شدت پسندی کے بدلتے رجحانات

ارسلہ جاوید (ترجمہ: شوذب عسکری)

810

شدت پسندی کے پھیلاؤ کے بین الاقوامی تناظر میں ایک اہم مسئلہ غیرملکی جنگجوؤں کا ہے۔ کسی ایک ملک میں اپنے لیے حالات ناموافق ہونے یا دیگر وجوہات کی بنا پر شدت پسند عناصر کا دیگر علاقوں میں جا کر اپنی کارروائیاں جاری رکھنا ایک ایسا مسلسل عمل ہے جو شدت پسندی کے انسداد کے اقدامات کو مشکل تر بناتا ہے۔ اس ضمن میں نہایت قابل توجہ مسئلہ تشدد کی راہ سے واپس پلٹ آنے والے جنگجوؤں کو سماجی عمل کا حصہ بنانے کا ہے۔ ارسلہ جاوید کا زیرنظر مضمون اسی موضوع پر چند اہم نکات کو اجاگر کرتا ہے۔ مصنفہ کئی تھنک ٹینکس کو جنوبی ایشیا ، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں نوجوانوں میں انتہا پسندی کے موضوع اور متشدد انتہا پسندی کے تدارک کے پروگرامز میں معاونت کرتی ہیں۔ (مدیر)

انسٹیٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کی ۲۰۱۶ء کی رپورٹ کے مطابق ۱۲۰؍ ممالک کے چار ہزار سے زائد جنگجوؤں نے ۲۰۱۱ء سے اب تک عراق اور شام کا سفر کیا ہے۔ غیر ملکی جنگجو روایت کا بظاہر یہ معاملہ بہت پریشان کن ہے مگر یہ کوئی نئی سرگرمی نہیں ہے۔ تاہم اتنی بڑی تعداد میں غیر ملکی جنگجوؤں کا سرگرم ہونا ایک واقعی تشویش ناک امر ہے۔
مغربی معاشروں میں انضمام نہ ہوسکنے کی اصل اور قریبی وجوہات نے اور قبول کیے جانے اور مسترد کردیے جانے کے غیر یقینی عمل نے غیر ملکی جنگجوئیت کی روایت میں واضح اضافہ کیا ہے۔ اس مسئلے کی جستجو میں یہ وجوہات بہت سی تحقیقات اور مطالعے کا موضوع ہیں۔ انسدادِ دہشت گردی کی سرگرمیوں کے پرچم تلے یہ نعرہ سب سے زیادہ بلند ہے کہ ملوث افراد کو سزا دی جائے اور ان کا مقاطعہ کیا جائے لیکن اس امر پہ توجہ دینے کی بات بہت کم کی گئی ہے کہ ان وجوہات کو جاننے کی کوشش کی جائے جو ان افراد کی وحشت اور پھر جنگ زدہ علاقے میں نقل مکانی کی وجہ بنی ہے۔
اس طرح کے تاریک امکانات کے ساتھ اگر یہ غیرملکی جنگجو واپس آنا بھی چاہیں تو ممکن ہے کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی کہیں اور تباہی پھیلانے کے فتنے کا شکار ہورہے ہیں اس طرح متشدد انتہا پسندی میں مستقل اور مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ واپس لوٹنے والے جنگجوؤں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک واضح سمجھ بوجھ کا ہونا اور شش جہت حکمتِ عملی کا طے کرنا لازمی امر ہے۔
۱۹۸۰ء اور ۱۹۹۰ء میں امریکا ، یورپ اور عرب ممالک کے ہزاروں جنگجو بوسنیا اور افغانستان کی جنگوں میں شریک ہونے کے لیے اپنے ممالک سے نقل مکانی کرگئے۔ ۱۹۸۰ء سے لے ۱۹۹۲ء تک کے ۱۲؍برسوں میں افغان طالبان نے لگ بھگ ۲۰؍ ہزار غیرملکی جنگجوؤں کو متوجہ کیا ہے۔ نام نہاد دولت اسلامیہ نے اس معاملے میں سب کو پیچھے چھوڑتے ہوئے غیر ملکی جنگجوؤں کی بڑی تعداد کو اپنے اندر شامل کیا ہے اور اس حربے کو اپنے دشمنوں کے خلاف نئی بھرتی کی ایک چال اور خطرہ بنا کر استعمال کیا ہے۔
