اخلاقیات، سیاست اور ہمارے رویّے

885

انگریزی روزنامہ’’ڈان‘‘ نے اپنی۳؍ ستمبر۲۰۱۷ء کی اشاعت میں سپریم کورٹ کے جسٹس آصف سعیدخان کھوسہ کا ایک پرانا مضمون’’امیدواروں کی اہلیت: ایک آئینی معمہ‘‘ درج ذیل نوٹ کے ساتھ شائع کیا ہے:
سپریم کورٹ کے جسٹس آصف سعید کھوسہ کا آئین کی شقوں۶۲،۶۳ میں پائے جانے والے ابہام پر ذیل کا تنقیدی مضمون پاکستان لاء ڈائریکٹری۱۹۸۸ء میں شائع ہوا۔ اس وقت آپ بیرسٹر تھے۔ بعد میں بطور جج انھوں نے اس مضمون کی نظیر’’اسحاق خان خاکوانی اور دیگر بمقابلہ میاں محمد نواز شریف اور دیگر کیس(آئینی پٹیشن نمبر۷۸،۷۹اور۸۵ سال۲۰۱۴ء) میں دی اور اس کی وضاحت کی۔ اس کے علاوہ پانامہ پیپرز کیس(آئینی پٹیشن نمبر۲۹،۳۰ سال۲۰۱۶ء اور آئینی پٹیشن نمبر۳سال۲۰۱۷ء) فیصلے میں بھی اس کا حوالہ دیا۔ ان دونوں فیصلوں میں سے ایک میں فعال وزیراعظم کو نااہل قرار دلوانے کی پٹیشن کو خارج کردیا جبکہ دوسری جس کا فیصلہ وزیراعظم کی نااہلیت کی صورت میں نکلا،جسٹس کھوسہ نے پوزیشن لی کہ وہ اپنے ۱۹۸۸ء کے اصلی مضمون پر قائم ہیں لیکن پاناما پیپرز کیس میں انھوں نے وضاحت کی کہ’’جب تک درج بالا شقیں آئین کا حصہ رہیں گی،ملک کی عدالتیں آئین کے حلف کے تحت فیصلے سناتی رہیں گی‘‘۔
اس مضمون میں جسٹس آصف سعید کھوسہ نے آئینی شقوں ۶۲،۶۳ سے پیدا ہونے والے ابہامات پر تفصیلی بحث کی ہے اور مثالوں سے ثابت کیا کہ کس طرح یہ شقیں عوام کے ذہنوں میں ابہام پیدا کرتی ہیں اور وکلا اور عدالتوں کے لیے تشویش ناک صورتِ حال پیدا کرسکتی ہیں۔جسٹس کھوسہ نے اس پر بھی بات کی ہے کہ آئین میں ’’اچھے کردار‘‘ کی تعریف بیان نہیں کی گئی ہے۔ اسی طرح ہر شق کا جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ملک کے آئین کو آئیڈیل ہونے کے بجائے عملی ہونا چاہیے۔اس مضمون کا ترجمہ تجزیات کے موجودہ شمارے میں شامل ہے۔
جسٹس کھوسہ پہلے ماہر قانون تھے جنھوں نے آئین میں ایک فوجی آمر کی طرف سے ایک خاص طبقے کے مفادات کے تحفظ کے لیے کی گئی اخلاقیات کی پیوند کاری کا محاکمہ کیا لیکن شاید انھیں بھی یہ اندازہ نہیں ہوگا کہ اس آئینی پیوند کاری کے نتیجے میں کس قسم کے رویّے اور رجحانات تشکیل پائیں گے اور وہ ایک ایسی چیز قائم کردیں گے جس میں ایک تنقیدی ذہن بھی اس کا شکار ہو جائے گا۔یہ ایک گھمبیر اخلاقی اور اداراتی بحران کا اظہار ہے جو پرت در پرت کئی رجحانات کی تشکیل کررہا ہے۔

