قربانی: تاریخ اور مذاہب کے پس منظر میں

831

قربانی کا تصور تمام مذاہب میں رہا ہے اور اس کا مقصد خالقِ کائنات کی رضا اور آلام و مصائب سے نجات رہا ہے۔ قربانی کے مذہبی تصور کی کئی جہتیں ہیں جنہیں سید ثاقب اکبر،چیئرمین البصیرہ اکیڈمی نے اس مضمون میں سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ بعدازاں اس پر بحث کی ہے کہ اسلام کا تصور قربانی باقی مذاہب سے کس طرح مختلف ہے اور اس کا فلسفہ کیا ہے۔ یہ مضمون قربانی کے فلسفے کو سمجھنے میں معاون ثابت ہوگا۔ (مدیر)

قربانی کا تصور جہاں بھی پایا جاتا ہے اس کے گرد عام طور پر تقدس کاایک ہالہ موجود ہوتا ہے۔ انسان ہمیشہ سے قربانی کے ذریعے اپنے اور اپنے مقدسات کے مابین ایک ارتباط قائم کرنے کے لیے کوشاں رہا ہے۔

راغب اصفہانی کا قول
راغب اصفہانی نے قربانی کی جو تعریف کی ہے وہ دراصل توحید پرستی کے تصور پر مبنی ہے۔کہتے ہیں:
قربانی وہ چیز ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جائے اور(بعدازاں) عرب میں قربانی کا جانور ذبح کرنے کا نام ہو گیا۔(مفردات)

مذاہب و اخلاقیات کے انسائیکلو پیڈیا سے
ایڈورڈ بارنٹ ٹالور(۱۹۱۷۔۱۸۳۲) کی رائے ہے:
قربانی موجودات ماورائے طبیعات کے لیے ایک ہدیہ ہے تاکہ قربانی کرنے والوں کے لیے ان کی توجہ حاصل کی جاسکے یا ان کی ناراضی کو کم کیا جاسکے۔
(vss sarifice. Encyclopaedia of religion and ethics 1947)
قدیم زمانوں سے
قربانی کی رسم قدیم ترین زمانوں سے جاری ہے۔ مختلف قدیم تہذیبوں اور ثقافتوں میں قربانی کا سلسلہ مختلف صورتوں میں رہا ہے۔ قربانی بھی طرح طرح کی رہی ہے۔ جمادات، نباتات اورحیوانات سب کی قربانی ہوتی رہی ہے۔ کبھی تو انسانوں کی قربانی بھی ہوتی رہی ہے۔ قربانی کی بعض صورتیں تو غیرعاقلانہ رہی ہیں۔ معقول و نامعقول قربانیوں کی صورتیں اب بھی دکھائی دیتی ہیں۔
بعض انسان طبیعی عوامل مثلاً آسمانی بجلی یا زلزلے کے خوف سے خداؤں کی خدمت میں ہدیے پیش کرتے رہے ہیں تاکہ ان کی پناہ یا خوشنودی حاصل کر سکیں۔ وہ انہی طبیعی مظاہر کے لیے خدائی کے قائل بھی رہے ہیں۔ قدیم زمانے میں گوشت، غلہ، پھل، شراب اور گھی وغیرہ بھی قربانی کے طور پر پیش کیے جاتے رہے ہیں۔ اسی طرح بہت سے انسانوں نے سورج، حیوانات یا بتوں کی پوجا شروع کردی۔ بعض انسان اپنے اموال بتوں کے قدموں میں رکھ دیتے تھے۔ بعض لوگ اپنے معصوم بچوں کو خداؤں کے نام پر قربان کر دیتے تھے۔

