تعلیم اور نصاب کی منتقلی: ایک اہم تشویش

906

آئین کی اٹھارہویں ترمیم میں تعلیم اور نصاب سے متعلق اداروں اور ذمہ داریوں کو وفاق سے صوبوں کو منتقل کرنا شامل تھا۔ اس اقدام میں بعض اداروں کا انضمام، تشکیلِ نو اور بعض ذمہ داریوں میں ترمیم و تنسیخ کی گئی۔ منتقلی کی اس عمل کے لیے جو خاکہ مرتب کیا گیا اس میں نفاذ و اطلاق کے حوالے سے کئی پہلو قابل توجہ ہیں۔ متعدد نکات ایسے ہیں جن کے اطلاقی پہلو کے بارے میں معاملات عدم وضاحت کا شکار ہیں۔ زیرنظر مضمون اس تناظر میں اس ترمیم کا مفصل تجزیہ پیش کرتا ہے۔ (مدیر)

’’ریاست ۵؍ سال سے ۱۶؍ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کے لیے مذکورہ طریقہ کار پر جیساکہ قانون کے ذریعے مقررکیا جائے، مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے گی۔‘‘
(آرٹیکل ۲۵ ۔ اے ، آئین پاکستان)

جب ۲۰۱۰ء میں تاریخی اٹھارہویں ترمیم کا نفاذ کیا گیا تو تعلیم کے شعبے کی منتقلی ایک متنازعہ مسئلہ تھا۔ آئینی اصلاحات پر غور و فکر کے دوران پارلیمانی کمیٹی میں، جس نے اٹھارہویں ترمیم تصنیف کی ، پاکستان مسلم لیگ نواز نے ایک اعادہ نوٹ لکھا جس میں کہا گیا کہ ’’ تعلیمی نصاب وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہونا چاہیے۔‘‘
پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم ایک قدم آگے بڑھی اور کہا کہ ’کنکریٹ لسٹ‘ ختم نہ کی جائے کیونکہ ابھی وقت نہیں آیا کہ اتنی بڑی تبدیلی عمل میں لائی جائے۔ ’کنکریٹ لسٹ‘ ایک دستوری فہرست تھی جس پر قانون سازی کے لیے وفاقی اور صوبائی اسمبلیاں بااختیار تھیں۔ اگر کسی معاملے پر وفاقی اور صوبائی دونوں اسمبلیوں نے قانون سازی کی تھی تو وفاقی قانون خود بخود صوبائی قانون پر غالب آجاتا تھا۔ تعلیم اور نصاب ’کنکریٹ لسٹ‘ کا حصہ تھے، اس کے ختم ہونے سے یہ صوبائی اختیارات کے زمرے میں آگئے۔ پاکستان کی آئینی سکیم میں یہ مخصوص اختیارات (جوکہ وفاقی دستور سازی کا حصہ نہیں ) صوبائی اختیارات میں آجاتے ہیں۔ پی ایم ایل( ق) چاہتی تھی کہ صوبوں کو بتدیج بااختیار بنایا جائے اور اختیارات کی منتقلی مرحلہ وار کی جائے۔
تاہم اٹھارہویں ترمیم کے مصنفین نے اندراج ۔۱۲کے تحت ایک نیا اندراج ’فیڈرل لیجیسلیٹو لسٹ‘ میں کیا کہ ’’ہائر ایجوکیشن ، تحقیق اور سائنسی اور فنی و تکنیکی تعلیمی اداروں میں معیار کو برقرار رکھنا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس پر عمل درآمد سی سی آئی کے فورم کے ذریعے ہوگا۔‘‘ یہ اندراج اس خیال سے کیا گیا تھا کہ ان اداروں میں وفاقی سطح کے تعلیمی معیار کو یقینی بنایا جاسکے اور تعلیم کے معیار کی ایک کم ازکم حد مقرر کی جا سکے۔
