افغان پناہ گزین اور ان کی واپسی کا لائحۂ عمل

خالدعزیز (ترجمہ: حذیفہ مسعود)

914

گزشتہ برسوں میں پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کا مسئلہ سنگین ہوا ہے اور یہ انسانی حقوق اور ان کے تحفظ کے تناظر سے ہٹ کر ایک سیاسی مسئلہ بن گیا ہے۔پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعلقات میں اس مسئلے کے استعمال سے ہٹ کر اس نے پاکستان کی اندرونی سیاست پر بھی اثر ڈالا ہے۔ خصوصاً بلوچستان میں ان کی آبادی اور بدلتی ہوئی نسلی اور قومیتی تفریق اہم ہے۔پاکستان پالیسی گروپ آزاد ماہرین اور مبصرین کا ایک مشاورتی گروپ ہے جو افغانستان اور پاکستان کے باہمی تعلقات پر نہ صرف نظر رکھتا ہے بلکہ اس میں بہتری کے لیے بھی کوشش کرتا ہے۔اس گروپ کے ایک رکن اور سابق چیف سیکریٹری صوبہ خیبرپختونخوا خالد عزیز نے اس مسئلے پر ایک پالیسی پیپر تحریر کیا ہے تاکہ اس موضوع کا جامع احاطہ کیا جاسکے اور اس کے حل کے امکانات کا جائزہ لیا جاسکے۔ (مدیر)

۱۔ پس منظر اور بدلتا بیانیہ
مارچ ۱۹۷۸ ء میں سردار داؤود کو اقتدار سے بے دخل کرکے کمیونسٹ جماعت پی ڈی پی اے (پبلک ڈیموکریٹک پارٹی افغانستان) نے طاقت حاصل کی تو صدر ترہ کئی کی سماج میں خواتین کی اہمیت بڑھانے والے خانگی قوانین پر مشتمل سماج بدل اصلاحات اور تقسیمِ اراضی سے متعلق انقلابی اقدام نے روایت پرست افغان اشرافیہ میں مزاحمت کو جنم دیا جس نے پختون نسل پرستوں کو نشانہ بنایا۔ اس مزاحمت کے سبب کابل جیل میں سینکڑوں روایت پرست شرفا کو پی ڈی پی اے نے قید میں ڈالا اور متعدد کو پھانسی کے گھاٹ اتار دیا۔یہ صورتِ حال ہزاروں افراد کے انخلا کی وجہ بنی جنھوں نے ایران ، پاکستان اور دوسرے ممالک میں پناہ حاصل کی۔ ۱۹۷۸ ء میں سوویت یونین کی مداخلت کے بعد اس ابتدائی انخلا میں مزید اضافہ ہوا ۔
۱۹۸۰ء میں سوویت جنگ کے دوران مزید متعدد افغانوں نے اپنا وطن چھوڑا اور پناہ گزینوں میں شامل ہو گئے۔ ایک اندازے کے مطابق تقریباََ ۴۰؍لاکھ افغانوں نے اپنا آبائی گھر چھوڑا اور دوسرے ممالک کی طرف ہجرت کی۔ ۳۰؍لاکھ کے قریب افغان پاکستان اور ایک لاکھ کے قریب افغان ایران میں پناہ گزین ہوئے۔افغانوں کی نقل مکانی دسمبر ۱۹۷۹ء میں شروع ہوئی اور ۸۰ء کی دہائی تک جاری رہی۔ ۱۹۸۸ء کے اواخر میں قریباََ ۳۳ ؍لاکھ افغان پاکستان آئے اور خیبرپختونخوا میں پاک افغان سرحد کے قریب ۳۴۰؍ پناہ گزین کیمپوں میں خیمہ زن ہوئے۔
پناہ گزینوں کے لیے قائم اقوامِ متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کے مطابق ۶۲؍فیصد افغان پناہ گزین خیبر پختونخوا کے پناہ گزین کیمپوں میں رہائش پذیر رہے اور ۲؍لاکھ غیر درج شدہ افغان باشندے خیبرپختونخوا، بعد ازاں کراچی اور کوئٹہ کے شہری علاقوں میں جا بسے۔ ۳۰؍فیصد پناہ گزین بلوچستان، ۴؍فیصد پنجاب، ۲؍فیصد اسلام آباد اور اعشاریہ ۴؍ فیصد آزاد جموں و کشمیر میں بستے رہے۔