اب جبکہ مختلف طرح کی تنظیمیں غیر ملکی جنگجوؤں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں۔ زیر نظر تحقیق صرف نام نہاد دولتِ اسلامیہ پہ مرکوز ہے۔ غیر ملکی جنگجوئیت اور واپس پلٹنے والے سبھی جنگجوؤں کے حوالے اس تنظیم سے وابستہ لوگوں کے ہیں۔
مزید برآں یہ اصطلاح ’’غیر ملکی جنگجو‘‘ریاستی بیانیے کو ظاہر کرتی ہے اور یہ ایک پوری بحث کا تقاضا کرنے والا موضوع ہے جو ظاہر ہے کہ اس تحریر کا موضوع نہیں ہے، اگرچہ یہ اصطلاح متنازعہ ہے مگر ہم تسلسل کے لیے اسی کا استعمال کریں گے۔
یواین سیکورٹی کونسل کی قرارداد نمبر۲۱۷۸ کے مطابق غیر ملکی جنگجو ایف ٹی ایف ایسے افراد کو کہا جاتا ہے جو اپنی رہائش کے ملک یا شہریت کی ریاست سے کسی دوسرے ملک کا سفر تخریب کاری ، بدامنی ، قتل وغارت کی منصوبہ بندی، ایسے مقاصد کی تربیت لینے یا دینے یا دہشت گردی کی کارروائی کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یوں ان کا مقصد کسی مسلح تنازعے میں شامل ہونا ہوتا ہے۔ وان جنکل اینڈ اینٹیمین (۲۰۱۶ء)کی رپورٹ کے مطابق ۴۲۹۴؍ افراد نے جن کا تعلق یورپی یونین کے ۲۶ممالک سے تھا ،نام نہاد دولت اسلامیہ(آئی ایس) میں شمولیت کے لیے سفر کیا ہے۔ ۲۸۳۸ کے اعداد کے ساتھ ان جنگجوؤں کی بڑی تعداد کا تعلق جرمنی ، فرانس ، بیلجیم اور یوکے سے ہے۔ بیلجیم یورپ میں آبادی کے پر کیپیٹا کے لحاظ سے سب سے زیادہ غیرملکی جنگجوؤں کا گھر ہے۔ یہاں سے کل۵۲۰ جنگجو لڑائی میں شرکت کے لیے نقل مکانی کر گئے ہیں۔ یہ تعداد ہر ایک ملین میں ۴۱؍ افراد کی ہے۔ فرانس سے گئے ہوئے جنگجو تعداد میں یورپ میں سب سے زیادہ ہیں،جو ۹۰۰ ہے۔ جبکہ تیونس کا نمبر دنیا بھر میں پہلا ہے یہاں سے۷۰۰۰؍ہزار جنگجو لڑائی کے لیے اپنا وطن چھوڑ کے جا چکے ہیں۔ سعودی عرب تعداد کے حساب سے اس کے بعد آتا ہے یہاں سے جانے والوں کی تعداد۲۵۰۰ ہے اس کے بعد روس ترکی اور اردن کا نمبر آتا ہے یہاں سے جانے والوں کی تعداد۲۰۰۰ اور ۲۵۰۰ کے درمیان ہے۔ (دی سوفان گروپ۲۰۱۵ء)
تاہم ان جنگجوؤں کی ان سرگرمیوں کی کوئی ایک وجہ نہیں ہے۔ نوجوان لوگ انتہا پسند تنظیموں میں مختلف وجوہات کی بنا پر شریک ہوتے ہیں جن میں غریبی ، تعلیم کی کمی ، سماجی و معاشی تفریق ، نظریاتی عقائد اور مہم جوئی کا شوق شامل ہے۔ واپس آنے والے جنگجو بھی مختلف انواع کے ہوسکتے ہیں۔ کچھ تو ایسے ہوں گے جن کی واپسی اور سماج میں آبادکاری ممکن ہے۔ اور بعض ایسے ہوں گے جو باقاعدہ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہوں گے، انھیں قانونی کارروائی اور سزا کا سامنا کرنا ہوگا۔ ہر غیر ملکی جنگجو بہر حال نظریاتی لڑاکا نہیں ہوتا۔ آرٹن نے ایک موقع اپنی شہرہ آفاق تشریح میں جہادی کی وضاحت کی تھی، وہ لکھتے ہیں کہ جہادی بوریت زدہ، بے روزگاری کے مارے ہوئے ، زیادہ پڑھ لکھے کم توقع رکھنے والے نوجوان ہیں جن کے لیے جہاد ایک برابری کی سرگرمی، برادرانہ ، عظیم ، پرجوش اور بہتر ملازمت کا نام ہے۔ (آرٹن ۲۰۱۰ء)
