ہیں تلخ بہت بندہِ مزدور کے اوقات

637

چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن کی طرف سے جار کردہ اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ چھ سالوں کے دوران ہوٹلوں اور ورکشاپس میں کام کرنے اور بھیک مانگنے والے کمسن بچوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی استحصال کے 28 ہزار656 کیسیز رپوٹ ہوئے ہیں۔ اگرچہ ملکی قوانین کے مطابق چھوٹی سطح کے کارخانوں، موٹر ورکشاپس،خراد مشینوں اور ہوٹلوں میں کام کرنے والے بچوں کے علاج معالجہ اور تعلیم کا بندوبست آجر کی ذمہ داری ہے لیکن  یہاں مزدور بچوں سے ان کی جسمانی استعداد سے زیادہ مشقت لینے کے باوجود سہولیات کی فراہمی ممکن نہیں بنائی جاتی۔

صوبائی حکومت خیبرپختونخوا نے پبلک ہیلتھ سرویلنس اینڈ ریسپانس آرڈیننس جاری کرکے معدنیاتی کانوں اور فیکٹریوں میں کام کے دوران سیلیکوسس جیسی مہلک مرض کا شکار بننے والے مزدوروں کی صحت اور علاج کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کیلئے مثبت قدم اٹھایا ہے، محکمہ صحت نے اس قانون کا مسودہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر سماعت سیلیکوسس سے متاثرہ مزدوروں کے کیس کے ریکارڈ میں شامل کرانے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ جس کے بعد سلیکوسس کو بھی ان بیماریوںمیں شمار کر لیا جائے گا جن کی مقررہ مدت کے اندر رپوٹنگ لازمی ہوتی ہے، واضح رہے کہ پشاور، مانسہرہ، بونیر، نوشہرہ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں سیمنٹ فیکٹریوں، ماربل کے کارخانوں اور گرینائٹ کے پہاڑوں میں بلاسٹنگ کرنے والے درجنوں مزدور سینے کی مہلک بیماری سیلیکوسس میں مبتلا پائے گئے اوراسی المیہ کے تدارک کیلئے مزدوروں کے حقوق کی علم بردارتنظیموں نے پہلے ہی سپریم کورٹ میں رٹ درخواست دائر کر کے متاثرہ مزدوروں کے علاج معالجے اور کارکنوں کو بیماریوں سے بچانے کیلئے پیشگی حفاظتی اقدامات اٹھانے کی استدعا کر رکھی ہے۔ بلاشبہ یہ منتخب جمہوری حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ پیداواری عمل میں حصہ لینے والے مزدوروں کو مہلک بیماریوں سے بچانے اور صنعتی کارکنوں کی استعداد کار بڑھانے کی خاطر انہیں صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے علاوہ کارخانوں سے نکلنے والے زہریلے مواد سے ماحول، جنگلی و آبی حیات اور انسانی معاشروں کو پہنچنے والے نقصان کے ازالہ کیلئے موثر قانونی سازی کرکے اس کا نفاذ یقینی بنائے۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ پاکستان نے انٹرنشنل لیبر آرگنائزیشن کے 120 کنونشنز پہ دستخط  کرنے کے علاوہ انکی توثیق کر کے قانون سازی کا عہد و پیماں کیا لیکن اول تو یہاں مزدوروں کےحقوق کے تحفظ کیلئے موثر قانون سازی نہیں ہوسکی اور اگر کوئی قانون بنا بھی تو سرکاری ادارے اس پر عمل درآمد کا کوئی میکانزم تیار نہیں کر سکے، اسی لئے گزشتہ ستر سالوں میں تشکیل پانے والی پانچ لیبر پالیسیز مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کرنے میں ناکام رہیں۔

