علاقائی زبانوں کے تحفظ کے اقدامات

756

دنیا میں جو زبانیں ختم ہونے کے قریب ہیں ان میں گلگت بلتستان میں بولی جانے والی زبانیں شینا ،بلتی اور بروشیسکی وغیرہ بھی شامل ہیں ۔ ان زبانوں کی اپنی اصل رسم الخط اس وقت رائج نہیں ۔ فارسی، عربی رسم الخط اب ان زبانوں کے لئے استعمال کیے جارہے ہیں لیکن یہ رسم الخط ان زبانوں کی صوتی ضروریات اور تقاضے پورا نہیں کر سکتے ۔بلتی زبان کے لئے اس کا اصل رسم الخط اگرچہ موجود ہے ۔”آگے” کے نام سے موجود رسم الخط بلتستان میں اشاعت اسلام تک استعمال میں رہا ۔پندرھویں صدی میں بلتستان میں اشاعت اسلام کے بعد یہاں اس رسم الخط کو بدھ مت کے آثار میں سے قرار دیتے ہوئے ترک کردیاگیا اور اسکی جگہ فارسی رسم ا لخط کو رواج دیا گیا بلکہ بہت حد تک دربار ی اور سرکاری زبان کے طورپر بلتی کی جگہ فارسی زبان کو ہی رواج دیا گیا

 تب سے اب تک بلتی زبان کے لئے فارسی رسم الخط کو ہی استعمال میں رکھا گیا۔اب صورتِ حال یہ ہے کہ بلتی زبان کا اب تک کا سارا ادبی ورثہ اسی رسم الخط میں ہے۔اسی رسم الخط میں بلتی لغت ، بلتی قاعدہ ، ابتدائی کلاسوں کے لئے درسی کُتب، قرانِ مجید کا ترجمہ اور دیگر مواد موجود ہیں۔ البتہ بلتی زبان کے صوتی تقاضوں کے مطابق اسکی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بلتستان کے ادیبوں نے سات اضافی حروف مخصوص اعراب اور نقطوں کے ساتھ تشکیل دیے ۔تب سے ان اضافی حروف کے باعث اب بلتی ادب تخلیق ہو رہا ہے ۔اسی طرح شینا اوربروشیسکی زبانوں کے لئے بھی ان زبانوں کے ادیبوں اور لسانیات کے ماہرین نے اضافی حروف ایجاد کرکے ابتدائی کام کیا ہے ۔شینا زبان مین اسی رسم الخط میں قاعدہ اور دیگر کُتب شائع ہو چُکی ہیں ۔تاہم وخی زبان کے لئے ابھی تک حروف تہجی مرتب نہیں ہوئے ہیں، جس کے باعث وخی زبان کے ماہرین نے اب اس زبان کے لئے انگریزی حروف تہجی کو استعمال میں لاتے ہوئے رومن انداز میں لکھنے کا عمل شروع کیا ہے ۔ رسم الخط اور زبان کے احیا کے لئے ان ابتدائی کوششوں کے باوجود ان زبانوں کا مستقبل اب بھی خطرے میں ہے جسے محسوس کرتے ہوئے ان زبانوں کے قلم کاران زبانوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ انکی ترویج و فروغ کے لئے تگ و دو کررہے ہیں ۔