اٹھارہویں ترمیم کے نفاذ کے وقت بہت شور شرابا کیا گیا، خاص طور پر اس وقت جب اپریل۲۰۱۱ء میں وفاقی وزارت تعلیم کو صوبائی اختیار دیا گیا۔ تین ماہ کے اندر اندر۳۰ جولائی ،۲۰۱۱ء میں ایک نئی مگر اسی شباہت کی وزارتِ تعلیم وجود میں لائی گئی۔ چھوٹے صوبوں خاص کر سندھ اور خیبر پختونخواہ کے احتجاج کے بعد اس وزارت کا نام چار مرتبہ تبدیل کیا جا چکا ہے۔ اور اب اس وزارت کا نام ’’ وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ ترقی‘‘ ہے۔ اس وزارت نے بین الصوبائی وزراتعلیم کانفرنس (آئی پی ای ایم سی) کو ۲۰۱۳ء میں دوبارہ بحال کیا اور اس کے ذریعے۱۴؍ اکتوبر ،۲۰۱۴ء کو ایک قومی نصاب کونسل بھی قائم کردی گئی ہے۔
تاریخی طور پر گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ۱۹۳۵ء، ۱۹۵۶ء و ۱۹۶۲ء کے آئین کے تحت تعلیمی پالیسی اور پلاننگ ، نصاب اور اعلیٰ تعلیم صوبائی امور تھے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ تعلیم صوبائی معاملہ تھا، پھر بھی وفاقی / مرکزی سطح پر وفاقی وزیر ہوتا تھا۔ آئین پاکستان۱۹۷۳ء میں یہ تمام معاملات ’کنکریٹ لیجیسلیٹو لسٹ‘ میں ڈال دیے گئے تھے۔ اٹھارہویں ترمیم کے ساتھ ہی ’کنکریٹ لسٹ‘ ختم کر دی گئی اور تمام معاملات علاوہ اعلیٰ تعلیم کے معیار (نیا اندراج) صوبائی معاملہ ہوگئے (یعنی جو آئینی طور پہ صوبے کے پاس ہوں)۔
اٹھارہویں آئینی ترمیم نے آئین کے آرٹیکل ۲۵۔اے کو تسلیم کیا جس کے مطابق’’ ریاست ۵؍سال سے ۱۶؍ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کے لیے مذکورہ طریقہ کار پر جیساکہ قانون کے ذریعے مقررکیاجائے مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے گی‘‘۔ آئین کا آرٹیکل ۷؍ ’ریاست‘ کی وضاحت اس طرح کرتا ہے کہ وفاقی حکومت ، پارلیمان ، صوبائی حکومت ، صوبائی اسمبلی ، اور پاکستان میں ایسے مقامی اور دوسرے با اختیار ادارے جو قانون کے مطابق ٹیکس لاگو کر سکیں ، وہ ’’ریاست‘‘ کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس وضاحت کی روشنی میں ’’تمام بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم مہیا کرنا حکومت کے ان تمام درجوں کی ذمہ داری ہے۔‘‘
حقیقت میں کیا منتقل کیا گیا ؟
اپریل۲۰۱۲ء میں وفاقی وزارت تعلیم کو صوبوں کو منتقل کیا گیا۔ نیچے دیے گئے چارٹ کی مدد سے وضاحت کی گئی ہے کہ حقیقت میں اس منتقلی کے بعد کیا تبدیلی آئی۔

منتقلی کا نوٹیفکیشن کہتا ہے کہ حذف کی جانے والی وفاقی وزارتوں کے وہ امور جن کی نشاندہی اوپر دیے گئے چارٹ میں کی گئی ہے یا نہیں کی گئی ، وہ صوبوں کو منتقل شدہ ہی مانے جائیں گے۔ اس منتقلی کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے اس منتقلی کو رولز آف بزنس ۱۹۷۳ء کے مطابق بھی دیکھنا ہو گا۔ منتقلی کے نوٹیفکیشن میں مندرجہ ذیل (چارٹ۔۲)منتقل کیے گئے یا ختم کیے گئے کاموں کی خاص نشاندہی نہیں کی گئی۔

وفاقی وزارتِ تعلیم کی صوبوں کو منتقلی کی دستاویزات /نوٹیفکیشنوں کا بغور مطالعہ عیاں کرتا ہے کہ اداروں اور مینڈیٹ کے حوالے سے صوبوں کو بہت کم اختیار منتقل کیا گیا۔ نیشنل نصاب کونسل کے نئے ادارے کے علاوہ اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کو منتقل کرنے سے ہچکچاہٹ اور ہائر ایجوکیشن کے معیار کے لیے ایک خاص کمیشن کے قیام کے علاوہ نئی وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ ٹریننگ نے صوبوں سے کچھ نہیں لیا۔

