گلگت بلتستان بنام وفاق پاکستان

1,003

سپریم کورٹ نے گلگت  بلتستان میں دیگر ملکی قوانین کے علاوہ بالخصوص سٹیزن شپ ایکٹ کو بھی گلگت  بلتستان میں یکساں طور پر لاگو ہونے کو بنیاد بنا کر گلگت بلتستان کو پاکستان کے حصہ قرار دے دیا۔ساتھ ہی جو بھی جمہوری ، بنیادی انسانی اورآئینی حقوق ملک کے دیگر شہروں کے شہریوں کو حاصل ہیں اُن حقوق کا  گلگت بلتستان کے لوگوں کو بھی حقدار قرار دیا ہے ۔

گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کا معاملہ ایک بار پھر سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔  سپریم کورٹ میں یہ آئینی پٹیشن سکردو کے نوجوان وکیل راجہ ظفر علی خان نے دائر کی ہے جس میں وفاقِ پاکستان کو فریق بنایا ہے۔ یہ آئینی پٹیشن پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 184(3 ) کے تحت دائر کی گئی ہے ۔پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ الجہاد ٹرسٹ کیس کے فیصلے میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے 1999 میں وفاق پاکستان کوحکم دیا تھا کہ آئین سمیت تمام قوانین میں ترمیم  کرتے ہوئے  گلگت بلتستان کے لوگوں کو تمام جمہوری حقوق دیے جائیں لیکن اس کے برعکس حکومت نے گلگت بلتستان میں سلیف گورننس آرڈر کے ذریعے ایک نظام دیا ہے جو سپریم کورٹ کے فیصلے کے منافی ہے ۔ گلگت بلتستان میں ججز  کی تعیناتی گلگت بلتستان کونسل کرتی ہے  جو کہ عدلیہ کی آزادی کی منافی ہے۔ سپریم کورٹ نے پٹیشن کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے اس کی سماعت کے لئے چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ قائم  کی ہے۔پٹیشن کی ابتدائی سماعت کی اور اسکی اگلی تاریخ 14   نومبر مقرر کی ہے۔عدالت عظمیٰ نے معاملے کو حساس قرار دیتے ہوئے اعتزاز احسن اور خواجہ حارث کو عدالتی معاون مقرر کیا ہے ۔فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے  چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس  میں کہا کہ گلگت بلتستان کے پاکستان کا حصّہ ہونے پر کوئی تنازعہ نہیں لیکن یہ ایک حساس ترین معاملہ ہے،اس پر کیس کی حد تک گفتگو کریں گے۔  یہ  پٹیشن چونکہ  سپریم کورٹ آف پاکستان کے گلگت بلتستان  سے متعلق 1999  کے فیصلے کی روشنی میں دائر کی گئی ہے ،لہذا ذیل میں اُس  فیصلے کی تفصیلات کا جائزہ لیتے ہیں ۔

بنیادی طور پر یہ دو آئینی پٹیشنیں تھیں جنہیں سپریم کورٹ نے ضم کر کے سماعت کیا اور ایک ساتھ نمٹا دیا ۔ان میں سے ایک پٹیشن  94/17گلگت بلتستان کونسل کی سابق ممبر فوزیہ سلیم عباس نے دائر کی تھی جبکہ دوسری  94/11الجہاد ٹرسٹ کے حبیب وہاب الخیری نے دائر کی تھی۔ ان دونوں پٹیشنوں  کو سننے کے لئے  سُپریم کورٹ کے اُس وقت کے  چیف جسٹس  اجمل میاں کی سربراہی میں پانچ رُکنی بینچ تشکیل دیا گیا تھا جس نے متفقہ طور پر فیصلہ جاری کیا  ۔ اس فیصلے میں گلگت بلتستان سے متعلق آئینی و قانونی نکات کی وضاحت کی گئی ہے۔فیصلے میں واضح  کیا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگ پاکستان کے شہری ہیں ،اِنھیں ملک کے دیگر شہروں کے شہریوں کے برابر  حقوق دیے جائیں۔ چھ ماہ کے عرصے میں آئین سمیت تمام ضروری قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے گلگت بلتستان کے لوگوں کی محرومیاں دور کی جائیں۔گلگت  بلتستان کے شہری ملک کے دیگر صوبوں کی طرح کے شہری قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے فیصلے میں لکھا ہے کہ

“Since most of the Pakistani status have been made applicable to Northern Areas including citizenship Act as stated above, we are of the view, that the people of Northern Areas are citizens of Pakistan, for all intents and purposes. The above distinction between the two categories of the above fundamental rights of the constitution is not material. They as the citizen of Pakistan, like any other citizens have the right to invoke any of above fundamental rights but they are also liable to pay taxes and other levies competently imposed.”