نسلی طور پر ۸۵؍فیصد افغان باشندے پختون، باقی ماندہ ۱۵؍ فیصد تاجک، ازبک، ہزارہ اورترکمان تھے۔ ۷۴؍فیصد افغان رسمی تعلیم سے نابلد تھے اور صرف ۲۰؍فیصد افراد علاقائی منڈی میں مزدوری کے لیے میسر تھے۔یہ ممکن ہے کہ پناہ گزین ہونے کے ناطے افغانوں کو پولیس کے ہاتھوں ایذارسانی کا سامنا رہتا ہو۔
پہلے پہل جب پناہ گزین پاکستان آئے تو مقامی آبادی نے برادرانہ برتاؤ روا رکھا اور انہیں ہر طرح کی آزادی و حمایت حاصل رہی۔۱۹۷۹ء میں ایران اور سعودیہ کے درمیان بڑھتی خلیج کے نتیجے میں خطے میں عوضی جنگ (پراکسی وار) کا آغاز ہوا جس نے پاکستان میں فرقہ وارانہ گروہوں کو جنم دیا جو بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری میں ملوث ہو گئے۔سعودیہ نے پاکستان میں اہلِ تشیع کی مخالفت اور اہلِ سنت کی حمایت کے لیے اہلِ سنت تنظیموں کی سرپرستی کرنا شروع کردی۔
جب مغربی قوتوں نے افغانستان میں سوویت مداخلت کی مزاحمت کے لیے افغان پناہ گزینوں کو مہرے کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا تو مقامی آبادی اُن کو امن کے لیے خطرہ اور ان کی موجودگی میں اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھنے لگی۔جہاد کے دوران سعودی عرب اور دوسرے اسلامی ممالک نے جہاد میں جنگجوؤں کی بھرتی کے لیے افغان پناہ گزینوں اور ان کی میزبان مقامی آبادیوں میں بنیاد پرستانہ نظریات کا پرچار شروع کیا جس سے پناہ گزین کیمپوں سے متصل مقامی آبادی میں شدت پسندی کو فروغ ملا۔
۸۰۔ ۱۹۷۹ء کے دوران پاکستان میں پناہ حاصل کرنے والے افغان باشندوں کو کافی حد تک ریاستی وغیر ریاستی حمایت حاصل رہی ۔ میزبانی کا یہ مظہر ماضی کی یکجہتی کا فطری تسلسل تھا جب اس خطے کی تاریخ میں اسی طرح کے واقعات وقوع پذیر ہوئے اور ہندوستانی مسلمانوں کو ہجرت کی ضرورت پیش آئی تھی۔ان میں ایک نمایاں مثال تحریکِ خلافت (۲۴۔ ۱۹۱۹ء) تھی جو قوم پرست ہندوستانی مسلمانوں طرف سے جنگِ عظیم اوّل کے بعدچلائی گئی تھی۔جس کا مقصد جنگِ عظیم اوّل کے اختتام پر سقوطِ خلافت کے بعد ، خلیفۂِ اسلام کے طور پر خلافتِ عثمانیہ کی سابقہ حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے برطانوی سرکار پر دباؤ ڈالنا تھا۔
جب برطانوی آبادکاروں نے ہندوستانی مسلمانوں کو گرفتار کرنا شروع کیا تو انھوں نے ہندوستان سے افغانستان کی طرف ہجرت کی ۔ سوویت حملے سے پہلے اور بعد میں افغان تارکینِ وطن کو پاکستان ہی میں پناہ میسر آئی جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہر دو ممالک کے باشندوں میں ایسی اسلامی قرابت داری موجود تھی جس نے اسلامی اخوت کے جذبے کے طور پر درپیش صورتِ حال میں زیادہ مؤثر کام کیا اس سے قطع نظر کہ ان کی حکومتیں ریاستی طور پر کیا سوچ رہی ہیں۔ اس ثقافتی ہم آہنگی کے سبب پاکستانی سلامتی کے اداروں نے افغانستان میں مجاہدین کی حمایت کی جو ۱۹۸۹ء میں سوویت انخلا کے بعد آخر کار ۱۹۹۶ء میں طالبان کو افغانستان میں طاقت ملنے کی وجہ بنی۔