چونکہ گلگت بلتستان میں مقامی زبانوں کے لئے اپنا رسم الخط موجود نہیں اور ضرورت کے تحت ایجا د کی گئی رسم الخط اصل کا نعم البدل قرار نہیں پاسکتی، یہی وجہ ہے کہ آج شینا اور بلتی زبانوں میں ادب تو تخلیق ہو رہا ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ نظریہ ضرورت کے تحت ایجاد کی گئی حروف تہجی کے ساتھ مقامی زبان میں لکھنے کے لئے ہر فرد کا انداز مختلف ہوسکتا ہے اور اس صورتِحال کے باعث ایسی تحریروں کے پڑھنے میں بھی مشکلات پیش آتی ہیں۔ بالخصوص نوجوان نسل بلتی اور شینا لکھنے اور پڑھنے سے قاصر ہیں۔یہی وجہ ہے کہ علاقے کے ادیب اور دانشوروں کو ان زبانوں کے تحفظ اور فروغ کے حوالے سے تشویش کا سامنا ہے اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جب تک ان زبانوں کو تدریسی زبان نہیں بنایا جاتا تب تک یہ زبانیں محفوظ قرار دی جاسکتی ہیں نہ ہی نئی نسل بآسانی ان زبانوں میں لکھنے اور پڑھنے کی پوزیشن میں آسکتی ہیں۔جس کے پیش نظر ان زبانوں کے تحفظ اور فروغ کے لئے سنجیدگی سے کام کا آغاز کیاہے۔ سکردو میں بلتستان دائرہ مصنفین نے مقتدرہ قومی زبان کے تعاون سے بلتی قاعدہ مرتب کیااور اپنی مدد آپ کے تحت بلتی زبان میں درسی کتُب کی تیاری کا بیڑہ اُٹھاتے ہوئے اب تک دو درسی کتابیں بلتی شوقبو 1 اور بلتی شوقبو 2 کے نام سے منظر عام پر لاچُکے ہیں جبکہ تیسری کتاب بلتی شوقبو 3 کی تیاری پر کام جاری ہے۔

اسی طرح حلقہ ارباب ذوق گلگت کے احباب بھی شینا زبان کے لئے قاعدہ اور دیگر کتابیں تیار کرچُکے ہیں ۔کچھ دوست شینا قدیم کہانیوں کو شینا اور انگریزی زبان میں کتابی شکل دے کر زیور طباعت سے آراستہ کرنے کا فریضہ انجام دے چُکے ہیں ۔اس مرحلے پر بلتستان دائرہ مصنفین کی اپنی تیار کردہ قاعدہ اور درسی کتُب وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کو پیش کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا تھا کہ جن ضرورتوں کے پیش نظر یہ کتابیں تیار کی گئی ہیں اُن کا تقاضا ہے کہ ان کتابوں کو سکولوں میں رائج کیا جائے تاکہ نئی نسل کو مقامی زبانوں سے آگہی حاصل ہوسکے۔وزیر اعلی نے ان کتابوں کو سکولوں میں رائج کرنے کا یقین دلایا اور کہا کہ گلگت بلتستان کی دیگرمقامی زبانوں میں بھی مواد کی تیاری کا کام فی الفور شروع کیا جائے گا۔ جس کی روشنی میں گلگت بلتستان کے سیکرٹری برقیات ظفر وقار تاج جو کہ گلگت بلتستان کے نامور شاعر ہیں کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں محکمہ تعلیم کے اعلی حکام کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کی زبانوں شینا ، بلتی ، بروشیسکی ،اور وخی میں کام کرنے والے قلم کاروں کو بھی نمائندگی دی گئی۔ کمیٹی کے اب تک ہونے والے تین اجلاسوں میں بلتی زبان کے لئے فار سی رسم الخط میں موجود حروف تہجی کو حتمی قرار دے دیا گیا اور اس رسم الخط میں اب تک ہونے والے کام بالخصوص بلتی قاعدہ اور درسی کتُب کی تیاری کو سراہتے ہوئے بلتی زبان کے نمائندوں کو آئندہ چند اجلاسوں تک کے لئے اجلاس میں شرکت سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ۔ یہ طے یایا کہ اس عرصے میں شینا ،بروشیسکی اور وخی کے قلم کار اپنے لئے متفقہ حروف تہجی کو حتمی شکل دیں گے۔اس مرحلے کے بعد ماہرین تعلیم نے گلگت بلتستان میں پہلے سے رائج کسی بھی ٹیکسٹ بُک بورڈ کی کتاب سے اسباق کا انتخاب کر کے کمیٹی کے حوالے کیا جائے گا