اخلاقیات،شناخت اور اچھی حکمرانی:
اخلاقیات محض ایک سیاسی جہت ہی نہیں ہے بلکہ یہ ایک پیچیدہ نظری،سماجی اور ثقافتی تناظر کا حامل مظہر ہے۔اس کی ایک جہت شناخت سے بھی جڑی ہے۔ قیامِ پاکستان کے وقت عام ذہنوں میں یہ تصور راسخ کردیا گیا تھا کہ پاکستان ایک اعلیٰ مذہبی اقدار اور اخلاقیات پر مبنی ریاست ہوگی جو اپنی ثقافت میں بالکل نئی ہوگی۔حکمران اشرافیہ نے اس تصور کی آبیاری اس لیے بھی کی کہ اسے ایک سیکولر ہندوستان سے مختلف ریاست بنانے کا چیلنج بھی درپیش تھا لیکن عام ذہن اخلاقیات کے اس گہرے شناحت کے پہلو سے قطع نظر،اخلاقی کردار سازی کو اچھی حکمرانی کے لیے ضروری سمجھتا تھا اور آج بھی یہی صورت ہے۔ اسی وجہ سے فوجی آمر،سیاستدان اور مذہبی قیادت اخلاقیات کو بطور ہتھیار اپنے اپنے طریقے سے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔اخلاقی ساکھ میں سیاستدان اس مقابلے میں پیچھے نظر آتے ہیں اور اس کی وجہ ایک کمزور پارلیمان ہے۔ لیکن ریاست کے تمام ستون اور عسکری اشرافیہ ایک اچھی حکمرانی کا نظام دینے میں ناکام رہے ہیں اور ان کا سارا زور اخلاقی برتری کی بنیاد پر طاقت کا حصول ہے۔

اخلاقی قدریں اور رویّوں کی پامالی:
پاکستان میں اخلاقیات اور سیاسی قدروں پر حالیہ بحث ایک المیے کا اظہار بھی ہے۔اعلیٰ اخلاقی اقدار پر بحث جس انداز میں کی جاتی ہے وہ معاشرے کے اخلاقی زوال کی عکاسی تو کرتا ہی ہے اس سے یہ اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے کہ یہ رویے کس قسم کے مستقبل کی آبیاری کررہے ہیں۔لگتا ہے کہ پاکستان کی سیاسی اقدار میں اب غیر اخلاقی زبان کے استعمال،غیر حقیقی الزام تراشیوں اور مخالفین پر کیچڑ اچھالنے کو قبول کرلیا گیا ہے۔حد تو یہ ہے کہ یہ سب کچھ اخلاقیات کے نام پر ہورہا ہے۔یہ صورتِ حال تمام جنوبی ایشیائی ممالک میں کہیں کم اور کہیں زیادہ موجود ہے مگر پاکستان میں بالخصوص اخلاقیات کا ہتھیار وہ طاقتیں استعمال کرتی ہیں جو بااختیار ہیں یا پھر وہ کچھ سیاسی قوتوں کو بے اختیار کرنا چاہتی ہیں۔دلچسپی کے طور پر مقامی طرزِ سیاست میں اخلاقیات کا متضاد غیر اخلاقیات نہیں بلکہ بدعنوانی ہے۔ سیاست اور سیاست دانوں کو اس لیے غیر مہذب سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ بدعنوان ہیں اور انھوں نے عوام کا پیسہ لوٹا ہے یا اختیارات کا غلط استعمال کیا ہے۔ایک سماجی قدر ہے جو اپنا جواز مذہب،سماجی معاہدوں اور ثقافتی اقدار سے اخذ کرتی ہے لیکن یہ کبھی قانون کی حکمرانی کا متبادل نہیں بن سکتی۔ قانون کی عمل داری آئین جمہوریت، انسانی حقوق اور سماجی انصاف کی فراہمی سے ہی ممکن ہے۔ قانون کی عمل داری نہ اخلاقیات میں مداخلت کرتی ہے اور نہ ہی جمہوری اور سیاسی عمل میں۔ مگر طاقتور اشرافیہ قانون کی عمل داری کو اخلاقیات سے گڈ مڈ کردیتی ہے اور لوگوں کو یقین دلاتی ہے کہ حاکمیت کے ڈھانچے کا انحصار صرف اخلاقی معیارات پر ہے۔