زیر نظر تحریر غیر ملکی جنگجوؤں کے لیے ملکی اور غیرملکی سطح پر بحالی کے لیے کی جانے والی حکمت عملیوں کا جائزہ ہے جس میں ان لوگوں کی آباد کاری اور سماجی انضمام کے متبادل پہلوؤں پر غور کیا گیا ہے۔

مغربی ممالک میں غیر ملکی جنگجوئیت
تھامس ہیگامر کی تحقیقات میں صومالیہ اور افغانستان سے لوٹ کر آنے والے غیر ملکی جنگجوؤں کی وطن واپسی کے بعد کی ۲۰؍سالہ زندگی کا مطالعہ کیا گیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ان میں سے بہت کم تعداد ایسے لوگوں کی ہے جنہوں نے سماجی انضمام کے بعد قانون توڑا ہو یا کسی خطرے کا باعث بنے ہوں (ہیگامر۲۰۱۳ء)۔ تاہم دولت اسلامیہ کے پاس موجود غیر ملکی جنگجوؤں کی بڑی تعداد کے پیش نظر ان میں سے بہت کم تعداد میں واپس لوٹ کر آنے والوں پر بھی خاص توجہ اور ارتکاز کی ضرورت ہے۔ مغربی ممالک کو دولت اسلامیہ سے وابستہ رہنے والے مغربی جنگجوؤں کی تعداد کے ۳۰؍فیصد کی واپسی کا سامنا ہے۔ ان لَوٹنے والوں نے ان ممالک کی انٹیلی جنس کو اور سلامتی کو خطرے سے دوچار کیا ہے۔ بیلجیم میں ۱۱۰؍ افراد لوٹ کر آئے ہیں۔ یہ وہاں سے گئے ہوئے جنگجوؤں کی کل تعداد کا۲۰؍ فیصد ہیں۔ جبکہ ڈنمارک میں لوٹ کر آنے والے غیرملکی جنگجوؤں کی تعداد ۶۲ہے اور یہ مجموعی تعداد کا نصف ہے۔ (دی سوفان گروپ۲۰۱۵)
یوکے ، نیدرلینڈ ، جرمنی ، آسٹریا اور فرانس جیسے ممالک نے دہشت گردی کے سدباب کے لیے کڑے قوانین متعارف کروائے ہیں۔ یہ انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے سفری دستاویزات کی منسوخی ، تنازعات کے علاقوں کی جانب سفری پابندی ، نگرانی اور حوالگی کے دائرہ کار میں وسعت اور قانونی ضابطے میں اضافے کی شکل میں نظر آتے ہیں۔ یوکے میں شاہی استحقاق کا قانون ہوم سیکرٹری کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے شخص کے سفری دستاویزات کو پاسپورٹ کو منسوخ کردے جس کے متعلق یہ گمان ہو کہ وہ ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ ۲۰۱۳ء اور ۲۰۱۴ء کے درمیان شاہی استحقاق کا قانون ۲۹مرتبہ استعمال ہوا۔ (لسٹر۲۰۱۵ء)
جرمنی حکومت کسی بھی ایسے شخص کے پاسپورٹ کو ضبط کرنے کا اختیار رکھتی ہے جس کے متعلق گمان ہو کہ وہ ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ جبکہ آسٹریلیا کی حکومت نے ۱۰۰ کے قریب ایسے شہریوں کے پاسپورٹ منسوخکیے ہیں جس کے متعلق یہ شبہ تھا کہ وہ شام اور عراق میں جنگجوؤں سے رابطے میں ہیں۔ اب جبکہ معاملہ واپس لوٹنے والے جنگجوؤں کا ہے تو سفر اور ارادہ سفر سے متعلق معاملات پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ جہاں یہ ممکن ہے کہ بعض غیرملکی جنگجوؤں نے انتہا پسند تنظیموں میں شمولیت کے لیے ہی سفر کیا ہوگا وہیں بعض لوگ انسانی ہمدردی کے لیے بھی سفر کررہے ہوں گے یا ایسے جنگجو ہوں گے جو اَب انتہا پسندی کے فریب سے چھٹکارا پانا چاہتے ہوں گے۔ ایسا بھی ہے کہ بچوں اورخاندان کی اپنے گھروں کو واپسی ہورہی تھی اور قانونی سختیوں اور کارروائیوں کے سبب ان کے لیے بھی پیچیدگیاں پیدا ہوئی ہوں۔ سفری روک تھام کی یہ حکمت عملیاں نہ صرف ایسے نوجوانوں کے سفر کو روک رہی ہیں جو اَب خطرہ نہیں ہیں بلکہ ان کی وجہ سے الگ تھلگ رہنے والے یورپ کے پہلے ہی سے کمزور مسلمان مزید مشکلات کا شکار ہیں۔