یہ وہ حالات تھے جن کی وجہ سے ایسی صورتِ حال پیدا ہوئی جس میں مدارس سے تعلق رکھنے والی جہادی تنظیموں نے جنم لیا اور انھوں نے جہاد میں حصہ لینے والوں کی کھیپ تیار کی۔بعد ازاں خطے میں فرقہ واریت کو ہوا ملی جو کہ امام خمینی کے ۱۹۷۹ء میں ایران میں اقتدار میں آجانے کے بعد سعودی عرب اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشمکش کا شاخسانہ تھی۔

۲ ۔ افغان پناہ گزین اور نیشنل ایکشن پلان
جیسا کہ پاکستان نے دنیا کی بڑی مہاجر آبادیوں میں سے ایک کو پناہ دے رکھی ہے جن میں پندرہ لاکھ مہاجرین نادرا میں اندراج رکھتے ہیں اور تقریباََ ۱۰؍ لاکھ افغا ن ایسے ہیں جن کا نادرا کے پاس اندراج نہیں ہے۔ پناہ گزینوں کو عالمی یا علاقائی بالادستی کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا سو وہ ہمیشہ خطہ کی تغیرپذیر جغرافیائی سیاست کے رحم و کرم پر رہے۔
۱۹۷۰ء میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملہ آور ہونے کے بعد کی دہائیوں میں جب پاکستان نے پناہ کی تلاش میں سرگرداں افغانوں کو پناہ دی تو افغانوں کی بہت بڑی تعدا د کو اس سے فائدہ ہوا۔ پاکستان میں لمبے عرصے تک قیام کے سبب بہت سے افغانوں نے یہاں جنم لیا۔ حتیٰ کہ کچھ افغانوں نے یہاں کی مقامی عورتوں سے شادیاں کی اور خاندان بسائے۔ ایک اچھی خاصی تعداد تو اپنی مقامی درّی زبان کی بجائے اردو سیکھنے اور بولنے لگی۔
تاہم ۱۹۹۰ء میں سرد جنگ کے خاتمے پر اشتراکیت (کمیونزم) کی شکست کے بعد پاکستان میں موجود افغانوں کو ریاست کی طرف سے سردمہری کا سامنا کرنا پڑا۔ ۱۹۹۰ء کے اوائل میں افغان پناہ گزینوں کے لیے جاری عالمی امداد اچانک روک دی گئی جس سے پاکستانی معیشت پر دباؤ بڑھا۔ وزیرِ مملکت برائے سرحدی علاقہ جات سردار عبدالقادر بلوچ کے مطابق پچھلے ۳۰؍ سالوں میں پاکستان افغان پناہ گزینوں پر ۲؍ کھرب ڈالر سے زائد رقم خرچ کر چکا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ابتداََ پاکستان نے ۵۰؍لاکھ افغانوں کو پناہ دی اور آج بھی یہاں ۳۰؍ لاکھ افغان باشندے موجود ہیں جن میں زیادہ تر خیبر پختونخواہ میں رہائش پذیر ہیں۔
جونہی افغانستان میں طالبان نے اقتدار مستحکم کیا ، عالمی رائے عامہ افغان ریاست کے خلاف ہو گئی۔ ردِّعملمیں پاکستان نے افغانستان اور اس کے عوام سے دورہونے کی کوشش کی اور یہ پاکستان میں وقوع پذیرواقعات میں افغانستان کی اعانت کی وجہ سے ہوا۔
دسمبر ۲۰۱۴ء میں آرمی پبلک سکول پشاور میں ہونے والاحملہ ان بڑے واقعات میں سے ایک تھا جن کی وجہ سے پاکستان نے افغان مہاجرین سے متعلق اپنی حکمتِ عملی تبدیل کی۔ فوج کے تحت چلنے والے سکول میں طالبان نے، جنھوں نے پاکستان میں پناہ حاصل کر رکھی تھی، حملہ کیا جس کے نتیجے میں تقریباََ ۱۴۰؍ بچے جاں بحق ہو گئے تھے۔
پاکستان میں وقوع پذیر ہونے والے اس بدترین دہشت گردی کے سانحے کے بعد نیشنل ایکشن پلان کے نام سے ایک انسداد دہشت گردی حکمتِ عملی تشکیل دی گئی۔ سزائے موت کی بحالی اور فوجی عدالتوں کے قیام کے ساتھ افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی بھی اس حکمتِ عملی کا حصہ تھی۔اس منصوبے میں غیر مندرج افغانوں کے اندراج کو یقینی بنانا بھی شامل تھا ۔ یہ ایک ایسا عمل تھا جو افغانوں کی ملک بدری کے عمل کے برعکس، فی الحقیقت کبھی شروع نہ ہو سکا۔