سپریم کورٹ نے گلگت  بلتستان میں دیگر ملکی قوانین کے علاوہ بالخصوص سٹیزن شپ ایکٹ کو بھی گلگت  بلتستان میں یکساں طور پر لاگو ہونے کو بنیاد بنا کر گلگت بلتستان کو پاکستان کے حصہ قرار دے دیا۔ساتھ ہی جو بھی جمہوری ، بنیادی انسانی اورآئینی حقوق ملک کے دیگر شہروں کے شہریوں کو حاصل ہیں اُن حقوق کا  گلگت بلتستان کے لوگوں کو بھی حقدار قرار دیا ہے ۔ ان حقوق کے فراہم کیے جانے کے بعد گلگت بلتستان میں بھی ٹیکس اور دیگر واجبات کے اطلاق  کا کہا گیا ہے۔اسی فیصلے میں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ چھ ماہ کے عرصے کے اندر وہ تمام ضروری انتظامات کریں  جنکی بنیاد پر گلگت  بلتستان کو قومی دھارے  میں شامل کیا جاسکےاور گلگت بلتستان کے لوگوں کو ملک کے دیگر شہروں کے شہریوں کی طرح اپنے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے حکومت کرنے کا موقعہ میسر آسکے۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلہ میں وضاحت کے ساتھ یوں لکھا ہے۔

“ We, therefore, allow the above petitions and direct the respondent federation as under: To initiate administrative, legislative, measures within a period of six months from today to make necessary amendments in constitution/ relevant statue/statues/ order/ orders/rules/notifications to ensure that the people of Northern Areas enjoy their above fundamental rights namely, to be governed through their chosen representatives and to have access to justice through an independent judiciary inter alia for enforcement of their fundamental rights guaranteed under the constitution.”

گلگت بلتستان کے عوام تاریخی وقعات اور حقایق کی روشنی میں شروع سے یہ موقف رکھتے ہیں کہ گلگت بلتستان  غیر متنازعہ خطہ ہے اور  یہ پاکستان کا قانونی حصّہ ہے۔مذکورہ فیصلے میں سپریم کورٹ  نے قانونی حوالوں کی روشنی میں وضاحت  کے ساتھ یہ اُجاگر کیا ہے کہ گلگت بلتستان قانونی اور آئینی اعتبار سے بھی پاکستان کا حصّہ ہے ۔اس فیصلے کی روشنی میں مذید بحث کی گنجائش نہیں رہتی کہ گلگت بلتستان متازعہ خطہ ہے یا یہ پاکستان کا حصہ ہے۔ سپریم کورٹ  گلگت بلتستان کو ملک کے دوسرے حصوں کی طرح کا خطہ سمجھتی ہے جس کی روشنی میں وفاقی حکومت کو چھ ماہ کے عرصےمیں گلگت بلتستان میں لوگوں کو جمہوری و آئینی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ جس کی روشنی میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ حکومت سترہ سال  سے  بھی زیادہ عرصے سے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر اسکی روح کے مطابق عمل در آمد کرنے سے قاصر ہے ۔اگرچہ مسلم لیگ ن کی اُس وقت کی حکومت نے  سپریم کورٹ کے اسی فیصلے کے بعد گلگت بلتستان میں اصلاحات  کا نٖفاذ کرتے ہوئے گلگت بلتستان کی اُس وقت کی گلگت بلتستان کونسل کو گلگت بلتست کی  قانون ساز اسمبلی قرار دے کر اسے محدود اُمور پر قانون سازی کا اختیار دے دیا تھا لیکن قانون ساز اسمبلی کی صدارت بدستور وفاقی وزیر اُمور کشمیر و گلگت بلتستان کے پاس ہی تھی ۔اسمبلی کے لئے سپیکر کا عہدہ متعارف نہیں کرایا گیا تھا،بعد مین جنرل مشرف کے دور میں اسمبلی کے لئے سپیکر کا عہدہ متعارف کرایا گیا اور 2009 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے نئی اصلاحات کے ذریعے گلگت بلتستان میں باقاعدہ  صوبائی  طرز پر حکومتی ڈھانچہ قائم کیا ۔پہلی قانون ساز اسمبلی کے ساتھ کونسل کو بھی متعارف کرایا گیا مگر 1999 میں سپریم کورٹ نے جو احکامات دیے تھے وہ آج بھی عمل در آمد کے منتظر ہیں۔ نہ صرف یہ  بلکہ اس پر مذید ستم یہ کہ سپریم کورٹ کے واضح  احکامات  کےباوجود گلگت بلتستان کے لوگوں کو آئینی حقوق تو نہیں دیے گئے مگر سپریم کورٹ کے فیصلے کے برخلاف گلگت بلتستان میں وفاقی حکومت کی جانب سے انکم ٹیکس ، سیلز ٹیکس، اور ویتھ ہولڈینگ ٹیکس سمیت صوبائی حکومت کی جانب سے بلدیاتی اداروں کے تحت درجنوں ٹیکسز اور واجبات لاگو کیے جاچُکے ہیں ۔ اگرچہ سرتاج عزیز کمیٹی ابھی تک یہ طے نہیں کر پائی ہے کہ گلگت بلتستان کی آئینی و قانونی حیثیت کیا ہے۔ ایسے میں سپریم کورٹ میں دائر کی گئی اس رٹ پٹیشن کی بڑی اہمیت ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...