ہر بیانیہ!جنگ کا نقاب ابہام بنتا ہے؟

302

قومی بیانہ واضح ہوتا تو اجتماعی دانش کنفیوژ ہوتی نہ طالع آزماﺅں کو پانی گدلہ کر کے مچھلیاں پکڑنے کی مہلت ملتی،بلاشبہ ہمہ جہت دباو سے نکلنے کے لئے صداقت کے ابلاغ کے علاوہ کوئی راہ باقی نہیں بچی۔

نومبر 2001 ءمیں افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں دہشتگردی کے خلاف چھڑنے والی مہیب جنگ کے مقاصد بظاہر افغانستان سے القاعدہ و طالبان کی بالادستی ختم کرنے تک محدود تھے لیکن خاموش قدموں کے ساتھ چلنے والی تغیر پذیر لہروں نے ان جنگی چالوں کو التباسات کے لبادے پہنا کے بالآخر اس جنگ کو ہمارے دروازے پہ لا کھڑا کیا۔اب ہم اس جدلیات کا حصہ ہیں،ایسا کیوں اور کیسے ہوا؟ ان ایشوز پہ لب کشائی آسان نہیں کیونکہ جنگ ہمیں ان سوالات پہ غور کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔تاریخ بتاتی ہے کہ ان سوالوںکے حتمی جوابات ہمیشہ تباہی کے ملبہ سے ملتے ہیں۔اسلئے ہم میں سے کوئی بھی براہ راست حقائق کو جان سکتا ہے نہ بیان کرنے کی تاب رکھتا ہے۔اس دلدل میں اتارنے کے ذمہ داروں کا تعین ممکن ہے نہ فی الحال دوست و دشمن کی واضح شناخت کی جا سکتی ہے۔ البتہ واقعات کو سمجھنے کے لئے انہیں حقیقی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کریں تو ردعمل کے خطرات کم ہو جائیں گے۔امر واقعہ یہ ہے کہ پندرہ سال سے برپاجنگ کے آتش فشاں میں امریکہ نے 610 ارب ڈالر جھونک دیئے،کولیشن سپورٹ فنڈ کے تحت 11 بلین ڈالرز کی امداد ملی مگر پاکستان کو 12سو ارب ڈالر کا مالی خسارہ برداشت کرنا پڑا۔جنگ کی کوکھ سے پھوٹنے والی تشدد کی لہروں نے 50ہزار سے زیادہ پاکستانی شہریوں کی جان لے لی،5400 فوجی شہید ہوئے،افغان جنگ میں امریکہ اور نیٹو کے 2325 فوجی ہلاک ہوئے، 2004ء سے 2016ءتک امریکی فورسز نے قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر401ڈرون حملے کئے، جن میں 2498جنگجواور 3058 قبائیلی ہلاک ہوئے۔

نیو امریکن فاﺅنڈیشن کے رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ ڈرون حملے 2010ءمیں ہوئے۔ پندرہ سالوں میںاس جنگ میں عسکریت پسندوں سمیت کل 81 ہزار لوگ مارے جا چکے ہیں۔ اسی کشمکش نے قوم کواندرونی خلفشار اور بیرونی خطرات سے دوچاررکھا۔دہشتگردی کی جنگ میں ابھرنے والے مسلح گروہوں کی قومی سیاست میں تلویث نے بزور قوت ملکی پالیسیوں تبدیل کرانے کے رجحان کی حوصلہ افزائی کر کے سویلین کلچر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ قومی معیشت کے متوازی ایسی جنگی معیشت War economy ) (پروان چڑھی، جس کی بنیادیں تشدد کے محرکات میںپیوست تھیں۔اسی لشکری اقتصادیات نے جنگی رجحانات کو ایندھن فراہم کیا کیونکہ جنگ کا تسلسل ہی حربی معیشت کے دوام کا اصل وسیلہ تھا۔ جنگ دہشتگردی نے سب سے زیادہ تباہ کن اثرات تہذیب و ثقافت، سماجی اقدار اور معاشرے کی اجتماعی نفسیات پہ مرتب کئے،اس مرحلہ پہ عوام کا ردعمل وہی تھا جو کسی بھی ہنگامی صورت حال کا شکار قوم کا ہوتا ہے۔