تعلیمی میدان میں اٹھارہویں ترمیم اور اس پر عملدرآمد
تاریخی اٹھارہویں ترمیم کو پارلیمان نے متفقہ طور پر منظور کیا اور اسے پاکستان کے گزٹ میں ۲۰؍اپریل۲۰۱۰ء کو نوٹیفائی کیا۔ اس ترمیم سے آئین کا تقریبا 36 میں تبدیل ہوا۔ آئین کے ۲۸۰ میں سے۱۰۲؍ آرٹیکل میں ترامیم ہوئیں۔ ان میں کچھ داخل کیا گیا، شامل کیاگیا، بدلا گیا یا ختم کردیا گیا۔ اٹھارہویں ترمیم نے پاکستان کے مختلف سطح پر گورنینس جیسا کہ وفاقی ، بین الصوبائی اور صوبائی سطح پر اختیارات کی حد بندی کی۔ اس کے نتیجے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے قانون سازی اور انتظامی اختیارات وفاقی حکومت کو امتیازی طور پر۵۳؍ ، کونسل آف کامن انٹرسٹ کو ۱۸؍ اور باقی تمام امور صوبوں کو دے دیے گئے۔
اٹھارہویں آئینی ترمیم پر عمل کے لیے ضروری تھا کہ موجودہ قانونی ، ریگولیٹری اور پالیسی فریم ورکس میں کافی تبدیلیاں کی جائیں۔ تقریباً ۴۸؍ ایسے وفاقی قوانین کی نشاندہی کی گئی جن میں ترمیم کی ضرورت تھی تاکہ اٹھارہویں ترمیم کے محرکات و اہداف کی عکاسی ہو سکے۔ چھے سال گزر جانے کے باوجود بھی سیاسی عزم کی کمی ، پالیسی سازی میں رابطے کے فقدان اور ثبوت کی بنیاد پر حکمتِ عملی نہ ہونے کی وجہ سے سماجی شعبہ میں بعض امور ابھی تک طے نہیں ہو سکے اور اس کی وجہ سے منتقلی کا عمل اور رفتار متاثر ہورہے ہیں۔
ہائر ایجوکیشن کی منتقلی کے بعد سندھ اور پنجاب نے اپنے اپنے ہائر ایجوکیشن کے ادارے بنالیے ہیں جن کو وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وفاقی وزارت قانون’’ غیر آئینی‘‘ کہتے ہیں۔ سی سی آئی نے اپنے اجلاس منعقدہ مارچ ۲۰۱۵ء میں وفاقی اور صوبائی ایچ ای سی کا تنازعہ حل کرنے کے لیے ایک ٹاسک فورس بنائی لیکن اب تک یہ ٹاسک فورس اپنی سفارشات پیش نہیں کر سکی۔
وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل ۲۷۰۔اے کی شق۹؍ پر عمل کرتے ہوئے ایک عملدرآمد کمیشن قائم کیا تاکہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کی روشنی میں موجودہ قوانین پر نظر ثانی ہوسکے۔ اس دس رکنی کمیشن کے متعدد اجلاس ہوئے تاکہ وفاقی ایچ ای سی میں ایچ ای سی آرڈیننس۲۰۰۲ء کے تحت اختیارات اور کاموں کے متعلق فیصلہ کیا جاسکے۔ بعد میں سی سی آئی کے ۲۸؍ اپریل۲۰۱۱ء کو منعقدہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ فیڈرل لیجیسلیٹو لسٹ ۔۱۱کے اندراج ۱۲؍ کی روشنی میں ایک محدود اختیارات کا اداراہ کام کرتا رہے گا تاکہ ہائر ایجوکیشن کے اداروں میں معیار کو یقینی بنایا جاسکے اور یہ محدود اختیارات کا ادارہ ’’ سٹینڈرڈ ان انسٹی ٹیوشنز آف ہائر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ ، سائینٹیفک اینڈ ٹیکنیکل انسٹی ٹیوشنز‘‘ ہے۔
