مجذوبوں کا معاشرہ

325

حضرت شیخ احمد سرہندی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”جس معاشرے میں مجذوب زیادہ ہو جائیں تو سمجھ لیں اُس معاشرے میں ضرور کسی چیز کی کمی ہے ۔“ مجذوب بھرپور سماجی کردار ادا کرنے سے معذور ہوتا ہے۔ وہ اس اہلیت و قابلیت سے محروم ہوتا ہے کہ وہ معاشرے کی ترقی میں کوئی کردار ادا کر سکے۔ وہ نہ تو مصلح ہے، نہ مفکر، نہ ورکر، نہ فنکار اور نہ ہی ہنر مند جس سے قوم، ملک اور معاشرے کا بھلا ہوسکے۔ جس معاشرے میں ایسے لوگوں کا قحط ہو جائے تو وہ ”مجذوبوں کا معاشرہ“ بن جاتا ہے۔ مجذوب میں جذب ہوتا ہے، جذب جذبہ ایک ہی قبیلے کے الفاظ ہیں، اسی سے جذباتیت ہے۔ جذباتیت میں، ہم بحیثیت قوم ایک اعلیٰ مقام پہ فائز ہیں اس لیے ہمیں جذباتی قوم کہا جاتا ہے۔ اکثر اوقات، جذباتیت نرگسیت کو اور نرگسیت جذباتیت کو جنم دیتی ہے۔ نرگسیت ڈِپریشن کی ہی ایک قسم ہے۔ ہمارے استادِ محترم فرمایا کرتے تھے ”احساسِ کمتری احساسِ برتری کی بگڑی ہوئی شکل ہے اور احساسِ برتری احساسِ کمتری کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔“ نرگسیت انسان میں حد درجہ مظلومیت کا احساس پیدا کر دیتی ہے۔ انسان اپنی اہمیت کے احساس میں ہی، ہر وقت مرتا اور جیتا رہتا ہے۔ بقول شاعر

زندگی آ تجھے کسی قاتل کے حوالے کر دوں
مجھ سے یہ روز کا مرنا نہیں دیکھا جاتا

دورِ جدید میں،اگر حضرت شیخ احمد سرہندی کے اس جملے کو عنوان دیا جائے تو وہ”Brain Drain“ہے۔ جب معاشرے علمی و اخلاقی زوال کے باعث، اندرونی انتشار و افتراق کا شکار ہو کر بدامنی، دہشت گردی، ناانصافی اور ظلم کا گڑھ بن جاتے ہیں تو وہاں سے اعلیٰ دماغ اور اعلیٰ فنکار رخصت ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ باصلاحیت لوگ پرندوں کی طرح ہوتے ہیں جہاں انہیں بہتر ماحول ملے وہاں پہ بسیرا کر لیتے ہیں۔ تخلیقی کام ہمیشہ امن کے ماحول میں زیادہ پروان چڑھتا ہے۔ اس لیے تخلیق کار ہمیشہ ایسے معاشروں کی طرف ہجرت کر جاتے ہیں جہاں انہیں معاشی آسودگی کے ساتھ ادبی ، علمی اور فنی صلاحیتوں کے اظہار کا بھرپور موقع ملتا ہے۔جہاں مجذوبوں کی کثرت ہوتی جائے تو یقین کر لیجیے وہاں ضرور ایسی خرابی ہے جس کے باعث سلامت دماغ لوگ رخصت ہو رہے ہیں۔

سب سے پہلی ذمہ داری حکومتِ وقت پہ عائد ہوتی ہے کہ وہ ملک سے بد عنوانی ، دہشت گردی اور ناانصافی کا خاتمہ کرے۔ عوام اپنے ووٹوں سے جن سیاستدانوں کو منتخب کر کے ایوان اقتدار میں لاتی ہے، انہیں چاہیے ،عوام کی توقعات پہ پورا اُترتے ہوئے ایسا لائحہ عمل اختیار کریں جس سے معاشرے میں موجود باصلاحیت اور باشعور طبقے کی حوصلہ افزائی ہو اور وہ ملک چھوڑ کر جانے کا تصور بھی نہ کر سکے۔اس کے بعد، ذمہ داری اہل دانش کی ہے کہ وہ معاشرے میں پھیلی ہوئی مایوسی اور نااُمیدی کے ماحول کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔

ہم اپنے عمل اور ردِ عمل کا اظہار جلسہ و جلوس سے آگے بڑھ کر نہیں کرپاتے

اُن چند بدقسمت ممالک میں ،پاکستان کا بھی شمار ہوتاہے جہاں کئی سالوں سے، Brain Drain کا سلسلہ جاری ہے، اس میں زیادہ تیزی جنرل محمد ضیاءالحق (مرحوم) کے دور میں شروع ہوئی اور پھر اس کے بعد اب تلک چل سو چل ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں اُن میں سے چند یہ بھی ہیں دہشت گردی، اعلیٰ تعلیم کی عدم دستیابی، اور میرٹ کا فقدان اور بد عنوانی ایسی بہت سی وجوہات ہیں جن کے باعث، اہلِ ہنر ہی نہیں بلکہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت، معاشی بدحالی ،قانون کی پیچیدگی اور حوصلہ شکنی کے ماحول سے نکلنے کیلئے بے چین و مضطرب ہے۔