اس حکمتِ عملی کے بعد عوام کی طرف سے پناہ گزینوں کے انخلا کے مطالبے نے زورپکڑا اور افغانوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع ہو گیا۔ تاہم قانونی کاغذات کے حامل بہت سے افغان پناہ گزین۳۱؍ دسمبر۲۰۱۵ء تک پاکستان میں رہے جبکہ بہت سے باشندے کریک ڈاؤن کی وجہ سے ملک چھوڑنے پر مجبورہو گئے۔ دسمبر ۲۰۱۴ء کے بعدپاکستان کی مغربی سرحد پر بھارت کی پراکسی کے طور پر کام کرنے کی وجہ سے پاکستانیوں میں افغانستان سے متعلق ایک مضبوط منفی بیانیہ پروان چڑھنے لگا۔ دسمبر ۲۰۱۴ء میں ’’ہارٹ آف ایشیا کانفرنس‘‘ کے بعد امرتسر میں افغان صدر اشرف غنی نے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ہمراہ پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی اور دہشت گردوں کو افغانستان برآمد کرنے کی مذمت کی۔ دریں اثنا پاک افغان سرحد پر مزید سختی کر دی گئی اور پاکستانی فوجی دستوں کو وہاں تعینات کر دیاگیا۔
بعد ازاں، سندھ میں سیہون شریف پر حملے کے بعد حفاظتی خدشات کی بنیاد پر فروری ۲۰۱۷ء میں طورخم اور چمن پر سرحدی راستوں کو بند کردیا گیا۔ حملے کے کچھ گھنٹوں بعد مبینہ طور پاکستانی فوج نے افغانستان کے صوبے ننگرہار میں جنگجو ٹھکانوں پر حملے کیے۔ پاک افغان سرحد کی بندش کے ۳۲ویں روز وزیرِ اعظم پاکستان نوازشریف نے خیر سگالی کے طور پر سرحد کھولنے کا حکم دیا۔اس کے بعد پاکستانی حکومت نے پاک افغان سرحد کے کچھ مخصوص حصوں پر باڑ لگانے کا فیصلہ کیا۔ ۵؍اپریل کو افغان دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اگر سرحد پر باڑ لگانے کا مسئلہ سفارتی طور پر حل نہ ہوا تو افغانستان فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔ ۳؍مارچ ۲۰۱۶ء کو بلوچستان میں چمن کے سرحدی علاقے میں فوجی کارروائی کے دورا ن خلیج فارس کے کنارے ا یرانی بندرگاہ چاہ بہا ر پرکام کرنے والے بھارتی نیوی اور را کے ایک جاسوس یادیو کی گرفتاری سے پاکستان اور افغانستان کے بگڑتے تعلقات کو ایک اور دھچکا لگا۔اس پر کراچی اور بلوچستان میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا اور اس نے افغان انٹیلی جنس ایجنسی، این ڈی ایس سے روابط کا اعتراف کیا۔ یادیو نے بعد ازاں یہ اعتراف بھی کیا کہ اس کی ذمہ داریوں میں ز یرِ تکمیل پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے میں رکاوٹ ڈالنا بھی تھا۔
ان واقعات کی وجہ سے پاکستان میں افغان پناہ گزینوں سے متعلق ہمدردی کے جذبات ماند پڑنے لگے اورنتیجے کے طور پر اُن کے جلد انخلا کے مطالبے میں شدت آگئی۔
۳۔ پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے لیے راہنما معاہدات
۹؍دسمبر ۲۰۱۶ء کو منعقدہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سہ فریقی معاہدے اور مارچ ۲۰۱۷ء تک افغان پناہ گزینوں کے نادرا اندراج کی توثیق کے لیے جاری شدہ کارڈز کی تاریخِ تنسیخ میں توسیع کی منظوری دی گئی اور اس بات کی سفارش کی گئی کہ اس دوران وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی افغان پناہ گزینوں کے نمائندگان اور مرکزی سیاسی جماعتوں سے مسائل کے حل کے لیے مشاورت یقینی بنائے گی۔
یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ ۱۹؍ ستمبر ۲۰۱۶ء تک ۱۴؍لاکھ مندرج اور ۶؍ لاکھ غیر مندرج، مجموعی طور پر ۲۰؍ لاکھ افغان باشندے وطن واپسی کے منتظر تھے۔ وزارت برائے ریاستی و سرحدی امور نے ۲۰۱۷ء میں ان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے ضمن میں درج ذیل اعدادو شمار پیش کیے:
۱۔ جنوری، فروری ، مارچ ۴۰؍ہزار (موسمِ سرما میں نقل مکانی کا عمل سست رہا)
۲۔ اپریل ، مئی، جون ۲؍لاکھ
۳۔ جولائی، اگست، ستمبر ۳؍لاکھ
۴۔ اکتوبر، نومبر، دسمبر ۱؍لاکھ
کل: ۶؍لاکھ ۴۰؍ہزار
۵۔ باقی ماندہ ۵؍لاکھ ۲۰۱۸ء میں واپس جائینگے۔

۴۔کُل جماعتی مذاکرہ (کانفرنس) کی سفارشات
افغان پناہ گزینوں سے متعلق حکومت کو تجاویز دینے کے لیے ۱۴؍نومبر ۲۰۱۶ء کو منعقدہ کُل جماعتی اجلاس میں حکومت کواس امر میں پیش کی گئی اہم سفارشات درج ذیل ہیں:
۱۔ پاکستا ن اقوامِ متحدہ کے ادراہ یو این ایچ سی آر کی مدد سے اندراج شدہ افغان پناہ گزینوں کی بتدریج اور رضاکارانہ وطن واپسی کی حالیہ حکمتِ عملی جاری رکھ سکتا ہے۔
۲۔ سہ فریقی معاہدہ اور نادرا اندراج کی توثیق کے لیے جاری شدہ کارڈز کی تنسیخ میں ۳۱؍دسمبر۲۰۱۷ء تک توسیع کی جا سکتی ہے۔
۳۔ حکومت پاکستان کو �آنے والے افغانوں کے لیے باقاعدہ ویزہ پالیسی کا اعلان کر نا چاہیے ۔ حکومت درج ذیل طریقہ سے ویزہ کی مختلف اقسام میں لوگوں کو سہولت فراہم کر سکتی ہے:
۱لف۔سرمایہ کار، تاجر اور کاروباری شخصیات
ب۔ سیاح
ج۔ طلباء
د۔ ہنر مند و غیر ہنر مند مزدور
ر۔ ازدواجی و خاندانی
س۔ حفظانِ صحت و طبی ضروریات
۴۔ بائیومیٹرک کارڈز کے اجراء سے تما م غیر مندرج افغانوں کے نادرا میں اندراج کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ اس عمل کی انجام دہی کی تکمیل تک کسی بھی غیر مندرج افغان باشندے کو ہراساں کیا جائے گا اور نہ ہی ۱۹۴۶ء میں غیر ملکیوں کے لیے کیے گئے معاہدے کے تحت مجرمانہ قوانین کا اطلاق کیا جائے گا۔
۵۔ پاکستان کو پناہ گزینوں کی آزادانہ نقل وحمل کو روکنے کے لیے تارکینِ وطن کے لیے بنائے گئے اپنے قوانین کا نفاذ کرنا چاہئے۔
۶۔ سرحد ی گزرگاہ کو منظم کرنا اور پاکستان میں طورخم اور چمن کے راستے دہشت گردی کی نیت سے آنے والے لوگوں کی آمد کو روکنا انتہائی ضروری ہے۔
۷۔ اس حکمتِ عملی کے نفاذ کی نگرانی کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے۔

۵۔ پاکستانی مشاورتی عمل کی خصوصیات کا جائزہ
معاملات کے اس جائزے کے دوران بنیادی محرکات کا جائزہ لینے کے لیے اہم معلومات کے حصول کو ممکن بنایا گیا تو وطن واپسی کے لیے پاک افغان ہر دو طرف کے انتظامات کے حوالے سے دلچسپ صورتِ حال سامنے آئی۔ جو تنقیدی نقطہ نظر کی بجائے اس نظریے کے تحت ذیل میں پیش کی جا رہی ہے کہ انسانی دکھ اور تکلیف کو کم کرنے، اوراس ضمن میں کی گئی پاکستانی اصلاحات کو تمام ممالک اور لوگوں کے لیے زیادہ منصفانہ اور عادلانہ بنانے کے لیے اس پر نظرِثانی کی جا سکے۔