صنفی طبقاتی تفاوت اور اخلاقیات :
اخلاقیات کے غیر اخلاقی مظاہر کی ایک وجہ معاشرے میں موجود صنفی،نسلی اور طبقاتی فرق بھی ہے۔حال ہی میں پاکستان تحریک انصاف کی ممبر عائشہ گلالئی نے اپنے پارٹی چیئرمین عمران خان پر جو الزامات لگائے اور اس سے جو ردِ عمل پیدا ہوا، اس نے یہ واضح کردیا گیا کہ جاگیردارانہ سماجیات سیاسی رہنماؤں کے رویّوں کی تشکیل کرتی ہے۔ پاکستان میں دو اخلاقی بیانیے ایک دوسرے کے مقابل صف آرا ہیں۔پہلا مالی بدعنوانی کو معیار بناتا ہے جسے پاکستان تحریک انصاف اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کررہی ہے جبکہ دوسرا فرد کے ذاتی کردار سے متعلق ہے اور جو پاکستان تحریک انصاف کے خلاف استعمال ہورہا ہے۔وہ لوگ جو مالیاتی شفافیت کو سیاسی اخلاقیات میں بنیادی اخلاقی قدر کے طور پر تسلیم کرتے ہیں ان کا ماننا ہے کہ ریاستی نظام اور سیاست کا کسی رہنما کی ذاتی زندگی میں کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہیے جبکہ دوسرے نقطۂ نظر کے لوگ سمجھتے ہیں کہ کسی بھی سیاسی رہنما کے لیے مروجہ اخلاقی قدروں کا پاس رکھنا ضروری ہے، اسی لیے جنسی تعلق ایک بنیادی موضوع ہے۔
اخلاقیات اور سیاست کا تعلق گہرا ہے مگر اس کی حدود قیود وقت اور ماحول کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔قدامت پرست اور لبرل،ہر دو طرح کے اہلِ سیاست یا پھر وہ جو ان دونوں کے بیچ کہیں موجود ہیں، اپنے وقت کے اخلاقی دائروں سے مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔کسی فرد کی سماجی و اقتصادی حیثیت اور سماجی ذرائع پیداوار بہت حد تک اخلاقی رویوں پراثر انداز ہوتے ہیں اور لوگ چاہتے ہیں کہ وہ اپنے رہنماؤں کی زندگیوں میں بھی ان کا عکس دیکھیں۔ زراعت و صنعت کے ارتقا کے دور میں لوگ ایسی قیادت کو ترجیح دیتے ہیں جو ابھرتی ہوئی سماجی و ثقافتی حقیقتوں کو اپنانے کے لیے رضا مند، دُوراندیش اور کچھ نیاپیش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔اگر انھیں اس بات کا یقین ہو کہ وہ ہماری سما جی و معاشی ضروریات کے لیے وسائل فراہم کرسکے گا تو وہ رہنما کے سماجی و اخلاقی کردار پر سمجھوتا کرسکتے ہیں۔ اس کے باوجود سماجی روایات پر یقین رکھنے والے لوگوں کے لیے کسی فرد کا ذاتی کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔دائیں بازو اور مرکزیت پر ایمان رکھنے والے لوگوں کے لیے سماجی اور مذہبی اقدار بہت اہم ہیں۔ وہ ایسی قیادت برداشت نہیں کرسکتے جو اعلیٰ اخلاقی قدروں کی حامل نہ ہو،چاہے وہ مالی معاملات میں شفاف ہو اور طاقت کا ناجائز استعمال بھی نہ کرتی ہو۔بدلتے ہوئے پیداواری ذرائع،شرح خواندگی میں اضافہ اور بڑھتی ہوئی شہر کاری کے سبب شعبہ خدمات عامہ ٹیکس محصولات کا اہم ذریعہ بن گیا ہے۔اس صورتِ حال نے ایسی قیادت کی ضرورت بڑھا دی ہے جو ذاتی مالی معاملات میں شفاف ہو۔

۶۲ اور۶۳کی سیاست:
عام آدمی کی توقعات اور رویوں،حکمران اشرافیہ کے مفادات،مذہبی طبقات کی برتری،ادارہ جاتی کشمکش اور دائیں بازو کے سیاستدانوں کے رجحانات آئین کی شقوں۶۲ اور۶۳ میں مرتکز ہوگئے ہیں، اسے غیر عملی سمجھتے ہوئے بھی سب اس کے محافظ ہیں۔یہ شقیں ان کے اپنے خلاف استعمال ہوتی ہیں۔ ۲۰۱۳ء میں ریٹرنگ آفیسروں کے ہاتھوں امیدواروں کے درگت کے باوجود یہ جماعتیں ان شقوں کو برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔جب پیپلز پارٹی سمیت چند معتدل جماعتوں نے اٹھارویں ترمیم کے مشاورتی عمل میں ان شقوں پر نظرثانی کے لیے رائے دی تو مسلم لیگ ن اور جماعت اسلامی نے شدید مخالفت کی۔
مسلم لیگ ن کی قیادت یہ گمان کرتی تھی کہ۶۲ اور۶۳ پر پیپلز پارٹی اور اس قماش کی سیاسی جماعتوں کے امیدوار پورا نہیں اتریں گے اور اس کے مضبوط ’’اخلاقی کردار‘‘ کے حامل امیدوار جیت جائیں گے۔ میاں نواز شریف کی بطور وزیراعظم نااہلی کے بعد مسلم لیگ ن کے چند رہنماؤں کی طرف سے ایسے بیانات آئے جن سے یوں لگا کہ شاید اب ان کی جماعت کو احساس ہو چلا ہے کہ۶۲،۶۳ سیاسی عمل کو سست کرنے اور طاقتور اداروں کو سیاسی،اداراتی اور اخلاقی طاقت فراہم کرنے والا ایجنٹ ہے لیکن نااہلی کے چند ہفتوں کے بعد مؤقف میں تبدیلی آئی اور مسلم لیگ ن ان شقوں کے ان حصوں کی ’’اصلاح‘‘ چاہتی ہے جس کے تحت میاں نواز شریف نااہل ہوئے۔ ان کی اسلام آباد سے لاہور تک سیاسی قوت کے مظاہرے’’مجھے کیوں نکالا‘‘ مہم کے دوران زور اس بات پر رہا کہ انھیں جس جواز کے تحت نکالا گیا، اس سے ان کی اخلاقی ساکھ متاثر نہیں ہوتی اور مسلم لیگ ن کی ساری مہم جوئی میاں نواز شریف کے اخلاقی تاثر(Moral Image) کو برقرار رکھنے کے لیے ہے۔