تمام تر مساعی کے باوجود ہمارے معاشرے میں چائلڈ لیبر کی بدترین صورتیں سامنے آتی ہیں خاص کر گھروں میں کام کرنے والے ان بچوں اور بچیوں کے تحفظ کا کوئی قانون موجود نہیں، جن سے چوبیس گھنٹے مشقت لینے کے باوجود انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن کی طرف سے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ چھ سالوں کے دوران ہوٹلوں اور ورکشاپس میں کام کرنے اور بھیک مانگنے والے کمسن بچوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی استحصال کے 28 ہزار 656 کیسیز رپوٹ ہوئے ہیں۔ اگرچہ ملکی قوانین کے مطابق چھوٹی سطح کے کارخانوں، موٹر ورکشاپس، خراد مشینوں اور ہوٹلوں میں کام کرنے والے بچوں کے علاج معالجہ اور تعلیم کا بندوبست آجر کی ذمہ داری ہے لیکن  یہاں مزدور بچوں سے انکی جسمانی استعداد سے زیادہ مشقت لینے کے باوجود سہولیات کی فراہمی ممکن نہیں بنائی جاتی۔ ہرچند کہ ملک بھر کے ہر ڈسٹرک میں لیبر آفس اور لیبر آفیسر سمیت مناسب سٹاف موجود ہوتا ہےجن کی ڈیوٹی میں شامل ہے کہ وہ گھریلو ملازمین بچوں کی سوشل انوسٹی گیشن رپوٹ تیار کرنے کے علاوہ کارخانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی حالت زار کا معائنہ کر کے مروجہ قوانین کے تحت کاروائی کریں۔ آئین کے آرٹیکل 3 کے مطابق ہر کسی سے اسکی استعداد کے مطابق کام لینے اور کام کی نوعیت کے مطابق اسکا معاوضہ ادا کیا جانا لازمی ہے۔آرٹیکل 37 کہتا ہے کہ ریاست اس امر کی پابند ہو گی کہ بچوں اور عورتوں کو کسی ایسی جگہ کام کرنے کی اجازت نہ دے جہاں انکی عمر اور جنس کے منافی کام لیا جا رہا ہو۔لیبر لاز کے تحت مزدور بچے کو تعلیم اور صحت کی سہولت دینے کے علاوہ کم ازکم چار گھنٹے آرام کیلئے مہیا کرنا اورآٹھ گھنٹے ڈیوٹی کے علاوہ ہفتہ وار چھٹی کی فراہمی یقنی بنانا لازمی ہے۔مزدور کی تنخواہوں کو چیک کرنا بھی لیبر آفیسر کا فرض اولین ہے لیکن ملک بھر کے لیبر دفاتر ان مقاصد کے حصول کو پس پشت ڈال چکے ہیں۔نئے پی ایچ ایس آر آرڈینس کی پوری تفصیلات تو ابھی میسر نہیں ہو سکیں لیکن اس آرڈینس کے بنیادی مقاصد میں فیکٹریوں کے زہریلے مواد سے متاثرہ مزدور کو بیماریوں سے بچانے کا میکانزم بنانے کے علاوہ متاثرہ مزدروں کو کارخانہ داروں سے 30 لاکھ روپے ہرجانہ کی ادائیگی کرانے اوربیماریاں پھیلانے والی فیکٹریوں پر بھاری جرمانے عائد کرنے جیسے قوانین شامل ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان جہاں ایشیا کی سب سے بڑی چشمہ شوگر ملز سمیت چار شوگر ملیں، ٹیکسٹائل فیکٹری اور ایک بڑی سیمنٹ فیکٹری آپریشنل اور دو نئی شوگر ملیں زیر تعمیر ہیں، لیکن سرکاری اداروں کی غفلت کے باعث کارخانوں میں کام کرنے والے ہزاروں مزدور قانونی حقوق سے ناواقف اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی پوری اجرت ملتی ہے نہ ان کے بچوں کیلئے صحت و تعلیم کی سہولیات بہم پہنچائی جاتی ہیں۔ بظاہر تو حکومت نے مزدور کی کم سے کم اجرت 15 ہزار روپے ماہوار مقرر  کر رکھی ہے لیکن یہاں کی ٹیکسٹائل اور شوگر انڈسٹریز میں آٹھ کی بجائے دس گھنٹے تک ڈیوٹی لینے کے باوجود مزدور کو 12 ہزار روپے ماہوار سے زیادہ تنخواہ نہیں ملتی۔ اس کی بڑی وجہ تو یہاں مزدور کو ملازمت کا تحفظ  حاصل نہ ہونا ہے، مستقل ملازمت نہ ہونے کی وجہ سے فیکٹریوں میں کام کے دوران حادثات کا شکار ہونے اور بیماریوں میں مبتلا ہو جانے والے مزدوروں کو علاج معالجے کی سہولت ملتی ہے نہ مستقبل کا تحفظ۔

حکومت اگر کارخانوں میں کام کرنے والے کارکنوں کو انشورنس پالیسی پہ عملدرآمد یقینی بنائے تو مزدوروں کی ملازمت کو تحفظ ملنے کے ساتھ انکی فیملیز کو معاشی تحفظ بھی مل سکتا تھا لیکن بوجوہ سرکاری ادارے پیداواری عمل میں بنیادی کردار ادا کرنے والے مزدوروں کے حقوق کی نگرانی سے گریزاں نظر آتے ہیں۔اس سے بھی بڑھ کر یہاں کے کارخانوں سے نکلنے والے زہریلے مواد کو ٹھکانے لگانے کا کوئی سسٹم موجود نہیں۔فیکٹریوں کا زیریلا فضلہ ارد گرد کی زرخیز زمینوں کو بنجر بنانے کے علاوہ دریائے سندھ میں پائی جانے والی آبی حیات کو تلف کر رہا ہے، کارخانوں کا دھواں فضائی آلودگی بڑھا رہا ہے لیکن ای پی اے کے کار پردازوں نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں،متعلقہ ادارے کا رخانہ داروں کو ان مضمرات کے تدارک کے لئے لازمی اقدامات کرنے پہ مجبور کرتے ہیں نہ متاثرہ افراد اور علاقوں کی فلاح کی خاطر قانون کا نفاذ یقینی بناتے ہیں۔ مزدوروں کے حقوق اور فضائی آلودگی کے تدارک کے لئے کام کرنے والا لیبر ڈیپارٹمنٹ اور انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی کی نااہلی سے فائدہ اٹھا کر کارخانہ داروں سےمن مانی کرتے ہیں۔ اس وقت یہاں کارخانوں سے نکلنے والے زہریلے مواد اور دھواں سے اجتماعی حیات کو شدید خطرات لاحق ہیں لیکن ان عوامل سے سرکاری اداروں کی چشم پوشی  زیادہ تباہ کن نتائج کی حامل ہو گی۔ ایسے حالات میں صوبائی حکومت کی جانب سے فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی صحت، ماحولیاتی آلودگی کے تدارک اور جنگلی و آبی حیات کو بچانے کی خاطر  قانون سازی اس وقت  مثبت پیش رفت سمجھی جائے گی جب اس پر عمل درآمد یقینی بنایا گیا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...