اس معاملے سے نمٹنے کے لیے مؤثر اور کارگر حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ لوٹ کر آنے والے جنگجوؤں کا مسئلہ کسی خطرناک نتیجے کو جنم دیے بغیر حل ہوجائے اور یہ نہ ہو کہ یہ کسی اَن چاہے خطرے کی صورت میں مزید الجھ کر رہ جائے۔ یہ حماقت ہی کہی جاسکتی ہے کہ بہت سے ممالک واپس لوٹ کر آنے والے جنگجوؤں کو یہ جانچ کیے بغیر ہی کہ وہ دہشت گردی یا قانون شکن کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں انھیں سخت قانونی کارروائیوں کا نشانہ بناتے ہوئے ایسے رویے اختیار کیے ہوئے ہیں جیسے وہ مجرم ہی ہیں اور معاشرے کے لیے خطرے کا باعث ہیں۔ شہریت اور سفری دستاویزات کی منسوخی سے لوٹ کر آنے والے جنگجوؤں کی سماج واپسی کے منصوبے کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔ اور ساری صورتِ حال میں بدترین امر انہیں جیلوں میں قید کرلینا ہے کیونکہ جیلیں بذات خود انتہا پسندی کا مرکز ہیں۔جہاں آپ انتہا پسند گروہوں کو تیار، تربیت یافتہ اور پرجوش بھرتی خود ہی فراہم کرتے ہیں کہ وہ انھیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کریں۔

مسلم ممالک میں جنگجوؤں کی واپسی کے بعد سماجی آبادکاری کی کوششیں
سماج میں دوبارہ آبادکاری اور معاشرتی انضمام کی کوششیں مختلف ملکوں میں مختلف ہیں۔ سعودی عرب ، یمن اور انڈونیشیا نے پہلے پہل القاعدہ اور جماعت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو سماج میں امن پسند کارآمد شہری بنانے کے لیے ان کی تربیت اور سماجی انضمام کا منصوبہ تیار کیا تھا۔ یہ اقدام ان جنگجوؤں کی سماج واپسی کے لیے تھا جو نظریاتی بنیادوں پر انتہا پسند گروہوں کے جہادی ایجنڈے کی جانب مائل ہوئے تھے۔ ۲۰۰۴ء میں شروع کیے گئے اس سعودی منصوبے کو جیلو ں میں قید جنگجوؤں پر لاگو کیا گیا تھا جس میں علمائے کرام کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ اس لیے یہ پروگرام صرف مذہبی اور نظریاتی معاملوں کو دلائل سے طے کرنے تک محدود رہا اور اس میں نفسیانی الجھنیں ، مقصد حیات کی تلاش، محبت کی کمی ، شناخت کا مسئلہ اور معاشی مجبوریوں جیسی وجوہات کو نظر انداز کیا گیا جو نوجوانوں میں انتہا پسندی کی بنیادی وجہ ہیں۔ اور یہ بھی اس دوران نوجوانوں کے حقیقی اور مفروضی تحفظات کو بھی توجہ نہیں دی گئی جن کے سبب انتہا پسندی پھیلتی ہے۔ سعودی پروگرام کے تحت ۲۰۰۸ء تک لَوٹنے والے ۳؍ ہزار جنگجوؤں کی نفسیاتی بحالی کا کام ہوچکا تھا۔ اب اس پروگرام کے دوسرے مرحلے پر ان افراد کو ہنرمندی سکھائی جارہی ہے تاکہ انھیں معاشرے کا کارآمد شہری بنایا جا سکے۔ اس مرحلے پر خاندان اور سماج کا کردار بھی اہم ہوتا ہے کیونکہ یہی ادارے لوٹنے والے جنگجو کی سماجی ، سیاسی اور قومی وابستگی کا رشتہ مضبوط بناتے ہیں۔ ملازمت کے مواقع مہیا کرکے اور خاندانی رشتوں کو مضبوط بنا کر اجتماعی ذمہ داری اور شعور کا دائرہ کار بڑھا دینے سے ہی جنگجوؤں میں انتہا پسندی اور تشدد کی رغبت کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ مصر ، افغانستان اور ملائشیا جیسے ممالک نے بھی اسی طرح کے منصوبے شروع کر رکھے ہیں۔ (ہولمر۲۰۱۷ء )
مراکش نے جس کے ہاں سے ۱۵۰۰ جنگجو شام اور عراق گئے تھے ، لوٹ کر آنے والے جنگجوؤں سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی کو مدنظر رکھ کر سخت منصوبہ بندی ہے جس سے یہی لگتا ہے کہ وہ نہ تو اس مسئلے کو حل کرسکتے ہیں اور نہ ہی انتہا پسندی کے نیٹ ورک پر قابو پا سکتے ہیں۔ ۲۰۱۱ء کی عرب بہار نے مراکش کو اس طرح متاثر نہیں کیا جس طرح اس کی لپیٹ میں تیونس اور لیبیا آئے تھے، تاہم شہری آبادی میں زیادہ اضافے ، نوجوان طبقے میں بڑھی ہو ئی بے روزگاری نے ان کے اندر غصے اور ذہنی دباؤ کو بڑھاوا دیا ہے۔ ایسی صورتِ حال دولت اسلامیہ جیسی تنظیموں کے لیے بھرتی کو بڑھانے کی آئیڈیل صورت پیش کرتی ہے جو اپنے ساتھ شامل ہونے والوں کو ملازمت ، گھر ، گاڑی اور بیوی تک فراہم کرتے ہیں۔ ۲۰۱۴ء میں ہونے والی ایک تحقیق کے نتیجے میں جو نتائج سامنے آئے ہیں ان کے مطابق مراکش سے تعلق رکھنے والے تین چوتھائی جنگجوؤں کا تعلق کاسابلانکا ، سالے ، اور تانجئیر کی کچی بستیوں سے تھا۔حالیہ زمانے میں حکومت کی جانب سے انتہا پسندی کے تدارک کے لئے جاری مہم ’’حدر‘‘ نگرانی کے ذریعے معلومات کا تبادلہ اور اہم مقامات جیسا کہ ائیر پورٹ ، سیاحتی مقامات اور اہم قومی عمارات کے تحفظ کو یقینی بنانے کا کام کیا جا رہا ہے۔ مراکشی حکومت نے سال ۲۰۱۳ء میں انسداد دہشت گردی کے قوانین کو دوبارہ ترتیب دیتے ہوئے سزاؤں میں ۵ سال سے ۱۵سال تک عمر قید اور ۵لاکھ مراکشی درہم جرمانے کا اضافہ کیا ہے۔ اب کوئی بھی ایسا فرد جس پر غیر ریاستی مسلح تنظیم سے تعلق ثابت ہوجائے گا، وہ یہ سزا بھگتے گا۔

امید افزااقدامات
جنگجوؤں کی دوبارہ آبادکاری کے منصوبے کو ہر ہر جنگجو پر انفرادی توجہ دینے کی صلاحیت کا حامل ہونا لازم ہے تاکہ پوری تندہی سے ان وجوہات کا تدارک کیا جا سکے جو اس فرد کو اپنا ملک چھوڑ کر لڑائی میں شامل ہونے پر اکساتی ہیں۔ اس مقصد میں کامیابی کو جانچنے کے لیے واضح منازل اور درجوں کا تعین ضروری ہے۔ دوبارہ آبادکاری اور سماجی انضمام کے منصوبے ایسے مجرموں کی بحالی کے لیے سخت سزاؤں ، قانونی کارروائیوں اور عمر قید میں رکھنے جیسی صورتوں کا متبادل بھی ہوسکتے ہیں جن کے متعلق یہ شبہ ہوکہ وہ دوبارہ انتہا پسندی کی جانب مائل ہو سکتے ہیں۔