جون 2014 ءمیں آپریشن ضرب عضب کے آغاز کے ساتھ ہی شمالی وزیرستان کے حقانی نیٹ ورک بارے بحث کے متضاد نقطہ ہائے نظر کو راہ سے ہٹا دیا گیا۔حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی حمایت اور مخالف میں بولنے والے گروہ خاموش ہیں تاہم سرحد کے اس پار سے اسی ایشو کی گونج بدستور سنائی دیتی رہی۔ چنانچہ حقائق ابھی پردہ اخفاءمیں رہیں گے کیونکہ ابہام سے لبریز ابلاغ میں ہی جنگی حربوں کی ایسی حرکیات پنپتی ہےں جس سے فریقین ایک دوسرے کی ساکھ اوریقین پر حملہ زن ہو سکتے ہیں۔ جنگ دراصل دھوکہ ہے،دہشتگردی کے خلاف عملی و نظریاتی جنگ بارے، ان پندرہ سالوں میںہونے والے ہر تجزیہ،شہریوں کو کلئیریٹی دینے کے بجائے، فکری انتشار کو بڑھاتا گیا کیونکہ پاک افغان بارڈر پر دہشتگردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کا حتمی ہتھیار ”کنفیوژن“ تھا۔جب ریاستی فورسز اور دہشت گردوں کے منظم گروہ اسی طلسماتی ہتھیار کو اپنی تزویری حکمت عملی کے کیموفلاج کے طور پر استعمال میں لانے کی کوشش کرتے ہیں تو سرکاری فورسز اور عسکریت پسندوں کی حکمت عملی کو جانچنا ممکن ہوتا ہے نہ جنگی مقاصد کی تفہیم کی جا سکتی ہے۔اسی لئے ہر طبقہ ،ہر ادارہ اور ہر سوچ دہشتگردی کا ہدف بنتی رہی تاکہ ظالم و مظلوم،حق و باطل،خیر وشر اور دوست و دشمن کے درمیان واضح لکیر کھینچنا ممکن نہ رہے۔چنانچہ پندرہ سالوں پہ محیط اس گنجلک کشمکش کے منتشر اثرات و عواقب کو عقلی بساط پہ مرتب کرکے حالات کی تصویر کشی کے ذریعے کوئی پیش گوئی کرنا محال ہے۔جزوی معلومات اور ادھوری مساعی سے مزین تجزیہ نگاروں کے تقابلی جائزے ایشو زیر بحث کی توضیح کی بجائے ابہام میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں۔اخبارات کے صفحات پر بکھری تجزیاتی تحریریں اور سیلور سکرین پر نمودار ہونے والے بصری و سمعی تجزیے تلبیس کی صورت میں بجائے خود ایک جنگی حربہ بن کے کنفیوژن کی دھند بڑھا تے ہیں۔یہ ایسی پیچیدہ مبارزت ہے جس میں سرگرداں فریقین کی اصل قوت اور حقیقی کردار کا حتمی تعین دشوار ہے۔ ہمارے لئے یہ جاننا ممکن نہیں کہ امریکی فورسز کی پاکستان کے ریاستی اداروں سے کوارڈینیشن کی نوعیت کیا ہے،جنگی رقابت کے مہیب پردوں کے پیچھے برسرپیکار دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے اندر ان کے روابط کی گہرائی کتنی عمیق ہے،(ریمنڈ ڈیوس مسلم مجاہد کے روپ میں قبائلی علاقوں میں دو سال گزار گئے )امریکی فورسز اور پاکستانی سکیورٹی ایجنسیز کے مربوط اور غیر مربوط اقدامات میں تعاون کا توازن کہاں پایا جاتا ہے؟امریکی وپاکستانی فورسز اور عسکریت پسندوں پر مشتمل طلسماتی تکون کی جدوجہدکا محور کیا ہے، پلڑاکس کا بھاری ہے؟ یہ جنگ جدید رموز حکمرانی اور تنازعات میں توازن Conflict Management ) ( کا نفیس ترین آرٹ ہے جس میں دوستی و دشمنی کے متضاد دھاروں میں گہری مماثلت نظر آتی ہے لیکن حقیقتاً ایسا ہوتا نہیں کیونکہ اس کشمکش کا سنٹر آف گر ویٹی کنفیوژن ہے۔جس امریکہ کے ساتھ دوستی کے لافانی رشتے ہیں اسی کے ساتھ کئی محاذوں پہ محو جنگ بھی ہیں۔انڈیا کے سات جنم جنم کی دشمنی کے باوجود درجنوں معاملات نہایت ہموار انداز میں چلتے ہیں۔

