۱۱؍اگست ۱۹۴۷ء کی قائدِاعظم کی تقریر پر میثاقِ مدینہ کا پرتو

منیراحمد منیر

726

’’کام کی بات‘‘قارئین تجزیات کے لیے ایک نیا سلسلہ ہے جو تین ماہ کے عرصے میں اردو اخبارات میں مذہبی ،فکری اور سماجی موضوعات پر شائع ہونے کالموں میں سے ایک کالم منتخب کرے گا۔ اس شمارے میں معروف محقق،صحافی اور محب قائداعظم منیر احمد منیر کے ایک کالم کا انتخاب کیا گیا ہے جو اگست۲۰۱۷ کو روزنامہ ’’دنیا ‘‘میں شائع ہوا۔ اس کالم میں منیر احمد منیر نے قائداعظم کے۱۱؍اگست ۱۹۴۷ کی دستور ساز اسمبلی سے خطاب پر ابہامات دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ (مدیر)

مولانا شاہ محمد جعفرپھلواری نے اپنی تالیف ’’پیغمبرانسانیت‘‘میں جن بنیادوں پرمیثاق مدینہ کو تاریخ کا’’بہت ہی اہم واقعہ‘‘قراردیا ہے، وہی اہمیت ہمیں قائد اعظم کی ۱۱؍ اگست۱۹۴۷ کی رہنماتقریرکو دینی چاہیے، جو انھوں نے بانیِ پاکستان، صدردستورساز اسمبلی، فادرآف دی نیشن اورقوم کے قائد اعظم کی حیثیت سے کی، کہ وہ ہمارا میگناکارٹا ہے۔
۱۵؍ جون۱۲۱۵ء، بمقام کورنی میڈ، وجود میں آنے والے اس منشور عظیم اور منشورآزادی نے، جسے میگنا کارٹا کہتے ہیں، مردہ قوم کوزندہ قوم کا روپ دے دیا۔ وہ حیثیت سے نجات پا کر دنیا میں تہذیب پھیلانے کی دعویدار ہوئی۔ اور ہم، پاکستانی قوم، اپنے منشورعظیم،منشورآزادی،میگناکارٹا پرعمل کرنے کے بجائے سیکولرزم اور نان سیکولرزم کی لایعنی بحث میں الجھے ہوئے ہیں، یہ غور کیے بغیر، کہ یہ اغیارکی سازش تو نہیں۔ ورنہ بات سیدھی ہے، آپ میثاقِ مدینہ کی متعلقہ شقیں سامنے رکھ لیں توقائد اعظم کا یہ خطاب ان کا پرتونظرآئے گا۔
محمد حسین ہیکل کی’’حیات محمد‘‘ﷺ( اردو ترجمہ: ابو یحییٰ امام خاں، ۱۹۸۷، ص۲۶۸ تا ۲۷۰) میں منقول درج ذیل شقیں مظہرہیں کہ قائداعظم کی اس تقریرکے رہنمااصول انہی سے اخذ کیے گئے۔
۱۳۔ مشرکین مدینہ میں جو لوگ معاہدہ میں شریک ہیں، ان میں سے کوئی شخص قریش مکہ میں سے کسی کے مال اور جان کو نہ تو پناہ دے گا اور نہ مسلمان کے مقابلے میں مکہ کے کسی قریشی کی حمایت کرے گا۔
۱۸۔ اگرمسلمان جہاد میں اپنا مال خرچ کریں تو یہود کو بھی ان کے ساتھ اپنا مال خرچ کرنا ہوگا۔
۱۹۔ مسلمانوں کی لشکرکشی کی حالت میں یہود کو بھی ان کی مالی اعانت کرنا ہوگی، کیونکہ حلیف کے لیے دفع مضرت اپنے نفس کی حفاظت کے مطابق کرنا چاہیے، جب تک کہ اس کی جانب سے ضررنہ پہنچے یا اس کے ذمہ کوئی جرم عائد نہ ہو۔