مختلف اقوام کے ہاں قربانی کا تصور اور روایت
آشوری اپنے آباؤ اجداد کی قبروں پر چھڑکاؤ کرتے تھے۔ ہندوؤں کے ہاں بھی تطہیر اور پاکی کے لیے یہ کا م انجام دیا جاتا تھا۔ زیادہ تر عرب سامی اقوام کی طرح اپنی قربانیوں کے خون کا چھڑکاؤ کرتے تھے یا پھر فنیقیوں کی طرح دودھ کاچھڑکاؤ کرتے تھے۔ بعض لوگ خون کے بجائے شراب کا چھڑکاؤ کرنے لگے اور وہ اسے انگور کا خون قرار دیتے تھے۔ بعض قوموں میں خود خداؤں کی قربانی کا بھی رواج رہا ہے۔ ہندوؤں کی بعض قدیم کتابوں کے مطابق خدا قربانی دے کر بہشت حاصل کرتے تھے۔
دومۃ الجندل کے لوگ ہر سال خاص انداز سے ایک شخص کا انتخاب کرتے اور اپنے خداؤں اور بتوں کے حضور اسے قربان کر دیتے پھر اس کا جسم قربان گاہ کے قریب دفن کر دیتے۔
عبدا لصبور شاکر اپنے ایک مقالے ’’مذاہب عالم میں قربانی کا تصور‘‘میں مختلف ملکوں اور قوموں کے ہاں قربانی کے تصور کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
۔۔۔ افریقا، جنوبی امریکا، انڈونیشیا،جرمنی اور سکینڈے نیویا کے بعض قبائل اپنے دیوتاؤں کے غضب سے بچنے، ان کی خوشنودی حاصل کرنے، کسی نئی عمارت، پُل یا بادشاہ کی موت، یا ناگہانی آفت کے وقت انسانوں کی قربانی کیا کرتے تھے۔ ایک روایت کے مطابق قدیم یونانی بھی انسان کی قربانی کے قائل تھے جس کی تصدیق ان ہڈیوں سے ہوتی ہے جنھیں آثار قدیمہ کے ماہرین نے کھدائی کے دوران برآمد کیا ہے۔ کریٹ کے قلعے سے ملنے والی بچوں کی ہڈیاں اس بات کا پتا دیتی ہیں کہ انھیں ذبح کیا گیاتھا۔
شکرانے کے لیے: کہا جاتا ہے کہ چوتھی صدی قبل مسیح میں روم میں کنسولی کامیل کے زمانے میں سینٹ اور عوام میں اختلاف کے خاتمے پر جشن برپا کیا گیا اور تمام عبادت گاہوں میں خداؤں کے شکرانے کے لیے قربانیاں پیش کی گئیں۔
شہزادے کی قربانی: مغربی ایشیا کے سامی بادشاہوں میں سے ایک کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ موآب(جو شام کا علاقہ تھا) کے بادشاہ نے جب اپنی سلطنت کو بنی اسرائیل سے خطرے میں محسوس کیا تو اپنے بڑے بیٹے کو خداؤں کے حضور فدیہ کردیا۔ یہ اس کا وہی بیٹا تھا جسے اس کا جانشین ہونا تھا۔ بادشاہ کے حکم پر اسے شہر کی قربان گاہ پر لے گئے جہاں اسے فدیہ کے نام پر قتل کردیا گیا اور اس کے جسم کو جلا دیا گیا۔
خوبصورت قیدی کی قربانی: عرب کے بہت سے قبیلے جب کسی جنگ میں کامیاب ہو جاتے تو مغلوب قوم کے اموال لوٹ لیتے اور ان کے لوگوں کو قیدی بنا لیتے۔ اس فتح کے شکرانے میں وہ جو کام انجام دیتے ان میں سے ایک یہ تھا کہ قیدیوں میں سے خوبصورت ترین شخص کو اپنے بتوں کے حضور قربان کر دیتے۔ اس کے خون کو کامیابی کے تسلسل کے لیے اپنے سر اور چہرے پر ملتے۔
غیر خونی قربانی: بعض قدیم ادیان میں غیر خونی قربانی کی سلسلہ بھی رائج رہا ہے مثلاً پھلوں، سبزیوں، اناج کے دانوں، مائعات خصوصاً پانی اور شراب کو قربانی کے عنوان سے پیش کیا جاتا تھا۔ چیزوں اور حیوانوں کو قربانی کے لیے وقف کردیا جاتا تھا ۔ فرائڈ کا کہنا ہے کہ نباتات کی قربانی تازہ اتارے گئے پھلوں کو ہدیے کے طور پر پیش کرنے سے شروع ہوئی۔ یہ زمین کے مالک کی طرف سے ایک طرح کی مالی قربانی یا ٹیکس کی ادائیگی شمار ہوتی تھی۔
دریا کی روانی کے لیے دوشیزہ کی قربانی: قبل ازاسلام کے مصری لوگ دریائے نیل کی روانی برقرار رکھنے کے لیے ایک خوبصورت اور کنواری دوشیزہ کی قربانی دیتے تھے جسے زیورات وغیرہ سے سجا سنوار کر دریا کے عین وسط میں چھوڑ دیا جاتا جس کے بعد دریائے نیل رواں ہو جاتا۔

