندرجات کے برعکس تھے۔کیا یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ ہم سوچ رہے ہیں؟ مگر حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ بعد ازاں پاک فوج کے شعبہ اطلاعاتِ عامہ کے ہمراہ اجلاس کی میزبانی کرنے والے انجمن ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان (Federation of Pakistan Chambers of Commerce & Industry) کے صدر طفیل ز بیر اجلاس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے غیر مطمئن نظر آرہے تھے۔ ان کا کہنا تھا ” ہم وسیع پیمانے پر مقررین کا انتخاب اور تنظیمی تفصیلات کو مربوط کرتے ہوئے آئندہ بہتر انتظامات کریں گے۔ جنرل صاحب ہمارے ساتھ ظہرانے میں شریک ہوئے اور انہوں نے ہماری باتیں تحمل سے سنیں۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کو ہمارے تحفظات سے آگاہ کریں گے”

جنرل باجوہ نے ٹرمپ کے ما بعد جدیدیت   کے دورمیں معاشی ترقی کے لائحہِ عمل میں امن کی مرکزیت کو موضوعِ گفتگو بنایا۔انہوں نے کہا ” سلامتی اور معیشت کے مابین توازن کی افادیت و ضرورت ، اس کا ادراک اور اس کا احترام ماضی کے مقابلے میں زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔“ تاہم بیشتر مقررین کے بیانات اور تقاریر ایک روایتی اظہاریے سے بندھے معلوم ہوتے تھے۔ تمام دن مقررین خطرے کا راگ الاپتے رہے۔ کچھ نے تو یہاں تک کہا کہ آئی ایم ایف کے دباﺅ کے سبب مارچ2018میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی بساط لپیٹنا پڑے گی۔وہ وثوق سے یہ بات کہہ رہے تھے کہ اگر نظامِ سلطنت اسی طرح چلتا رہا تو حالات اس نہج پر پہنچ جائیں گے کہ ان سے چھٹکارے کیلئے پاکستان کوامداد کی درخواست کرنا پڑے گی۔ وہ انتہائی تاسف سے قرض میں ہوشربا اضافے، وسائل کے بے دریغ استعمال اور برآمدات میں کمی کے سبب تشکیل پاتے ایک ایسے خوفناک معاشی منظر نامے کیلئے پاکستان کی لڑکھڑاتی سیاسی حکومت کو الزام دے رہے تھے جو نہ صرف ملکی معیشت بلکہ خود ملکی استحکام کیلئے زہرِ قاتل ہے۔

جنرل صاحب نے کم سود مند ہونے اوربے حد مانگ رکھنے کی وجہ سے نجی شعبے پر محتاط انداز میں خفگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے جی ڈی پی کی کم شرح ٹیکس اور موجود معاشی وسائل کی کمی پر بھی بات کی۔انہوں نے اسے بدلنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ملکی سلامتی میں استحکام کا حوالہ دیتے ہوئے کاروباری افراد کو اقتصادی نمو میں بڑھوتری کیلئے نئی شروعات کی دعوت دی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ جنرل باجوہ نے خطرناک اقتصادی منظر نامے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے پیداوار ی اور تعمیراتی ، بالخصوص توانائی کے شعبے میں بہتری کی جانب توجہ دلائی۔انہوں نے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو خطے کی مشترکہ ترقی کا ضامن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی سلامتی راہداری منصوبے کی تکمیل کیلئے ابتدائیے کی حیثیت رکھتی ہے۔انہوں نے اندرونی و بیرونی تحفظ فراہم کرنے کا وعدہ کیا تا کہ کاروباری حضرات اپنی پیداواری صلاحیتوں سے نفع اٹھا سکیں۔ مغربی و مشرقی سرحدات پر منڈلاتے خطرات کو موضوع بنانے کے بجائے اقتصادی ترقی کیلئے سلامتی کی اہمیت پر اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا

  پچھلی دو دہائیوں میں ہم نے زبان، نسل اور مذہب کے قدیم علاقائی جھگڑوں اوربے جاتقابل کے منفی رجحانات کے دوبارہ نمودار ہونے کا سامنا کیا ہے، سو اس وقت قومی سلامتی ریاست کی اولین اوربنیادی ترجیح بن چکی ہے۔ خطے کی غیر مستحکم صورتِحال کی وجہ سے ہم قومی سلامتی اور اقتصادی نمو میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کی عیاشی نہیں کر سکتے۔ ان دونوں میں مکمل توازن برقرار رکھنا جان جوکھوں کا کام ہے مگر ایک قابلِ عمل توازن لانا نہایت ضروری ہے۔

گزشتہ ہفتے کراچی میں سلامتی اور اقتصادیات میں ربط کے نام سے منعقدہ اجلاس میں موجودہ معاشی صورتِ حال کا تجزیہ اور مستقبل کے بارے میں نکتہِ نظر پیش کرنے کیلئے جنرل مشرف کے اقتصادی معاونین کی بھیڑ تھی۔ ڈاکٹر فرخ سلیم، سینیٹر مشاہد حسین سید اور فرنٹئر ورکس آرگنائزیشن کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل  محمد افضل  ،سابق سیکرٹری مالیات ڈاکٹر اشفاق حسن خان، سابق منتظم بینک دولت پاکستان ڈاکٹر عشرت حسین اور مشرف و شوکت عزیز کابینہ کے سابق وزیرِ مالیات ڈاکٹر سلمان شاہ کے پہلو بہ پہلو نظر آئے۔ انہوں نے موجودہ دگر گوں حالات میں غیر سنجیدہ ترجیحات اور عدمِ استعداد، وزارتِ مالیات میں طاقت کی مرکزیت اور ادارہ جاتی  استحکام سے پہلو تہی جیسی حکومتی کوتاہیوں کو واضح کیا۔

ڈاکٹر فرخ سلیم نے اعدادو شمار سے بھرپور اپنی تقریرمیں کاروباری لاگت کے مختلف اجزاءکا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح غلط حکومتی اقدامات نے نجی شعبے کیلئے کاروباری صورتِحال کو مخدوش کر دیا ہے۔انہوں نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ فوج کے جی ڈی پی میں حصص کی شرح کم کر کے حکومت نے سلامتی کی ضروریات کو کس طرح سے نظر انداز کیا ہے۔سامعین نے ڈاکٹر اشفاق حسن کے دلفریب خطاب پر خوب واہ واہ کی ۔ انہوں نے اپنے خطاب میں تنزلی کی جانب رواں معاشی اشاروں پر حکومت کو مفلوج قرار دیا مگر انہوں نے ملک میں عدمِ استحکام کا سبب بننے والے عناصر کی وضاحت نہیں کی۔ ان کا خیال ہے کہ پہلے سے موجود طاقتور اور وسیع بیوروکریٹک نظام کے باوجود ایک انتظامی محکمہ کا قیام اقتصادی راہداری منصوبے کو درپیش مسائل سے نمٹنے کیلئے بہتر قدم ہوگا۔ پاکستانی ادارہ برائے تجارتی ترقی کے سابق سربراہ ایس ایم منیر بھی پر جوش میزبانوں کے درمیان آئے اور تجارتی توازن میں وسعت کیلئے تجارتی اداروں کے کردار پر روشنی ڈالی۔

تقریب میں موجودایوان صنعت وتجارت کے ذمہ داران اور ملک بھر سے شرکت کرنے والی تجارتی کابیناﺅں کے اراکین دوسرے درجے کے کاروباری طبقے کی نمائندگی کر رہے تھے۔کثیرالقومی تنظیموں (Multinational Companies) کے شراکت دار و اعلیٰ عہدیداران اور معروف کاروباری اداروں کے انتظامی رہنماﺅں کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔داؤد گروپ آف کمپنیز کے حسین داؤد اور گل احمد ٹیکسٹا ئلز کے بشیر علی محمد ہال نما کمرے کی پچھلی نشستوں پر کہیں گم ہو کر رہ گئے تھے جبکہ روشنیوں اوراگلی نشستوں پر فوجی افسران اور (AKDs)براجمان تھے۔

(ترجمہ: حذیفہ مسعود، بشکریہ: روزنامہ ڈان)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...