اب تک چھے برسوں کے بعد بھی ایچ ای سی آرڈیننس۲۰۰۲ء میں ترمیم نہیں کی جا سکی اور ایف ایف ایل ۔۱۱ کے اندراج نمبر۱۲؍ کے تحت متبادل کے طور پر ’’کمیشن فار سٹینڈرڈ ان انسٹی ٹیوشنز آف ہائر ایجوکیشن‘‘ کو لایا گیا تاہم اٹھارہویں آئینی ترمیم کے پیشِ نظر وائس چانسلر کی تقرری اور یونیورسٹی کے دیگر انتظامی امور کو پنجاب ، سندھ اور خیبر پختونخواہ میں گورنروں (وفاقی حکومت کے نمائندوں ) سے لے کر وزرائے اعلیٰ کو منتقل کردیے گئے ہیں۔ اور اسی طرح سے پنجاب ، سندھ اور خیبر پختونخواہ کی یونیورسٹیوں کے ایکٹ میں بھی ترامیم کی گئی ہیں۔
صوبہ سندھ اور پنجاب نے اپنے اپنے ہائرایجوکیشن کمیشن بالترتیب ۲۰۱۳ء اور ۲۰۱۴ء میں قائم کر لیے تھے تاہم وفاقی ایچ ای سی ان کے قیام کو غیر آئینی قرار دیتی ہے۔ یہ اس لیے ہورہا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کے لیے مالی معاونت کا معاملہ ابھی طے نہیں ہوا ہے۔ سی سی آئی کے ایک اجلاس میں جون ۲۰۱۱ء میں وفاقی حکومت اگلے این ایف سی ایوارڈ میں، جو کہ جولائی ۲۰۱۵ء میں ہونا تھا، مالی تعاون پر راضی ہوگئی تھی۔
اٹھارہویں آئینی ترمیم ۱۶؍سال تک (میٹرک) کے بچوں کی لازمی اور مفت تعلیم کا اعادہ کرتی ہے جوبنیادی حقوق میں سے ایک ہے اور تعلیم کا شعبہ صوبوں کو منتقل کردیا گیا ہے۔ آئینی طور پر چاروں صوبوں اور وفاق پر وفاقی علاقہ جات کے لیے آرٹیکل ۲۵۔اے کے تحت تعلیم کے حق پر قانون سازی کرنے کی ذمہ دار ی عائد ہوتی ہے۔
مندرجہ ذیل چارٹ میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد موجودہ قانون سازی کی تصویر کچھ یوں پیش کی گئی ہے :

چھے سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود تعلیم کی جمہوری منتقلی پر عملدرآمد پر بات کرنا ناکافی ہے جبکہ اس کی قانون سازی کا مرحلہ ابھی نامکمل ہے۔ یہ ان صوبوں میں اور بھی حیرت کا باعث ہے جہاں متعلقہ قوانین منظور ہوچکے ہیں لیکن اسے عمل میں لانے کے قواعد و ضوابط موجود نہیں ہیں۔ ایگزیکٹیو برانچ کے اختیارات میں شامل ہے کہ جو قوانین مقننہ نے منظور کر دیے ہیں ان پر عملدرآمد کا طریقہ کار مہیا کرے۔ اس لیے تعلیم کا حق ایک خواب ہی ہے جبکہ ملک کے اڑھائی کروڑ بچے سکول نہیں جاتے(حوالے کے لیے ملاحظہ ہو http://www.alifailaan.pk )۔ اس کے باوجود ایک مثبت قدم یہ رہا کہ اسکول کی تعلیم کے لیے بجٹ ۲۰؍سے بڑھا کر ۲۳؍فی صد کر دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ صوبوں میں بچوں کے سکول داخلے کی مہم بھی حوصلہ افزا ہے۔
متنازعہ امور
وزرائے تعلیم کی بین الصوبائی کانفرنس (آئی پی ای ایم سی): کینیڈا جیسے ممالک جہاں کوئی رسمی وفاقی وزارتِ تعلیم نہیں ہے، وہاں اس طرح کے پلیٹ فارم قومی یکجہتی پیدا کرتے ہیں۔ پاکستان میں آئی پی ای ایم سی کو ۲۰۱۳ء میں دوبارہ شروع کیا گیا۔ آئی پی ای ایم سی ہر تین ماہ بعد منعقد ہوتی ہے تاکہ ملک میں تعلیم سے متعلق پالیسی پر گفت و شنید ہوسکے۔ اسی پلیٹ فارم سے ۱۴؍اکتوبر۲۰۱۴ء کو نیشنل کریکولم کونسل قائم کی گئی تاکہ ملکی سطح پر نصاب کے اعلیٰ معیار قائم کیے جاسکیں۔ وفاق کا دعویٰ ہے کہ این سی سی کا صرف مشاورتی کردار ہے (جس کی وہ پابند نہیں ) جبکہ صوبے اجتماعی طور پر تعلیم کی بہتری کے لیے کوشاں ہیں اور وفاقی حکومت صرف انھیں سہولت کاری سے متعلق تعاون فراہم کررہی ہے۔ آئی پی ای ایم سی قومی تعلیمی پالیسی ۲۰۰۹ء پر نظر ثانی کی نگرانی بھی کر رہی ہے ، انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے تعلیم سے متعلق قومی حکمت عملی بنانے ، ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ کے لیے پالیسی کا مسودہ تیار کرنے اور ترقی کے پائیدار اہداف کو شرمندۂ تعبیر کرنے پر کام کرتی ہے۔ وفاقی حکومت نے این سی سی کے لیے ۱۰۰؍ملین روپے مختص کیے ہیں اور اس کے ساتھ ہی اسلام آباد میں اس کے لیے ایک سرکاری عمارت بھی مختص کی ہے۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن ، ایچ ای سی : اٹھارہویں ترمیم سے قبل ’کنکریٹ لسٹ‘ میں اندراج نمبر۳۸ کے مطابق مندرجہ ذیل امور میں مندرجہ ذیل موضوعات موجود تھے ، نصاب کی منصوبہ بندی ، سینٹر آف اور تعلیمی معیار کی تشکیل۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد یہ اندراج ختم کردیا گیا۔ کنکرنٹ لیجیسلیٹو لسٹ کے اندراج نمبر۳۸ میں موجود موضوعات حذف ہوگئے اور انھیں فیڈرل لیجیسلیٹو لسٹ۱؍ اور ۲؍ میں دوبارہ شامل نہیں کیا گیا۔ بغیر کسی ابہام کے اس آئینی ترمیم کے مطابق ایک صوبائی اسمبلی صوبے کو منتقل شدہ موضوعات پر قانون بنانے کی مجاز ہوچکی ہے۔
دریں اثناء ایف ایف ایل ۔۲ کے اندراج نمبر ۱۲؍ کو شامل کیا گیا اور یہ اندراج ’’ ہائر ایجوکیشن کے اداروں ، تحقیق اور سائنسی اور فنی و تکنیکی اداروں میں معیار‘‘ ہے۔ اس سے سی سی آئی کا کردار ملک میں اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں معیار میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لحاظ سے بہت محدود ہوجاتا ہے۔ یہ محدود کردار سی سی آئی کو پالیسی کی ضابطہ کاری اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کی پلاننگ کے اختیارات نہیں دے سکتا جیسا کہ ایف ایف ایل۔۲ کے مطابق سی سی آئی کو اختیار حاصل ہے کہ وہ متعلقہ اداروں کو بنانے ، ان کی ضابطہ کاری اور نگرانی کر سکتی ہے مگر آئین کے آرٹیکل ۱۵۴؍کے تحت یہ سارے امور وفاقی حکومت سر انجام نہیں دے سکتی۔ آرٹیکل ۱۵۳؍کے مطابق سی سی آئی میں تمام صوبوں کو برابر کی نمائندگی حاصل ہے۔ اس بات کا دوبارہ تذکرہ کرنا مفید ہوگا کہ بین الصوبائی رابطہ کے تحت عملدرآمد کمیشن کے اجلاس ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اختیارات اور کام کا فیصلہ کرنے کے لیے منعقد ہوئے۔ یہ ایچ ای سی آرڈیننس ۔۲۰۰۲ء کے تحت دیے گئے اختیارات کے مطابق ہوئے۔ بعد میں سی سی آئی کے ۲۸؍اپریل ۲۰۱۱ء کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ لیجیسلیٹو لسٹ۔