۳۲۔ اگرمدینہ پرکوئی قوم حملہ کرے تو دشمن کی مدافعت میں سب کو مل کرحصہ لینا ہوگا۔
۳۳۔ اگرمدینہ پرحملہ آورلشکرمسلمانوں سے صلح کرنا چاہے تو معاہدہ کے شرکا کو متفق ہوکردشمن سے صلح کرنا ہوگی۔
میثاق مدینہ کی ان شقوں کی رو سے مسلمانوں، مشرکین مدینہ اور یہودیوں کو برابرکا شہری قرار دیا گیا ہے۔ لشکرکشی کی صورت میں بھی مشرکین مدینہ اور یہودی مسلمانوں کے ساتھ ہوں گے، اور مملکت مدینہ پردشمن کے حملہ کی صورت میں بھی سب مل کردفاع کریں گے۔ الغرض عقائد کے اختلاف کے باوجود ان کے حقوق، مراعات اور ذمہ داریاں برابرہوں گی۔ یہی بات قائداعظم نے اپنی تقریر میں یوں بیان کی:
پاکستان میں تمام اقلیتوں کومساوی حقوق حاصل ہوں گے۔ ان کو جائزحد تک، زیادہ سے زیادہ آزادی دی جائے گی۔ میں پاکستان کی اقلیتوں سے بھی یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اگرتم نے تعاون کے جذبے سے کام لیا، ماضی کو بھلادیا اور جھگڑوں کو بھلادیا اور جھگڑوں کو دفن کردیا تو میں کہہ سکتا ہوں کہ تم میں سے ہرایک چاہے تمہارا تعلق کسی بھی فرقے سے ہو۔ چاہے تمہارا رنگ، ذات اورعقیدہ کچھ بھی ہو، اولبھی اس ریاست کا باشندہ ہوگا اور دوئم بھی۔ اورآخرمیں بھی۔ تمہارے حقوق، مراعات اور ذمہ داریاں برابرہوں گی۔
میثاق مدینہ کی شق۱۵: تمام مسلمان اس معاہدے پرمتفق ہیں اور اس میں سے کسی دفعہ کا انکار نہیں کرسکتے۔ جس مسلمان نے اس معاہدہ کا اقرارکرلیا وہ خدا اوراس کے رسول پرایمان رکھتا ہے۔
یہ شق ہرمسلمان کو معاہدے پر قیام واقرارکی تلقین کرتی ہے اور اس اقرار کو خدا اور اس کے رسولﷺ پرایمان قراردیتی ہے۔ قیام پاکستان بھی ایک معاہدے کی رو سے وجود میں آیا جس پرپابند رہنے کے لیے، قائداعظم کہتے ہیں: ’مجھے معلوم ہے کہ ایسے لوگ موجود ہیں جو ہندوستان کی تقسیم پر متفق نہیں ہیں۔ نہ بنگال اورپنجاب کی تقسیم سے لیکن اب جبکہ اس کو قبول کرلیا گیا ہے تو ہم میں سے ہرایک کا فرض ہے کہ ہم وفاداری سے اس پرقائم رہیں۔ اور اس معاہدے کے مطابق عمل کریں جس پرعمل کے لیے لازمی اورضروری ہے۔
میثاق مدینہ کی شق نمبر۱۹: قبیلہ بنی عوف کے یہود بھی اس معاہدہ میں شامل ہیں، اگرچہ مسلمان اوریہودی ہرایک اپنے اپنے مذہب پرقائم رہنے کا مستحق ہوگا لیکن مشترکہ مقاصد میں دونوں ایک جماعت کے حکم میں داخل ہوں گے۔
ہمارے میگناکارٹامیں پاکستانیوں کے لیے، قائد اعظم اس کی یوں تشریح کرتے ہیں:
حکومت پاکستان میں آپ کو اپنے مندروں اورپرستش گاہوں میں جانے کی آزادی ہے۔ آپ کسی بھی مذہب کے مقلد ہوں یا آپ کی ذات اورعقیدہ کچھ بھی ہو، اس سے پاکستان کی حکومت کو کوئی تعلق نہیں ہے۔