مجھے یاد پڑتا ہے جناب یوسف رضا گیلانی سابق وزیر اعظم پاکستان سے انٹرویو کے دوران کسی خاتون صحافی نے کہا کہ 80 فیصد پاکستانی اپنا ملک چھوڑ دینا چاہتے ہیں تو گیلانی صاحب نے جواب دیا تو پھر چھوڑ دیں، جواب مجھ سمیت دوسرے لوگوں کیلئے بھی حیرت کا باعث تھا۔ اگر یہ جواب کسی عام شخص کی طرف سے ہوتا تو پھر بھی خیر تھی، اگر گیلانی صاحب روایتی جواب بھی دے دیتے تو عزت رہ جاتی جو عام طور پر حکمران کہتے ہیں”ہم ایسے اقدامات اٹھا رہے ہیں کہ پاکستانی بیرونِ ملک نہیں جائیں گے۔“ شاید گیلانی صاحب اور موجودہ حکمران جانتے نہیں کہ پاکستان سیاست، معیشت اور اخلاقیات سمیت Brain Crisisکا بھی شدید شکار ہے۔

اس وقت 35000 سالانہ نوجوان میڈیکل تعلیم سے فراغت پا کر بے روز گاری کی زندگی گزار رہے ہیں۔ 2 سال کا تجربہ رکھنے والا ڈاکٹر16000/ریال بمع تمام سہولتوں کے سعودیہ میں جاب کر رہا ہے، دو سال سے زیادہ تجربہ رکھنے والا 36000 ریال کما رہا ہے۔ یہ تنخواہ جو سہولتوں کے ماسواہے یہ صرف ڈاکٹرز اور سعودی حکومت کا معاملہ ہے یورپ و امریکہ میں ڈاکٹرز کی مہیا سہولتیں اس سے بھی کہیں زیادہ ہیں جبکہ پاکستان میں ڈاکٹرز اور نرسز اکثر ہڑتال پہ ہوتے ہیں اور اپنے حقوق کیلئے آئے روز سڑکوں پہ مارچ کرتے دکھائی دیتے ہیں

برطانیہ سے ہمارے عزیز دوست کا کہنا ہے کہ ہمارے علما سماجی مسائل پہ بات کیوں نہیں کرتے۔ مسلمانوں کی اصلاح و تربیت کی طرف توجہ کیوں نہیں کی جاتی؟ جتنے بھی پاکستانی چینلز ہیں اُن پر مخالف فرقوں پر کیچڑ اُچھالا جا رہا ہے۔ برطانیہ میں شیعہ بریلوی، دیوبندی اور اہلحدیث علماء، اپنے اپنے چینلز پہ اختلافی مسائل پہ طویل ترین گفتگو فرماتے دکھائی دیتے ہیں لیکن اصلاحی موضوعات اور یورپین معاشرے میں رہنے والے مسلم نوجوان کی راہنمائی کیلئے کوئی گفتگو نہیں کی جاتی۔ یہ برین Brainوہ ہے جس کی کسی بھی معاشرے کو ضرورت نہیں ہے یہ ذہن جہاں بھی جاتا ہے۔ فتنہ و اضطراب پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔ شاید یہی وہ مجذوب ہیں جن کی طرف مجدد الف ثانی نے اشارہ فرمایا تھا۔

چند قدیم کلامی مسائل کو تختہ مشق بنا کر مخالف فرقوں پہ تکفیر کے فتوے لگانے والوں کو بالکل خبر نہیں کہ اس وقت علم و فلسفہ کی دنیا میں اسلام پہ کون سے اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں، 9/11 کے بعد، ایک سو سے زائد کتب اسلام کے خلاف مختلف موضوعات پہ لکھی جا چکی ہیں۔ یہ طبقہ شایدبلکہ یقینا کتب کو دیکھنا تو بعید اُن کے نام سے بھی واقف نہ ہوگا۔ اسلامی دنیا پہ طاری جمود کے نتائج یہ ہیں وہ کوئی ایسی قابلِ ذکر کتاب نہیں جس میں اسلام مخالف دلائل کا علمی وتحقیقی محاکمہ کیاگیا ہو۔ اگر کوئی کتاب ہے بھی سہی تو اہلِ علم اور اہلِ مغرب کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے اس کی واحد وجہ التزامی اور مناظراتی طرزِ تحریر و تحقیق ہے جو سالہا سال سے اسلامی دنیا میں رائج ہے۔ اصل محاذ یہ ہے کہ ہم دلائل و تحقیق سے ان کتب کا جواب دیں لیکن ہم نے ریسرچ کلچر رواج دینے کے بجائے، جلوس کلچر کو رواج دیا۔ ہم اپنے عمل اور ردِ عمل کا اظہار جلسہ و جلوس سے آگے بڑھ کر نہیں کرپاتے۔ ہماری تحقیق و جستجو اپنے ہی مسلمان بھائی کو کافر بنانے کیلئے وقف ہو چکی ہے۔ غیروں کیلئے ہم جلوس نکالتے اور اپنوں کے لیے فتوﺅں کی توپ چلاتے ہیں۔

ایسے ماحول میں، باشعور اور سنجیدہ مزاج لوگوں کا دم گھٹنے لگتا ہے اور وہ کسی دوسری سرزمین کی طرف ہجرت کر نے پر مجبور ہو جاتے ہیں. نتیجتاً، ایسے معاشرے میں مجذوبوں کی کثرت ہو جاتی ہے۔ اس لیے، حضرت شیخ احمد سرہندی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”جس معاشرے میں مجذوب زیادہ ہو جائیں تو سمجھ لیں اُس معاشرے میں ضرور کسی چیز کی کمی ہے‘‘۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...