پاکستان دنیا کے ممالک کی۳؍ طرح سے درجہ بندی کرتا ہے: درجہ اوّل میں روس، چین سمیت امریکہ، کینیڈا اور کئی یورپی ممالک کے باشندے شامل ہیں۔ اگر یہ ویزا کے لیے مطلوبہ اہلیت پر پورا اترتے ہیں تو انھیں ویزا دے دیا جاتاہے۔ درجہ دوم میں ایسے ممالک کے باشندے شامل ہیں جنہیں سخت جانچ پڑتال کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے اور ان ممالک کی تعداد ۱۹؍ ہے۔ تیسرے درجے میں بھارت، اسرائیل، نیپال، بھوٹان اور یوگنڈا جیسے آٹھ ممالک شامل ہیں۔یہ انتہائی مضحکہ خیز بات ہے کہ ان تینوں درجوں میں افغانستان کہیں بھی موجود نہیں اور شاید اسی حقیقت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کُل جماعتی اجلاس میں شامل سیاسی راہنماؤں نے پناہ گزینوں سے متعلق پاکستان کے اپنے وضع کردہ قوانین کے اطلاق کی پرزور تجویز دی۔
یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ افغان پناہ گزینوں کی حفاظت اور ان کی وطن واپسی پاکستان، افغانستان اور یو این ایچ سی آر کے درمیان ہونے والے ایک سہ فریقی معاہدے کی راہنمائی میں عمل میں لائی جا رہی ہے۔اب تک افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے لیے کیے جانے والے اس معاہدے میں پانچ بار توسیع کی جا چکی ہے۔ پہلی مرتبہ ۲۰۰۳ء میں اصل معاہدے کی توثیق کے بعد ۲۰۰۷ء، ۲۰۱۰ء ، ۲۰۱۳ء، ۲۰۱۶ء، اور ۲۰۱۷ء میں اس معاہدے کی کئی بار توسیع کی جا چکی ہے جس کی مدت ۳۱؍ دسمبر ۲۰۱۷ء کو ختم ہو جائے گی ۔ چونکہ ۳۱؍ مارچ تک وطن واپسی کا عمل تعطل کا شکار ہے (موسمِ سرما کی وجہ سے) جس سے۲۰۱۸ ء میں ایک اور وطن واپسی معاہدہ ناگزیر ہو جائے گا۔
معاہدے میں شامل راہنما اصول درج ذیل ہیں:
۱۔ وطن واپسی کا عمل پناہ گزینوں کی رضا کارانہ وطن واپسی کے بین الاقوامی طور پر مسلمہ قوانین کی روشنی میں سرانجام دیا جائے گا۔( تمہید ۔ سی)
۲۔ اس کے ساتھ ہی عالمی برادری کے تعاون سے افغانستان سماجی و اقتصادی ترقی، انسانی حقوق، قانون کی بالا دستی و حکمرانی اور پائیدار سلامتی کے لیے اقدامات کرے گا۔ (ای)
۳۔ فریقین نے اس پر آمادگی کا اظہار کیا کہ رضا کارانہ وطن واپسی کا عمل حفاظت اور عزت دارانہ طریقے سے سرانجام دیا جائے گا تاکہ افغان پناہ گزین افغانستان میں آباد ہو سکیں۔ (ایچ)
۴۔ وطن واپسی رضا کارانہ ہوگی۔ (شق ۶)
۵۔ افغان حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ اُن اہم مقامی آبادیوں میں ترقیاتی پروگراموں پر توجہ دے گی جہاں پناہ گزینوں کی واپسی ہورہی ہے۔( شق ۸)
۶۔ پاکستانی اسناد اور دیگر کاغذات کو افغان قوانین کے مطابق مساویانہ حیثیت دی جائے گی۔( شق ۱۰)
۷۔ افغانستان ، زیرِحراست رکھنے، گرفتاری یا قانونی کارروائی کے معاملات سے، جو وطن پلٹ افغانوں سے متعلق ہوں، یو این ایچ سی آر کو مطلع کرے گا۔(شق ۱۲ ، جز ۳ )