مذہبی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کی سیاست: 
قرائن بتاتے ہیں کہ پاکستان کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ ۶۲،۶۳ کی حفاظت کرے گی۔ کالعدم جماعت الدعوۃ کے بطن سے پھوٹنے والی نئی مذہبی سیاسی جماعت ملی مسلم لیگ کا قیام اور اس کا نصب العین واضح اشارہ ہے کہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں ہونے والی آئین کی غیر آئینی پیوند کاری اور اس کے نتیجے میں وجود میں آنے والے نظری،اداراتی اور سیاسی مفادات کے گنجلک نظام کا ہر صورت دفاع کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے یا محدود یا مسدود انتخابی صلاحیت رکھنے والے مذہبی گروپوں کو اکٹھا کیا جائے گا جو پاکستان دفاع کونسل جیسے فورمز کو دباؤ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔اس رائے کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان جو ۶۲،۶۳ میں تبدیلی کے حامی رہے ہیں، انھوں نے بھی اس کے حق میں پلٹا کھایا ہے۔ وزیراعظم کی ان شقوں کے تحت نااہلی نے انھیں زبردست سیاسی فائدہ پہنچایا ہے۔اس صورتِ حال میں مسلم لیگ ن کے لیے مشکل ہے کہ وہ ۶۲،۶۳ کے خلاف کھلم کھلا مہم چلائے۔اس کے اپنے اتحادی خصوصاً جمعیت علمائے اسلام(فضل) سمجھتے ہیں کہ اگر چھوٹی مذہبی قوتوں اور خیبرپختونخوا میں ان کی حریف تحریکِ انصاف نے ۶۲،۶۳ کو اگلی انتخابی مہم کا حصہ بنا لیا تو ان کے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں،اسی لیے وہ اسٹیبلشمنٹ سے اس مسئلے پر مفاہمت بھی چاہتے ہیں اور متحدہ مجلسِ عمل کی بحالی کی صورت میں ۶۲،۶۳ کے میدان کو صرف اپنے تصرف میں رکھنا چاہتے ہیں۔ اس سارے عمل میں مسلم لیگ ن جو نظری اعتبار سے دائیں بازو کی وسط کی جماعت بننے کی راہ تھی اب اس کی بڑھوتری کا عمل رک گیا ہے اور ۶۲،۶۳ ایک بڑا سپیڈ بریکر ثابت ہوئی ہے جسے عبور کرنا انتہائی مشکل مرحلہ ہوگا۔یہ عجیب صورتِ حال ہے کہ مرکزی دھارے کی ایک بڑی جماعت اسٹیبلشمنٹ کے’’ٹریپ‘‘ سے خود کو آزاد نہیں کرا پارہی۔

پارلیمنٹ کی بالادستی اور نئی اخلاقی قدریں:
ساری بحث کوسمیٹتیہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ پارلیمنٹ ایسا ادارہ ہے جو بدلتے سماجی اور سیاسی حالات کے مطابق اجتماعی رویوں کی تشکیل نو کرسکتا ہے اور دانشور اور رائے سازی کے ادارے اس عمل میں معاون ہوسکتے ہیں۔یہ کام سیاسی نظام کی اصلاح کاری اور آئین کے متنازعہ حصوں پر نظرثانی سے شروع ہوسکتا ہے اور یہیں سے وہ بیانیے پھوٹ سکتے ہیں جو عام آدمی کو اپنے اخلاقی معیارات پر نظرثانی پر مائل کرسکتے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ حکمران جماعت تمام بحرانوں کے باوجود پارلیمان کو مرکزی حیثیت دینے پر آمادہ نہیں اور صرف اسے اپنے جماعتی اور شخصی مفاد کے حصول کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے یہ ایک اور بحران ہے جو قومی اخلاقی المیے کو مہمیزلگا رہا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...