۲کے اندراج نمبر ۱۲؍کی روشنی میں ایک خاص اور محدود کام کرنے والی باڈی ایک کمیشن قائم کیا جائے گا جو اعلیٰ تعلیمی اداروں کا معیار قائم کرے گی، جیسا کہ ہائر ایجوکیشن کے اداروں اور ریسرچ سائنٹیفک اور ٹیکنیکل اداروں میں معیار قائم کرنا۔ سی سی آئی کے اجلاس کے دوران عملدرآمد کمیشن کے چیئرمین (آرٹیکل ۲۷۰؍ اے اے کے تحت بنایا گیا)نے ایچ ای سی کی منتقلی کے معاملے پر ابہام کی وضاحت کی اور کہا کہ عملدرآمد کمیشن نے اٹھارہویں ترمیم کی روشنی میں کہ ایچ ای سی کو صوبوں کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، صوبائی حکومتوں کی درخواست پر یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ صوبائی یونیورسٹیوں اور بہبود آبادی کے لیے مالی معاونت آئندہ این ایف سی ایوارڈ تک وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہوگی۔ موجودہ این ایف سی ایوارڈ کے ختم ہونے پر اور اگلے این ایف سی ایوارڈ کے بعد صوبے جن یونیورسٹیوں کی انتظامیہ کی نگرانی کرتے ہیں ان کے لیے مالی امداد مہیاکرنا ان کی ذمہ داری ہوگی اور پنجاب اور سندھ نے اپنے اپنے ہائر ایجوکیشن کمیشن قائم کر لیے ہیں تاکہ ہائر ایجوکیشن کے شعبہ میں چیلنجز سے زیادہ موثر انداز میں نمٹا جا سکے اور سماجی ، معاشی ترقی کو فروغ مل سکے۔
اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ صوبوں کی مشاورت سے ایچ ای سی آرڈنینس۲۰۰۲ء میں ترمیم کی جا ئے یا اسے بدلا جائے اور اس کی جگہ ایک محدود ادارہ’’کمیشن فار سٹنینڈرڈ ان ہائر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ ، سائنٹیفک اور ٹیکنیکل انسٹی ٹیوشنز‘‘ کے نام سے قائم کیا جائے۔ یہ سپریم کورٹ کے ۱۲؍ اپریل ۲۰۱۱ء کے دیے گئے فیصلے کی روح کے مطابق ہوگا۔
تاہم وفاقی ایچ ای سی یہ دعویٰ کرتی ہے کہ ایچ ای سی آرڈیننس۲۰۰۲ء کے سیکشن ۱۰؍ایچ اور ۱۰؍ٹی کے مطابق ایچ ای سی تمام ملک میں ریسرچ اور ڈیویلپمنٹ کے لیے فنڈ فراہم کرتی ہے تاکہ ریسرچ اور صنعتوں میں رابطہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔ ایچ ای سی ممتاز ریسرچرز کے۳۰۰۰؍ریسرچ پروجیکٹس کے لیے فنڈز فراہم کررہی ہے اور اگر یہ فنڈ صوبائی حکومتوں کو منتقل کردیے گئے تو ان کے لیے ریسرچ میں رکاوٹیں آجائیں گی۔ دوسرا یہ کہ ایچ ای سی ملک میں ریسرچ کے کاموں کو فروغ دینے کے لیے سفری اخراجات ، سیمینار ، اور کانفرنسیں کروانے کے لیے فنڈز دیتا ہے۔ اس کے علاوہ۱۰۰۰؍ ملین روپے اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں دنیا بھر کی کتب اور ریسرچ تک مفت رسائی کے لیے ڈیجیٹل لائبریریاں قائم کرنے کے لیے مختص کرتا ہے۔ تاکہ ہر طرح کے ریسرچ کے کاموں میں آسانی پیدا کی جاسکے۔ایچ ای سی حکومت کی یونیورسٹیوں، اداروں، ڈگریاں جاری کرنے والے اداروں کو تنخواہیں دینے اور روزمرہ کے اخراجات کے لیے فنڈز بھی مہیا کرتا ہے۔ یہ فنڈز بغیر کسی امتیاز کے ایک منظور شدہ فارمولے کے تحت دیے جاتے ہیں۔ یہ فارمولا طلبہ کے اندراج اور ریسرچ کی سرگرمیوں پر مبنی ہوتا ہے۔