۸۔ وطن واپس لوٹنے والے تمام افغان باشندے نادرا میں اپنا اندراج ختم کرانے اور افغان سفری دستاویزات (پاسپورٹ) کے اجراء کے لیے پاکستان میں اندراج کے تصدیقی کارڈ دکھائیں گے۔(شق ۱۵، جز ۲)

۶۔ وطن واپسی کی حرکیات
وزیرِ اعظم پاکستان نے افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے مسائل کے حل کی تدبیر پر مشتمل وطن واپسی کی حکمتِ عملی کی منظوری دی۔ انھوں نے وزیر برائے ریاستی و سرحدی امور کی نگرانی میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی جس میں وزارتِ خارجہ و داخلہ کے ممبران شامل تھے اورجس کی شرائط و ضوابط درج ذیل ہیں:
۱۔ اگلے چھے ماہ میں زیادہ سے زیادہ پناہ گزینوں کی وطن واپسی کو یقینی بنانے کے لیے وسائل و ذرائع کی تلاش کی جائے۔
۲۔ جون ۲۰۱۳ء کے بعدمسائل کے یقینی حل پر مشتمل مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے افغان حکومت سے مشاورت کر کے سفارشات وزیرِ اعظم کو بھیجی جائیں۔

۷۔ سلجھاؤ کی تدبیر (ایس ایس اے آر)
۲۰۱۱ء میں مسائل کے پائیدار حل کے لیے پاکستان، افغانستان ، ایران اور اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے درمیان ایک چار فریقی مذاکراتی عمل کا آغاز ہوا۔ یہ عمل سو ئیٹرزلینڈ اور یواین ایچ سی آر کی مشترکہ میزبانی میں افغان پناہ گزینوں کی رضا کارانہ واپسی اور ان کی مستقل آبادکاری کی حمایت اور میزبان ممالک کی معاونت کے لیے افغان پناہ گزینوں کے مسائل کے سلجھاؤ کی حکمتِ عملی (ایس ایس اے آر)کے عنوان پر مئی ۲۰۱۲ء میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کا موجب بنا۔ کانفرنس نے ایک مشترکہ اعلامیے میں سلجھاؤ کی تدبیر کے ساتھ اس کے نفاذ کے لیے لائحۂ عمل مرتب کرنے کی ضرورت پر بھی زوردیا۔
علاقائی سطح پر ایک کثیر المدتی ابتدائیے کی حیثیت سے سلجھاؤ کی یہ تدبیر پناہ گزینوں کی رضا کارانہ وطن واپسی اور مستقل نو آبادکاری میں مدد وحمایت کرنے کے ساتھ ہی میزبان ممالک کی معاونت کا مقصد بھی اپنے اندر پنہاں رکھتی تھی۔اس کا حصہ ہونے کے ناطے حکومتوں نے ۵۰؍سے زائد انسان دوست اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر۲۰۱۴ء میں ان منصوبوں کے لیے ملکی سطح کے تین محکمہ جات بنائے۔ صحت، تعلیم اور روزگار پر مشتمل محکمہ جات ایک مستقل نظام اور کثیر الجہتی تعاون کا باعث تھے۔ پاکستان نے سلجھاؤ کی اس تدبیر اور اس کے مکمل نفاذ پر زور دیا۔ سلجھاؤ کی اس تدبیر کے تین اہم اہداف درج ذیل ہیں:
الف۔ رضا کارانہ وطن واپسی کے لیے ماحول سازگار بنانا۔
ب۔ وطن واپس لوٹنے والے افغانوں کے لیے افغانستان میں مواقع پیدا کرنا
ج۔ ایسی مقامی آبادیوں کی معاونت کرنا جہاں باقی ماندہ افغان پناہ گزین موجود ہیں