بعض ادیان میں جانور کی قربانی ممنوع ہے
یہ بات قابل ذکر ہے کہ بعض ادیان میں جانور کی قربانی اصلاً ممنوع ہے۔ مثلاً بدھ مت اور ہندومت کے ہاں جانور کی قربانی منع ہے۔ بدھ مت میں تو اب بھی یہی تصور پایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ زرتشت کے ہاں بھی جانور کی قربانی کا تصور نہ تھا اور بعد میں ان کے ماننے والوں کے ہاں درآیا۔

ستی کی رسم
ہندوؤں کا مسئلہ بہت عجیب ہے کہ ان کے ہاں جہاں ایک طرف جانور کی قربانی منع ہے وہاں انسانوں کی قربانی کا تصور اب بھی پایا جاتا ہے۔ ستی کی رسم تو کچھ عرصہ پہلے تک رائج رہی ہے۔ اس کی کچھ وضاحت ہم وکی پیڈیا سے پیش کرتے ہیں:
ہندو عقیدے کے مطابق شوہر کے مرنے پر بیوہ کا شوہر کی چتا میں جل کر مرنا ستی کہلاتا ہے۔ جو ہندو مردے کو جلانے کی بجائے دفن کرتے تھے وہ بیوہ کو بھی زندہ دفن کرکے ستی کی رسم ادا کرتے تھے۔ جب شوہر کی موت کہیں اور ہوتی تھی اور لاش موجود نہ ہوتی تھی تو ستی کی رسم ادا کرنے کے لیے بیوہ کو شوہر کی کسی استعمال شدہ چیز کے ساتھ جلا دیا جاتا تھا۔
ہندوستان میں ستی کا رواج بنگال میں زیادہ عام تھا۔ ستی ہونے والی خاتون کو ماتمی لباس کی بجائے شادی کے کپڑے پہنائے جاتے تھے اور ستی کی کافی ساری رسمیں شادی کی رسومات سے ملتی جلتی ہوتی تھیں۔ سمجھا جاتا تھا کہ ستی ہونے سے جوڑے کے تمام گناہ دھل جائیں گے، انھیں نجات حاصل ہوگی اور وہ موت کے بعد بھی ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے۔
ستی کی رسم مذہب میں کیسے داخل ہوئی اس پر ایک بہت قابل توجہ پہلو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:
اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ اس زمانے میں امیر اور با اثر عمررسیدہ لوگ جوان اور خوبصورت لڑکیوں سے شادی کرنے میں تو کامیاب ہو جاتے تھے مگر انھیں ہمیشہ یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ ان کی جوان بیوی کاکسی ہم عمر مرد سے معاشقہ نہ ہو جائے اور بیوی شوہر کو زہر نہ دے دے۔ ستی کی اس رسم کو مذہبی رنگ دینے سے بیوی اپنے شوہر کو کبھی بھی زہر دینے کی جرأت نہیں کرے گی تاکہ خود بھی جل مرنے سے محفوظ رہے۔