ایچ ای سی کو یہ خوف ہے کہ اگر یہ فنڈ صوبوں کو منتقل ہوگیا تو یونیورسٹیوں میں ریسرچ کا کام رک جائے گا اور تعلیم کے شعبے میں سہولت اور معیار کی یکسانیت متاثر ہوگی۔

تجویز کردہ اقدامات
جبکہ تعلیم کے شعبے کی منتقلی نے وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان نئے تنازعات کو جنم دیا ہے تو یہ عاقبت نااندیشی ہوگی کہ اس پیچیدہ صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے نئے لائحہ عمل بنائے جائیں۔
اوّل یہ کہ ہم سب کو آئین کی عزت کرنی چاہیے۔ تعلیم کے شعبے میں بہتر کارکردگی کے لیے صوبوں کو مضبوط بنانا چاہیے۔ اس بارے میں دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ تعلیم قومی ترقی کا شعبہ ہے اور اسے پاکستان کے صوبوں کومنتقل کیا گیا ہے نہ کہ کسی دوسرے ملک کے صوبوں کو۔ تاریخی طور پر انڈین ایکٹ۱۹۳۵ء میں تعلیم صوبوں کا معاملہ تھا اس کے علاوہ ۱۹۵۶ء اور ۱۹۶۲ء کے آئین میں بھی یہی بات تھی۔ لہٰذا وقت آگیا ہے کہ صوبوں پہ اعتماد کیا جائے اور رابطہ کاری کے جمہوری کلچر کو فروغ دیا جائے تاکہ پاکستانی قوم کی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر کیا جا سکے۔
آئین کی اٹھارہویں ترمیم نے دو لائحہ عمل برائے تعاون و اشتراک واضح کیے ہیں جوکہ ’’بین الصوبائی روابط‘‘ اور ’’اعلیٰ تعلیم کے معیار‘‘سے متعلق ہیں۔ ان کی بدولت وفاق اور صوبوں کے درمیان سی سی آئی کے توسط سے باہمی تعاون کی نئی راہ ہموار ہوتی ہے۔ تعلیم کو دوبارہ وفاق کو دینااور صوبوں کو یہ موقع دیے بغیر دینا کہ وہ اپنی قابلیت اور عزم اپنے علاقوں میں تعلیم کی بہتری کے لیے دکھا سکیں، نا انصافی ہوگی۔
دوسرا یہ کہ صوبائی اہلیت پر غاصب ہونے کی بجائے ہمیں آئینی راستہ اختیار کرنا چاہیے جوکہ آرٹیکلز ۱۴۴، ۱۴۶، اور ۱۴۷؍کے ذریعے تعاون کا طریقہ کار واضح کرتے ہیں اور جن کے مطابق رضاکارانہ طور پر کچھ معاملات وفاق صوبوں کو اور صوبے وفاق کو دے سکتے ہیں۔
سوم یہ آئین کہتا ہے کہ۶؍سال سے لے کر ۱۶؍سال تک کی عمر کے بچوں کے لیے تعلیم مفت اور لازمی ہوگی۔آرٹیکل ۲۵۔اے، اور اٹھارہویں ترمیم کے ذریعہ ہر سطح کی حکومت کا فرض ہے کہ وہ کافی فنڈ اس مد میں رکھے تاکہ آئین کے تحت اس بنیادی حق کو یقینی بنایا جا سکے۔ جون۲۰۱۱ء میں نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ کی منتقلی کے کیس میں سپریم کورٹ فیصلہ دے چکی ہے۔ یہ فیصلہ کہتا ہے کہ تعلیم کو صوبوں کو منتقل کردیا گیا ہے لیکن وفاقی حکومت عوام کے بنیادی حقوق دلانے کے فرض سے سبکدوش نہیں ہوئی اور اسے اپنا کردار ادا کرتے رہنا ہوگا۔
آخری بات یہ کہ وقت آگیا ہے ایک دوسرے پر الزامات لگانے کا کھیل ختم کردیا جائے اور حکومت کے مختلف درجوں کے درمیان بداعتمادی ختم کی جائے اور یہ باور کیاجائے کہ تمام درجے ٹیکس دینے والوں کی رقم پر چلتے ہیں اور اسی لیے انہیں چاہیے کہ عوام کو بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کریں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...