اگر ہم پلٹ کے دیکھیں تو 16 مارچ 2003ءسے قبائیلی علاقوں میں شروع ہونے والے فوجی آپریشن کے دوران لگ بھگ 1200 قبائیلی عمائدین ہلاک ہوئے ۔پچھلے سات سالوں میں باجوڑ ایجنسی میں255 شمالی وزیرستان میں135 جنوبی وزیرستان میں130 مہمند ایجنسی میں165 اورکزئی میں130 خیبر ایجنسی میں80 جبکہ ایف آرز کے علاقوں میں مجموعی طور پہ 60 عمائدئن قتل ہو چکے ہیں۔لاکھوں انسان نقل مکانی کی کلفتوں سے دوچار ہوئے۔فاٹا میں کام کرنے والے 13 صحافی تاریک راہوں مارے گئے۔تشدد کی انہی پیچیدہ لہروں نے طرز فکر، تہذیب وتمدن اور قبائیلی روایات کے مزین تصورات کو کچل ڈالا۔حکومت مخالف طالبان اور سرکار کے حامی جنگجووں کے درمیان کانٹے کی تو لڑائی لڑی گئی اگرچہ یہ بھی عالمی طاقت کے خلاف مزاحمت میں قوت پیدا کرنے کا طریقہ کار ہو گا کیونکہ عالمی قوتوں کے خلاف مزاحمت کاروں کے چھوٹے جتھوں میں باہمی جنگ وجدل ایک طرف سرحد پار بیٹھے طاقتور ملکوں کے ارادوں کوتوڑتی ہے تو دوسری جانب درجنوں متحارب جنگجوں کی بکھری ہوئی کمانڈ کی وفاداریاں خریدنا دشوار ہوتا ہے۔اگر طالبان جنگجو یونٹی آف کمانڈ میں منظم ہوتے تو انکے مرکزی لیڈرکی تسخیرآسان ہوتی،قبائلی و غیر قبائیلی جنگجووںکی قابل لحاظ تعداد ہر آن رنگ بدلتے انہی متحارب گروپوں کے مابین محو خرام رہ کے ٹھکانے بدلنے کی روش کے ذریعے مسلح جتھوںکی ہیت و شناخت کو بھی متغیر رکھتی ہے، جس سے ہر گروپ کا چہرہ مخفی اور انکے وجود کا حجم بڑھتا گھٹتا رہا ۔اسی لئے کسی بھی جنگجو دھڑے کے حقیقی وجود کو تولنا ممکن نہیں تھا۔تصادم کی الجھنوںسے لبریز انتشار زدہ ماحول،جس میں ایک طلسماتی ربط بھی پایا جاتا ہے ، شاید کمزرور ترین لوگوں کا دنیا کی طاقتور ترین قوت کے خلاف مزاحمت کا آرٹ اور افغانستان میں امریکی فورسز کے ارادوں کی راہ میں دھویں کی فصیل ہے،جس کی تاریکی تلے امریکہ کے علاوہ بھارت،چین اور ایران سمیت روس کی خفیہ ایجنسیوں کی مزاحمتی بساط بچھی ہے۔ان کے اہداف کا تعین ممکن نہیں۔دلچسپ امر یہ ہے کہ ہمارے رپورٹرز ، سیاسی ،صحافتی اور جنگی تجزیہ کاروں کی ادھوری معلومات اور مبہم واقعات کی ناقص تشریح پر مبنی تجزیئے اگرچہ بے معنی اور فضول ہیں لیکن ناگزیر بھی ہیں کیونکہ یہی بے ربط خیالات جنگی چالوںکا نقاب ابہام بنتے ہیں۔

