ملک ریاض کا مشن

738

اگر میں یہ کہوں کہ دنیا میں اصل حکومت سرمایہ داروں کی ہے تو یہ بے جا نہ ہو گا ؟ اگر انڈیا کے ٹاٹا ،امبانی ، عظیم پریم جی اور پاکستان کے ملک ریاض ، سیٹھ داؤد، میاں منشا ، امریکہ کے بل گیٹس ، وارن بفٹ ،چین کے جیک ما ، برطانیہ کے لکشمی متل ،روس کے الیکشے مارڈشوف ،یہ سب نہ ہوں تو دنیا کب کی ایٹمی راکھ بن چکی ہوتی ۔

جب بھی کہیں سیاسی معاملات سیاستدانوں کے کنٹرول سے باہر نکلتے ہیں یہ چند دماغ سوچتے ہیں کہ اس سے تو ان کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری تباہ ہو جائے گی چنانچہ یہ حرکت میں آتے ہیں ۔یہ اپنی اپنی حکومتوں کو قائل کرتے ہیں کہ وہ معمولات کو بحال کروائیں ۔ پاکستان اور بھارت میں بھی اب تک جنگ نہ ہونے کہ وجہ بھی انہی امیر ترین لوگوں کو کلب ہے ۔ جب بھی حالات جنگ کی طرف جانے لگتے ہیں اُدھر سے کوئی متل آ جاتا ہے ،اِدھر سے کوئی ملک ریاض اُدھر چلاجاتا ہے ۔امریکہ سے بل گیٹس کے کہنے پر سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ حرکت میں آ جاتا ہے ۔اس طرح جنگ وقتی طور پر تو ٹل جاتی ہے مگر جنگی ماحول پیدا کرنے والی لابی بھی اتنی ہی طاقتور ہے جتنی جنگ رکوانے والی ۔یہ لوگ اسلحہ بیچتے ہیں ۔بڑے بڑے ہتھیاروں کی سودے کرواتے ہیں تاکہ جنگ بیشک نہ ہو مگر ماحول کشیدہ رہے تاکہ ہتھیار بکتے رہیں ۔ اب ایک تیسری لابی بھی پیدا ہو چکی ہے ۔وہ کہتی ہے کہ وہ ملک تباہ ہونے چاہئیں جن کے پاس وسائل ہیں تاکہ پھر ان وسائل کی بنیاد پر وہاں تعمیر ِ نو کے نام پر ٹھیکے حاصل کئے جائیں ۔ اس کا تجربہ عراق، کویت اور لیبیا میں کیا گیا ہے ،شام میں ابھی تک اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا بلکہ داعش کی صورت میں یہ منصوبہ الٹا مغرب کے گلے پڑ گیا ہے اس لئے آئندہ شاید ایسے منصوبوں کی حمایت عالمی اشرافیہ کی جانب سے نہ ہو ۔ اسی وجہ سے سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کو مکمل شہ دینے کے باوجود اسرائیل ایران پر حملہ نہیں کر رہا کیونکہ اس صورت میں جس شکست و ریخت کا آغاز ہو گا اس سے یورپ کے در و دیوار بھی ہل جائیں گے ۔

شمالی کوریا کے مسئلے کا حل بھی جنگ میں نہیں ہے ۔دنیا چاہتی ہے کہ صرف دباؤ سے ہی کام چل جائے ۔ پاکستان پر بھی ٹڑمپ انتظامیہ یہی آپشن استعمال کر رہی ہے ۔ ٹرمپ انتظامیہ کو اس سلسلسے میں اتنی کامیابی ضرور ملی ہے کہ اس نے فوج اور سول قیادت کے اندر دراڑیں ڈال دی ہیں ۔ ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں یہ محسوص کرتی ہیں کہ انہیں کنارے لگایا جا رہا ہے ۔ یہ وہ ماحول ہے جس میں ایک جانب مشرقی سرحد اور دوسری جانب مغربی سرحد سے ہمارا گھیراؤ کیا جا رہا ہے ۔ہمارے جوانوں کی لاشیں گر رہی ہیں ۔سرحدوں پر ہماری سول آبادی شدید خطرات میں ہے ۔ آزاد بلوچستان کے بینر لگ رہے ہیں ۔ ملک میں داعش کے جھنڈے بھی نظر آنے لگے ہیں ۔ایسے لگتا ہے کہ ملک میں افرا تفری پھیلانے والی قوتیں متحد ہو چکی ہیں ۔ ان حالات میں سب سے زیادہ کاروباری برادری کے مفادات کو نقصان پہنچے گا ۔ اس لئے پاکستان کی کاروباری برادری اپنے عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر حرکت میں آ چکی ہے ۔ ملک ریاض اب صرف بحریہ ٹاؤن کے مالک کا نام نہیں بلکہ پاکستان میں ان تمام عالمی سرمایہ کاروں کا نمائندہ ہے جنھوں نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کررکھی ہے ۔ان میں چین کے سرمایہ کار بھی ہیں ۔عرب بھی ہیں ،یورپی اور امریکی بھی ہیں ۔ یہ سب پاکستان کے سیاسی بحران کا کوئی درمیانی راستہ نکالنے کی کو شش میں ہیں ۔ اس حوالے سے کئی آپشن زیر غور ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کے تمام سٹیک ہولڈرزنہ صرف ان کو ششوں میں آن بورڈ ہیں بلکہ وہ فوری طور پر مسئلے کا حل چاہتے ہیں ۔

ملک ریاض سے بہتر پاکستان میں کوئی شخصیت نہیں ہے وہ تمام سٹیک ہولڈرز کے لئے محترم ہیں اور سب ان کا احترام بھی کرتے ہیں ۔وہ ایک زیرک انسان ہیں ۔خدا نے نہیں برداشت اور تحمل کی قوت کے ساتھ معاملہ فہمی اور مسائل کو حل کرنے کا ملکہ بھی عطا کر رکھا ہے ۔ امید ہے جلد ہی وہ کوئی درمیانی راستہ نکال لیں گے ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...