یورپ خود کو مہذب کہتاہے لیکن وہاں پروٹسٹنٹ اوررومن کیتھولک خوب لڑتے رہے۔ آج بھی بعض ریاستوں میں وہاں مذہبی تمیزنہ ہوگی، ذات اورعقیدوں کی تمیزیں ہوگی۔
میثاق مدینہ کی شق۳۴: اسی طرح اگرمسلمانوں کے سوا دوسرے شرکائے معاہدہ پرحملہ ہوا، اوروہ لوگ جن کی وجہ سے حملہ ہوا ہے، دشمن سے صلح کرنا چاہیں تو مسلمان ان کے ساتھ اس معاہدے کے پابند ہوں گے، باستثنائے اس معاملہ کے جس میں شرکائے معاہدہ میں سے کسی کے دین پرزد پڑتی ہو۔
۱۱؍ اگست۱۹۴۷ کو قائد اعظم کی زبانی اس دفعہ کی تشریح یوں ہے:
ہم اس بنیادی اصول کے ماتحت کام شروع کررہے ہیں کہ ہم ایک ریاست کے باشندے اور مساوی باشندے ہیں (پرجوش تالیاں)۔ ہمیں اس اصول کواپنا مطمح نظربنالینا چاہیے۔ پھرآپ دیکھیں گے کہ ہندوہندو نہیں رہیں گے اورمسلمان مسلمان نہیں رہیں گے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے مذہب مٹ جائیں گے، کیونکہ مذہب کو ماننا ہرشخض کا ذاتی عقیدہ ہے۔ میرامطلب سیاسی تمیزسے ہے، وہ سب ایک قوم کے افراد ہوجائیں گے۔
قائد اعظم نے اپنی طرف سے بات نہیں کی بلکہ میثاق مدینہ پرہی انحصار کیا ہے۔ میثاق مدینہ کے متعلق محمد حسین ہیکل رقم طرازہیں کہ یہ تحریری معاہدہ ہے جس کی رو سے جناب محمد ﷺ، نے آج سے تقریبا ساڑھے تیرہ سو سال قبل معاشرہ انسانی میں ایسا ضابطہ قائم کیا جس سے شرکائے معاہدہ میں سے ہرگروہ اورافراد کو اپنے اپنے عقیدہ میں آزادی ملی۔ انسانی زندگی کی حرمت قائم ہوئی۔ اموال کے تحفظ کی ضمانت مل گئی۔ ارتکاب جرائم گرفت ومواخذہ نے اپنا دباؤ ڈالا اورمعاہدین کی یہ بستی یعنی شہرمدینہ، اس میں رہنے والوں کے لیے امن کا گہوارہ بن گئی۔ مولانا شاہ محمد پھلواری لکھتے ہیں:
دنیا کو پہلی باردرس ملاکہ احترام انسانیت کی بنیاد پراعلیٰ مقاصد کوبروئے کارلانے میں کس طرح تعاون کیا جاتا ہے۔ اور دوسری قوموں کو مذہب وضمیرکی تنی فراخ دلانہ آزادانہ دی جاتی ہے۔
فراخ دلی اوررواداری کے ساتھ اس معاہدے میں یہ حقیقت بھی مستورہے کہ دین جبرسے نہیں پھیلایا جاتا اوردوسرے انسانوں سے مذہب کی بنیاد پراتنی نفرت اور عصبیت نہ برتنی چاہیے کہ اعلیٰ اقدارمیں تعاون نہ ہوسکے۔ مذہب کا مقصد ہی اعلیٰ اقدارانسانی کا قیام ہے۔ اورسنگ دلانہ تعصب وتفریق کوئی اعلیٰ قدرنہیں۔
یہی درس قائداعظم کی ۱۱؍اگست ۱۹۴۷کی تقریرمیں ملتاہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...