اب ایسے میں، جب حالات کے جبر نے، ہر صاحب الرائے کے لئے صداقت کے ابلاغ کی راہیں مسدود بنا رکھی ہوں، ایک اور جنگ نے ہمارے ماحول کو آ گھیرا، مشرقی و مغربی سرحدات پہ وجود پانے والی تلخیوں کے ہجوم کے علاوہ ستر سالوں پہ محیط داخلی تنازعات کے وبال بھی سامنے آ کھڑا ہے، ہر آنے والے دن خطہ میں طاقت کے بگڑتے توازن کے علاوہ عالمی برادری کے رویوں میں لاتعلقی اور لہجہ کی تلخی دوچند ہو رہی ہے،کوشش بسیار کے باوجود دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ کے ساتھ،افغان ایشو پہ،اختلاف کی خلیج عبور نہیں ہو رہی۔اس سب کے باوجود قوم اگر داخلی طور پہ منظم، سیاسی طور پہ مستحکم اور باہمی تنازعات کو نمٹانے کےلئے پارلیمنٹ کے فورم کو بروکار لانے کے قابل ہوتی تو ہماری قومی سلامتی خطرات سے یوں دوچار نہ ہوتی لیکن بدقسمتی سے معاشرے کی اجتماعی بے حسی اور طاقت کے ذریعے مسائل کو سلجھانے کے رجحان نے گریز پا علاقائی گروپوں کو ریاست کے خلاف صف آراءہونے کی راہ دکھائی۔ملک کاکوئی سیاسی گروہ قومی تناظر کے اندر اپنی گنجائش پیدا کرنے کا ادراک نہیں پا سکا اسلئے اجتماعی حیات کے خدو خال معدوم اور ملک گیر سیاسی جماعتیں کمزور ہوئیں تو مہاجر،سندھی ،بلوچ اور پختوں قوم پرستوں نے نسلی ،لسانی اور علاقائی شناختوں پہ اصرار کر کے داخلی تقسیم کی لکیر کوگہرا کر دیا،توقع تھی کہ میثاق جمہوریت کے بعد سیاستدان، جمہوری نظام کے تحفظ کےلئے،باہم مربوط رہیں گے لیکن ایک روش خیال سیاسی جماعت میڈیاکی مدد سے حکومتی ساکھ پہ حملہ زن ہو کے سیاسی نظام کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے میں سرگرداں نظر آئی۔ایسا لگتا ہے کہ میڈیا نے اپنی صلاحیتوں کو منتخب حکومت کو بدنام کرنے اور آئینی نظام کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی خاطر وقف کر رکھا ہے، بیرونی جارحیت کی گونج کے باوجود پرتشدد تحریکوں کی لہر تھمی نہیں بلکہ خوف،بے یقینی اور کنفیوژن میں اضافہ کرکے فکری انتشار کو بڑھا رہی ہے،کیا اسی سہمی ہوئی قوم کو بیرونی یلغار کے مقابلہ کےلئے میدان میں اتار جائے گا ؟اگر قومی بیانہ واضح ہوتا تو اجتماعی دانش کنفیوژ ہوتی نہ طالع آزماﺅں کو پانی گدلہ کر کے مچھلیاں پکڑنے کی مہلت ملتی،بلاشبہ ہمہ جہت دباو سے نکلنے کے لئے صداقت کے ابلاغ کے علاوہ کوئی راہ باقی نہیں بچی،اگر ادب و ثقافت پروان چڑھتی اور سماجیات کے ماہرین معاشرے کو زندگی کی تازگی سے روشناس کراتے تو مملکت توانا ہوتی لیکن بدقسمت سے مقاصد کے حصول کے لئے صداقت کے ابلاغ کو روکنے کی روایت نے جہاں فکر کے صحتمند ارتقاءکو منجمد رکھا وہاں اسی لن ترانی نے داخلی عداوتوں کے اصل محرکات کو پردہ اخفاءمیں رکھ کر ذہنی الجھنیں بڑھا دیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...