قربانی کے عمومی مقاصد
قربانی کے مقاصد عام طور پر اس طرح سے رہے ہیں:
۱۔ اللہ کی حمد اور شکر کے اظہار کے لیے
۲۔ طلب حاجت کے لیے
۳۔ حصول رضا کے لیے
۴۔ خدا یا خداؤں کے غضب کو ٹالنے کے لیے
۵۔ گناہوں کے کفارے کے لیے
۶۔ دنیا کی بہتری کے لیے
۷۔ خداؤں کے ساتھ مل کر غذا کھانے کے لیے
۸۔ مستقبل کے واقعات کی پیش بینی کے لیے
۹۔ مجالس کی برکت کے لیے، وغیرہ
گاہے ایک قربانی کے متعدد مقاصد بھی ہوتے تھے۔

قرآن کا بیان۔۔۔تمام امتوں میں قربانی
قرآن حکیم نے بھی یہ بات بیان کی ہے کہ قربانی کی رسم تمام قوموں اور امتوں میں موجود رہی ہے۔ تاہم قرآن کا قربانی کا تصور تاریخ کے بہت سے انحرافی تصورات سے مختلف ہے۔ سورہ حج کی آیت۳۴میں ہے:
ترجمہ: قربانی ہم نے ہر امت کے لیے مقرر کی تھی تاکہ جن چوپایوں کا گوشت انھیں کھلایا جاتا تھا اس پر اللہ کا نام لیں پس تمھارا الٰہ وہ ایک ہی معبود ہے لہٰذا اس کے حضور سر تسلیم خم کرو اور عجزگزاروں کو بشارت دو۔
اس آیت سے یہ امر ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ کے انبیا کی طرف سے ان کی امتوں کو قربانی کا پیغام دیا گیا البتہ یہ قربانی جانوروں کی تھی، وہ جانور جو لوگ خود چوپایوں کے طور پر استعمال کرتے تھے اور جن کا گوشت ان کے ہاں کھایا جاتا تھا۔مَا رَزَقَھُمْ سے یہی معنی مترشح ہوتا ہے کہ یہ ان چوپایوں کی قربانی تھی جو ان کے ہاں غذا کے طور پر کھائے جاتے تھے۔ نیز یہ بھی ظاہرہوتا ہے کہ یہ قربانی خالص اللہ کے لیے تھی اور اللہ ہی کے نام پر کی جاتی تھی۔ سورہ حج ہی کی ایک اور آیت ۶۷میں ہے:
ترجمہ: ہر امت کے لیے ہم نے قربانی مقرر کی تھی اور وہ لوگ اس کی قربانی کرتے تھے۔ پس وہ لوگ اس معاملے میں آپ سے جھگڑا نہ کریں اور آپ اپنے پروردگار کی طرف دعوت دیں آپ یقیناً راہ راست پر ہیں۔
اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اللہ امتوں میں رائج جس طرح کی قربانی کا تصور پیش کرتے تھے بعض اہلِ ادیان اس کی مخالفت کرتے تھے اور اس تصور کو قبول نہیں کرتے تھے۔ اگر ہم آنحضرتؐ کے زمانے کے مشرکین اور اہل کتاب کے ہاں جاری قربانی کے دستوروں کا مطالعہ کریں تو اس اختلاف کا بخوبی اندازہ ہو جائے گا۔ یہ بات یہاں قابل ذکر ہے ’’نسیکہ‘‘ ، ’ ’نسک‘‘ اور ’’منسک‘‘ کے الفاظ پہلے قربانی کے مفہوم ہی میں استعمال ہوتے تھے بعد میں عمومی طور پر شریعت یا شرعی اعمال کے لیے استعمال ہونے لگے۔ اس طرح یہاں منسک کا معنی قربانی اس کے ایک بنیادی مصداق کے طور پر کیا گیا ہے۔

حج اور قربانی
حج کے موقع پر بھی جس قربانی کا تصور پیش کیا گیا ہے وہ چوپایوں ہی کی قربانی ہے۔ البتہ یہ قربانی حج کے اعمال کا ناگزیر حصہ ہے۔ علاوہ ازیں حج کے موقع پر مختلف کوتاہیوں اور کمیوں یا خلاف ورزیوں کی صورت میں بھی کفارے کے طور پر قربانی کا تصور موجود ہے۔ یہ قربانی بھی جانوروں ہی کی قربانی پر مشتمل ہے۔ بعض احکام کی عدم تعمیل پر بھی جانوروں کی قربانی کا حکم موجود ہے، اس سلسلے میں سورہ بقرہ کی آیت ۱۹۶ کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ سورہ حج کی آیت۳۷سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام میں گوشت اور خون رکھنے والے جانوروں کی قربانی کا حکم دیاگیا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا گیا ہے:
ترجمہ: اللہ تک ان جانوروں کا گوشت اور خون ہرگز نہیں پہنچتا بلکہ اس کے پاس صرف تمھارا تقویٰ پہنچتا ہے۔