۔کمیٹی میں موجود مختلف زبانوں کے ماہرین ان کو اپنی اپنی زبان میں ترجمہ کریں گے تاکہ حکومت ان کی بروقت اشاعت کا اہتمام کر سکےلیکن تا دمِ تحریر اس حوالے سے کسی پیش رفت کی اطلاع نہیں ہے۔اگرچہ اجلاس کو بریفنگ میں سکرٹیری تعلیم نے کہا تھا کہ مختلف کتابوں سے مواد کے انتخاب اور انکے ترجمے کا کام اسی سال اگست تک مکمل کیا جائے گا اور نومبر سے پہلے انکی اشاعت کاکام کیا جائے گا تاکہ نئے تعلیمی سال پر یہ کُتب بر وقت سکولوں میں طلبا کو دیے جاسکیں۔لیکن تادمِ تحریر اس حوالے سے بھی کسی پیش رفت کی اطلاع نہیں،حتیٰ کہ مذکورہ بالا تینوں زبانوں کے لئے متفقہ حروف تہجی تشکیل پانے کی بھی اطلاع نہیں۔جس کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ کم سے کم آنے والے تعلیمی سال کے آغاز تک مقامی زبانوں میں کتا بیں تیار نہیں ہو سکیں گئیں۔ دوسری جانب پاکستان میں فروغ تعلیم کے لئے یو ایس ایڈکے تعاون سے چلائے جانے والے پروگرام ” پاکستان ریڈینگ پراجیکٹ ( PRP )”بھی قومی زبان اُردو کے ساتھ ساتھ ملک بھر کی علاقائی اور چھوٹی زبانوں میں نچلی کلاسوں کے لئے کتابوں کی تیاری پر تن دہی سے کام کر رہے ہیں۔مشاہدے میں یہ چیز آئی ہے کہ ملک کی مختلف چھوٹی زبانوں میں ابھی تک کتابیں تو دور کی بات حتیٰ کہ ابتدائی قاعدہ تک موجود نہیں ۔یوں یہ زبانیں ابھی تک تدریس کی زبان بن سکی ہیں نہ ہی ان زبانوں میں چھوٹی کلاس کے طلبہ کے لئے کتابیں تیار ہو کر منظرِعام پرآسکی ہیں۔تحقیق کے نتیجے میں پی آر پی اس نتیجے پر پہنچی چونکہ علاقائی اور چوٹی زبانوں میں طلبا کو انکی سوچ اور فہم سے مطابقت رکھنے والی کتابیں موجود نہیں جس کے باعث سکولوں میں مقامی زبانوں میں ٹیکسٹ کی کتابیں موجود ہیں نہ ہی بچوں کے لئے چھوٹی اور دلچسپ کہانی کی کتابیں موجود ہی ۔جو ٹیکسٹ بُک کے ساتھ مددگا ر کتاب کے طور پر متعارف کرائی جاسکیں ۔

جس کی بنیادی وجہ بالخصوص چھوٹی زبانوں کے قلم کاروں کو بچوں کے لئے کتابیں لکھنے کی مخصوص تربیت نہ ہونا ہے۔ سنجیدہ موضوعات پر لکھنے والے پختہ قلم کار ضروری نہیں کہ وہ بچوں کے لئے اچھا لکھاری ثابت ہوسکیں۔سنجیدہ موضوعات اور بڑی کلاسوں کے لئے لکھنا تو آسان ہے ، بہ نسبت چھوٹی کلاسوں کیلئے لکھنا زیادہ ٹیکنیکل اور مشکل کام ہے ۔اس کام کے لئے لکھاری کے پاس زیادہ فنی صلاحیتوں کا ہونا ضروری ہے۔اس ضرورت کو PRP پراجیکٹ نے شدت سے محسوس کیا اور یہ بیڑہ اُٹھایا کہ قومی زبان اُردو سمیت ملک کی تمام چھوٹی زبانوں میں لکھنے والے قلم کاروں کو کمسِن بچوں کے لئے ٹیکسٹ بُک یا دیگر دلچسپ کہانیوں کی تیاری سے متعلق تربیت کا اہتمام کیا ۔ ان تربیتی ورکشاپس کے نتیجے میں ملک کی تمام چھوٹی بڑی زبانوں میں نچلی کلاسوں کے لئے تربیت یافتہ لکھاری تیار ہوگئے ہیں ۔اب بجا طور پر توقع کی جاسکتی ہے کہ تمام زبانوں میں مفید درسی کُتب اور درسی معاون کُتب منظر عام پر آنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا اور ان کتابوں کے باعث اب ہمارے طلبہ میں ابتدائی کلاسوں سے ہی مطالعے کا ذوق پیدا ہوگا۔ایسا کرنا آج کے اس ٹیکنالوجی کے دور میں وقت کی اہم ضرورت ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...