اس سارے عمل کو مؤثر بنانے میں ان افراد کا کردار انتہائی اہم ہے جو بحالی کے منصوبے میں شامل ہوتے ہیں اور اس کے مختلف مراحل پر بامعنی اثرات رکھتے ہیں۔ جنگجوؤں کی بحالی اور سماج واپسی کے منصوبوں کے لیے لازم ہے کہ وہ کثیر جہت نکات کے حامل ہوں۔ اس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا طریقہ کار، قانونی قواعد ، سول سوسائٹی اور حکومتی سطح پر تمام اداروں کے مقام کا تعین ہونا لازم ہے اور یہ واضح ہو کہ تعاون اور رابطے کے پیمانے کیا ہوں گے۔خاندان اور معاشرے کا مقام ایسے منصوبوں کی تیاری میں بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ ایک ایسے ماحول کی فراہمی کو یقینی بنا کر کہ جہاں کھلے دل سے قبول کرنے کی روایت ہو، واپس لوٹنے والے جنگجوؤں کی حوصلہ افزائی ہو اور انہیں سماجی ذمہ داری کے رشتے میں باندھا جائے تو ایسی صورت سے اس سارے عمل میں بہت مدد ہوسکتی ہے۔ رویے اور نفسیاتی اصلاح کے منصوبہ جات کا مقصد ان نکات کو سمجھنا ہوتا ہے جو کسی بھی شخص کو انتہا پسند متشدد گروہ میں شمولیت پر اکساتے ہیں اور پھر ان وجوہات کے تدارک کے لیے اصلاحی کوشش کی جائے تو یہ انفرادی سطح کے لیے بہت مفید ہوسکتا ہے۔ علمائے کرام اس بھٹکی ہوئی جہادی فکر کی اصلاح کر سکتے ہیں جو انتہا پسندی کی بھرتی کے لیے بطور عقیدہ استعمال ہوتی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس حکام کو نہایت باریک بینی سے ان مراحل کی تربیت کروائی جائے اور اس امر کو یقینی کو بنایا جائے کہ وہ بحالی کے منصوبوں میں دانستہ یا غیر دانستہ رخنہ نہیں ڈالیں گے۔ تفتیشی طریقہ کار اور بحالی کے کمزور منصوبوں سے بھی خطرناک نتیجے سامنے آتے ہیں اور یہ ایسا ماحول بناتے ہیں کہ لوٹنے والا جنگجو واپس تشدد کے رستے پر چلا جا تا ہے۔
بحالی کے بعد احتیاطی تدابیر کا رویہ نگرانی کے سخت مرحلے کا متبادل ہوسکتاہے اور اس کے ذریعے لوٹنے والے جنگجو کی سماج واپسی کے نازک مرحلے میں مدد مہیا ہوسکتی ہے۔ مستحکم رویّوں کی تربیت سے ، معاشرے میں ضم ہوجانے کی آسان صلاحیت سے ، معاشی مواقع فراہم کرنے سے اور اس امر کو یقینی کو بنانے سے کہ سماج میں ایسا ماحول باقی نہیں رہا کہ ہتھیار پھینکنے والا جنگجو دوبارہ جنگ زدہ علاقے کو نہیں جائے گا ایسے تمام ذرائع ہیں جو کہ بعد ازبحالی مفید ہوسکتے ہیں۔ اگرچہ ان تمام مراحل کو یقینی بنانا ایک مہنگا عمل ہے جو کہ کمزور معیشت کے حامل ممالک جیسے یمن اور انڈونیشیا کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ (ہدیٰ اسمعیل اینڈ سم۲۰۱۶ء)۔
ہر چند کہ نظریاتی تفاوت کا واضح فرق حائل رہے گا تاہم یورپ میں نافذ رہنے والے وہ بحالی منصوبہ جات جو کہ دائیں بازو کے سخت گیر انتہا پسندوں اور مجرموں کی سماج واپسی کے لیے اپنائے گئے تھے ان میں سے بھی بہتر طریقوں کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔ لَوٹنے والے جنگجوؤں کی بحالی کے لیے جرمنی میں چلنے والے ’’ایگزٹ دوئچ لینڈ‘‘ اور ’’حایات‘‘ کے منصوبوں سے بھی مدد لی جا سکتی ہے جو نیو نازی منحرفین کی سماج واپسی اور بحالی کے لیے شروع کیے گئے تھے۔ یورپی ممالک میں انفرادی توجہ کے اعلیٰ منصوبوں ، خاندان سے رابطوں کی بحالی اور معاشی مواقع فراہم کرنے جیسی فلاحی کوششوں سے ایک ایسا نظام ترتیب دیا جاچکا ہے جو اعلیٰ انسانی اقدار کی بحالی پہ یقین رکھتا ہے۔ اگرچہ طویل مدت وابستگی ایک مشکل مرحلہ ہے مگر قابل عمل فلاحی منصوبہ بندی اور انسانی حقوق کی عظمت سے وابستگی کا معاملہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں نظر نہیں آتا۔
اسی طرح ڈنمارک کا ’’آروس ماڈل‘‘ جو سماجی اشتراک کو اس منصوبہ بندی کا دل سمجھتا ہے، وہ خاندانی تعلق، سماجی اور معاشی مواقع کی فراہمی ، تعلیمی قابلیت کو نکھارتے ہوئے زندگی بھر کام آنے والی مہارت کو سکھانے پہ زور دیتا ہے۔ پولیس ، شہری انتظامیہ ، مقامی این جی او اور مسلم معاشروں کا فرض ہے کہ وہ لوٹنے والے جنگجوؤں کو ’’ایگزٹ پروگرام‘‘ میں داخلے کی پوری کوشش کریں۔ سماج میں شا مل کرکے جوڑنا اس ماڈل کی روح ہے جو اسلام اور مسلم معاشروں کے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنے پر اور انہیں سماجی زندگی کے تمام شعبوں سے شامل کرنے کے لیے مقامی انتظامیہ کی کوششوں کو بڑھانے پہ زور دیتا ہے۔ والدین، سماجی رہنما، مذہبی اکابرین اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سب کا مقام وضاحت سے متعین ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی مرحلے پہ کوئی تنازع جنم نہ لے۔ رہنماؤں کا کردار بہت اہم ہے۔ یہ نہ صرف انفرادی ، قانونی اور سماجی سطح پر متشدد سرگرمی پر روشنی ڈالتا ہے بلکہ اس کے ذریعے واپس لوٹنے والے جنگجوؤں کی سماج میں شمولیت کی مختلف مددگاری سرگرمیوں کو سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ نہایت اہم دوسرا مرحلہ ’’ایگزٹ پروگرام‘‘میں یہ ہے کہ سماجی اور معاشرتی رابطے کے علاوہ فلاحی نظام میں بھی پوری شمولیت ہونی چاہیے اور اس عمل کے تحفظ کے لیے جسمانی اور نفسیاتی علاج معالجہ بھی مہیا ہونا چاہیے۔ اگرچہ اس منصوبے پر بھی تنقید ہوئی ہے تاہم ۱۵۰؍ کے لگ بھگ ڈینش شہریوں نے دولت اسلامیہ کو چھوڑ دیا ہے اور وہ واپس کوپن ہیگن اور آرہوس میں آباد ہوچکے ہیں۔ ۲۰۱۱ء سے اب تک آرہوس سے جانے والے ۳۳؍میں سے ۱۶؍واپس آچکے ہیں اور ان میں سے کسی نے بھی تاحال کوئی مجرمانہ سرگرمی نہیں کی۔

بقیہ مشکلات
تین سنجیدہ مشکلات جو غیرملکی جنگجوئیت سے وابستہ بحث میں سامنے آتی ہیں ان میں متعلقہ قانون سازی کی کمی اور مزید اہم یہ کہ شواہد کی کمی کا معاملہ جو بہت مشکل کا باعث بنتا ہے۔ اس امر میں تفریق کرنا کہ کون ایسے ہیں جو دولت اسلامیہ کی مدد میں لڑنے گئے ، کو ن ایسے ہیں جو ان جنگجوؤں کا خاندان ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ سفر کرنے پر مجبور ہوئے مثال کے طور پر عورتیں اور بچے ، کون ایسے ہیں جو دولت اسلامیہ کے خلاف لڑنے گئے ، کون ایسے ہیں جو صرف ان علاقوں میں انسانی ہمدردی کے لیے فلاحی کاموں کے لیے گئے ان سب میں تفریق کرنے کے عمل میں بہت مشکل ہے۔ اب جبکہ لوٹنے والے کچھ کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جارہی، سماج واپسی کے بحالی والے منصوبے قانونی کارروائی اور جیلوں میں قید کردینے کا موثر متبادل ہیں کیونکہ انتہا پسندی کا خطرہ جیل میں قید کردینے سے زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ شواہد اور حقائق کی تلاش کا معاملہ بہت مشکل ہے کیونکہ جنگی علاقوں عراق اور شام سے زمینی حقائق تلاش کرنا ازحد مشکل کام ہے۔ سرحدپار معلوماتی رسائی شواہد کی تلاش میں بہت اہم ہے تاہم اس کا حصول بہت مشکل ہے۔
نتیجے کے طور پر جنگی علاقے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطے اور قانونی کارروائی کو مکمل کرنا ناممکن ہوجاتاہے۔ خاص کر شام کے معاملے جہاں بہت سے ملکوں کی جانب سے صدر اسد کی حکومت کی قانونی حیثیت کو مانا ہی نہیں جاتا، انٹرنیٹ اور سماجی میڈیا سے ملنے والی خبروں اور تبصروں پر اکتفا کرنے کی مجبوری ایک اور مشکل ہے۔ کمرہ عدالت میں انٹرنیٹ کے شواہد کو بطور دلیل پیش کرنا بہت مشکل ہے۔ جس امر کو سرکاری سطح پر کلاسیفائیڈ معلومات کہا جاتا ہے اسے عدالت کے کمرے میں کس طرح پیش کیا جائے۔
دوسری مشکل اہلیت کی کمی ہے۔ ایسے ممالک جو پہلے ہی قانونی کارروائی کو رُو بہ عمل لانے کے معاملے میں مشکلات کا شکار ہیں وہاں فوجداری انصاف کا بوجھ مزید مشکلات کا باعث ہوگا۔ ہر ہر فرد پر انفرادی توجہ دینے والے سماجی انضمام کے منصوبے نہ صرف ریاست اور سماج کے بہت زیادہ وسائل کو خرچ کرنے والے ہیں بلکہ یہ طویل مدت بھی ہیں۔ آرہوس ماڈل کی کامیابی کی وجہ یہی ہے کہ اس میں بہت سے ادارے طویل عرصے کے لیے شامل رہے ہیں۔ بحالی کے لئے جو ۲۳ افراد تھے وہ تعداد میں کم تھے اور ریاست کے پاس وسائل کی فراوانی تھی۔ لہٰذا اس طرح کے ماڈل کو تیونس جیسے کمزور معیشت ممالک میں لاگو کرنا کہ جہاں لوٹنے والے جنگجوؤں کی تعداد ۷۰۰ ہے وہاں نہ تو وسائل کی آسان دستیابی ہے اور نہ ہی عملی اہلیت ہوسکنے کا واضح امکان موجود ہے۔
تیسری مشکل ممکن ہے کہ ریاست خود ہو۔ایسی ریاستوں میں سماج واپسی کا مہم چلانا کیسے ممکن ہوگا جو اپنے ہاں عسکریت پسندوں کی موجودگی کو ہی نہ مانتی ہو اور موجود غیرملکی جنگجوؤں کی اصل تعداد کو گھٹا کر بیان کرتی ہو۔ ایسے منصوبوں کو رو بہ عمل لانے کے لیے لازم ہے کہ ریاست خود شامل ہو، اس کے لیے وسائل مختص کرے اور ایسا ماحول ترتیب دینے میں معاونت کرے جہاں سول سوسائٹی کی شمولیت اور سماجی انضمام کے مواقع آسان ہوں۔ یورپی ماڈل کے مقابلے میں مسلم ممالک کے منصوبوں میں یہ مشکل ہے کہ یہ ایک تو سرکاری سرپرستی میں چل رہے ہیں دوسرا یہاں شرکت کرنا لازمی ہے جبکہ درحقیقت یہ منصوبے اپنی نوعیت میں رضاکارانہ ہونے چاہئیں تاکہ وہ لوگ اپنی مرضی سے ان میں شامل ہوں جو انتہاپسندی کا راستہ چھوڑنا چاہتے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...