پاکستان نے سال ۱۴۔ ۲۰۱۲ئکے لیے ایس ایس اے آر پر عملدرآمد کی مد میں ۶۱۰؍ ملین ڈالر کا مطالبہ کیا مگر وعدے کے مطابق یہ رقم ادا نہیں کی گئی۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کو پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے لیے ۲۰۰؍ ڈالرفی کس رقم اپنے وسائل سے ادا کرنا پڑی۔ اس امر پر زور دیا گیا کہ افغان پناہ گزینوں کے اندراج کو یقینی بنایا جائے کیونکہ نادرا میں اندراج کے تصدیقی کارڈ ہی کی بدولت کوئی وطن واپس لوٹنے والا پناہ گزین افغانستان کے سرکاری کاغذات و حمایت اور افغان شہریت کا حقدار بن سکتا تھا۔ تاہم وطن واپسی کے عمل کی کامیابی کا دارو مدار وطن واپس لوٹنے والے افغانوں کے لیے موجود مواقع پر تھا۔ ثانیاََ ، اکثر پناہ گزینوں کا تعلق پختون نسل سے ہونے کی بنا پر انھیں جلد وطن واپسی میں درج ذیل رکاوٹوں کا سامنا تھا:
۱۔ افغان وزارت برائے آبادکاری و مہاجرین ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے ایک فرد کی سربراہی میں کام کررہی ہے اور کہا جارہا ہے کہ متعلقہ وزارت مہاجرین کی جلد وطن واپسی کے لیے زیادہ پُرجوش نہیں ہے کیونکہ اُن کی آمد سے اگلے انتخابات میں پختون رائے دہندگان کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہو جائے گا۔غیر پختون کبھی نہیں چاہیں گے کہ طاقت کا توازن موجودہ تاجک عروج سے دور چلا جائے۔
۲۔ دوسری طرف یہ دیکھا گیا ہے کہ اسلام آباد میں موجود افغان سرکاری نمائندوں کے اپنے سیاسی مفادات ہیں اوروہ وطن واپس لوٹنے والے افغانوں کی پختون طاقت کو اگلے انتخابات میں ووٹ بنک کے طور پر استعمال کرنا چاہیں گے۔

۸۔ مؤثر وطن واپسی کے لیے ایس ایس اے آر کا پیشگی نفاذ
پناہ گزینوں کی جلد وطن واپسی کا حل اس دستاویز کی فراہمی سے ممکن ہے۔ہم جلد وطن واپسی کے لیے ایس ایس اے آر میں بیان کی گئی کچھ اہم صورتوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ درج ذیل فہرست ایس ایس اے آرکی شہ سرخیوں سے منتخب ہے:
۱۔ سازگار مواقع پیدا کرنے کے لیے معلومات کی فراہمی اور بڑے پیمانے پر تعاون کا ہونا ضروری ہے تاکہ وطن واپس پلٹنے والے پناہ گزین ان مواقع سے فائدہ حاصل کرکے جلد از جلد اپنی معمول کی زندگی شروع کر سکیں۔
۲۔ افغانستان کو وطن واپس لوٹنے والے پناہ گزینوں کے لیے ملازمتوں میں کوٹہ مقرر کرنا چاہیے اور اس مقصد کے لیے پاکستان میں ملازمتوں کے تبادلے کا اہتما م کیا جا سکتا ہے۔
۳۔ افغانستان کو وطن پلٹ افغانوں، بالخصوص نوجوانوں کی ذاتی کاروبار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔
۴۔ سرحد پردونوں اطراف کے افغان پناہ گزینوں کو اُن کے لیے دستیاب وسائل میں بہتری کے لیے مشورہ دیا جا سکتا ہے۔
۵۔ یو این ایچ سی آر کو چاہیے کہ وہ تین ماہ تک پناہ گزینوں کی ضروریات کا خیال رکھنے کا بندو بست کرے کیونکہ یکبارگی دی گئی ۲۰۰؍ڈالر فی کس انتہائی کم اور نا مناسب رقم ہے۔
۶۔ وطن واپسی کے عمل میں تیزی کے لیے افغانستان میں قیامِ امن اور قومی سلامتی کو ممکن بناناسب سے اہم ہے ۔ اس صورت میں طالبان سے ایک امن معاہدہ انتہائی ضروری ہے۔
۷۔ پناہ گزینوں کو جدید ہنرکاری، جو منڈی میں مانگ رکھتی ہو، سکھا نے کا عمل فائدہ مند رہے گا۔
۸۔ پاکستان یا افغانستان ہر دو طرف پناہ گزینوں کو ایذا رسانی اور جبر سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...