فرزندان آدم اور قربانی
قرآن حکیم نے جس قدیم ترین قربانی کا ذکر کیا ہے وہ بہت دلچسپ ہے۔ یہ قربانی حضرت آدمؑ کے دو فرزندوں ہابیل اور قابیل نے پیش کی تھی چنانچہ اس واقعہ کی طرف قرآن نے سورۃ مائدہ آیت ۲۷،۲۸ میں ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے:
ان سے آدم کے دونوں بیٹوں کی خبر سچائی سے بیان کردیں کہ جب ان دونوں نے قربانی پیش کی تو ایک کی قربانی قبول ہو گئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی، جس کی قبول نہ ہوئی، اس نے اپنے بھائی سے کہا کہ میں تمھیں قتل کردوں گا۔ بھائی نے (قربانی کی قبولیت کی وجہ بیان کرتے ہوئے) کہا کہ اللہ صرف متقیوں کی قربانی قبول کرتا ہے اگر تو میری طرف میرے قتل کے لیے ہاتھ بڑھائے گا تو میں تیرے قتل کے لیے تیری طرف ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا۔
ان آیات میں یہ نہیں بیان کیا گیا کہ قربانی کس چیز کی کی گئی تھی اور اس کی قبولیت کی علامت کیا تھی۔ اس سلسلے میں جو کچھ منقول ہے وہ زیادہ تر اسرائیلیات پر مبنی ہے۔ تاہم ان آیات سے یہ ضرور ظاہر ہو گیا کہ اول قربانی کی قبولیت کی شرط تقویٰ ہے، ثانیاً متقی شخص کسی کو ناجائز قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ نہیں بڑھا سکتا۔ اس لیے انسانی خون کا بہایا جانا اور وہ بھی اللہ کی خوشنودی کے نام پر، اللہ کو منظور نہیں۔

قربانی کے لیے شرائط
مختلف قوموں میں قربانیوں کے لیے خاص چیزوں ،خاص اوقات، خاص مقام اور خاص شرائط کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ قربانی کے لیے اوقات اور جگہ کا تعین تو بہت ملتا ہے۔ حج کے موقع پر مسلمانوں کے ہاں بھی ان امور کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ حج کے موقع پر منیٰ میں مخصوص شرائط کے حامل مخصوص جانوروں کی قربانی پیش کی جاتی ہے۔ جانوروں کو قربان کرنے کے طریقے بھی بیان کیے جاتے ہیں۔ جہاں تک عید قربان کے موقع پر پوری دنیا میں عام مسلمانوں کی طرف سے قربانی پیش کرنے کا سلسلہ ہے وہ بعض دینی مکاتبِ فکر میں واجب کی حیثیت رکھتا ہے اور بعض میں مستحب ۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مسلمان ملکوں میں عید قربان کے موقع پر قربانی کی رسم کم یا محدود دکھائی دیتی ہے۔
مختلف ادیان میں قربان گاہوں کا تصور بھی موجود ہے۔ مسلمانوں کے ہاں منیٰ کا مقام دراصل قربان گاہ ہی کی حیثیت رکھتا ہے۔ البتہ اسے یہ حیثیت اسلام سے پہلے بھی حاصل تھی۔ حضرت ابراہیم ؑ کی طرف سے اسی مقام پر قربانی پیش کی گئی تھی لہٰذا یہ ایک قدیم ترین قربان گاہ سمجھی جا سکتی ہے۔

اسماعیل ؑ کی قربانی
قربانی کے حوالے سے سب سے عجیب اور عظیم واقعہ حضرت ابراہیم ؑ کی طرف سے حضرت اسماعیل ؑ کو قربانی کے لیے پیش کرنا ہے۔ یہودیوں کے ہاں بھی حضرت ابراہیم ؑ کے فرزند کی قربانی کا ذکر ملتا ہے۔ تاہم ان کے نزدیک حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے فرزند حضرت اسحاق ؑ کو قربانی کے لیے پیش کیا تھا۔ تاہم مسلمانوں کے نزدیک آپ نے حضرت اسماعیل ؑ کو قربانی کے لیے پیش کیا۔ خانہ کعبہ اور اس کے اردگرد کی یادگاریں یہ بات ثابت کرتی ہیں کہ قربانی کے لیے حضرت اسماعیل ؑ ہی کو پیش کیا گیا تھا۔ صفاومروہ کے مابین حضرت حاجرہ کا اپنے بیٹے کی پیاس بجھانے کے لیے بے قراری سے سعی کرنا اور دیگر بہت سی یادگاریں اس نقطۂ نظر کو درست ثابت کرتی ہیں۔ تاہم اصل موضوع یہاں حضرت ابراہیم ؑ کی طرف سے اپنے بیٹے کو اللہ کی رضا کے لیے قربان کرنا ہے۔ قرآن حکیم نے اس واقعہ کو یوں بیان کیا ہے:
ترجمہ: جب اسماعیل اُن کے ساتھ دوڑ کر چلنے کی عمرکوپہنچ گئے تو ابراہیم نے کہا: اے میرے بیٹے! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کررہا ہوں تو سوچ کر کہو کہ تمھاری کیا رائے ہے۔ انھوں نے کہا :ابا جان! جس چیز کا آپ کو حکم ملا ہے وہ کر ڈالیے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ پھرجب دونوں اللہ کی رضا کے سامنے جھک گئے تو ابراہیم نے انھیں پیشانی کے بل لٹا دیا اور ہم نے انھیں آواز دی کہ اے ابراہیم! تم نے واقعی اپنا خواب سچ کردکھایا ہے۔ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی صلہ دیتے ہیں ۔ یقیناً یہ ایک بہت کھلی آزمائش تھی اور ہم نے ایک ذبح عظیم کو اس کا بدل قراردیا۔
ان آیات کی تفسیر میں بہت کچھ کہا جا چکا ہے ہم صرف اس پہلو کی طرف اشارہ کرنا چاہیں گے کہ اس سارے واقعے کی ایک حکمت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی منشا تھی کہ وہ اپنے خلیل کے توسط سے انسانوں کے ہاتھوں انسانوں کی قربانی کے تصور کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کردیں۔ بڑے کاموں کے لیے بڑے انسانوں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ ہم گذشتہ سطور میں واضح کر چکے ہیں کہ بہت سی قوموں میں مختلف مواقع پر خدا یا خداؤں کی خوشنودی کے لیے یا غضب کے خاتمے کے لیے انسانوں کی قربانی کی رسم رہی ہے۔ یقینی طور پر یہ ایک اندوہ ناک رسم تھی، تاریخ انسان کا یہ ایک المناک باب تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ کو خواب میں ایک منظر دکھا کر اور پھر چھری چلنے کے موقع پر اسماعیل ؑ کو بچا کر یہ بات گویا واضح کر دی گئی کہ جب ابراہیم ؑ خلیل اللہ کے خواب کی عملی شکل بالآخر ایک مینڈھے کی قربانی پر اختتام پذیر ہوئی تو انسانوں کی خود ساختہ رسموں اور وہم و خیال کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔ ابراہیم ؑ کے ہاتھوں چھری چلنے پر جانور کے ذبح ہونے نے انسانوں کی ایسی تمام خونیں رسموں پر گویا چھری چلا دی ہے۔ تاہم اس امر پر افسوس کا اظہار کیے بغیر نہیں رہا جاسکتا کہ اب بھی انسانوں کے بے ہودہ وہم و خیال کے خونیں نتائج گاہے گاہے ہماری آنکھوں کے سامنے آتے رہتے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...